غزلیں ۔۔۔ آشفتہ چنگیزی

عجب رنگ آنکھوں میں آنے لگے

ہمیں راستے پھر بلانے لگے

 

اک افواہ گردش میں ہے ان دنوں

کہ دریا کناروں کو کھانے لگے

 

یہ کیا یک بہ یک ہو گیا قصہ گو

ہمیں آپ بیتی سنانے لگے

 

شگن دیکھیں اب کے نکلتا ہے کیا

وہ پھر خواب میں بڑبڑانے لگے

 

ہر اک شخص رونے لگا پھوٹ کے

کہ آشفتہ جی بھی ٹھکانے لگے۔

٭٭٭

 

 

 

دھوپ کے رتھ پر ہفت افلاک

چوباروں کے سر پر خاک

 

شہر ملامت آ پہنچا

سارے مناظر عبرت ناک

 

دریاؤں کی نذر ہوئے

دھیرے دھیرے سب تیراک

 

تیری نظر سے بچ پائیں

ایسے کہاں کے ہم چالاک

 

دامن بچنا مشکل ہے

رستے جنوں کے آتش ناک

 

اور کہاں تک صبر کریں

کرنا پڑے گا سینا چاک

٭٭٭

 

 

 

 

 

گھروندے خوابوں کے سورج کے ساتھ رکھ لیتے

پروں میں دھوپ کے اک کالی رات رکھ لیتے

 

ہمیں خبر تھی زباں کھولتے ہی کیا ہو گا

کہاں کہاں مگر آنکھوں پہ ہاتھ رکھ لیتے

 

تمام جنگوں کا انجام میرے نام ہوا

تم اپنے حصہ میں کوئی تو مات رکھ لیتے

 

کہا تھا تم سے کہ یہ راستہ بھی ٹھیک نہیں

کبھی تو قافلے والوں کی بات رکھ لیتے

 

یہ کیا کیا کہ سبھی کچھ گنوا کے بیٹھ گئے

بھرم تو بندۂ ٴ مولیٰ صفات رکھ لیتے

 

میں بے وفا ہوں، چلو یہ بھی مان لیتا ہوں،

بھلے برے ہی سہی تجربات رکھ لیتے

٭٭٭

 

گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے

تمام دریا کسی روز ڈوب جائیں گے

 

سفر تو پہلے بھی کتنے کیے مگر اس بار

یہ لگ رہا ہے کہ تجھ کو بھی بھول جائیں گے

 

الاؤ ٹھنڈے ہیں لوگوں نے جاگنا چھوڑا

کہانی ساتھ ہے لیکن کسے سنائیں گے

 

سنا ہے آگے کہیں سمتیں بانٹی جاتی ہیں

تم اپنی راہ چنو ساتھ چل نہ پائیں گے

 

دعائیں لوریاں ماؤں کے پاس چھوڑ آئے

بس ایک نیند بچی ہے خرید لائیں گے

 

ضرور تجھ سا بھی ہو گا کوئی زمانہ میں

کہاں تلک تری یادوں سے جی لگائیں گے

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے