ردی ۔۔۔ کاشف حیدر

آج وہ پھر رو دی یہ شاید اس کی زندگی میں دوسرا موقع تھا جب وہ بلک بلک کر روئی تھی۔ پہلی بار اس دفعہ جب ایک دن وہ اسکول سے گھر پہنچی تو اس کے باپ نے اس سے کہا تھا کہ دیکھ بیٹا تو میری سب سے بڑی اولاد ہے میں تجھ سے بہت محبت کرتا ہوں مگر اپنے بہن بھائیوں کی طرف دیکھ بیٹا مہنگائی نے میری کمر توڑ دی ہے میں تیری پڑھائی کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا بیٹا تجھے پڑھائی چھوڑنا ہو گی۔ اور اس دن وہ اپنے باپ کی مجبوری اور اپنی تعلیم ادھوری رہ جانے پر کھل کر رو دی تھی۔ آج جب کہ کل اس کی شادی تھی اور وہ مستقبل کے حسین سپنوں میں گم تھی اسے اس کے باپ کے کمرے سے آتی ہو ئی آنسوؤں بھری آواز نے رلا دیا جو اس کی ماں سے کہہ رہا تھا کہ اے نیک بخت میں کیا کروں کل تک تو انہوں نے کوئی فرمائش نہیں کی تھی مگر اب لڑکے کو اسکوٹر چاہئے میں کیا کروں کہاں سے انتظام کرو اگر ہم گھر بھی بیچ دیں تو اپنے بچوں کے ساتھ کہاں جائیں ، اس کے باپ کی آواز اب ہچکیوں میں ڈھل چکی تھی اور وہ کچھ اور نہ سننے کی تاب لے کر مردہ قدموں سے اپنے کمرے کی طرف لوٹ گئی۔ اگلے دن اخبار کے ایک کونے میں ایک چھوٹی خبر چھپی کہ مسمات کلثوم بی بی نے شادی کی رات خودکشی کر لی اور لڑکا ناشتے کی میز پر اپنے باپ سے کہہ رہا تھا اچھا ہی ہوا ابا نہ جانے کون سا گناہ تھا جس کو چھپانے لئے اس نے خودکشی کر لی۔اور اس سے اگلے دن وہ اخبار ردی میں بک چکا تھا۔
٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے