خوف کا موسم ۔۔۔ قیصر نذیر خاورؔ

میری جنم بھومی میں میرے دیس میں میری دھرتی میں کبھی چار موسم ہوتے تھے اب اک ایسا موسم در آیا ہے جس نے ان چاروں پر اپنا رنگ چڑھا دیا ہے یہ نہ تو خوشی لایا ہے نہ اداسی اور نہ ہی کچھ اور بلکہ یہ لایا ہے اِک ایسا خوف جو کبھی موسموں Read more about خوف کا موسم ۔۔۔ قیصر نذیر خاورؔ[…]

فینش ادب: ایک طائرانہ جائزہ ۔۔۔ قیصر نذیر خاورؔ

(تراجم کی 14 ویں کتاب ’’فائٹ کلب‘‘ میں شامل فن لینڈ کے ادب پر تعارفی مضمون)   بعض اوقات میں سوچتا ہوں آسمان کس کی ملکیت ہے دل کی دھڑکنوں کا مالک کون ہے یہ پربت و کوہسار کس نے بنائے اور وہ کون ہے جو مجھے اب تک بچپنے کی طرف دھکیل رہا ہے Read more about فینش ادب: ایک طائرانہ جائزہ ۔۔۔ قیصر نذیر خاورؔ[…]

چرند پرند ۔۔۔ قیصر نذیر خاورؔ

احمد پور شرقیہ سے لاہور تک کا سفر تھکا دینے والا تھا۔ خالد جب یتیم خانہ چوک کے پاس لاری اڈے پر اترا تو رات کے نو بج چکے تھے۔ پورے روشن چاند نے تاریک رات میں ہر طرف چاندنی بکھیر رکھی تھی۔ یہ دسمبر کے آخری دن تھے اور ہوا میں ٹھنڈ اتنی شدید Read more about چرند پرند ۔۔۔ قیصر نذیر خاورؔ[…]

لینڈ مارک ۔۔۔ قیصر نذیر خاورؔ

اِس شہر کے بہت سے لینڈ مارک گم ہو چکے ہیں، اِس کا تاریخی ’زیرو سنگ میل‘ تک غائب ہے۔ اس کی مرکزی شاہراہ پر اب ’ایس ایم رولو‘ نہیں رہا، ’زیدیز‘ ختم ہو چکا، ‘ ایڈل جی’ اور ’فرنچ وائن سٹور ‘ بھی بند ہو گئے۔ اوپن ائیر ریستوراں ’مال لگژری‘ بھی قصہ پارینہ Read more about لینڈ مارک ۔۔۔ قیصر نذیر خاورؔ[…]

انوکُل ( Anukul) ۔۔۔ ستیہ جِت رے

اردو قالب۔ قیصر نذیر خاورؔ   ’’کیا اس کا کوئی نام بھی ہے یا نہیں؟“، نیکنج بابو نے پوچھا۔ ’’او ہاں، بالکل ہے۔‘‘ ’’کیا ہے؟“ ’’انوکُل۔‘‘ چورنگی میں چھ ماہ پہلے ہی رو بوٹ مہیا کرنے کی ایک ایجنسی کھلی تھی۔ نیکنج بابو ہمیشہ سے چاہتے تھے کہ انہیں ایک میکانکی نوکر مل جائے۔ اب Read more about انوکُل ( Anukul) ۔۔۔ ستیہ جِت رے[…]

بند کھڑکی کے پیچھے سے ۔۔۔ فاطمہ یوسف اَلعلی (کویت)

تحریر مُکرر، قیصر نذیر خاورؔ   (نوٹ: 2، اگست 1990ء کو عراق نے کویت پر حملہ کر کے دو دن میں اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ سات ماہ تک جاری رہا لیکن اس دوران ہی جنوری 1991ء کے وسط میں امریکی سربراہی میں اقوام متحدہ کی اتحادی فوج نے عراق پر حملے شروع Read more about بند کھڑکی کے پیچھے سے ۔۔۔ فاطمہ یوسف اَلعلی (کویت)[…]

میں کیوں لکھتا ہوں؟ ۔۔۔ ابن کنول

آہستہ آہستہ خوف بڑھتا جا رہا تھا جس کی وجہ سے میرا دل کسی مشین کی مانند دھڑکنے لگا تھا۔ مجھے اس دھڑکن کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ میں نے چاروں طرف نگاہ دوڑائی عجیب وحشت کا عالم تھا۔ میرا جسم لرز رہا تھا، مجھے ایسا لگا میرے دماغ کی رگیں پھٹ جائیں Read more about میں کیوں لکھتا ہوں؟ ۔۔۔ ابن کنول[…]

چھوٹی آپا ۔۔۔ ابن کنول

بارہ برس کی طویل مدت کے بعد میں علی گڑھ جا رہا تھا۔ ساجدہ باجی نے بہت بہت لکھا کہ اگر تم نہیں آئے تو عمر بھر کے لیے لڑائی ہو جائے گی۔ ساجدہ باجی میری سب سے بڑی بہن ہیں۔ جب ہم علی گڑھ میں رہتے تھے تو ان کی شادی عمران بھائی سے Read more about چھوٹی آپا ۔۔۔ ابن کنول[…]

ایک ہی راستہ ۔۔۔ ابن کنول

وہ اندر ہی اندر آتش فشاں کی طرح پک رہا تھا اور اُس کے اندر ایک اضطرابی کیفیت موجزن تھی۔ اُس نے اپنے ذہنی اور قلبی سکون کے لیے تمام طریقے اختیار کر لیے تھے لیکن ہر بار ناکام رہا۔ وہ بالکل مایوس ہو چکا تھا اسے یقین ہو گیا تھا کہ اس عالمِ آب Read more about ایک ہی راستہ ۔۔۔ ابن کنول[…]

ہمارا تمہارا خدا بادشاہ ۔۔۔ ابن کنول

پورے شہر میں خوف و ہراس برسات کے بادلوں کی طرح چھا گیا تھا، ہر شخص حیران و پریشان تھا کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس آسمانی عذاب کا سبب کیا ہے؟ کیوں ہر روز ایک شخص کی زندگی کی ختم ہو جاتی ہے۔ ہوا یوں تھا کہ Read more about ہمارا تمہارا خدا بادشاہ ۔۔۔ ابن کنول[…]