مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔۔۔

نئے شمارے کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔

پچھلے سہ ماہی کے دوران جہاں بر صغیر میں چاند کی دوسری ’ان چھوئی‘ طرف انسانی پہنچ کا خوش گوار واقعہ کامیابی کے ساتھ چندریان ۳ کی شکل میں وقوع پذیر ہوا تو دوسری طرف عالمی ادب میں ملان کنڈیرا کے انتقال  کا سانحہ بھی واقع ہوا جسے ایک عہد کا خاتمہ کہا جا سکتا ہے۔ ملان کنڈیرا دنیا بھر کے ادب پر اس طرح اثر انداز رہے تھے کہ ان کو ہر زبان کے جریدے میں خراج تحسین پیش کیا جانا چاہئے اور کیا جا  رہا ہے۔ اردو بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ چنانچہ سَمت میں بھی ان کا گوشہ شامل کیا جا رہا ہے، امید ہے کہ قارئین کو پسند آئے گا۔

پچھلے شمارے میں ظہیر احمد کا ’ڈیزائنر شاعری کا جدید مرکز‘ کے عنوان سے فکاہیہ شامل کیا گیا تھا جسے پسند تو کیا گیا لیکن کچھ قارئین نے ابن انشاء کی اسی قسم کی تحریر کی طرف توجہ دلائی جو ان کے مجموعے ’خمارِ گندم‘ میں شامل ہے۔ چنانچہ اسی شمارے میں ’گاہے گاہے باز خواں‘ سلسلے کے تحت وہ تحریر بھی شائع کی جا رہی ہے۔

اصغر وجاہت ہندی کے مشہور فکشن نگار رہے ہیں۔ ان کے ناول ’من ماٹی‘ کا اردو روپ ’خاکِ دل‘ کے نام سے اسی شمارے سے قسط وار شامل کیا جا رہا ہے۔

ا۔ع۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے