کوئی نہیں ہنسے گا ۔۔۔ میلان کنڈیرا/ اجمل کمال

 

۱

’’مجھے تھوڑی اور وائن دینا،‘‘ کلارا نے کہا، اور میں بھی اس خیال سے غیر متفق نہ تھا۔ ہم دونوں کے لیے سلیوووِتس وائن کی نئی بوتل کھولنا یوں بھی کوئی غیر معمولی بات نہ تھی، اور اِس بار تو اس کا معقول جواز بھی موجود تھا۔اس روز مجھے اپنے ایک تحقیقی مقالے کے آخری حصے کی اشاعت پر معاوضے کی خاصی بڑی رقم موصول ہوئی تھی جسے بصری فنون کا ایک پیشہ ورانہ رسالہ قسط وار شائع کر رہا تھا۔

اس مقالے کو شائع کرانا آسان کام ثابت نہیں ہوا تھا — میں نے جو کچھ لکھا تھا وہ خاصا مناظراتی اور متنازعہ تھا۔ میرے پچھلے مقالے اسی باعث ’’جریدۂ بصری فنون‘‘ نے، جس کے مدیران عمررسیدہ اور محتاط لوگ تھے، رد کر کے لوٹا دیے تھے، اور پھر وہ اس کے مدمقابل ایک کم اہم رسالے میں ہی شائع ہو سکے تھے، جس کے مدیر نسبتاً جوان لوگ تھے اور زیادہ قدامت پرست نہ تھے۔

ڈاکیے نے یونیورسٹی میں رقم کے لفافے کے ساتھ ایک اور خط بھی پہنچایا تھا؛ ایک غیر اہم خط؛ صبح کے اس مبارک لمحے میں میں نے اس پر سرسری سی نظر ہی ڈالی ہو گی۔ مگر اب گھر پر، جب آدھی رات ہونے کو تھی اور وائن قریب قریب ختم ہو چکی تھی، میں نے اسے،ہم دونوں کی تفریحِ طبع کی خاطر، میز سے اٹھایا۔

’’معزز کام ریڈ، اور اگر آپ کی طرف سے اجازت ہو تو، میرے رفیق — میرے رفیق!‘‘ میں نے بلند آواز میں کلارا کو پڑھ کر سنایا۔ ’’یہ خط لکھنے پر مجھے، ایک شخص کو جس سے آپ کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی، معاف کیجیے گا۔ میں یہ خط آپ سے یہ درخواست کرنے کے لیے لکھ رہا ہوں کہ آپ منسلکہ مضمون کو پڑھ لیجیے۔ یہ سچ ہے کہ میں آپ سے واقفیت نہیں رکھتا، لیکن ایک ایسے شخص کے طور پر آپ کا احترام کرتا ہوں جس کی آرا، مشاہدات اور اخذ کردہ نتائج حیران کن حد تک میری اپنی تحقیق کے نتائج سے مطابقت رکھتے ہیں ؛ میں اس امر پر مکمل طور پر متعجب ہوں ۔ چنانچہ، مثال کے طور پر، اگرچہ میں آپ کے اخذ کردہ نتائج اور آپ کے نہایت اعلیٰ تقابلی تجزیے کے سامنے ادب سے سر جھکاتا ہوں، لیکن اس خیال کی جانب پُر زور انداز میں توجہ دلائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ چیک آرٹ ہر دور میں عوام سے قریب رہا ہے۔ میں نے یہ رائے آپ کا مقالہ پڑھنے سے پیشتر ظاہر کی تھی۔ میں اسے نہایت آسانی سے ثابت کر سکتا ہوں، کیونکہ، دیگر چیزوں کے علاوہ، میرے پاس گواہ بھی موجود ہیں ۔تاہم، یہ ایک غیر اہم بات ہے، کیونکہ آپ کا مقالہ…‘‘ اس کے بعد میرے علم و فضل کی مزید ستائش کی گئی تھی، اور پھر ایک درخواست: کیا میں اس کے لکھے ہوے مضمون پر تبصرہ لکھ سکتا ہوں، یعنی اس مضمون کے معیار کے بارے میں ’’جریدۂ بصری فنون‘‘ کے مدیروں کے نام ایک نوٹ، کیونکہ وہ لوگ چھ مہینے سے اس مضمون کو رد کرتے آ رہے ہیں ۔انھوں نے اسے بتایا تھا کہ میری رائے اس بارے میں فیصلہ کن ہو گی، چنانچہ میں اس مضمون کے مصنف کی آخری امید بن گیا تھا، مکمل تاریکی میں روشنی کی واحد کرن۔

ہم دونوں نے مسٹر زیتورتسکی کا خوب مذاق اڑایا، جس کے اشرافیہ جیسے نام نے ہمیں مسحور کر لیا تھا۔ لیکن یہ سب محض مذاق تھا؛ مذاق جس سے کسی کو نقصان پہنچانا مقصود نہ تھا، کیونکہ اس نے مجھ پر مدح و ستائش کے جو ڈونگرے برسائے تھے انھوں نے نہایت عمدہ وائن کے ساتھ مل کر میری طبیعت میں ایک گداز پیدا کر دیا تھا۔ مجھ میں اس قدر گداز پیدا ہو گیا تھا کہ مجھے تمام دنیا سے الفت محسوس ہو رہی تھی۔ لیکن تمام دنیا سے زیادہ، خاص طور پر کلارا سے، کیونکہ وہ اس وقت میرے سامنے بیٹھی تھی، جبکہ باقی پوری دنیا میری نظروں سے اوجھل، ورشووِتس محلے میں واقع میرے تنگ فلیٹ کی دیواروں کے دوسری طرف تھی۔ اور چونکہ اس وقت میرے پاس دنیا کو نوازنے کے لیے کچھ نہ تھا، اس لیے میں نے کلارا کو نوازا، کم از کم وعدوں سے۔

کلارا ایک اچھے خاندان کی بیس سالہ لڑکی تھی۔ اوہ، میں کیا کہہ گیا؟ اچھے خاندان کی؟ اعلیٰ ترین خاندان کی! اس کا باپ بینک منیجر رہ چکا تھا، اور سن پچاس کی دہائی میں اسے بالائی بورژوا طبقے کا نمائندہ قرار دے کر پراگ سے خاصی دور چیلاکووِتس کے گاؤں میں جلا وطن کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ اس کی بیٹی کا پارٹی ریکارڈ خراب تھا اور وہ پراگ کے ایک بڑے ملبوسات کے کارخانے میں درزن کے طور پر کام کرتی تھی۔ تعصب میرے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ میں نہیں مانتا کہ باپ کے صاحبِ جائیداد ہونے سے اس کی اولاد کے جینز پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں، آج کون نچلے طبقے سے تعلق رکھتا ہے اور کون امرا کے طبقے سے؟ سب کچھ اس قدر گڈمڈ ہو چکا ہے اور چیزیں ایک دوسرے سے اپنی جگہیں اس حد تک مکمل طور بدل چکی ہیں کہ بعض اوقات تو سماجیاتی اصطلاحات میں کسی بھی چیز کو سمجھنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ اس وقت اپنے سامنے ایک طبقاتی دشمن کو بیٹھا دیکھ کر اسے ذرا بھی طبقاتی دشمن محسوس نہیں کر رہا تھا؛ اس کے برعکس میں تو اپنے سامنے ایک حسین درزن کو بیٹھا دیکھ رہا تھا اور اس کے دل میں اپنے لیے زیادہ پسندیدگی پیدا کرنے کی کوشش میں خوش دلی کے ساتھ اسے اُس ملازمت کے فوائد سے آگاہ کر رہا تھا جو اپنے تعلقات استعمال کر کے دلوانے کا میں نے اس سے وعدہ کیا تھا۔ میں نے اسے یقین دلایا کہ اس جیسی حسین لڑکی کے لیے سلائی مشین کے سامنے بیٹھے رہ کر اپنا حسن گنوا دینا انتہائی مہمل بات ہو گی، اور میں نے فیصلہ کیا کہ اسے ماڈل بننا چاہیے۔

کلارا نے ذرا بھی مزاحمت نہ کی اور ہم نے وہ رات نہایت مسرور افہام و تفہیم میں گزاری۔

 

۲

آدمی زمانۂ حال سے اس طرح گزرتا ہے کہ اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے۔ جس تجربے سے وہ دراصل گزر رہا ہوتا ہے اس کے بارے میں اسے صرف اندازہ لگانے اور قیاس آرائی کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ بعد میں، جب اس کی آنکھوں سے پٹی کھولی جاتی ہے، تب کہیں وہ مڑ کر ماضی پر نظر ڈالتا ہے اور تب اسے پتا چلتا ہے کہ وہ کس تجربے سے گزرا تھا اور اس کا مفہوم کیا تھا۔

اُس رات میں سمجھ رہا تھا کہ اپنی کامیابی کا جام نوش کر رہا ہوں، اور مجھے گمان تک نہ تھا کہ یہ دراصل میری بربادی کا آغاز ہے۔

اور چونکہ مجھے گمان تک نہ تھا، اس لیے اگلی صبح میں بہت اچھے موڈ میں بیدار ہوا، اور اگرچہ کلارا ابھی میرے پہلو میں لیٹی گہرے سانس لے رہی تھی، میں نے اُس خط کے ساتھ منسلک مضمون نکالا اور خوش طبع بے نیازی سے اس پر اچٹتی ہوئی نظر ڈالنے لگا۔

اس کا عنوان تھا: ’’میکولش آلیش: چیک ڈرائنگ کا ماہرِ فن استاد‘‘، اور یہ سچ مچ اس آدھے گھنٹے کی توجہ کا بھی مستحق نہ تھا جو میں نے اس پر صرف کی۔ یہ محض پیش پا افتادہ باتوں کا ایک بے ہنگم ڈھیر تھا جس میں کسی تسلسل کا پتا نہ تھا اور اس کے ذریعے کسی اوریجنل خیال کو پیش کرنے کی نیت کا نام و نشان تک دکھائی نہ دیتا تھا۔

یہ بات واضح تھی کہ یہ مضمون خالص لغویت پر مبنی تھا۔ اسی دن ’’جریدۂ بصری فنون‘‘ کے مدیر ڈاکٹر کلوسک نے (جو ویسے ایک غیر معمولی طور پر کینہ جو شخص تھا) فون پر میری رائے کی مزید تصدیق کر دی؛ اس نے مجھے یونیورسٹی میں فون کیا: ’’تمھیں میاں زیتورتسکی کا مقالہ مل گیا؟…تو ٹھیک ہے، اسے نمٹا دو۔ پانچ لیکچرر پہلے ہی اس کی خاصی حجامت کر چکے ہیں، پھر بھی وہ جھاڑ کے کانٹے کی طرح پیچھے پڑا ہوا ہے اس کے دماغ میں کہیں سے یہ بات گھس گئی ہے کہ تمھاری رائے ہی اس بارے میں مستند ہو گی۔ اسے دو جملوں میں بتا دو کہ جو کچھ اس نے لکھا ہے وہ بکواس ہے، تم جانتے ہو یہ کس طرح کیا جاتا ہے، تمھیں زہر آلود باتیں کرنا خوب آتا ہے۔ بس، اس کے بعد ہم سب سکون سے رہ سکیں گے۔‘‘

لیکن میرے اندر کسی چیز نے احتجاج کیا: بھلا میں مسٹر زیتورتسکی کے جلاد کے فرائض کیوں انجام دوں؟ کیا اس کام کے لیے ایڈیٹر کی تنخواہ مجھے ملتی ہے؟ اس کے علاوہ، مجھے یہ بھی یاد تھا کہ ’’جریدۂ بصری فنون‘‘ نے میرا مقالہ ضرورت سے زیادہ احتیاط پسندی کے باعث رد کر دیا تھا؛ مزید یہ کہ مسٹر زیتورتسکی کا نام میرے ذہن میں کلارا، سلیوووِتس کی بوتل اور اس حسین شام سے مضبوطی سے وابستہ ہو چکا تھا۔ اور آخری بات یہ، میں اس سے انکار نہیں کروں گا، یہ ایک انسانی کمزوری ہے — میں ایسے لوگوں کو جو میری رائے کو استناد کا درجہ دیتے تھے، اپنے ہاتھ کی ایک انگلی پر گن سکتا تھا: میں بھلا اپنے اس واحد مداح کو کیونکر ہاتھ سے جانے دوں؟

میں نے گفتگو کو چالاکی کے ساتھ مبہم انداز میں ختم کیا، جو کلوسک کے خیال میں وعدہ اور میرے خیال میں معذرت تھی۔ میں نے رسیور اس مصمم ارادے کے ساتھ رکھا کہ مسٹر زیتورتسکی کے مضمون پر تبصرہ کبھی تحریر نہیں کروں گا۔

اس کے بجائے میں نے دراز میں سے لکھنے کا کاغذ نکالا اور مسٹر زیتورتسکی کے نام ایک خط لکھا، جس میں اس کے کام کے بارے میں کوئی رائے دینے سے احتراز کیا، اور یہ کہہ کر معذرت کی کہ انیسویں صدی کے آرٹ کی بابت میری آرا کو عموماً گمراہ اور سنکی پن پر مبنی خیال کیا جاتا ہے، چنانچہ میری مداخلت — خصوصاً ’’جریدۂ بصری فنون‘‘ کے مدیروں کے سلسلے میں — اس کے لیے کارآمد سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نے مسٹر زیتورتسکی کو دوستانہ بسیار گوئی سے لاد دیا، لیکن اس میں میری طرف سے اس کے کام کی کسی طرح کی ستائش تلاش کرنا ناممکن تھا۔

خط کو لیٹر باکس میں ڈالتے ہی میں مسٹر زیتورتسکی کو بھول گیا۔ لیکن مسٹر زیتورتسکی مجھے بالکل نہیں بھولا۔

 

۳

ایک دن جب میں اپنا لیکچر ختم کرنے کو تھا — میں کالج میں آرٹ کی تاریخ کا مضمون پڑھاتا ہوں — کہ دروازے پر دستک ہوئی؛ یہ ہمارے شعبے کی سیکرٹری، میری تھی، ایک مہربان پختہ عمر کی خاتون، جو کبھی کبھی میرے لیے کافی بنا دیتی ہے، اور جب فون پر ناپسندیدہ نسوانی آوازیں سنائی دیں تو کہہ دیتی ہے کہ میں باہر گیا ہوا ہوں ۔ اس نے دروازے میں سر ڈال کر بتایا کہ کوئی صاحب مجھے تلاش کر رہے ہیں ۔

میں صاحبوں سے قطعی خوفزدہ نہیں ہوتا، چنانچہ میں نے طالب علموں سے معذرت کی اور خوش طبعی کے ساتھ باہر راہداری میں نکل آیا۔ پھٹیچر سا کالا سوٹ اور سفید قمیص پہنے ایک پستہ قد آدمی نے جھک کر مجھے سلام کیا۔ اس نے نہایت احترام کے ساتھ مجھے اطلاع دی کہ وہ زیتورتسکی ہے۔

میں اپنے مہمان کو ایک خالی کمرے میں لے گیا، اسے بیٹھنے کے لیے کرسی پیش کی، اور خوشگوار انداز میں اس سے ہر ممکن موضوع پر باتیں کرنے لگا، مثلاً یہ اس سال گرمی کتنی پڑ رہی ہے اور پراگ میں کون کون سی نمائشیں چل رہی ہیں ۔ مسٹر زیتورتسکی شائستہ انداز میں میری باتوں سے اتفاق طاہر کرتا رہا، لیکن جلد ہی میرے کہے ہوے ہر فقرے کو اپنے مضمون پر منطبق کرنے لگا جو ہم دونوں کے درمیان غیر مرئی طور پر ایک ناقابلِ مزاحمت مقناطیس کی طرح پڑا تھا۔

’’آپ کے مضمون پر تبصرہ لکھنے سے زیادہ مجھے کسی اور بات سے خوشی نہیں ہو سکتی،‘‘ آخرکار میں نے کہا، ’’لیکن جیسا کہ میں خط میں وضاحت کر چکا ہوں، انیسویں صدی کے چیک آرٹ پر میری رائے مستند نہیں سمجھی جاتی، او راس کے علاوہ جریدے کے مدیر حضرات سے میرے تعلقات خراب ہیں، جو مجھے ایک سخت گیر جدیدیت پسند خیال کرتے ہیں، چنانچہ میرے لکھے ہوے مثبت تبصرے سے آپ کو صرف نقصان ہی پہنچ سکتا ہے۔‘‘

’’اوہ! آپ کس قدر منکسر مزاج ہیں ،‘‘ مسٹر زیتورتسکی نے کہا، ’’آپ جیسا ماہرِ فن خود اپنے مقام کے متعلق اس قدر غلط فہمی میں کیونکر مبتلا ہو سکتا ہے! جریدے کے ادارتی دفتر والوں نے مجھے خود بتایا ہے کہ سب کچھ آپ کے تبصرے پر منحصر ہے۔ اگر آپ میرے مضمون پر اچھی رائے دے دیں تو وہ اسے شائع کر دیں گے۔ آپ میری واحد امید ہیں ۔ یہ مضمون میرے تین سال کے مطالعے اور تین سال کی محنت کا حاصل ہے۔ سب کچھ اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

آدمی اپنے بہانے کتنی بے احتیاطی اور غیر ہنر مندی سے بناتا ہے! میری سمجھ میں نہ آیا کہ مسٹر زیتورتسکی کو کیا جواب دوں ۔ میں نے یونہی اس کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہاں مجھے نہ صرف چھوٹے شیشوں والی قدیم اور معصوم عینک دکھائی دی بلکہ اس کی پیشانی پر پڑا ہوا ایک طاقتور، گہرا عمودی بل بھی نظر آیا۔ مستقبل بینی کے ایک مختصر سے لمحے میں میری ریڑھ کی ہڈی میں کپکپی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ یہ بل، انتہائی مرکوز اور ہٹ دھرم، نہ صرف اس عقلی کرب کی غمازی کرتا تھا جس سے اس کا مالک میکولاش آلیش کی ڈرائنگوں کے سلسلے میں گزرا تھا، بلکہ ایک مضبوط قوتِ ارادی کی بھی۔ میں اپنی حاضر دماغی کھو بیٹھا اور کوئی ہوشیاری کا بہانہ تلاش نہ کر سکا۔ یہ تو میں جانتا تھا کہ میں تبصرہ لکھنے والا نہیں، لیکن یہ بھی جانتا تھا کہ مجھ میں یہ بات اس قابلِ رحم پستہ قد آدمی کے منھ پر کہنے کی ہمت نہیں ۔

تب میں مسکرانے لگا اور میں نے کسی مبہم چیز کا وعدہ کر لیا۔ مسٹر زیتورتسکی نے میرا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ جلد ہی دوبارہ آئے گا۔ ہم مسکراتے ہوے ایک دوسرے سے رخصت ہوے۔

چند دن بعد وہ واقعی آ گیا۔ اس روز تو میں نے ہوشیاری سے اس سے ملاقات کو ٹال دیا لیکن اس کے اگلے روز مجھے بتایا گیا کہ وہ مجھے یونیورسٹی میں ایک بار پھر ڈھونڈتا پھر رہا ہے۔ مجھے احساس ہوا کہ برا وقت میری طرف بڑھ رہا ہے؛ میں جلدی سے میری کے پاس گیا تاکہ مناسب قدم اٹھائے جا سکیں ۔

’’میری ڈیئر، میری تم سے التجا ہے، اگر یہ آدمی دوبارہ میری تلاش میں آئے تو اس سے کہہ دینا کہ میں کسی تحقیق کے سلسلے میں جرمنی گیا ہوا ہوں اور ایک مہینے میں لوٹوں گا۔ اور ایک بات اور جان لو: میری کلاسیں، جیسا کہ تمھیں معلوم ہے، منگل اور بدھ کو ہوتی ہیں ۔ میں انھیں خفیہ طور پر بدل کر جمعرات اور جمعے کو کر لیتا ہوں ۔ صرف طلبا کو اس کے بارے میں معلوم ہو گا، اور کسی کو مت بتانا، اور ٹائم ٹیبل کو بھی جوں کا توں رہنے دینا۔ مجھے قاعدوں کی خلاف ورزی کرنی ہی ہو گی۔‘‘

 

 

۴

بےشک مسٹر زیتورتسکی جلد ہی ایک بار پھر میری تلاش میں آیا اور جب سیکرٹری نے اسے اطلاع دی کہ میں اچانک جرمنی چلا گیا ہوں تو اس کی حالت قابلِ رحم ہو گئی۔ ’’لیکن یہ ممکن نہیں ہے۔ مسٹر کلیما کو میرے بارے میں تبصرہ لکھنا ہے۔ وہ اس طرح کیسے جا سکتے ہیں؟‘‘ ’’میں نہیں جانتی،‘‘ میری نے کہا۔ ’’لیکن وہ مہینے بھر میں لوٹ آئیں گے۔‘‘ ’’ایک مہینہ اور…‘‘ مسٹر زیتورتسکی کراہا: ’’اور آپ کو جرمنی میں ان کا پتا معلوم نہیں؟‘‘ ’’نہیں ،‘‘ میری بولی۔

چنانچہ میرا ایک مہینہ سکون سے گزرا، لیکن وہ مہینہ میری توقع سے جلد گزر گیا اور مسٹر زیتورتسکی ایک بار پھر دفتر کے باہر آ کھڑا ہوا۔ ’’نہیں، وہ اب تک واپس نہیں آئے،‘‘ میری نے کہا، اور بعد میں جب وہ کسی سلسلے میں مجھ سے ملی تو استدعا کے لہجے میں پوچھنے لگی، ’’تمھارا وہ چھوٹا ملاقاتی پھر آیا تھا، اب میں آخر اس سے کیا کہوں؟‘‘ ’’میری، اس سے کہہ دو کہ مجھے یرقان ہو گیا ہے اور میں جینا کے ایک ہسپتال میں داخل ہوں ۔‘‘ ’’ہسپتال میں!‘‘ جب میری نے چند روز بعد مسٹر زیتورتسکی کو اطلاع دی تو وہ چلّایا۔ ’’یہ نہیں ہو سکتا! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ انھیں میرے بارے میں تبصرہ لکھنا ہے!‘‘ ’’مسٹر زیتورتسکی!‘‘ سیکرٹری نے ملامت آمیز لہجے میں کہا، ’’مسٹر کلیما کہیں غیرملک میں سخت بیمار پڑے ہوے ہیں اور آپ کو سوائے اپنے تبصرے کے کسی چیز کا خیال نہیں!‘‘ مسٹر زیتورتسکی یہ سن کر دبک گیا اور رخصت ہوا، لیکن دو ہفتے بعد پھر دفتر میں موجود تھا۔ ’’میں نے مسٹر کلیما کے نام ایک رجسٹرڈ خط جینا بھیجا تھا۔ وہ چھوٹی سی جگہ ہے، وہاں ایک ہی ہسپتال ہو گا، لیکن خط میرے پاس واپس آ گیا!‘‘ ’’تمھارا چھوٹا ملاقاتی مجھے پاگل کیے دے رہا ہے،‘‘ اگلے روز میری نے مجھ سے کہا۔ ’’مجھ پر بگڑنا مت، میں اس سے اور کیا کہتی؟ میں نے کہہ دیا کہ تم واپس آ گئے ہو۔ اب تم اس سے خود ہی نمٹنا۔‘‘

میں میری پر بگڑا نہیں ۔ وہ جو کچھ کر سکتی تھی وہی اس نے کیا۔ علاوہ ازیں، میں خود کو کسی بھی طرح ہارا ہوا محسوس نہیں کر رہا تھا۔ میں جانتا تھا کہ پکڑا نہیں جاؤں گا۔ میں تمام وقت روپوشی کی حالت میں رہتا۔ جمعرات اور جمعے کو خفیہ طور پر لیکچر دیتا؛ اور ہر منگل اور بدھ کو اسکول کے سامنے والے ایک مکان کے دروازے سے مسٹر زیتورتسکی کا نظارہ کر کے خوش ہوتا، جو اسکول کے باہر میرے نکلنے کا منتظر کھڑا رہا کرتا۔ مجھے باؤلر ہیٹ پہننے اور داڑھی لگانے کی خواہش محسوس ہوتی۔ میں خود کو شرلاک ہومز یا ان دیکھا آدمی محسوس کرتا جو نظر آئے بغیر چل پھر رہا ہو۔ میں خود کو چھوٹا سا لڑکا محسوس کرتا۔

لیکن ایک دن مسٹر زیتورتسکی اس پہرے داری سے تھک گیا اور میری پر ٹوٹ پڑا۔ ’’آخر مسٹر کلیما کہاں لیکچر دیتے ہیں؟‘‘ ’’ٹائم ٹیبل وہاں لگا ہوا ہے،‘‘ میری نے دیوار کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا، جہاں ایک بڑے سے تختے پر سارے لیکچروں کی تفصیل مثالی انداز میں درج تھی۔

’’وہ تو میں دیکھ رہا ہوں ،‘‘ مسٹر زیتورتسکی نے ٹس سے مس ہوے بغیر کہا۔ ’’لیکن مسٹر کلیما یہاں نہ منگل کو لیکچر دیتے ہیں نہ بدھ کو۔ کیا وہ بیمار ہیں؟‘‘

’’نہیں ،‘‘ میری ہچکچاتے ہوے بولی۔ اور تب وہ شخص میری پر برس پڑا۔ اس نے ٹائم ٹیبل کے کنفیوژن پر اسے ملامت کی۔ اس نے طنزیہ لہجے میں دریافت کیا کہ وہ کس طرح اس بات سے بے خبر ہو سکتی ہے کہ کس وقت کون سا استاد کہاں ہو گا۔ وہ میری پر چلّایا۔ اس نے کہا کہ وہ کامریڈ اسسٹنٹ کلیما کی شکایت کرے گا جو لیکچر نہیں دے رہے ہیں، جو انھیں دینے چاہییں ۔ اس نے پوچھا کہ آیا ڈین اپنے دفتر میں ہے۔

بدقسمتی سے ڈین اپنے دفتر میں موجود تھا۔ مسٹر زیتورتسکی دروازہ کھٹکھٹا کر اندر چلا گیا۔ دس منٹ بعد وہ میری کے دفتر میں واپس آیا اور میرے فلیٹ کا پتا دریافت کیا۔

’’نمبر ۲۰، اسکالنک اسٹریٹ، لیتومیشل،‘‘ میری نے کہا۔ ’’پراگ میں مسٹر کلیما کا عارضی پتا ہے جسے وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے…‘‘ ’’میں آپ سے کامریڈ کلیما کے پراگ کے فلیٹ کا پتا پوچھ رہا ہوں ،‘‘ پستہ قد آدمی لرزتی ہوئی آواز میں چیخا۔

نہ جانے کس طرح میری اپنی حاضر دماغی کھو بیٹھی۔ اس نے اسے میرے فلیٹ، میری چھوٹی سی پناہ گاہ، میرے پیارے سے بھٹ کا پتا دے دیا، جہاں مجھے پکڑا جانا تھا۔

 

۵

ہاں، میرا مستقل پتا میتومیشل کا ہے؛ میری ماں، میرے دوست، اور میرے باپ کی یادیں وہیں مقیم ہیں ؛ جب بھی موقع ملتا ہے، میں پراگ سے بھاگ نکلتا ہوں اور گھر، اپنی ماں کے چھوٹے سے فلیٹ، میں بیٹھ کر لکھا کرتا ہوں ۔ تو اس طرح ہوا کہ میں نے اپنی ماں کے فلیٹ کو اپنا مستقل پتا لکھوا دیا اور پراگ میں کوئی مناسب بیچلر فلیٹ حاصل نہ کر سکا، جیسا کہ قاعدے سے میرے لیے کرنا ضروری تھا، بلکہ ورشووِتس کے علاقے میں واقع ایک مکمل طور پر پرائیویٹ اقامت خانے میں ایک کمرے پر مشتمل فلیٹ میں رہنے لگا، جس کے وجود کو میں اپنے امکان بھر چھپا کر رکھتا تھا۔ میں نے اپنے پتے کو کہیں رجسٹر نہیں کرایا تھا تاکہ میرے ناپسندیدہ مہمانوں کی میری متعدد عارضی نسوانی ہم نشینوں سے (جن کی آمدورفت، میں اقرار کرتا ہوں، نہایت بے قاعدہ تھی) غیر ضروری ملاقاتیں نہ ہوں ۔ اور ٹھیک اسی وجہ سے اس اقامت خانے میں میری شہرت زیادہ اچھی نہ تھی۔ مزید یہ کہ جب کبھی میں لیتومیشل گیا ہوا ہوتا تو کئی بار اپنا چھوٹا سا کمرہ دوستوں کو مستعار دے دیا کرتا، جو وہاں بےحد پُر لطف وقت گزارتے، اور اقامت خانے میں رہنے والے کسی شخص کو ایک پل بھی سونے نہ دیتے۔ ان تمام باتوں نے وہاں کے کئی مکینوں کو سخت چراغ پا کر دیا تھا اور انھوں نے میرے خلاف ایک خاموش جنگ چھیڑ رکھی تھی۔ بعض موقعوں پر انھوں نے مقامی کمیٹی کو میرے خلاف منفی رائے ظاہر کرنے پر اکسایا تھا اور یہاں تک کہ اقامت خانے کے دفتر میں میرے خلاف شکایت بھی داخل کر رکھی تھی۔

ان دنوں کلارا کو چیلاکووِتس کے دور دست محلے سے اپنے کام پر جانے میں دقت ہوتی تھی، چنانچہ وہ رات کو میرے ہی پاس ٹھہرنے لگی تھی۔ پہلے پہل وہ متذبذب انداز میں کبھی کبھار وہاں رات گزارتی، پھر اس نے اپنا ایک جوڑا وہاں لا رکھا، پھر کئی جوڑے، اور بہت جلد میرے دو سوٹ الماری کے ایک کونے میں سمٹ گئے اور میرا چھوٹا سا کمرہ ایک زنانہ خواب گاہ میں بدل گیا۔

میں کلارا کو سچ مچ پسند کرتا تھا؛ وہ خوبصورت تھی؛ مجھے خوشی محسوس ہوتی جب ہم اکٹھے باہر نکلتے اور لوگ ہمیں مڑ مڑ کر دیکھا کرتے؛ وہ مجھ سے کم از کم تیرہ سال چھوٹی تھی، جس سے طالب علموں میں میری عزت بڑھ گئی تھی؛ میرے پاس اس کا اچھی طرح خیال رکھنے کی ہزار وجوہ تھیں ۔ لیکن میں یہ بات ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتا تھا کہ وہ میرے ساتھ رہ رہی ہے۔ مجھے ڈر تھا کہ اقامت خانے میں ہمارے بارے میں چہ میگوئیاں اور افواہیں پھیل جائیں گی؛ مجھے ڈر تھا کہ کوئی میرے نیک دل مالک مکان پر ہلہ بول دے گا، جو سال کا بیشتر حصہ پراگ سے باہر گزارتا، اپنے کام سے کام رکھتا اور میرے معاملات سے کوئی سروکار نہ رکھتا تھا؛ مجھے ڈر تھا کہ ایک روز وہ ناخوشی کے عالم میں اور بجھے ہوے دل کے ساتھ میرے پاس آئے گا اور مجھ سے، اپنی نیک نامی کی خاطر، اس نوجوان خاتون کو وہاں سے رخصت کر دینے کو کہے گا۔

کلارا کو خفیہ ہدایت تھی کہ کسی کے لیے دروازہ نہ کھولے۔

ایک روز وہ کمرے میں اکیلی تھی۔ وہ ایک دھوپ بھرا دن تھا اور کمرے میں حبس سا تھا۔ وہ میرے دیوان پر، قریب قریب ننگی لیٹی، چھت کا جائزہ لینے میں محو تھی جب اچانک دروازے پر زور کی دستک سنائی دی۔

اس میں کوئی چونکنے والی بات نہ تھی۔ میرے پاس گھنٹی نہ تھی، اس لیے جو بھی آتا اسے دروازہ کھٹکھٹانا ہی پڑتا۔ چنانچہ کلارا نے اس شور و غل سے متاثر نہ ہونے کا فیصلہ کیا اور چھت کا معائنہ کرتی رہی۔ لیکن دروازہ پیٹنے کا عمل ختم نہ ہوا؛ بلکہ اس کے برعکس نہایت مستقل مزاجی سے جاری رہا۔ اب کلارا کو گھبراہٹ ہونے لگی۔ وہ ایک ایسے شخص کو دروازے کے باہر ایستادہ تصور کرنے لگی جو آہستگی سے اور معنی خیز انداز میں اپنی جیکٹ کا کالر اونچا کر رہا ہے، اور جو کچھ دیر بعد اس پر جھپٹ کر سوال کرے گا کہ اس نے دروازہ کھولنے میں اتنی دیر کیوں لگائی، وہ کیا چیز چھپا رہی ہے، اور آیا وہ رجسٹرڈ ہے۔ ایک احساس جرم نے اسے آ لیا؛ اس نے اپنی نظریں چھت سے ہٹائیں اور سوچنا شروع کیا کہ اپنے کپڑے کہاں اتارے تھے۔ لیکن دروازہ اتنی تن دہی سے متواتر پیٹا جا رہا تھا کہ اپنے اضطراب میں اسے کھونٹی پر لٹکی میری برساتی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آ سکا۔ اس نے خود کو برساتی میں لپیٹ لیا اور دروازہ کھول دیا۔

اسے کسی سوالیہ چہرے والے خطرناک شخص کے بجائے ایک پستہ قد آدمی دکھائی دیا جو تعظیماً جھک کر بولا، ’’کیا مسٹر کلیما گھر پر ہیں؟‘‘ ’’نہیں ہیں ۔‘‘ ’’اوہ، یہ تو برا ہوا،‘‘ چھوٹے آدمی نے کہا اور اسے پریشان کرنے پر اس سے معذرت کی۔ ’’بات یہ ہے کہ مسٹر کلیما کو میرے بارے میں ایک تبصرہ لکھنا ہے۔ انھوں نے مجھ سے وعدہ کیا ہے، اور اس کام کو جلد کرنا ضروری ہے۔ اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں کم از کم ان کے نام ایک پیغام چھوڑ سکتا ہوں ۔‘‘

کلارا نے اسے کاغذ پنسل دے دی، اور اُس شام میں نے پڑھا کہ میکولاش الیش کے بارے میں لکھے گئے مضمون کی تقدیر صرف میرے ہاتھوں میں ہے اور یہ کہ مسٹر زیتورتسکی نہایت احترام کے ساتھ میرے تبصرے کا منتظر ہے اور وہ مجھ سے یونیورسٹی میں ملنے کی دوبارہ کوشش کرے گا۔

 

 

۶

اگلے دن میری نے مجھے بتایا کہ کس طرح مسٹر زیتورتسکی نے اسے دھمکایا تھا، پھر جا کر اس شکایت کی تھی؛ اس کی آواز کپکپا رہی تھی اور وہ رو پڑنے کو تھی۔ میں طیش میں آ گیا۔ مجھے احساس ہوا کہ بیچاری سیکرٹری، جو اب تک میرے آنکھ مچولی کے کھیل پر ہنستی رہی تھی (اگرچہ میں شرط لگا سکتا ہوں کہ اس نے جو کچھ کیا وہ لطف اندوزی کی خاطر نہیں بلکہ میری مروت میں کیا تھا)، اب تکلیف محسوس کر رہی تھی اور قابل فہم طور پر اپنی تکلیف کا منبع مجھے سمجھ رہی تھی۔ جب میں نے ان تمام چیزوں میں اپنے پتے کے انکشاف، دس منٹ تک فلیٹ کا دروازہ پیٹے جانے اور کلارا کے خوفزدہ ہونے کو بھی شامل کر کے دیکھا تو میرا غصہ جلال کی حد تک جا پہنچا۔

جس وقت میں میری کے دفتر میں، بےچینی سے ہونٹ کاٹتا، اپنا خون کھولاتا، انتقام کے متعلق سوچتا، اِدھر سے اُدھر ٹہل رہا تھا، ٹھیک اس وقت دروازہ کھلا اور مسٹر زیتورتسکی نمودار ہوا۔

مجھے دیکھ کر خوشی کی جھلملاہٹ سی اس کے چہرے پر دوڑ گئی۔ اس نے جھک کر مجھے سلام کیا۔ وہ ذرا جلدی آ گیا تھا، یعنی اس سے پہلے کہ میں اپنے انتقام کے منصوبے پر اچھی طرح غور کر سکتا۔

اس نے پوچھا کہ آیا مجھے پچھلے روز اس کا چھوڑا ہوا پیغام مل گیا تھا۔

میں خاموش رہا۔ اس نے اپنا سوال دُہرایا۔ ’’مل گیا تھا،‘‘ میں نے جواب دیا۔

’’تو کیا آپ مہربانی کر کے تبصرہ لکھ دیں گے؟‘‘

میں نے اسے اپنے سامنے کھڑے دیکھا: نڈھال، ضدی، ملتجی۔ میں نے اس کے ماتھے کے عمودی بل کو دیکھا — دھات پر کندہ کی ہوئی لکیر، یکسو جنون کی علامت — میں نے اس عمودی لکیر کو غور سے دیکھا اور جان گیا کہ یہ دو نقطوں کو ملانے والی ایک سیدھی لکیر ہے، اور وہ دو نقطے ہیں اس کا مضمون اور میرا تبصرہ؛ اس جنونی سیدھی لکیر کی گرفت کے باہر اس کی زندگی میں سوائے ولیوں کی سی رہبانیت کے کچھ نہ تھا؛ اور ٹھیک اس وقت ایک معاندانہ ترکیب میرے ذہن میں آئی۔

’’اتنا تو آپ سمجھتے ہوں گے کہ کل کے واقعے کے بعد میں آپ سے بات نہیں کر سکتا،‘‘ میں نے کہا۔

’’میں آپ کی بات نہیں سمجھا۔‘‘

’’بننے کی ضرورت نہیں ۔ اُس نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے۔ اب آپ کا اس سے انکار کرنا غیر ضروری ہو گا۔‘‘

’’میں آپ کی بات نہیں سمجھا،‘‘ چھوٹے آدمی نے اپنی بات پھر دہرائی؛ لیکن اس بار زیادہ فیصلہ کن لہجے میں ۔

میں نے خوش طبعی کا، تقریباً دوستانہ انداز اختیار کیا۔ ’’دیکھیے مسٹر زیتورتسکی، میں آپ کو قصوروار نہیں ٹھہراتا۔ میں بھی عورتوں کے تعاقب میں رہتا ہوں اور آپ کی کیفیت کو سمجھ سکتا ہوں ۔اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو خود کو ایک خوبصورت لڑکی کے ساتھ تنہا پا کر، خاص طور پر جب اس نے ایک مردانہ برساتی کے نیچے کچھ نہ پہن رکھا ہو، اسے راہ پر لانے کی کوشش کرتا۔‘‘

’’یہ بڑی زیادتی ہے!‘‘ پستہ قد آدمی پیلا پڑ گیا۔

’’نہیں، یہ سچ ہے، مسٹر زیتورتسکی۔‘‘

’’کیا خاتون نے آپ کو یہ بات بتائی ہے؟‘‘

’’اس کے اور میرے درمیان کوئی راز نہیں ۔‘‘

’’کامریڈ اسسٹنٹ، یہ بہت بڑی زیادتی ہے! میں ایک شادی شدہ آدمی ہوں ۔ میری بیوی ہے! میرے بچے ہیں!‘‘ پستہ قد آدمی نے ایک قدم آگے بڑھایا، اور مجھے ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑا۔

’’یہ تو آپ کے لیے اور بھی بُرا ہے، مسٹر زیتورتسکی۔‘‘

’’اور بھی بُرا ہے سے آپ کا کیا مطلب ہے؟‘‘

’’میرا خیال ہے شادی شدہ ہونا عورتوں کا تعاقب کرنے کے معاملے میں ایک خامی ہے۔‘‘

’’اپنی بات کو واپس لیجیے!‘‘ مسٹر زیتورتسکی نے دھمکانے کے انداز میں کہا۔

’’اچھا، ٹھیک ہے،‘‘ میں نے اس سے اتفاق کیا، ’’شادی شدہ ہونا اس معاملے میں ہمیشہ رکاوٹ نہیں بنتا۔ اس کے برعکس کبھی کبھی یہ ہر چیز کا پردہ بھی بن بھی جاتا ہے۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ میں آپ سے بالکل ناراض نہیں اور آپ کی کیفیت کو اچھی طرح سمجھتا ہوں ۔ صرف ایک بات ہے جو میری سمجھ میں نہیں آ رہی۔ آپ ایک ایسے شخص سے اب بھی تبصرہ لکھوانا چاہتے ہیں جس کی عورت کو آپ نے پٹانے کی کوشش کی، یہ کیونکر؟‘‘

’’کامریڈ اسسٹنٹ! اکیڈمی آف سائنسز کے ’جریدۂ بصری فنون‘ کے مدیر ڈاکٹر کلوسک میرے مضمون پر آپ کا تبصرہ چاہتے ہیں ۔ اور آپ کو یہ تبصرہ لکھنا ہو گا۔‘‘

’’تبصرہ یا عورت۔ آپ دونوں کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔‘‘

’’یہ کس طرح کا طرزِ عمل ہے، کامریڈ؟‘‘ مسٹر زیتورتسکی نے سخت طیش کے عالم میں چلّا کر کہا۔

عجیب بات یہ ہے کہ اچانک مجھے یوں محسوس ہوا جیسے مسٹر زیتورتسکی نے سچ مچ کلارا کو پٹانے کی کوشش کی ہو۔ غصے سے سلگتے ہوے میں نے چیخ کر کہا، ’’تمھاری یہ جرأت کہ مجھ پر چلّاؤ! تمھیں تو میری سیکرٹری کے سامنے مجھ سے معافی مانگنی چاہیے۔‘‘

میں نے مسٹر زیتورتسکی کی طرف پیٹھ موڑ لی اور وہ ہکا بکا سا لڑکھڑاتے قدموں سے باہر نکل گیا۔

’’افوہ!‘‘میں نے ایک ایسے جنرل کے انداز میں آہ بھری جس نے سخت مقابلے کے بعد کوئی لڑائی جیت لی ہو، اور میری سے کہا، ’’شاید اب وہ مجھ سے تبصرہ لکھوانے کا خیال چھوڑ دے گا۔‘‘

میری مسکرائی، پھر لمحہ بھر بعد ہچکچاتے ہوے بولی، ’’آپ آخر تبصرہ کیوں نہیں لکھنا چاہتے؟‘‘

’’کیونکہ، میری ڈیئر، اس نے جو کچھ لکھا ہے وہ پرلے درجے کی بکواس ہے۔‘‘

’’تو آپ اپنے تبصرے میں یہی کیوں نہیں لکھ دیتے کہ یہ بکواس ہے؟‘‘

’’میں کیوں لکھوں؟ میں لوگوں کی عداوت کیوں مول لیتا پھروں …‘‘ لیکن اتنا کہتے ہی مجھے احساس ہو گیا کہ مسٹر زیتورتسکی اس کے باوجود میرا دشمن ہو چکا ہے، اور تبصرہ نہ لکھنے کی میری کوشش ایک بے مقصد اور لغو جدوجہد تھی — بدقسمتی سے میں نہ اب اسے روک سکتا تھا نہ پیچھے ہٹ سکتا تھا۔

میری ایک مہربان مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھ رہی تھی، جیسے عورتیں بچوں کی حماقت کو دیکھا کرتی ہیں ؛ تب دروازہ کھلا اور مسٹر زیتورتسکی ایک بازو اوپر اٹھائے وہاں کھڑا دکھائی دیا۔ ’’مجھے نہیں، معافی آپ کو مانگنی ہو گی!‘‘وہ لرزتی ہوئی آواز میں چلّایا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

 

 

۷

مجھے اب ٹھیک سے یاد نہیں کہ کب، اُسی دن یا اس کے چند دن بعد، اقامت خانے کے پوسٹ باکس میں ہمیں ایک لفافہ ملا جس پر کوئی پتا نہیں لکھا ہوا تھا۔

اندر ٹیڑھی میڑھی، تقریباً قدیم انداز کی لکھائی میں ایک خط تھا:

