Default title

مستقبل راشد عباسی   مستقبل راشد عباسی اُس کے ماتھے پر اک بوسہ اور آنکھوں پر دو پھر ہم دونوں جاگتی آنکھوں یونہی جائیں سو لے کر دل میں لاکھوں خدشے جانے کل کیا ہو ***

ماضی کی کلیاں سارہ جبین

ماضی کی کلیاں سارہ جبیں ُ بہت بھینی بھینی  کبھی   اپنی اپنی کبھی اجنبی سی  فضاؤں میں مہکیں وہ ماضی کی کلیاں کتابیں  پرانی  اور الفاظ ادھورے کبھی خواب ٹوٹے  کبھی اشک جھلکے کبھی رنگ بکھرے یہ تصویر تیری  یہ یادیں مہکتی کنول خوبصورت  رہے نقشِ ماضی نگاہوں میں میری بہت بھینی بھینی  کبھی اپنی Read more about ماضی کی کلیاں سارہ جبین[…]

غزلیں – صادق اندوری

غزلیں صادق اندوری غزلیں صادق اندوری مہک رہا ہے بدن سارا کیسی خوشبو ہے یہ تیرے لمس کی تاثیر ہے کہ جادو ہے تمھارا نرم و سبک ہاتھ چھو گیا تھا کبھی یہ کیسی آگ ہے ، سوزاں ہر ایک پہلو ہے ہے کس قدر متوازن نگاہ و دل کا ملاپ کہ جیسے دونوں طرف Read more about غزلیں – صادق اندوری[…]

غزلیں حیدر قریشی

غزلیں حیدر قریشی آنکھ سے گر کر ٹوٹے خواب کھلونے ہیں اور اب دل کے ، بچوں جیسے رونے ہیں عمرِ لا حاصل کا جو حاصل ٹھہرے کس نے ایسے داغِ ملامت دھونے ہیں درد ہمارے تو انمول نکل آئے گرچہ خرید ے ہم نے اونے پونے ہیں صرف گناہوں کا ہی بوجھ نہیں سر Read more about غزلیں حیدر قریشی[…]

غزلیں – مد حت الاختر

غزلیں مدحت الاختر جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا روح پیاسی نہ رہے ، آنکھ میں پانی دے جا وقت کے ساتھ خد و خال بدل جاتے ہیں جو نہ بدلے وہی تصویر پرانی دے جا تیرے ماتھے پہ مرا نام چمکتا تھا کبھی ان دنوں کی کوئ پہچان پرانی دے جا جس Read more about غزلیں – مد حت الاختر[…]

غزلِ یوسف علی یوسف و رفیق انجم

غزل رفیق انجم لمحہ لمحہ جلاۓ گی بارش اور کتنا رُلاۓ گی بارش پھر دریچے کھلے ہیں یادوں کے آ کے لوری سناۓ گی بارش کھل گۓ پھر تبسّموں کے گلاب پھر مجھے آزماۓ گی بارش جب نہ پاۓ گی اس کو گلیوں میں ہر طرف پھڑپھڑاۓ گی بارش جل رہی ہیں نظر میں قندیلیں Read more about غزلِ یوسف علی یوسف و رفیق انجم[…]

غزل احتشم اختر

غزل احتشام اختر لبوں پر سرخیاں تھیں، اب کہاں ہیں ہری سب کھیتیاں تھیں، اب کہاں ہیں یہاں اک باغ تھا کچھ روز پہلے حسیں کچھ تتلیاں تھیں، اب کہاں ہیں کنارے پر گھروندے ریت کے تھے ندی تھی، کشتیاں تھیں، اب کہاں ہیں چچا کے گھر میں رونق تو بہت تھی بہو تھی، بیٹیاں Read more about غزل احتشم اختر[…]

غزل عبد اللہ ناظر

غزل عبداللہ ناظر حسین چاند سا چہرہ خمار آنکھوں میں کہاں سے آئے ہو بے اختیار آنکھوں میں نہ وہ چمن ہے نہ رنگِ بہار آنکھوں میں رہا نہ لطفِ نظر اشکبار آنکھوں میں بلا سے وعدہ تجھے اپنا یاد ہو کہ نہ ہو امید قلب میں ہے انتظار آنکھوں میں سزائے وعدہ خلافی ملی Read more about غزل عبد اللہ ناظر[…]