محترم خاتون،

میرے شوہر کی ہتک کے سلسلے میں براہ کرم اتوار کو میرے گھر آئیے۔ میں پورا دن گھر پر ہوں گی۔ اگر آپ نہ آئیں تو مجھے مجبوراً اقدامات کرنے ہوں گے۔

آنا زیتورتسکی، ۱۴ دالمیلووا اسٹریٹ، پراگ ۳۔

کلارا خوفزدہ ہو گئی اور میرے قصور کے بارے میں کچھ کہنے لگی۔ میں نے ہاتھ لہرا کر اعلان کیا کہ زندگی کا کام تفریح بہم پہنچانا ہے، اور اگر زندگی اس سلسلے میں کاہلی کا مظاہرہ کرتی ہے تو ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس کام میں اس کی تھوڑی بہت مدد کریں ۔ آدمی کو مسلسل واقعات کے تیز رفتار گھوڑوں پر سواری کرنی چاہیے، کیونکہ ان کے بغیر وہ ریت میں قدم گھسیٹنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔ میں نے اسے یقین دلایا کہ مسٹر یا مسز زیتورتسکی سے اس کی کبھی ملاقات نہیں ہو گی، اور جس واقعے کے رہوار کی پیٹھ پر میں چھلانگ لگا کر جم گیا ہوں اسے اپنا ایک ہاتھ پیچھے باندھ کر بھی قابو میں لا سکتا ہوں ۔

صبح جس وقت ہم اقامت خانے سے باہر نکل رہے تھے، چوکیدار نے ہمیں روکا۔ یہ چوکیدار ہمارا دشمن نہیں تھا۔ میں نے احتیاط سے کام لیتے ہوے اسے ایک بار پچاس کراؤن کا نوٹ رشوت میں دیا تھا اور اب تک اس خوشگوار اطمینان میں زندگی بسر کر رہا تھا کہ اس نے میرے بارے کچھ نہ جاننا سیکھ لیا ہے، اور اس آگ میں تیل چھڑکنے سے احتراز کرتا ہے جو میرے دشمنوں نے وہاں جلا رکھی تھی۔

’’کل ایک میاں بیوی آپ کو تلاش کر رہے تھے،‘‘ اس نے بتایا۔

’’کس قسم کے لوگ تھے؟‘‘

’’ایک چھوٹے قد کا آدمی تھا اور اس کی عورت ساتھ تھی۔‘‘

’’عورت کس حلیے کی تھی؟‘‘

’’اس سے دو سر اونچی۔ انتہائی پھرتیلی۔ تناور عورت۔ ہر قسم کی باتیں پوچھ رہی تھی۔‘‘ وہ کلارا کی طرف مڑا۔ ’’زیادہ تر آپ کے بارے میں ۔ کہ آپ کون ہیں اور نام کیا ہے۔‘‘

’’اوہ خدایا! تو تم نے اسے کیا بتایا؟‘‘ کلارا چلائی۔

’’میں کیا بتاتا؟ مجھے کیا خبر مسٹر کلیما سے ملنے والے کون کون ہیں؟ میں نے اس سے کہہ دیا کہ ہر رات کوئی اور آتا ہے۔‘‘

’’شاباش!‘‘ میں نے قہقہہ لگایا اور جیب سے دس کراؤن کا نوٹ نکالا۔ ’’بس اسی طرح کے جواب دیتے رہنا۔‘‘

’’ڈرو مت،‘‘ بعد میں میں نے کلارا سے کہا۔ ’’نہ تم اتوار کو کہیں جاؤ گی اور نہ کوئی تمھیں پا سکے گا۔‘‘

اتوار آیا اور گزر گیا؛ اتوار کے بعد پیر اور منگل اور بدھ؛ کچھ بھی نہیں ہوا۔ ’’دیکھا،‘‘ میں نے کلارا سے کہا۔ لیکن پھر جمعرات کا دن آیا۔ میں اپنے خفیہ لیکچر میں اپنے طالب علموں کو بتا رہا تھا کہ کس طرح اور کیسے بے غرضانہ رفاقت کے ماحول میں فاؤوسٹوں (FAUVISTS) نے رنگوں کو ان کے سابق امپریشنسٹ کردار کی قیود سے رہائی دلائی، کہ اسی وقت میری نے دروازہ کھولا اور سرگوشی میں مجھ سے کہا، ’’اُس مسٹر زیتورتسکی کی بیوی آئی ہے۔‘‘ ’’لیکن میں تو یہاں نہیں ہوں ،‘‘ میں نے کہا، ’’اسے ٹائم ٹیبل دکھا دو۔‘‘ ’’دکھایا تھا، لیکن اس نے آپ کے کمرے میں جھانک کر دیکھا تو اسے آپ کی برساتی اسٹینڈ پر لٹکی دکھائی دے گئی۔ اسی وقت اسسٹنٹ پروفیسر زیلینی وہاں آ گئے اور انھوں نے اسے بتا دیا کہ یہ آپ کی ہی برساتی ہے۔ اب وہ راہداری میں آپ کے انتظار میں بیٹھی ہے۔‘‘

اگر قسمت زیادہ منظم انداز سے میرا تعاقب کر سکتی تو ممکن ہے میں ایک کامیاب شخص ہوتا۔ بند گلی ایک ایسی شے ہے جہاں میرے تخیل کو مہمیز ملتی ہے اور بہترین ترکیبیں سوجھتی ہیں ۔ میں نے اپنے ایک پسندیدہ طالب علم سے کہا:

’’مہربانی کر کے میرا ایک کام کر دو۔ میرے دفتر میں جاؤ، اسٹینڈ پر لٹکی ہوئی میری برساتی پہنو اور اسکول سے باہر نکل جاؤ۔ راہداری میں بیٹھی ایک عورت تمھیں روک کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ تم کلیما ہو۔ تمھارا کام یہ ہے کہ اس کا کسی قیمت پر اقرار نہ کرنا۔‘‘

طالب علم گیا اور کوئی چوتھائی گھنٹے میں لوٹ آیا۔ اس نے بتایا کہ مشن کامیابی سے پورا ہوا، مطلع اب صاف ہے اور عورت اسکول کی عمارت سے جا چکی ہے۔

چنانچہ اس بار میں جیت گیا۔ لیکن پھر جمعے کا دن آیا، اور سہ پہر کے وقت کلارا پتّے کی طرح کانپتی ہوئی اپنے کام سے واپس آئی۔

ملبوسات کے کارخانے کے صاف ستھرے دفتر میں جو شائستہ آدمی گاہکوں سے ملاقات کیا کرتا تھا، اس نے کارگاہ کی طرف کھلنے والا دروازہ کھولا جہاں کلارا اور پندرہ دوسری درزنیں سلائی مشینوں پر جھکی ہوئی کام میں مصروف تھیں، اور اونچی آواز میں کہا:

’’کیا تم میں سے کوئی نمبر ۵، پشکن اسٹریٹ پر رہتی ہے؟‘‘

کلارا جان گئی کہ اسی کو تلاش کیا جا رہا ہے، کیونکہ ۵، پشکن اسٹریٹ میرے ہی اقامت خانے کا پتا تھا۔ لیکن احتیاط نے اسے بولنے سے باز رکھا، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کا میرے ساتھ رہنا ایک راز ہے اور اس سے کوئی واقف نہیں ۔

’’دیکھا، میں ان خاتون سے کیا کہہ رہا تھا؟‘‘ جب کسی لڑکی نے جواب میں کچھ نہ کہا تو شائستہ شخص بولا اور دروازے سے باہر نکل گیا۔ کلارا کو بعد میں معلوم ہوا کہ ٹیلیفون پر ایک زنانہ آواز نے اسے پہلے کارخانے کے ملازمین کی فہرست کی چھان بین کرنے پر مجبور کیا اور پھر چوتھائی گھنٹے تک اس بات پر اصرار کرتی رہی کہ اس کارخانے میں کام کرنے والی لڑکیوں میں سے ایک نمبر ۵، پشکن اسٹریٹ پر رہتی ہے۔

مسز زیتورتسکی کا سایہ ہمارے پُر سکون کمرے پر پھیل گیا۔

’’لیکن اسے یہ کہاں سے پتا چلا کہ تم وہاں کام کرتی ہو؟ یہاں تو کوئی تمھیں جانتا نہیں!‘‘ میں نے زور سے کہا۔

ہاں، مجھے یقین تھا کہ ہمیں کوئی نہیں جانتا۔ میں کسی ایسے سنکی شخص کی طرح رہتا تھا جس کا خیال ہو کہ وہ اونچی دیوار کے پیچھے ہے اور اسے کوئی نہیں دیکھ رہا، لیکن تمام وقت ایک تفصیل اس کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے: یہ اونچی دیوار شفاف کانچ کی بنی ہوئی ہے۔

میں نے چوکیدار کو رشوت دے کر آمادہ کر لیا تھا کہ وہ اس کے یہاں میرے ساتھ رہنے کی بات کسی پر ظاہر نہ کرے، میں نے کلارا کو خود کو چھپائے رکھنے کے نہایت تکلیف دہ اور جھنجھلا دینے والے طریقے اختیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا، جبکہ اس مکان میں رہنے والے تمام لوگ اس کے بارے میں جانتے تھے۔ صرف اتنا ہوا تھا کہ ایک بار وہ دوسری منزل پر رہنے والی ایک عورت سے بے احتیاطی سے بات کر بیٹھی تھی، اور سب لوگ جان گئے تھے کہ وہ کہاں کام کرتی ہے۔ ہمیں شبہ تک نہ ہوا تھا کہ اتنے دنوں سے ہم سب کی نظروں کے عین سامنے وہاں رہ رہے تھے۔ ہمارے دشمنوں سے اگر کوئی چیز چھپی ہوئی تھی تو بس کلارا کا نام، اور یہ چھوٹی سی تفصیل کہ وہ وہاں میرے ساتھ اپنا نام رجسٹر کرائے بغیر رہ رہی تھی۔ یہی دو آخری راز تھے جن کی اوٹ میں چھپ کر ہم، فی الحال، مسٹر زیتورتسکی کو جُل دینے میں کامیاب ہو گئے تھے جس نے اپنا حملہ اس قدر مصمم اور منظم انداز میں کیا تھا کہ میں دہشت زدہ رہ گیا تھا۔

میں سمجھ گیا کہ معاملہ بہت دشوار ہو گا۔ میری کہانی کے گھوڑے کی زین اچھی طرح کسی جا چکی تھی۔

 

 

۸

یہ جمعے کا ذکر ہے۔ اور سنیچر کو جب کلارا کام پر سے واپس آئی تو اس پر پھر کپکپی طاری تھی۔

مسز زیتورتسکی اپنے شوہر کو ساتھ لے کر کارخانے پہنچی تھی۔ اس نے اپنی آمد کی پہلے سے اطلاع کر دی تھی اور منیجر سے اجازت حاصل کر لی کہ وہ دونوں کار گاہ کے اندر جا کر درزنوں کے چہروں کا معائنہ کر سکتے ہیں ۔ یہ درست ہے کہ اس درخواست نے کامریڈ منیجر کو حیرت میں ڈال دیا تھا، لیکن مسز زیتورتسکی کا انداز ایسا تھا کہ اس سے انکار ممکن نہیں تھا۔ اس نے مبہم سے انداز میں کسی توہین کا، اور زندگی کے تباہ ہو جانے کا، اور عدالتی چارہ جوئی کا ذکر کیا۔ برابر میں مسٹر زیتورتسکی تیوری چڑھائے خاموش کھڑا رہا۔

انھیں دروازہ کھول کر کار گاہ میں لایا گیا۔ درزنوں نے بے پروائی سے سر اٹھا کر دیکھا، اور کلارا نے اس پستہ قد آدمی کو پہچان لیا؛ اس کی رنگت زرد پڑ گئی اور وہ خود کو چھپانے کی عیاں کوشش میں جلدی سے سلائی کے کام میں لگ گئی۔

’’یہ لیجیے،‘‘ منیجر نے خفیف طنز آمیز شائستگی کے ساتھ اس اکڑے ہوے جوڑے سے کہا۔ مسز زیتورتسکی نے بھانپ لیا کہ اسی کو آگے بڑھنا ہو گا، اور اپنے شوہر سے بولی، ’’اب دیکھو!‘‘ مسٹر زیتورتسکی نے تیوری چڑھا کر چاروں طرف دیکھا۔ ’’ان میں سے کوئی ہے؟‘‘ مسز زیتورتسکی نے سرگوشی میں پوچھا۔

چشمہ لگا کر بھی مسٹر زیتورتسکی اس بڑے سے کمرے کو ٹھیک سے دیکھ نہیں پا رہا تھا، جس کا جائزہ لینا یوں بھی آسان نہ تھا کیونکہ اس میں ہر طرف کپڑے کی کترنوں کے ڈھیر پڑے تھے اور افقی سلاخوں سے سلے ہوے کپڑے لٹک رہے تھے، اور ہمہ وقت پہلو بدلتی ہوئی درزنیں اپنے چہرے دروازے کی طرف کیے قطار میں نہیں بلکہ بے ترتیبی سے اِدھر اُدھر رخ کیے بیٹھی تھیں ؛ وہ آگے پیچھے، اوپر نیچے ہر طرف متواتر حرکت کر رہی تھیں ۔ چنانچہ مسٹر زیتورتسکی کو ایک ایک قدم بڑھاتے ہوے گردن موڑ موڑ کر ایک ایک چہرے کو دیکھنا پڑ رہا تھا کہ کوئی رہ نہ جائے۔

جب عورتوں کو اندازہ ہوا کہ انھیں دیکھا جا رہا ہے، اور دیکھنے والا بھی اس قدر بھدا اور غیر دلکش آدمی ہے، تو انھیں ہلکی سی ہتک محسوس ہوئی، اور ان کے طنزیہ فقرے اور بڑبڑاہٹیں سنائی دینے لگیں ۔ ان میں سے ایک، جو تنو مند نو عمر لڑکی تھی، گستاخی سے بول اٹھی:

’’یہ پورے پراگ میں اُس چوہے کو ڈھونڈتا پھر رہا ہے جس نے اسے حاملہ کر دیا!‘‘

عورتوں کی پُر شور اور پھکڑ فقرے بازی نے میاں بیوی کو گھیر لیا؛ وہ پہلے تو دل شکستہ سے کھڑے رہے، پھر ایک عجیب قسم کے وقار سے تن گئے۔

’’میڈم!‘‘گستاخ لڑکی مسز زیتورتسکی سے مخاطب ہو کر ایک بار پھر بولی، ’’آپ اپنے بیٹے کا اچھی طرح خیال نہیں رکھتیں! میں تو ایسے پیارے سے ننھے کو کبھی گھر سے باہر قدم نہ رکھنے دوں ۔‘‘

’’اور ٹھیک سے دیکھو!‘‘ اس نے اپنے شوہر سے سرگوشی کی، اور وہ افسردہ اور جھینپے ہوے انداز میں ایک ایک قدم یوں آگے بڑھتا رہا جیسے اسے دونوں طرف سے مار پڑ رہی ہو، لیکن اس کے باوجود اس کے انداز میں ایک مضبوطی تھی اور اس نے ایک بھی چہرے کو دیکھے بغیر نہ چھوڑا۔

اس تمام عرصے میں منیجر مبہم سے انداز میں مسکراتا رہا؛ وہ اپنی ملازم عورتوں کو جانتا تھا، اور یہ بھی جانتا تھا کہ ان منھ پھٹ درزنوں کا کچھ نہیں کیا جا سکتا، چنانچہ اس نے ان کے شور و غل کو نہ سننے کا ناٹک کرتے ہوئے مسٹر زیتورتسکی سے سوال کیا، ’’آپ مہربانی کر کے مجھے یہ بتائیے کہ آپ جس عورت کی تلاش میں ہیں وہ کس حلیے کی ہے؟‘‘

مسٹر زیتورتسکی منیجر کی طرف مڑا اور آہستہ آہستہ، نہایت سنجیدہ لہجے میں بولا، ’’وہ خوبصورت تھی… بہت خوبصورت تھی…‘‘

اس دوران کلارا ایک کونے میں بیٹھی تھی، اور اس کی برہمی، جھکا ہوا سر اور کام میں اس کی ہٹیلی محویت اسے منھ پھٹ لڑکیوں سے الگ ظاہر کر رہی تھی۔ اُف! اس نے خود کو چھپانے اور غیر اہم ظاہر کرنے کا کتنا غلط طریقہ اختیار کیا تھا! اور اب مسٹر زیتورتسکی اس سے ذرا ہی دور تھا؛ منٹ بھر بعد اس کی نظر اس کے چہرے پر پڑنے والی تھی۔

’’یہ تو کافی نہیں ہے، اگر آپ کو صرف اتنا ہی یاد ہے کہ وہ خوبصورت تھی،‘‘ شائستہ کامریڈ منیجر نے مسٹر زیتورتسکی سے کہا۔ ’’خوبصورت عورتیں تو بہت سی ہیں ۔ وہ لمبی تھی یا چھوٹی؟‘‘

’’لمبی‘‘ مسٹر زیتورتسکی نے کہا۔

’’اس کے بال کالے تھے یا سنہری؟‘‘ مسٹر زیتورتسکی نے لمحہ بھر سوچا اور پھر کہا، ’’سنہری۔‘‘

کہانی کا یہ حصہ حسن کی قوت کے بارے میں ایک حکایت کے طور پر کام آ سکتا ہے۔ جب مسٹر زیتورتسکی نے کلارا کو پہلی بار میرے گھر پر دیکھا تھا تو اس قدر چکا چوند ہو گیا تھا کہ اس نے دراصل اسے دیکھا ہی نہ تھا۔ حسن نے اس کی نظروں کے سامنے ایک پردہ تان دیا تھا جس کے پار دیکھا نہ جا سکتا تھا۔ روشنی کا پردہ، جس کے پیچھے وہ یوں چھپی ہوئی تھی جیسے کسی نقاب میں ۔

حقیقت یہ ہے کہ کلارا نہ لمبی ہے اور نہ سنہری بالوں والی۔ صرف حسن کی داخلی عظمت نے اسے مسٹر زیتورتسکی کی نگاہوں میں لمبا قد عطا کر دیا تھا۔ اور وہ دمک جو حسن سے پھوٹتی ہے، اس کی بدولت اس کے بال سنہری ہو گئے تھے۔

اس طرح جب پستہ قد آدمی آخرکار اس کونے پر پہنچا جہاں کلارا ایک بھورے رنگ کا سوتی لبادہ پہنے، ایک قمیص کی سلائی میں مشغول بیٹھی تھی، تو وہ اسے پہچان نہ سکا، کیونکہ دراصل اس نے کلارا کو کبھی دیکھا ہی نہ تھا۔

 

 

۹

جب کلارا اس واقعے کا بے ربط اور مشکل سے سمجھ میں آنے والا بیان مکمل کر چکی تو میں نے کہا، ’’دیکھا، ہماری قسمت اچھی ہے۔‘‘

لیکن کلارا سسکیوں کے درمیان مجھ سے بولی، ’’کیسی قسمت؟ اگر وہ مجھے آج نہیں ڈھونڈ سکے تو کل ڈھونڈ نکالیں گے۔‘‘

’’ذرا بتاؤ تو، کس طرح؟‘‘

’’وہ مجھے یہاں، تمھارے گھر آ کر پکڑ لیں گے۔‘‘

’’میں کسی کو اندر آنے ہی نہیں دوں گا۔‘‘

’’اور اگر انھوں نے پولیس کو بھیج دیا تو؟‘‘

’’ارے چھوڑو بھی، میں کہہ دوں گا کہ یہ مذاق تھا۔ اور آخر ہنسی مذاق ہی تو تھا یہ۔‘‘

’’آج کل مذاق کا زمانہ نہیں ہے، آج کل ہر چیز سنجیدہ شکل اختیار کر لیتی ہے۔ وہ کہیں گے کہ میں نے اس کی شہرت داغدار کرنے کی کوشش کی۔ اسے دیکھ کر کون کہے گا کہ وہ کسی عورت کو پٹانے کی کوشش کر سکتا ہے؟‘‘

’’تم ٹھیک کہتی ہو، کلارا،‘‘ میں نے کہا، ’’وہ غالباً تمھیں قید میں ڈال دیں گے۔ لیکن دیکھو کاریل ہاولیچیک بورووسکی بھی جیل گیا تھا اور کہاں تک پہنچا؛ تم نے اس کے بارے میں اسکول میں پڑھا ہو گا۔‘‘

’’بک بک بند کرو!‘‘ کلارا نے کہا۔ ’’تم جانتے ہو میرے ساتھ بہت برا ہونے والا ہے۔ مجھے نظم و ضبط کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا اور یہ بات میرے ریکارڈ پر آ جائے گی، اور میں کبھی اس کارخانے سے نکل نہیں سکوں گی۔ ویسے بھی، میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ اُس ملازمت کا کیا بنا جو مجھے دلوانے کا تم نے وعدہ کیا تھا۔ اب میں رات کو تمھارے گھر پر نہیں سو سکتی۔ مجھے ہمیشہ دھڑکا لگا رہے گا کہ وہ مجھے پکڑنے آ رہے ہیں ۔ آج میں چیلاکووِوتس واپس جا رہی ہوں ۔‘‘ یہ تو ایک گفتگو تھی۔

سہ پہر کو شعبے میں ہونے والی ایک میٹنگ کے بعد میری ایک اور گفتگو ہوئی۔ شعبے کے چیئرمین نے، جو سفید بالوں والا آرٹ کا مورخ اور دانشمند آدمی تھا، مجھے اپنے دفتر میں آنے کی دعوت دی۔

’’امید ہے تم جانتے ہو گے کہ تم نے اپنا تازہ ترین مقالہ چھپوا کر اپنا کچھ بھلا نہیں کیا ہے،‘‘ وہ مجھ سے بولا۔

’’ہاں، مجھے معلوم ہے،‘‘ میں نے جواب دیا۔

’’ہمارے کئی پروفیسروں کا خیال ہے کہ اس میں کہی ہوئی باتوں کا ان پر اطلاق ہوتا ہے، اور ڈین سمجھتا ہے کہ اس میں اس کے خیالات پر حملہ کیا گیا ہے۔‘‘

’’تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے؟‘‘ میں نے کہا۔

’’کچھ بھی نہیں ،‘‘ پروفیسر نے جواب دیا، ’’لیکن بطور لیکچرر تمھاری تین سال کی مدت پوری ہو رہی ہے اور اس جگہ کو پُر کرنے کے لیے امیدواروں میں مقابلہ ہو گا۔ کمیٹی کی روایت رہی ہے کہ خالی ہونے والی جگہ کسی ایسے شخص کو دی جائے جو اسکول میں پہلے بھی پڑھا چکا ہو، لیکن کیا تمھیں یقین ہے کہ تمھارے معاملے میں یہ روایت برقرار رہے گی؟ مگر خیر، میں نے اس سلسلے میں بات کرنے کے لیے تمھیں نہیں بلایا ہے۔ اب تک میں تمھارے حق میں بولتا آیا ہوں کہ تم باقاعدگی سے لیکچر دیتے ہو، طالب علموں میں مقبول ہو، اور انھیں کچھ نہ کچھ پڑھاتے ہو۔ لیکن اب اس کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ ڈین نے مجھے مطلع کیا ہے کہ پچھلے تین مہینوں سے تم نے کوئی لیکچر نہیں دیا ہے۔ اور کسی وجہ کے بغیر۔ صرف یہی بات تمھیں ملازمت سے برطرف کروانے کے لیے کافی ہے۔‘‘

میں نے پروفیسر کو سمجھایا کہ میں نے ایک لیکچر کا بھی ناغہ نہیں کیا، یہ سب محض ایک مذاق تھا، اور میں نے اسے زیتورتسکی اور کلارا کا پورا قصہ سنا دیا۔

’’بہت خوب، میں تمھاری بات مان لیتا ہوں ،‘‘ پروفیسر بولا۔ ’’لیکن میرے ماننے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ آج پورا اسکول کہہ رہا ہے کہ تم کوئی لیکچر نہیں دیتے اور کچھ نہیں کرتے۔ اس پر یونین میٹنگ میں بھی بات ہو چکی ہے اور کل وہ لوگ یہ معاملہ بورڈ آف ریجنٹس کے پاس لے گئے ہیں ۔‘‘

’’لیکن انھوں نے پہلے مجھ سے بات کیوں نہیں کی؟‘‘

’’وہ تم سے کیوں بات کرتے؟ ہر چیز ان کے سامنے واضح ہے۔ اب وہ تمھاری پوری سابقہ کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں، اور تمھارے ماضی اور حال کے درمیان ربط تلاش کر رہے ہیں ۔‘‘

’’میرے ماضی میں انھیں کیا غلط چیز مل سکتی ہے؟ آپ تو خود جانتے ہیں کہ مجھے اپنا کام کس قدر پسند ہے۔ میں نے کبھی کام سے جی نہیں چرایا۔ میرا ضمیر صاف ہے۔‘‘

’’ہر انسانی وجود کے کئی پہلو ہوتے ہیں ،‘‘ پروفیسر نے کہا۔ ’’ہم میں ہر ایک کے ماضی کو ایک جتنی آسانی کے ساتھ کسی محبوب رہنما یا کسی بدنام مجرم کی سوانح حیات کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ ذرا اپنے آپ پر غور سے نظر ڈالو۔ یہ کوئی نہیں کہہ رہا ہے کہ تم اپنے کام کو پسند نہیں کرتے۔ لیکن ہو سکتا ہے یہ صرف تمھارے فرار کے لیے ایک بہانہ ہو۔ تم اکثر میٹنگوں میں نہیں آتے، اور جب آتے ہو تو زیادہ تر خاموش رہتے ہو۔ کوئی نہیں جانتا کہ تمھارے خیالات کیا ہیں ۔ مجھے خود یاد ہے کہ کئی بار جب کوئی سنجیدہ موضوع زیر بحث تھا، تم نے اچانک کوئی مذاق کر ڈالا جس سے سب کو خفت ہوئی۔ بےشک یہ خفت فوراً ہی فراموش کر دی گئی، لیکن آج جب اسے ماضی میں سے برآمد کیا جائے گا تو اس میں ایک خاص اہمیت پیدا ہو جائے گی۔ یا پھر یاد کرو کہ کتنی بار مختلف عورتیں تمھیں ڈھونڈتی ہوئی یونیورسٹی پہنچیں اور تم نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا۔ اور اب تمھارا تازہ ترین مقالہ جس کے بارے میں کوئی بھی شخص اگر چاہے تو کہہ سکتا ہے کہ یہ مشکوک قضیوں پر مبنی ہے۔ یہ سب میں مانتا ہوں الگ الگ حقائق ہیں ؛ لیکن ذرا آج کے قصور کی روشنی میں ان پر نظر ڈالو، یہ سب اکٹھے ہو کر تمھارے کردار اور رویے کے بارے میں ایک اہم شہادت کی مجموعی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں ۔‘‘

’’لیکن کون سا قصور؟ ہر چیز کی اتنی سیدھی سادی وضاحت موجود ہے! تمام حقائق بالکل سادہ اور صاف ہیں!‘‘

’’رویوں کے مقابلے میں حقائق بہت کم اہمیت رکھتے ہیں ۔ کسی افواہ یا احساس کی تردید کرنا اتنا ہی بےسود ہے جتنا بی بی مریم کی پاکبازی پر کسی کے عقیدے کے بارے میں دلیل بازی کرنا۔ تم محض ایک عقیدے کا شکار ہوے ہو، کامریڈ اسسٹنٹ!‘‘

’’آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بڑی حد تک صحیح ہے،‘‘ میں نے کہا، ’’لیکن اگر میرے خلاف احساسات کسی عقیدے کی طرح بیدار ہو گئے ہیں تو میں عقیدے کا مقابلہ عقل سے کروں گا۔ میں ہر ایک کے سامنے ان تمام چیزوں کی وضاحت کروں گا جو پیش آئی ہیں ۔ اگر لوگ سچ مچ انسان ہیں تو وہ ان پر ہنسیں گے۔‘‘

’’جیسی تمھاری خوشی۔ لیکن بعد میں یا تو تم اس نتیجے پر پہنچو گے کہ لوگ انسان نہیں ہیں، یا پھر اس پر کہ تم نہیں جانتے انسان کیسے ہوتے ہیں ۔ وہ بالکل نہیں ہنسیں گے۔ اگر تم ہر چیز جس طرح پیش آئی ہے ان کے سامنے رکھ دو، تو یہ ظاہر ہو گا کہ ایک طرف تم نے ٹائم ٹیبل کے مطابق اپنی ذمے داری پوری نہیں کی — یعنی وہ کام نہیں کیا جو تمھیں کرنا چاہیے تھا — اور دوسری طرف تم خفیہ طور پر لیکچر دیتے رہے — یعنی وہ کیا جو تمھیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اور یہ ظاہر ہو گا کہ تم نے ایک ایسے آدمی کی ہتک کی جو تمھاری مدد کا طلبگار تھا۔ اور یہ ظاہر ہو گا کہ تمھارے نجی معاملات گڑبڑ ہیں، کہ تم نے کسی لڑکی کو بغیر رجسٹریشن کے اپنے ساتھ رکھ رکھا ہے، جس کا اثر یونین کی خاتون چیئرمین پر بہت ناموافق ہو گا۔ پورا معاملہ الجھ جائے گا اور خدا جانے اور کیا کیا افواہیں جنم لیں گی۔ وہ جو بھی افواہیں ہوں، ان لوگوں کے یقیناً بہت کام آئیں گی جو تمھارے خیالات کے باعث پہلے سے اشتعال میں ہیں لیکن صرف اس بنا پر تمھاری مخالفت کرنے سے شرما رہے ہیں ۔‘‘

میں جانتا تھا کہ پروفیسر مجھے ڈرانے یا دھوکا دینے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔ لیکن اس معاملے پر اس کی باتوں کو میں نے خبطی کی بڑ خیال کیا اور اس کی تشکیک کے آگے ہتھیار نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ مسٹر زیتورتسکی والے ہنگامے نے مجھ پر سردی کی ایک لہر طاری کر دی تھی، لیکن مجھے پوری طرح تھکایا نہیں تھا۔ اس گھوڑے پر سواری کا فیصلہ میرا اپنا تھا، اس لیے میں اسے اجازت نہیں دے سکتا تھا کہ وہ میرے ہاتھ سے لگام چھین کر مجھے جہاں اس کا جی چاہے لے جائے۔ میں اس سے زور آزمائی کرنے کو تیار تھا۔ اور گھوڑے نے بھی اس سے گریز نہیں کیا۔ جب میں گھر پہنچا تو مجھے اپنے پوسٹ باکس میں ایک سمن ملا جس میں مجھے مقامی کمیٹی کی میٹنگ میں حاضر ہونے کی ہدایت کی گئی تھی، اور مجھے ذرا بھی شبہ نہ تھا کہ یہ کس سلسلے میں ہے۔

 

۱۰

میں غلط نہیں سمجھا تھا۔ مقامی کمیٹی، جس کی میٹنگ ایک ایسی جگہ ہو رہی تھی جہاں پہلے ایک اسٹور رہ چکا تھا، ایک لمبی میز کے گرد بیٹھی تھی۔ جب میں داخل ہوا تو کمیٹی کے ارکان کے چہروں پر افسردگی سی چھا گئی۔ کھچڑی بالوں، اندر کو دبی ہوئی ٹھوڑی اور چشمے والے ایک شخص نے ایک کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ میں شکریہ ادا کر کے بیٹھ گیا اور اس شخص نے کارروائی شروع کی۔ اس نے مجھے مطلع کیا کہ مقامی کمیٹی کچھ دنوں سے مجھ پر نظر رکھے ہوے ہے اور اسے بہت اچھی طرح اندازہ ہے کہ میری نجی زندگی خاصی بےقاعدہ ہے؛ اور یہ کہ اس باعث محلے میں میرا اچھا تاثر قائم نہیں ہو رہا ہے؛ یہ کہ میرے اقامت خانے کے کرایہ دار میرے بارے میں اس سے پہلے بھی ایک بار شکایت کر چکے ہیں جب وہ میرے کمرے میں ہونے والے شور و غل کے باعث رات بھر سو نہ سکے تھے؛ اور یہ کہ یہ سب کچھ اس بات کے لیے کافی تھا کہ مقامی کمیٹی میرے بارے میں ایک خاص طرح کا تاثر قائم کر لے۔ اور اب اس سے بڑھ کر کامریڈ مادام زیتورتسکی نے، جو ایک سائنسی کارکن کی بیوی ہے، کمیٹی سے مدد طلب کی ہے۔ چھ مہینے پہلے مجھے اس کے شوہر کے علمی مضمون کے بارے میں ایک تبصرہ تحریر کرنا تھا اور میں نے ایسا نہیں کیا، جبکہ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ اس مضمون کی تقدیر میرے تبصرے پر منحصر ہے۔

’’آپ اسے علمی مضمون کہہ رہے ہیں!‘‘ میں نے دبی ہوئی ٹھوڑی والے آدمی کی بات کاٹتے ہوے کہا، ’’یہ صرف چربہ سازی اور پیوند کاری کا مجموعہ ہے۔‘‘

’’بہت دلچسپ، کامریڈ،‘‘ سنہری بالوں والی ایک تیس سالہ عورت گفتگو میں شامل ہو گئی؛ اس کے چہرے پر ایک چمکدار مسکراہٹ گویا مستقل طور پر چسپاں تھی۔ ’’مجھے ایک سوال پوچھنے کی اجازت دیجیے: آپ کا شعبہ کیا ہے؟‘‘

’’آرٹ کے نظریات کی تنقید۔‘‘

’’اور کامریڈ زیتورتسکی؟‘‘

’’مجھے معلوم نہیں ۔ شاید وہ بھی اسی قسم کا کام کرنے کی کوشش میں ہے۔‘‘

’’دیکھا!‘‘ سنہری بالوں والی عورت فتح مندانہ انداز میں دوسرے ارکان کی طرف مڑی۔ ’’کامریڈ کلیما اپنے شعبے میں کام کرنے والے ساتھی کارکن کو اپنا کامریڈ نہیں بلکہ حریف سمجھتے ہیں ۔ آج کل تمام انٹلکچوئل لوگ اسی طرح سوچتے ہیں ۔‘‘

’’میں اپنی بات جاری رکھوں گا،‘‘ دبی ہوئی ٹھوڑی والے شخص نے کہا۔ ’’کامریڈ مادام زیتورتسکی نے ہمیں بتایا ہے کہ اس کا شوہر آپ سے ملنے آپ کے فلیٹ پر آیا جہاں اس کی ملاقات ایک خاتون سے ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ اس خاتون نے بعد میں مسٹر زیتورتسکی پر الزام لگایا کہ وہ اسے جنسی طور پر پریشان کرنے کا خواہاں تھا۔ کامریڈ مادام زیتورتسکی کے پاس چند دستاویزات تھیں جن سے ثابت ہوتا تھا کہ اس کا شوہر اس طرح کے کام کی اہلیت نہیں رکھتا۔ وہ اس خاتون کا نام جاننا چاہتی ہے جس نے اس کے شوہر پر یہ الزام لگایا، اور معاملے کو کارروائی کے لیے عوامی کمیٹی کے شعبۂ نظم و ضبط کے پاس بھجوانا چاہتی ہے کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ اس الزام سے اس کے شوہر کی شہرت متاثر ہوئی ہے۔‘‘

میں نے ایک بار پھر اس مضحکہ خیز معاملے کو مختصر کرنے کی کوشش کی۔ ’’بات سنیے، کامریڈز،‘‘ میں نے کہا، ’’یہ معاملہ ایسا نہیں کہ اس پر اتنی توجہ صرف کی جائے۔ یہ کسی کی شہرت کے داغدار ہونے کا معاملہ نہیں ۔ اس کا مضمون اتنا گیا گزرا تھا کہ کوئی اور شخص بھی اس کے حق میں سفارش نہ کرتا۔ اور اگر اس خاتون اور مسٹر زیتورتسکی کے درمیان کوئی غلط فہمی پیدا ہوئی بھی ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ باقاعدہ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے۔‘‘

’’خوش قسمتی سے، کمیٹی کی میٹنگ کے انعقاد کی بابت فیصلہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے، کامریڈ،‘‘ دبی ہوئی ٹھوڑی والے شخص نے کہا۔ ’’اور اب جب آپ اتنے اصرار سے کہہ رہے ہیں کہ مسٹر زیتورتسکی کا مضمون بہت کمزور ہے، تو ہمیں اس پورے معاملے کو ایک انتقامی کارروائی کے طور پر دیکھنا ہو گا۔ کامریڈ مادام زیتورتسکی نے ہمیں ایک خط پڑھوایا جو آپ نے اس کے شوہر کا مضمون پڑھنے کے بعد لکھا تھا۔‘‘

’’ہاں ۔ مگر میں نے اس خط میں اس بارے میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا تھا کہ وہ مضمون کیسا ہے۔‘‘

’’یہ درست ہے۔ لیکن آپ نے یہ ضرور لکھا تھا کہ آپ کو اس کی مدد کر کے خوشی ہو گی؛ اس خط سے صاف اشارہ ملتا ہے کہ آپ کامریڈ زیتورتسکی کے مضمون کو احترام کے قابل سمجھتے ہیں ۔ اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ محض پیوند کاری پر مشتمل ہے۔ آپ نے یہ بات اس کے منھ پر کیوں نہیں کہی؟‘‘

’’کامریڈ کلیما منافق ہیں ،‘‘ سنہری بالوں والی عورت بولی۔

اس موقعے پر ایک عمر رسیدہ عورت، جس پر مستقل رعشہ طاری تھا، گفتگو میں شامل ہوئی (اس کے چہرے پر ایسا تاثر تھا جیسے وہ بے غرضانہ خیرسگالی کے ساتھ دوسروں کی زندگیوں کا جائزہ لینے کی عادی ہو)؛ اس نے فوراً معاملے کے اصل مرکز کی نشان دہی کی۔ ’’ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ عورت کون تھی جس سے آپ کے گھر پر مسٹر زیتورتسکی کی ملاقات ہوئی۔‘‘

اب میں کسی غلط فہمی کے بغیر صاف صاف سمجھ گیا کہ معاملے کی مضحکہ خیز سنگینی کو ختم کرنا میرے بس سے باہر ہے، اور اس سے نمٹنے کا میرے پاس ایک ہی طریقہ ہے: سراغوں کو مبہم بنانا، ان لوگوں کو کلارا سے دور لے جانا، انھیں اس طرح بھٹکا کر غلط راستے پر ڈال دینا جیسے چکور بھیڑیے کو بھٹکا کر اپنے گھونسلے سے دور لے جاتا ہے، اور اپنے بچوں کو بچانے کے لیے اس کے سامنے اپنا جسم پیش کر دیتا ہے۔

’’بڑا عجیب قصہ ہے، مجھے اس کا نام یاد نہیں ،‘‘ میں نے کہا۔

’’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ جس عورت کے ساتھ رہتے ہوں اس کا نام ہی نہ جانتے ہوں؟‘‘ مستقل رعشہ زدہ عورت نے اعتراض کیا۔

’’ایک وقت تھا جب میں یہ سب تفصیلات لکھ لیا کرتا تھا، لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ یہ حماقت ہے، اس لیے لکھنا چھوڑ دیا۔ اور آدمی کا اپنی یادداشت پر بھروسا کرنا بہت دشوار ہے۔‘‘

’’کامریڈ کلیما، شاید عورتوں سے آپ کے تعلقات بہت مثالی قسم کے ہیں ،‘‘ سنہری بالوں والی عورت نے کہا۔

’’دیکھیے شاید مجھے یاد آ جائے، لیکن اس کے لیے مجھے اپنے دماغ پر زور ڈالنا ہو گا۔ کیا آپ لوگ مجھے بتا سکتے ہیں کہ مسٹر زیتورتسکی میرے گھر کب آئے تھے؟‘‘

’’وہ تاریخ تھی…ایک منٹ ٹھہریے،‘‘ دبی ہوئی ٹھوڑی والے آدمی نے اپنے کاغذوں پر نگاہ ڈالی۔ ’’چودہ تاریخ، بدھ کے دن۔‘‘

’’بدھ…چودہ تاریخ…ٹھہریے…‘‘ میں نے اپنا سر تھام لیا اور کچھ دیر سوچا۔ ’’ہاں، یاد آ گیا! وہ ہیلینا تھی۔‘‘ میں نے دیکھا کہ وہ سب میرے الفاظ کو بڑے اشتیاق سے سن رہے ہیں ۔

’’ہیلینا کون؟‘‘

’’کیا؟ معاف کیجیے گا، مجھے اس کا خاندانی نام معلوم نہیں ۔ میں اس سے پوچھنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ دراصل، صاف بات یہ ہے کہ مجھے یہ بھی یقین نہیں کہ اس کا نام واقعی ہیلینا تھا۔ میں اسے ہیلینا اس لیے کہتا تھا کہ اس کا شوہر مجھے سرخ بالوں والے مینے لاؤس سے مشابہ معلوم ہوتا تھا۔ مگر بہرحال، اسے اس نام سے پکارا جانا کافی پسند تھا۔ منگل کی شام کو ایک وائن کی دکان میں میری اس سے ملاقات ہوئی، اور جب اس کا مینے لاؤس کونیاک لینے بار تک گیا تو مجھے اس سے کچھ دیر بات کرنے کا موقع مل گیا۔ اگلے دن وہ میرے کمرے پر آئی اور پوری سہ پہر وہیں رہی۔ صرف شام کو میں چند گھنٹوں کے لیے اسے چھوڑ کر گیا کیونکہ یونیورسٹی میں ایک میٹنگ تھی۔ جب میں واپس آیا تو وہ بےحد برہم تھی کیونکہ کسی پستہ قد آدمی نے اس پر دست درازی کی تھی اور اسے گمان تھا کہ اسے میں نے ایسا کرنے پر اکسایا تھا؛ اس نے سخت برا مانا تھا اور اب وہ مجھ سے مزید واقفیت پیدا کرنے پر تیار نہ تھی۔ اور اس طرح، دیکھا آپ نے، میں اس کا اصل نام تک معلوم نہ کر سکا۔‘‘

’’کامریڈ کلیما، خواہ آپ سچ کہہ رہے ہوں یا جھوٹ،‘‘ سنہری بالوں والی عورت نے کہا، ’’ایک بات میرے لیے مکمل طور پر ناقابلِ فہم ہے، وہ یہ کہ آپ جیسا شخص ہماری آئندہ نسل کو تعلیم کس طرح دے سکتا ہے۔ کیا ہماری زندگی آپ کو اس کے سوا کسی چیز پر نہیں اکساتی کہ آپ عورتوں کو پٹانے اور استعمال کرنے کے کام میں لگے رہیں؟ آپ یقین رکھیے کہ ہم اپنی یہ رائے متعلقہ حلقوں تک ضرور پہنچائیں گے۔‘‘

’’چوکیدار نے کسی ہیلینا کا ذکر نہیں کیا،‘‘ مستقل رعشے والی عمر رسیدہ عورت بول اٹھی، ’’لیکن یہ ضرور بتایا کہ ملبوسات کے کارخانے میں کام کرنے والی ایک لڑکی، بغیر رجسٹریشن کرائے، ایک مہینے سے آپ کے ساتھ رہ رہی ہے۔ یہ بات مت بھولیے کامریڈ، کہ آپ ایک اقامت خانے میں رہ رہے ہیں ۔ آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ آپ کسی کو یوں اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں؟ کیا آپ نے اس جگہ کو قحبہ خانہ سمجھ رکھا ہے؟‘‘

اچانک میری نگاہوں کے سامنے وہ دس کراؤن چمکے جو میں نے چند دن پہلے چوکیدار کو رشوت کے طور پر دیے تھے، اور جان لیا کہ محاصرہ مکمل ہو چکا ہے۔ مقامی کمیٹی کی رکن عورت نے اپنی بات جاری رکھی، ’’اگر آپ اس کا نام نہیں بتانا چاہتے تو پولیس خود معلوم کر لے گی۔‘‘

 

 

۱۱

زمین میرے پیروں تلے سے کھسکتی جا رہی تھی۔ یونیورسٹی میں مجھے وہ معاندانہ ماحول رفتہ رفتہ محسوس ہونے لگا جس کا تذکرہ پروفیسر نے کیا تھا۔ فی الحال مجھے کسی انٹرویو کے لیے نہیں بلایا گیا، لیکن کہیں کہیں مجھے بات چیت میں کوئی اشارہ محسوس ہو جاتا، اور کبھی کبھی میری کوئی بات کہہ بیٹھتی کیونکہ شعبے کے استاد اس کے دفتر میں آ کر کافی پیتے تھے اور بات چیت کرنے میں زیادہ احتیاط سے کام نہ لیتے تھے۔ چند روز بعد شعبے کی کمیٹی کا، جو ہر طرف سے شہادتیں جمع کر رہی تھی، اجلاس ہونے والا تھا۔ میں نے تصور کیا کہ اس کے ارکان مقامی کمیٹی کی رپورٹ پڑھ چکے ہیں، یعنی وہ رپورٹ جس کے بارے میں میں صرف اتنا جانتا تھا کہ یہ خفیہ ہے اور میں اس سے رجوع نہیں کر سکتا۔

زندگی میں ایسے لمحے آتے ہیں جب انسان مدافعانہ انداز میں پسپا ہونے لگتا ہے، جب اسے میدان چھوڑنا پڑتا ہے، جب اسے کم اہم مورچوں کو زیادہ اہم مورچوں کی خاطر تج دینا پڑتا ہے۔ لیکن جب معاملہ بالکل آخری مورچے پر پہنچ جائے، تب آدمی کو رک کر اپنے قدم مضبوطی سے گاڑ لینے پڑتے ہیں، اگر وہ اپنی زندگی کو ساکن ہاتھوں اور جہاز کی غرقابی کے احساس کے ساتھ نئے سرے سے شروع نہ کرنا چاہتا ہو۔

مجھے ایسا لگتا تھا کہ میرا وہ واحد، اہم ترین مورچہ میری محبت ہے۔ ہاں، ان پریشان کن دنوں میں مجھے یکلخت احساس ہونے لگا تھا کہ میں اپنی نازک اور بدقسمت درزن سے محبت کرتا ہوں، جسے زندگی نے زد و کوب بھی کیا تھا اور جس کے ناز بھی اٹھائے تھے، اور یہ کہ میں اس کے ساتھ پوری طرح پیوست ہوں ۔

اس روز کلارا مجھے میوزیم پر ملی۔ نہیں، گھر پر نہیں ۔ کیا آپ اب بھی گھر کو گھر سمجھتے ہیں؟ کیا شیشے کی دیواروں والے کمرے کو گھر کہتے ہیں؟ ایسا کمرہ جس کا دوربینوں سے جائزہ لیا جا رہا ہو؟ ایسا کمرہ جہاں آپ اپنی محبوبہ کو ممنوعہ اشیا سے زیادہ چھپا کر رکھنے پر مجبور ہوں؟

گھر گھر نہیں رہا تھا۔ وہاں ہم خود کو بلا اجازت گھسے ہوے محسوس کرتے جنھیں کسی بھی لمحے پکڑا جا سکتا ہو۔ راہداری میں قدموں کی چاپ ہمیں خوفزدہ کر دیتی؛ ہم ہر وقت کسی کے آ کر زور زور سے دروازہ پیٹنے کی توقع کرتے رہتے۔ کلارا اب چیلاکووِتس کے محلے سے کام پر آیا جایا کرتی اور ہمیں تھوڑی دیر کے لیے بھی اپنے غیر لگنے والے گھر میں ملنے کی خواہش نہ ہوتی۔ چنانچہ میں نے اپنے ایک آرٹسٹ دوست سے رات کو اس کا اسٹوڈیو استعمال کرنے کی اجازت لے لی تھی۔ اُس روز وہاں کی چابی مجھے پہلی بار ملی تھی۔

اس طرح ہم دونوں نے خود کو وینوہرادی کے علاقے میں ایک اونچی چھت کے نیچے، ایک بہت وسیع و عریض کمرے میں پایا جہاں صرف ایک چھوٹا سا دیوان تھا اور ایک بہت بڑی ترچھی کھڑکی جس میں سے پورے پراگ کی روشنیاں دکھائی دیتی تھیں ۔ دیواروں سے ٹکا کر رکھی ہوئی بہت سی پینٹنگز، کمرے کی بے ترتیبی اور ایک بے پروا آرٹسٹ کی مفلسی کے درمیان میرا آزادی کا مبارک احساس پھر سے لوٹ آیا۔ میں دیوان پر پھیل کر لیٹ گیا، اور کاگ کھولنے والا پیچ کش پھنسا کر وائن کی بوتل کھولی۔ میں خوش دلی اور آزادی سے خوب باتیں کر رہا تھا اور ایک حسین شام اور رات کی امید میں تھا۔

لیکن وہ دباؤ، جو مجھے اب محسوس نہیں ہو رہا تھا، کلارا پر اپنے پورے بوجھ کے ساتھ آ پڑا تھا۔

میں پہلے ہی بیان کر چکا ہوں کہ کلارا کس طرح بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اور انتہائی فطری انداز میں میرے کمرے میں رہا کرتی تھی۔ لیکن اب، جب ہم نے خود کو تھوڑی دیر کے لیے کسی اور کے اسٹوڈیو میں پایا، تو وہ بجھ سی گئی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ: ’’یہ بہت توہین آمیز ہے،‘‘ اس نے کہا۔

’’کیا توہین آمیز ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’کہ ہمیں کسی اور کا فلیٹ مانگنا پڑ رہا ہے۔‘‘

’’اس میں کیا توہین آمیز بات ہے کہ ہم نے کسی اور کا فلیٹ مانگ لیا ہے؟‘‘

’’کیونکہ اس میں کوئی توہین آمیز بات ہے،‘‘ اس نے جواب دیا۔

’’لیکن ہم اور کچھ کر بھی تو نہیں سکتے۔‘‘

’’ہاں ،‘‘ اس نے جواب دیا، ’’لیکن مانگے ہوے فلیٹ میں میں خود کو ایک طوائف جیسا محسوس کرتی ہوں ۔‘‘

’’اوہ خدایا! تم خود کو مانگے ہوے فلیٹ میں طوائف جیسا کیوں محسوس کرتی ہو؟ طوائفیں تو زیادہ تر اپنے فلیٹوں میں کاروبار کرتی ہیں، نہ کہ مانگے ہوے فلیٹوں میں …‘‘

لیکن عقل کی مدد سے اس غیر عقلی احساس کی موٹی دیوار پر حملہ کرنا بے سود تھا جس پر نسوانی ذہن، جیسا کہ سب کو معلوم ہے، مشتمل ہوتا ہے۔ ہماری گفتگو ابتدا ہی سے غیر خوش آئند تھی۔

میں نے کلارا کو وہ سب کچھ بتایا جو پروفیسر نے مجھ سے کہا تھا، وہ سب کچھ بتایا جو مقامی کمیٹی میں پیش آیا تھا، اور اسے اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرنے لگا کہ اگر ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑتے تو آخر میں جیت ہماری ہی ہو گی۔

کلارا کچھ دیر چپ رہی اور پھر اس نے مجھے قصوروار قرار دیا۔

’’کیا تم مجھے ان درزنوں کے گھیرے سے باہر نکال سکتے ہو؟‘‘

میں نے اسے بتایا کہ کم از کم عارضی طور پر ہمیں برداشت سے کام لینا ہو گا۔

’’دیکھا،‘‘ کلارا بولی، ’’تم وعدہ کر لیتے ہو اور پھر اسے پورا کرنے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ اب میں کسی اور کی مدد سے بھی وہاں سے نکل نہیں پاؤں گی، کیونکہ تمھاری وجہ سے میری شہرت خراب ہو گئی ہے۔‘‘

میں نے کلارا کو پورا یقین دلایا کہ مسٹر زیتورتسکی والا معاملہ اسے ذرا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

’’میری یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا،‘‘ کلارا نے کہا، ’’کہ تم تبصرہ لکھ کیوں نہیں دیتے۔ اگر تم تبصرہ لکھ دو تو ایک دم سکون ہو جائے گا۔‘‘

’’اب بہت دیر ہو چکی ہے،‘‘ میں نے کہا، ’’اگر اب میں نے تبصرہ لکھا تو وہ لوگ کہیں گے کہ میں انتقاماً اس مضمون کو رگید رہا ہوں، اور مزید طیش میں آ جائیں گے۔‘‘

’’تو رگیدنے کی کیا ضرورت ہے؟ تم اس کے حق میں تبصرہ لکھ دو!‘‘

’’یہ میں نہیں کر سکتا، کلارا، وہ مضمون لغویت کا پلندا ہے۔‘‘

’’تو کیا ہوا؟ تم اچانک اتنے سچے کیسے بن گئے؟ جب تم نے اس چھوٹے آدمی کو یہ بتایا تھا کہ جریدے والے تمھاری رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تو کیا یہ جھوٹ نہیں تھا؟ اور جب تم نے کہا کہ اس نے مجھے پٹانے کی کوشش کی تھی تو کیا یہ جھوٹ نہیں تھا؟ اور جب تم نے ہیلینا کو ایجاد کیا تو کیا یہ جھوٹ نہیں تھا؟ جب تم اتنے سارے جھوٹ بول سکتے ہو تو ایک اور جھوٹ بولنے سے، تعریفی تبصرہ لکھ دینے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ یہی ایک راستہ ہے جس سے معاملات سیدھے ہو سکتے ہیں ۔‘‘

’’دیکھو کلارا،‘‘ میں نے کہا، ’’تم سمجھتی ہو کہ جھوٹ بس جھوٹ ہوتا ہے، اور بظاہر تمھاری بات درست معلوم ہوتی ہے۔ لیکن یہ درست نہیں ہے۔ میں کچھ بھی ایجاد کر سکتا ہوں، کسی کو بےوقوف بنا سکتا ہوں، عملی مذاق کر سکتا ہوں، اور میں خود کو جھوٹا محسوس نہیں کرتا اور نہ میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا ہے۔ یہ سارے جھوٹ، اگر تم انھیں یہی نام دینے پر مصر ہو، مجھے اسی طرح پیش کرتے ہیں جیسا دراصل میں ہوں ۔ یہ جھوٹ بول کر میں کسی بناوٹ سے کام نہیں لے رہا ہوتا، ان کے ذریعے دراصل میں سچ بول رہا ہوتا ہوں ۔ لیکن بعض چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں میں جھوٹ نہیں بول سکتا، وہ چیزیں جن میں میں اندر تک اترا ہوا ہوں، جن کے معنی کو میں اپنی گرفت میں لایا ہوں، جن سے میں محبت کرتا ہوں اور جن کے بارے میں سنجیدہ ہوں ۔ یہ ناممکن ہے، مجھ سے ایسا کرنے کو مت کہو، میں ایسا کر ہی نہیں سکتا۔‘‘

ہم ایک دوسرے کی بات نہیں سمجھ سکے۔

لیکن مجھے کلارا سے سچ مچ محبت تھی اور میں نے اپنے بس بھر سب کچھ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس کے پاس مجھے ملامت کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ اگلے دن میں نے مسز زیتورتسکی کے نام ایک خط لکھا اور اس میں کہا کہ تیسرے دن دو بجے دوپہر کو اپنے دفتر میں اس کا انتظار کروں گا۔

 

 

۱۲

اپنی دہشت ناک باقاعدگی کے ساتھ مسز زیتورتسکی نے ٹھیک معینہ وقت پر دروازے پر دستک دی۔ میں نے دروازہ کھول کر اسے اندر آنے کو کہا۔

تب میں نے آخرکار اسے دیکھا۔ وہ لمبے قد کی عورت تھی، بہت لمبے قد کی، پتلے دہقانی چہرے اور زردی مائل نیلی آنکھوں والی۔ ’’اپنا کوٹ وغیرہ اتار دیجیے،‘‘ میں نے کہا، اور اس نے بازوؤں کی عجیب حرکات سے اپنا لمبا، گہرے رنگ کا کوٹ اتارا جو کمر پر سے تنگ تھا اور عجیب نمونے کا سلا ہوا تھا، ایک ایسا کوٹ جسے دیکھ کر خدا جانے کیوں قدیم گریٹ کوٹ کا خیال آتا تھا۔

میں فوری حملہ نہیں کرنا چاہتا تھا؛ پہلے میں اپنی حریف کے پتے دیکھنا چاہتا تھا۔ جب مسز زیتورتسکی بیٹھ گئی تو میں نے اِدھر اُدھر کی ایک آدھ بات کر کے اسے بولنے پر اکسایا۔

’’مسٹر کلیما،‘‘ اس نے سنجیدہ آواز میں، لیکن کسی جارحیت کے بغیر، کہا، ’’آپ جانتے ہیں میں آپ سے کیوں ملنا چاہتی تھی۔ میرے شوہر نے ہمیشہ آپ کا اپنے شعبے کے ماہر اور ایک با کردار شخص کے طور پر احترام کیا ہے۔ ہر چیز آپ کے تبصرے پر منحصر تھی اور آپ یہ تبصرہ نہیں لکھنا چاہتے تھے۔ میرے شوہر کو یہ مقالہ لکھنے میں تین سال لگے ہیں ۔ اس نے آپ سے زیادہ دشوار زندگی گزاری ہے۔ وہ ٹیچر تھا، ہر روز پراگ سے بیس میل دور آیا جایا کرتا تھا۔ پچھلے سال میں نے اسے یہ ملازمت چھوڑنے پر مجبور کیا تاکہ وہ اپنی پوری توجہ تحقیق پر لگا سکے۔‘‘

’’مسٹر زیتورتسکی با روزگار نہیں ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’نہیں …‘‘

’’پھر ان کی گزر بسر کیسے ہوتی ہے؟‘‘

’’فی الحال مجھے زیادہ محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ یہ تحقیق، مسٹر کلیما، میرے شوہر کے دل کی لگن ہے۔ کاش آپ کو معلوم ہوتا کہ اس نے کس طرح ایک ایک چیز کا مطالعہ کیا۔ کاش آپ کو معلوم ہوتا کہ اس نے کتنے صفحے بار بار لکھے۔ وہ ہمیشہ کہتا ہے کہ سچا محقق وہ ہے جو تین سو صفحے لکھے اور تیس صفحوں کے سوا باقی سب کو ضائع کر دے۔ اور پھر ہر چیز سے بڑھ کر یہ عورت۔ یقین کیجیے، مسٹر کلیما، میں اپنے شوہر کو جانتی ہوں، مجھے یقین ہے اس نے یہ حرکت نہیں کی، پھر اس عورت نے اس پر الزام کیوں لگایا؟ میں اسے نہیں مان سکتی۔ میں چاہتی ہوں وہ میرے اور میرے شوہر کے منھ پر یہ بات کہہ دے۔ میں عورتوں کو جانتی ہوں، شاید وہ آپ سے بہت محبت کرتی ہے اور آپ اس کی زیادہ پروا نہیں کرتے۔ شاید وہ آپ میں حسد کا جذبہ ابھارنا چاہتی ہو۔ لیکن مجھ پر یقین کیجیے، مسٹر کلیما، میرے شوہر کی ہرگز یہ مجال نہیں ہو سکتی۔‘‘

میں مسز زیتورتسکی کی بات سن رہا تھا اور اچانک میرے ساتھ ایک عجیب سی بات ہوئی: میں اس احساس سے بیگانہ ہو گیا کہ یہ وہ عورت ہے جس کے باعث مجھے یونیورسٹی چھوڑنی پڑ رہی ہے، اور جس کی وجہ سے میرے اور کلارا کے درمیان رنجش پیدا ہو گئی ہے، اور جس کے سبب میرے اتنے دن غصے اور کوفت کے عالم میں گزرے ہیں ۔ اس واقعے سے اس کا تعلق جس میں ہم دونوں نے اپنا اپنا غم انگیز کردار ادا کیا، اچانک مبہم، اتفاقی، حادثاتی معلوم ہونے لگا، جیسے اس میں ہم دونوں کا کوئی قصور نہ ہو۔ ایک دم میری سمجھ میں آ گیا کہ یہ محض ہمارا فریبِ نظر ہے کہ ہم واقعات کے گھوڑوں پر سواری کرتے اور انھیں اپنی راہ پر چلاتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سرے سے ہماری کہانیاں ہی نہیں ہوتیں بلکہ کہیں اور سے، باہر سے، ہم پر لاد دی جاتی ہیں ؛ یہ کسی بھی طرح ہماری نمائندگی نہیں کرتیں ؛ یہ جو راہ اختیار کرتی ہیں ان کے سلسلے میں ہمیں قصوروار ٹھہرایا ہی نہیں جا سکتا۔ وہ ہمیں لے اڑتی ہیں، کیونکہ انھیں دوسری قوتیں کنٹرول کرتی ہیں ؛ نہیں، میری مراد ماورائے فطرت قوتوں سے نہیں، بلکہ انسانی قوتوں سے ہے، ان افراد کی قوتیں جو ایک جگہ جمع ہو کر بھی ایک دوسرے سے اجنبی رہتے ہیں ۔

جب میں نے مسز زیتورتسکی کی آنکھوں میں دیکھا تو مجھے یوں لگا جیسے یہ آنکھیں میری حرکات کے نتائج کو نہیں دیکھ سکتیں، جیسے یہ آنکھیں کچھ دیکھ ہی نہیں رہیں، جیسے یہ محض اس کے چہرے پر تیر رہی ہیں ؛ اس چہرے پر محض چپکی ہوئی ہیں ۔

’’شاید آپ ٹھیک کہتی ہیں مسز زیتورتسکی،‘‘ میں نے صلح جوئی کے لہجے میں کہا، ’’شاید میری دوست نے سچ نہیں بولا تھا، لیکن آپ جانتی ہیں کہ جب کسی مرد میں حسد کا جذبہ جاگ اٹھے تو پھر کیا ہوتا ہے… میں نے اس کی بات پر یقین کر لیا اور اس ریلے میں بہہ گیا۔ ایسا کسی کے بھی ساتھ ہو سکتا ہے۔‘‘

’’ہاں یقیناً،‘‘ مسز زیتورتسکی نے کہا، اور یہ ظاہر تھا کہ اس کے دل سے ایک بہت بڑا بوجھ ہٹ گیا ہے۔ ’’یہ اچھا ہے کہ آپ خود ہی اس بات کو محسوس کر رہے ہیں ۔ ہمیں خوف تھا کہ کہیں آپ اس عورت کی بات پر یقین نہ کرتے ہوں ۔ یہ عورت تو میرے شوہر کی ساری زندگی کی نیک نامی کو برباد کر سکتی تھی۔ میں اس کے اخلاقی اثرات کی بات نہیں کر رہی۔ لیکن میرا شوہر آپ کے خیالات کی قسم کھاتا ہے۔ مدیروں نے اسے یقین دلایا تھا کہ سب کچھ آپ کی رائے پر منحصر ہے۔ میرے شوہر کو یقین ہے کہ اگر اس کا یہ مقالہ چھپ جائے تو اسے آخرکار ایک سائنسی کارکن تسلیم کر لیا جائے گا۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں، اب جبکہ سارا معاملہ صاف ہو گیا ہے، کیا آپ اس کے لیے تبصرہ لکھ دیں گے؟ اور کیا آپ اسے جلدی لکھ سکتے ہیں؟‘‘

اب وہ لمحہ آیا جب میں اپنا انتقام لے سکتا اور اپنے غصے کی آگ کو بجھا سکتا تھا، اگرچہ اس موقعے پر مجھے غصہ محسوس نہیں ہو رہا تھا، اور جب میں نے مسز زیتورتسکی کو جواب دیا تو اس لیے کہ اس سے فرار کی کوئی راہ نہ تھی۔ ’’مسز زیتورتسکی، تبصرے کے سلسلے میں ایک مسئلہ ہے۔ میں آپ سے اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ یہ سب کچھ کس طرح پیش آیا۔ میں لوگوں کے منھ پر ناخوشگوار باتیں کہنا پسند نہیں کرتا۔ یہ میری کمزوری ہے۔ میں مسٹر زیتورتسکی سے ملنے سے گریز کرتا رہا، اور میرا خیال تھا وہ بھانپ جائیں گے کہ میں کیوں ایسا کر رہا ہوں ۔ ان کا مضمون بہت کمزور ہے۔ اس کی کوئی سائنسی قدر و قیمت نہیں ۔ کیا آپ کو میری بات کا یقین آ رہا ہے؟‘‘

’’میرے لیے اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے۔ نہیں، میں آپ کی بات پر یقین نہیں کر سکتی،‘‘ مسز زیتورتسکی نے کہا۔

’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تحریر اوریجنل نہیں ہے۔ ذرا سمجھنے کی کوشش کیجیے، محقق کا کام یہ ہے کہ کسی نئے نتیجے پر پہنچے؛ محقق ان باتوں کو نقل نہیں کر سکتا جو ہم پہلے ہی سے جانتے ہیں، جو دوسرے لوگوں نے پہلے ہی سے لکھ رکھی ہیں ۔‘‘

’’میرے شوہر نے کسی کی نقل نہیں کی۔‘‘

’’مسز زیتورتسکی، آپ نے یقیناً اپنے شوہر کا مضمون پڑھ رکھا ہو گا…‘‘میں آگے بولنا چاہتا تھا لیکن مسز زیتورتسکی نے میری بات کاٹ دی۔ ’’نہیں، میں نے نہیں پڑھا۔‘‘ مجھے حیرت ہوئی۔ ’’تو آپ پڑھ کر خود دیکھ لیجیے۔‘‘

’’میں دیکھ نہیں سکتی،‘‘ مسز زیتورتسکی نے کہا۔ ’’مجھے صرف روشنی اور سائے دکھائی دیتے ہیں، میری آنکھیں خراب ہیں ۔ میں نے پانچ سال سے ایک سطر بھی نہیں پڑھی، لیکن مجھے یہ جاننے کے لیے کہ میرا شوہر ایماندار آدمی ہے یا نہیں، کچھ پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔ یہ بات دوسرے طریقوں سے بھی پہچانی جا سکتی ہے۔ میں اپنے شوہر کو جانتی ہوں، جیسے ماں اپنے بچوں کو جانتی ہے، میں اس کے بارے میں ہر بات جانتی ہوں ۔ اور مجھے معلوم ہے کہ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے ایمانداری سے کرتا ہے۔‘‘

مجھے اس سے بدتر حالات سے گزرنا پڑا۔ میں نے مسز زیتورتسکی کو میتےچک، پیچیرکا اور میچک کے وہ پیراگراف پڑھ کر سنائے جن کے خیالات اور نظریات مسٹر زیتورتسکی نے اپنے مضمون میں پیش کر دیے تھے۔ یہ دانستہ چربہ سازی کا سوال نہیں تھا بلکہ ان ماہرینِ فن کے سامنے ایک غیر شعوری نیاز مندی کا اظہار تھا جن کے خیالات نے مسٹر زیتورتسکی کے اندر مخلصانہ اور شدید احترام کا جذبہ پیدا کر دیا تھا۔ لیکن کوئی بھی شخص ان پیراگرافوں کا تقابل کر کے آسانی سے سمجھ سکتا تھا کہ کوئی سنجیدہ علمی جریدہ مسٹر زیتورتسکی کے مضمون کو شائع نہیں کر سکتا۔

میں نہیں جانتا کہ مسز زیتورتسکی نے میری توضیحات کو کتنے غور سے سنا، اور کس حد تک سمجھا؛ وہ انکسار کے ساتھ کرسی پر بیٹھی رہی، کسی سپاہی کے سے انکسار اور تابعداری کے ساتھ، جس اس بات کا علم ہو کہ اسے کسی حالت میں اپنا مورچہ نہیں چھوڑنا ہے۔ اس کام میں ہمیں کوئی آدھ گھنٹہ لگا۔ مسز زیتورتسکی کرسی سے اٹھی، اپنی شفاف آنکھیں مجھ پر جما دیں اور دبی ہوئی آواز میں مجھ سے معذرت چاہی؛ لیکن مجھے معلوم تھا کہ اس کا اپنے شوہر پر بھروسا اب بھی قائم ہے، اور وہ میرے دلائل کی، جو اس کے لیے مبہم اور ناقابلِ فہم تھے، مزاحمت نہ کر پانے کے لیے اپنے سوا کسی کو قصوروار نہیں سمجھتی۔ اس نے اپنی فوجی وضع کی برساتی پہن لی اور میں جان گیا کہ یہ عورت جسمانی اور روحانی طور پر سپاہی ہے، ایک افسردہ اور وفادار سپاہی، لانگ مارچوں سے تھکا ہوا سپاہی، ایسا سپاہی جسے کسی حکم کا مدعا سمجھ میں نہیں آتا پھر بھی وہ کسی اعتراض کے بغیر اسے بجا لاتا ہے، ایسا سپاہی جو شکست کھا کر بھی اپنا وقار کھوئے بغیر واپس لوٹتا ہے۔

اس کے جانے کے بعد اس کی تھکن، اس کی وفاداری اور افسردگی کا کچھ حصہ میرے دفتر میں باقی رہ گیا۔ میں اچانک اپنے آپ کو اور اپنے دکھوں کو بھول گیا۔ اس لمحے میں جس دکھ کے نرغے میں تھا وہ کہیں زیادہ پاکیزہ تھا، کیونکہ اس کا منبع میری اپنی ذات میں نہیں بلکہ باہر کہیں، بہت دور واقع تھا۔

 

 

۱۳

’’تو اب تمھیں کسی بات سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ،‘‘ میں نے ڈالماشین کی وائن کی دکان میں کلارا کو مسز زیتورتسکی کے ساتھ ہونے والی پوری گفتگو سنانے کے بعد کہا۔

’’مجھے تو ویسے بھی کسی بات کا ڈر نہیں ،‘‘ کلارا نے ایسے اعتماد کے ساتھ کہا جس نے مجھے حیرت زدہ کر دیا۔

’’کیا مطلب، کسی بات کا ڈر نہیں؟ تمھاری ہی وجہ سے تو مجھے مسز زیتورتسکی سے ملنا پڑا۔‘‘

’’تم نے اچھا کیا کہ اس سے مل لیے کیونکہ تم نے ان لوگوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بہت ظالمانہ تھا۔ ڈاکٹر کلوسک کا کہنا ہے کہ کسی بھی ذہین آدمی کے لیے تمھارے اس رویے کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔‘‘

’’تم کلوسک سے کب ملیں؟‘‘

’’میں مل چکی ہوں ،‘‘ کلارا نے کہا۔

’’اور تم نے اسے سب کچھ بتا دیا؟‘‘

’’کیوں؟ تو کیا یہ کوئی راز ہے؟ اب مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ تم اصل میں کیا ہو۔‘‘

’’ہوں ۔‘‘

’’تمھیں بتاؤں تم کیا ہو؟‘‘

’’ضرور۔‘‘

’’ایک عام قسم کے کلبی۔‘‘

’’یہ تم نے کلوسک سے سنا ہو گا۔‘‘

’’کلوسک سے کیوں؟ کیا تمھارا خیال ہے میں خود یہ بات نہیں سمجھ سکتی؟ اصل میں تمھارا خیال یہ ہے کہ مجھ میں اتنی اہلیت نہیں کہ تمھارے بارے میں خود اپنی رائے قائم کر سکوں ۔ تم لوگوں کو نکیل ڈال کر چلانا چاہتے ہو۔ تم نے مسٹر زیتورتسکی سے تبصرہ لکھنے کا وعدہ کیا تھا۔‘‘

’’میں نے اس سے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔‘‘

’’یہ تو ایک بات ہوئی۔ پھر تم نے مجھ سے ملازمت دلوانے کا وعدہ کیا تھا۔ تم نے مجھے مسٹر زیتورتسکی کے لیے ایک بہانے کے طور پر استعمال کیا اور مسٹر زیتورتسکی کو میرے لیے بہانے کے طور پر۔ لیکن اتنا یقین رکھو کہ ملازمت مجھے مل جائے گی۔‘‘

’’کلوسک کے ذریعے سے؟‘‘ میں نے طنزیہ انداز اختیار کرنے کی کوشش کی۔

’’تمھارے ذریعے سے نہیں ۔ تم نے اپنا اتنا کچھ داؤ پر لگا دیا ہے اور تم جانتے تک نہیں کہ تم کیا کچھ ہار چکے ہو۔‘‘

’’اور تم جانتی ہو؟‘‘

’’ہاں ۔ یونیورسٹی تمھارے معاہدے کی تجدید نہیں کرے گی، اور اگر تمھیں کسی گیلری میں کلرک کی نوکری بھی مل جائے تو تم خوش قسمت ہو گے۔ لیکن تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سب تمھاری اپنی غلطی کا نتیجہ ہے۔ اگر اجازت ہو تو میں تمھیں ایک مشورہ دوں : آئندہ ہمیشہ ایمانداری سے کام لینا اور کبھی جھوٹ مت بولنا کیونکہ عورت جھوٹ بولنے والے مرد کی عزت نہیں کرتی۔‘‘

وہ اٹھ کھڑی ہوئی، مجھ سے (یہ ظاہر تھا کہ آخری بار) ہاتھ ملایا، مڑی اور چلی گئی۔

کچھ دیر بعد ہی مجھے خیال آیا (اگرچہ میرے چاروں طرف سرد خاموشی کا گھیرا تھا) کہ میری کہانی دراصل المیہ نہیں بلکہ طربیہ کہانیوں کے زمرے سے تعلق رکھتی ہے۔

اور اس خیال نے مجھے کسی قدر تسکین پہنچائی۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.adbiduniya.com/2015/08/koi-nahi-hanse-ga.html

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے