عزیز جبران انصاری کی گُل افشانیِ گفتار: چھیڑ چھاڑ ۔۔۔ غلام ابن سلطان

اردو کی ظریفانہ شاعری کے افق پر ایک اور تابندہ ستارے کی چکا چوند نے قارئینِ ادب کو فرحت اور مسرت کے احساس سے سرشار کر دیا۔ کراچی میں مقیم عالمی شہرت کے حامل ادبیات کے نباض اور مایہ ناز پاکستانی ادیب، دانش ور، ماہر تعلیم، نقاد، محقق، صحافی، مورخ، ماہر علم بشریات، فلسفی اور ماہر لسانیات عزیز جبران انصاری کی ظریفانہ شاعری کا مسودہ(چھیڑ چھاڑ)تازہ ہوا کے ایک جھونکے کے مانند قریہ ء جاں کو معطر کر گیا۔ اس ظریفانہ شاعری کے مطالعے کے بعد دِل میں اِک لہر سی اُٹھی اور خندۂ زیرِ لب سے تزکیہ ء نفس کی ایک صورت پیدا ہو گئی۔ عزیز جبران انصاری اپنی ذات میں ایک انجمن اور علم و ادب کا ایک دبستان ہیں۔ ۳۔ ستمبر ۱۹۴۰ کو شاہ جہاں آباد (یو پی۔ بھارت )سے طلوع ہونے والے اس آفتابِ علم و ادب کے افکار کی ضیا پاشیوں سے اذہان کی تطہیر و تنویر کا اہتمام ہوا۔ عزیز جبران انصاری کے منفرد اسلوب میں جو تنوع پایا جاتا ہے وہ زبان و بیان پر ان کی خلاقانہ دسترس کی دلیل ہے ۔ انھوں نے گزشتہ چھے عشروں میں ہر صنفِ ادب میں اپنے اشہبِ قلم کی خوب جولانیاں دکھائی ہیں۔ انھوں نے حمد، نعت، نظم، غزل افسانہ نگاری، کالم نگاری اور تنقید و تحقیق میں اپنی خدا داد صلاحیتوں کا لو ہا منوایا ہے۔ وہ علمی و ادبی مجلات کی روح رواں ہیں اور اہم ادبی تنظیموں سے بھی ان کا معتبر ربط بر قرار ہے ۔ علمِ عروض میں ان کی مہارت کا ایک عالم معترف ہے ۔ فنِ عروض پر ان کی تصنیف "رموز شاعری ” جو پہلی با ر ۱۹۸۶ میں شائع ہوئی، قارئینِ ادب میں بہت مقبول ہوئی۔ فنِ عروض پر اپنی نوعیت کے اعتبار سے اہم اور افادیت سے لبریز معرکہ آرا تصنیف کے اب تک تین ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ ادب اور صحافت سے طویل وابستگی رکھنے والے اس وسیع المطالعہ تخلیق کار نے اپنی بیس سے زائد وقیع تصانیف سے اردو زبان و ادب کی ثروت میں جو گراں قدر اضافہ کیا ہے، وہ تاریخِ ادب میں آبِ زر سے لکھا جائے گا۔ ان کی چار تصانیف اشاعت کے آخری مراحل میں ہیں۔ ممتاز ادیب ڈاکٹر عبدالحق خان حسرت کاس گنجوی ان کی شخصیت کو عالمی ادب کے ایک دائرۃ المعارف سے تعبیر کرتے تھے جن کی فقید المثال علمی و ادبی کامرانیوں اور متنوع تخلیقی تجربات سے نہ صرف اردو زبان و ادب کی ثروت میں بے پناہ اضافہ ہوا بل کہ اس ہفت اختر، زیرک، فعال اور مستعد ادیب کی قومی خدمات سے اہلِ وطن خود اپنی نظروں میں معزز و مفتخر ہو گئے ۔ وہ یہ بات زور دے کر کہا کرتے تھے وطن، اہلِ وطن اور قومی زبان سے والہانہ محبت کرنے والے اس با کمال دانش ور کی قومی خدمات کی وجہ سے تاریخ ہر دور میں اس نابغۂ روزگار ادیب کے عظیم الشان کام اور قابلِ صد احترام نام کی تعظیم کر ے گی اور جریدہ ء عالم پر ان کا دوام ثبت رہے گا۔ ڈاکٹر محمد انعام الحق کوثر کی رائے تھی کی عزیز جبران انصاری کی علمی ادبی، قومی اور ملی خدمات زمانہ حال ہی میں نہیں بل کہ آنے والی صدیوں تک یاد رکھی جائیں گی۔ وہ اس بات پر اصرار کیا کرتے تھے کہ ایسے نایاب لوگ ملکوں ملکوں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے جنھوں نے فروغِ علم و ادب کے لیے اپنی زندگی وقف کر رکھی ہے ۔ ان کی رائے تھی کہ ایسے دانش ور کا وجود اللہ کریم کا انعام ہے جسے تشنگانِ علم، لسانیات کے اساتذہ اور طلبہ کے لیے خضرِ راہ کی حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کے جو نام ور ادیب عزیز جبران انصاری کے منفرد اسلوب کے مداح اور ان کی ادارت میں گزشتہ دس برس سے کراچی سے مسلسل شائع ہونے والے رجحان ساز ادبی مجلے "بے لاگ” کے خوشہ چیں رہے ان میں سے ڈاکٹر صابر آفاقی، ڈاکٹر صابر کلوروی، ڈاکٹر نثار احمد قریشی، محمد محمود احمد، دانیال طریر، گدا حسین افضل، اقبال زخمی، شہر یار، مغنی تبسم، مظہر الحق علوی، وارث علوی، امیر اختر بھٹی، ظفر سعید، بشارت خان، دیوان احمد الیاس نصیب،  رالف رسل، شفیع عقیل، شبیر احمد اختر، اسحاق ساقی، سجاد بخاری، راجا رسالو، محمد آصف خان، سمیع اللہ قریشی، محمد فیروز شاہ، خالد احمد، فضل بانو، شبنم شکیل، ادا جعفری اور ذکیہ بدر کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان کی ظریفانہ شاعری پر مشتمل شعری مجموعے "چھیڑ چھاڑ ” کی اشاعت اردو زبان و ادب کے لیے  بالعموم اور اردو کی ظریفانہ شاعری کے لیے بالخصوص بہے اہمیت کی حامل ہے، جس کے معجز نما اثر سے الم نصیبوں اور دل فگاروں کے دلوں کو ایک ولولۂ تازہ نصیب ہو گا اور وہ رنجِ فراواں کے مسموم ماحول سے نکل کر موجِ حوادث کی بلا خیزیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے   ہنستے مُسکراتے طلوع صبحِ بہاراں کے انتظار میں ہمہ تن مصروف ہو جائیں گے۔ اردو کے مزاح نگار شعرا کی مساعی سے اُردو ادب میں طنزو مزاح کی قدیم روایت نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جس طرح مضبوط اور مستحکم صورت اختیار کر لی ہے وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم پیہم تہذیبی، ثقافتی، تمدنی اور معاشرتی ارتقا کی جانب رواں دواں ہے۔ اس وقت پاکستان میں اردو شاعری کے تخلیقی افق پر طنزو مزاح کی جو کہکشاں جلوہ گر ہے اس کی ضیا پاشیوں سے ادبی منظر نامہ بقعۂ نور ہو گیا ہے۔

اردو زبان و ادب کی تاریخ پر تحقیقی نگاہ ڈالنے سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اردو شاعری میں طنزو مزاح کے ابتدائی نقوش میر جعفر علی زٹلی کی شاعری میں پائے جاتے ہیں۔ میر جعفر علی زٹلی نے عیاش اور ظالم مغل بادشاہ فرخ سیر (عہد حکومت : ۱۱۔ جنوری ۱۷۱۳ تا ۲۸فروری ۱۷۱۹)کے فسطائی جبر کے سامنے سپر انداز ہونے سے انکار کر دیا اور مطلق العنان آمریت کے مظالم کے خلاف اپنی ظریفانہ شاعری میں کھُل کر اظہار خیال کیا اور جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور جس درد، کرب اور شدت کے ساتھ محسوس کیا اسے بر ملا اپنی طنزیہ و مزاحیہ شاعری کا موضوع بنایا۔ تلخ، تُند اور درشت لہجے میں بات کرنے والے حریت فکر کے اس مجاہد اور نڈر طنز نگار نے زندگی کی اقدارِ عالیہ کے تحفظ اور انسانیت کے وقار اور سر بلندی کی خاطر اپنی جان قربان کر دی اور اس کے ساتھ ہی حرفِ صداقت لکھنے کی ایسی روایت پروان چڑھائی جو ہر عہد میں اس لا فانی مزاح نگار کی بے باکی اور حق گو ئی کی یاد دلاتی رہے گی۔ اپنے ذہن، ذکاوت اور قلب و روح میں نمو پانے والے جذبات کو طنزو مزاح کے پیرائے میں بیان کر کے اس تخلیق کار نے اجتماعی زندگی کو درپیش مسائل کی بر وقت نشان دہی کی۔ اپنے ہاتھوں میں سونے کا قلم تھام کر افلاس کے عقدے حل کرنے والے سخن وروں کو میر جعفر علی زٹلی نے جعل سازی، منافقت اور موقع پرستی سے روکا۔ اس زیرک ظریف نے اپنے من میں ڈوب کر سراغِ زندگی پانے اور اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کی ایک ایسی مثال قائم کی جو تا ابد فکر و خیال کو مہمیز کرتی رہے گی۔ تاریخ کا ایک غیر مختتم مسلسل عمل ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ تمام واقعات جنھیں ماضی کا مورخ کسی عصبیت کی بنا پر نظر انداز کر دیتا ہے از سرِ نو منصۂ شہود پر آ جاتے ہیں۔ میر جعفر علی زٹلی کی ظریفانہ شاعری میں پائے جانے والے تہذیبی، ثقافتی، سماجی اور معاشرتی شعور اور اس میں نہاں طنز و مزاح کی نشتریت کی افادیت اور ہمہ گیر اثر آفرینی کو اُجاگر کرنے اور قارئینِ ادب کو ا س کی اہمیت کا قائل کرنے میں دو سو برس کا عرصہ بیت گیا۔ جدید دور میں میر جعفر علی زٹلی کے شعری مجموعے "زٹل نامہ "کو اس عہد کے زوال پذیر معاشرے کے حالات و واقعات کا آئینہ سمجھا جانے لگا ہے۔ یہ حالات کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ میر جعفر علی زٹلی نے اردو شاعری میں طنز و مزاح کے قصرِ عالی شان کی خِشتِ اول رکھی لیکن اس مزاح نگار کا تخلیقی کام ابلقِ ایام کے سموں کی گرد میں اوجھل ہو گیا او ر ادب میں اس کے حقیقی مقام و مرتبے کا تعین کرنے میں دو صدیاں بیت گئیں۔ طنز و مزاح کی یہ روایت ایک تہذیبی تسلسل کی علامت ہے ۔ یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ اقوام و ملل کے عروج کی داستانیں، تخت و کلاہ و تاج کے سب سلسلے، جاہ و حشمت اور جہاں گیر ہیبت کی کہانیاں تو تاریخ کے طوماروں میں اوراقِ پارینہ کی صورت میں دفن ہو جاتی ہیں لیکن سیلِ زماں کی مہیب موجیں تہذیب و ثقافت اور تمدن و معاشرت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ آنے والی نسلیں ماضی کے شعور کے عکاس ایسے ابد آشنا تخلیقی فن پاروں کے مطالعے سے اس تہذیبی میراث سے مستفید ہوتی ہیں۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے مجھے ممتاز شاعر رام ریاض(ریاض احمد شگفتہ) کا یہ شعر یاد آ رہا ہے :

کس نے   پہلا پتھر کاٹا، پتھر کی بنیا د رکھی

عظمت کے سارے افسانے میناروں کے ساتھ رہے

میر جعفر زٹلی کی شاعری نے کئی مفروضات کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا اوراس حقیقت کی جا نب متوجہ کیا کہ دہلی میں اردو شاعری کا ارتقا غزل سے نہیں بل کہ ظریفانہ شاعری سے ہوا۔ غیر محتاط تجزیات کے بعد اردو شاعری کے ارتقا کی داستان کا گُل و بلبل اور عشوہ و غمزہ و ادا سے انسلاک کر دیا گیا ہے حا ل آں کہ اُردو شاعری نے طنز و مزاح اور ظرافت سے نمو پا ئی۔ یہ کہنا حقائق سے شپرانہ چشم پو شی کے مترادف ہے کہ اردو شاعری ہر دور میں رنگ، خوشبو، حسن و خو بی، بلبل و قمری، نسرین و نسترن اور درِ کسریٰ پر صدا کرنے والے قصائد کے مدار میں سرگرم سفر رہی ہے۔ تاریخ سے لا علمی کے باعث کچھ لوگ یہ مفروضہ پیش کرتے ہیں کہ اردو شاعری میں شروع ہی سے تہذیب و تمدن، ثقافت و معاشرت اور بُود و باش کے نشیب و فراز اور تلخ و تُند حقائق کے بارے میں اصلاحی، تعمیری اور مثبت تنقیدی شعور پر مبنی تخلیقی فعالیت کا فقدان رہا ہے ۔ میر جعفر علی زٹلی کے ظریفانہ اسلوب کے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہ بنیادی طور غزل گو نہ تھا بل کہ ایک ظریف شاعر تھا اوراس نے ولی کی غزل گوئی سے بہت پہلے دہلی میں اپنی ظریفانہ شاعری کا آغاز کیا۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اردو شاعری میں صنف شہر آشوب کا آغاز بھی میر جعفر علی زٹلی کے شعری تجربات کا مرہونِ منت ہے ۔ میر جعفر علی زٹلی نے زندگی کی تاب و تواں کو اس عالمِ آب و گِل سر گرمِ عمل افراد کے حوالے سے جانچا۔ ہوائے جور و ستم اور سفاک ظلمتوں میں بھی اس نے حرفِ صداقت اور پیرایۂ ظرافت کی شمع فروزاں رکھی۔ اس کی ظریفانہ شاعری کو اپنی نوعیت کے اعتبار سے تیشۂ حرف سے فصیلِ جبر کو مکمل انہدام کے قریب پہنچانے کی ایک سعی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کئی دقیقہ سنج محققین نے میر جعفر علی زٹلی کی ظریفانہ شاعری کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ اردو شاعری میں طنز و مزاح کی اس روایت کو دریا کے ایک دھارے کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے ، جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اصنافِ ادب کی صورت میں کئی آب شار، ندی، نالے اور چشمے ملتے رہے ہیں۔ اس کے بعد اردو شاعری میں طنز و مزاح لکھنے والوں نے افکارِ تازہ کی مشعل تھام کر جہانِ تازہ کی جانب روشنی کا یہ سفر مسلسل جاری رکھا۔ نئے تخلیق کار شامل ہوتے رہے اور اس طرح مزاح نگاروں کا ایک کارواں اردو زبان و ادب کو نئے آفاق سے آشنا کرنے کا فریضہ انجام دیتا رہا اور ادب میں طنز و مزاح کی ایک مستحکم روایت پروان چڑھ چُکی ہے۔

اردو ادب میں طنز و مزاح کے ارتقا پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ہر عہد میں مزاح نگاروں نے اس حقیقت کی جانب متوجہ کیا کہ زمانے کے انداز پیہم بدل رہے ہیں اور زمانے میں محبت کے سِوا اور بھی بے شمار دُکھ ہیں۔ وصل کی راحت کے خواب دیکھنے والے رومان پرور لوگوں کو ہجومِ غم میں دِ ل کو سنبھال کر سانس گِن گِن کر زندگی کے دن پُورے کرنے والے قسمت سے محروم اُن الم نصیب افراد کی کتابِ زیست کے مطالعے پر توجہ دینی چاہیے جن کی زندگی کا سفر تو اُفتاں و خیزاں کٹ ہی جاتا ہے مگر اس صبر آزما اور جان لیوا مسافت میں ان کا پورا وجود کرچیوں میں بٹ جاتا ہے۔ اردو کی ظریفانہ شاعری میں اقتضائے وقت کے مطابق معاشرتی زندگی کی شقاوت آمیز نا انصافیوں، بے ہنگم تضادات، اعصاب شکن ارتعاشات اور بے اعتدالیوں کے بارے با لعموم خلوص اور درد مندی سے مثبت شعور و آگہی پروان چڑھانے کی سعی کی گئی ہے۔ اردو شاعری میں طنز و مزاح امروز کی شورش میں اندیشۂ فردا سے خبردار کر کے آثارِ مصیبت کے بارے احساس و ادراک سے بھی متمتع کرتی ہے۔ معاشرتی زندگی میں جہاں بھی زندگی کی اقدارِ عالیہ اور درخشاں روایات کو ضعف پہنچانے کی مذموم کوشش کی گئی اور انصاف کُشی کے لرزہ خیز اور اعصاب شکن واقعات سامنے آتے ہیں، اردو شاعری میں طنزو مزاح سے حقائق کی دِل کش اور پُر لطف مرقع نگاری سے سما ں باندھنے والے تخلیق کار پور ی قوت سے میدان عمل میں آئے اور اپنے تخلیقی وجود کا اثبات کیا۔ مسلسل شکستِ دِل کے باعث یاس و ہراس کے اعصاب شکن ماحول میں جب فرد کا سینہ و دِل حسرتوں سے چھا جاتا ہے تو وہ شدید اضطراب میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ ظریفانہ شاعری ان ہراساں شب و روز میں سمے کے سم کے ثمر کی زہر ناکی کا تریاق ثابت ہوتی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے موجودہ زمانے میں ہر شخص اس امر کا شاکی ہے کہ سیلِ حوادث کے تھپیڑوں کی زد میں آ کر فرد کی زندگی میں آنے والے خوشیوں کے لمحات مختصر ہو جاتے ہیں۔ ہر فرد یہ محسوس کرتا ہے کہ مُسرت کے یہ چند لمحات وقت سے بہت پہلے پلک جھپکتے ہی بیت گئے۔ ا س کے بر عکس آلامِ روزگار کا عرصہ اس قدر طویل ہو جاتا ہے کہ زندگی بھاری لگتی ہے ۔ عزیز جبران انصاری کی ظریفانہ شاعری میں ان تمام عوامل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ وہ الفاظ کو فرغلوں میں لپیٹ کر پیش کرنے کو سخت نا پسند کرتے ہیں بل کہ طنز کی کڑو ی کسیلی گولی کو اصلاح اور مقصدیت کی شیرینی میں لپیٹ کر اسے قابلِ برداشت بنا دیتے ہیں۔

عزیز جبران انصاری اپنی ظریفانہ شاعری میں جسے بھی طنز و مزاح کا ہدف بناتے ہیں، اس کی گردن مروڑنے کے بجائے اصلاح کی خاطر اس کے تر دامن کو نچوڑنے، اس کے بخیے ادھیڑنے اور اس کو جھنجھوڑنے پر توجہ مرکوز کر دیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کے بے کس انسانوں پر کوہِ ستم توڑنے والوں کے سب کس بل نکال دئیے جائیں۔ انسانیت کی توہین، تذلیل، تضحیک اور بے توقیری کرنے والے درندوں سے انھیں شدید نفرت ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے قبیح کردار کے باعث گلشن میں بندو بست بہ رنگِ دیگر دکھائی دیتا ہے اور ہر طرف ذلت، تخریب، نحوست بے برکتی، بے غیرتی اور بے ضمیری کے کتبے آویزاں ہو گئے ہیں۔ جہاں اثمار، بُور لدے چھتنار، سرو صنوبر اور گُل و یاسمین کی بہار ہوا کرتی تھی، اب وہاں حنظل، تھوہر، زقوم، اکڑا، بھکڑا، پوہلی اور کریروں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ حادثۂ وقت نے یہ دن دکھائے کہ جاہل کو اس کی جہالت کا انعام ملنے لگا اور عقابوں کے نشیمن اب بُوم و شِپر اور زاغ و زغن کے تصرف میں ہیں۔ ان کے شگفتہ اسلوب کا ہدف بننے والے زدِ الفاظ کھانے کے بعد جب تڑپتے اور تلملاتے ہیں تو یہ منظر دیکھ کر قاری کے دل کی کلی کھل اٹھتی ہے۔ ہوائے جوروستم میں شمعِ وفا کو فروزاں رکھنے والے اس زیرک، فعال اور مستعد مزاح نگار نے اپنی شگفتہ بیانی اور بر جستگی سے وہ سماں باندھا ہے کہ ظالم و سفاک، موذی و مکار درندوں کا قبیح کردار اور کریہہ افعال ہمارے سا منے آ جا تے ہیں۔ ان کے شگفتہ اسلوب میں جبر کے ہر انداز کو مزا ح کا ہدف بنا یا گیا ہے۔ خوابوں کی خیاباں سازیوں پر مبنی منافقت، مکر اور عیاری کی مذمت کی گئی ہے۔ جو فروش گندم نما، بگلا بھگت اور بھیڑ کا لبا دہ اوڑھنے والے بھیڑیوں کی ہیئتِ کذائی دیکھ کر ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو جا تا ہے۔ دورِ زماں نے ایسی کروٹ لی ہے کہ قحط الرجال کے لرزہ خیز اور اعصاب شکن ماحول میں چاپلوسی کرنے والے ، خوشامدی، حریص، ابن الوقت اور مفاد پرست سفہا کی ریشہ دوانیوں اور مکر کی چالوں کے باعث انسانی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے ۔ معاشرتی زندگی میں جو فروش گندم نما، بگلا بھگت اور اپنا اُلّو سیدھا کرنے کے لیے خوشامد کو وتیرہ بنانے والے مُوذی و مکار بے ضمیروں نے اندھیر مچا رکھا ہے اور اپنی چکنی چُپڑی باتوں اور ملمع سازیوں سے مقتدر حلقوں کو حقائق سے لا علم رکھا اور انھیں غلط اور بے بنیاد معلومات فراہم کر کے سماجی زندگی کے پورے نظام کا تیا پانچہ کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔ ہذیان کے مرض میں مبتلا، کردار سے عاری یہ تھالی کے بینگن مراعات کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے ، قوت اور ہیبت سے اندھے کے ہاتھوں بٹتی ریوڑیوں سے اپنا حصہ بٹورنے کی غرض سے جب مقتدر حلقوں کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں توان کی زبان آری کی طرح چلتی ہے ۔ وقت کا یہ سانحہ دیکھ کر ناطقہ سر بہ گریباں رہ جاتا ہے کہ ان کی یاوہ گوئی کے بارے میں کیا رائے دی جائے اور خامہ انگشت بہ دنداں ہے کہ اس ہرزہ سرائی کے بارے میں کیا لکھا جائے۔ اپنے انتہائی گھٹیا ذاتی مفادات کے حصول کے لیے جھُوٹی مداحی، خوشامد، عیاری، مکاری، چاپلوسی اور قصیدہ گوئی کی قبیح عادت سے ایسے بے ضمیر، بے وقار اور ننگِ انسانیت چاپلوسوں کے وارے نیارے ہیں مگر اہلِ وفا کو کٹھن حالات کا سامنا ہے۔ ایسے خوشامدی، ابلیس نژاد سفہا، لفاظ حشراتِ سخن اور چڑھتے سورج کے پجاری اجلاف و ارذال نے اپنی عیاریوں سے قومی کردار کو شدید ضعف پہنچا کر ہمیں اقوام عالمِ کی صف میں تماشا بنا دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ طالع آزما اور مہم جُو عناصر کو کھُل کھیلنے کا موقع مِل گیا۔ اپنی نظم ” ہم قصیدہ گو ہیں بھائی” میں عزیز جبران انصاری نے اس قسم کے مسخروں کو طنز و مزاح کا ہدف بنایا ہے :

اس عوامی دور سے اب کوئی بھی نا خوش نہیں

کوئی ننگا ہے نہ بھوکا ہے سبھی ہیں دِل نشیں

ہو رہا ہر ایک چہرہ آج قندھاری انار

ہم قصیدہ گو ہیں بھائی کیا ہمارا اعتبار

حریتِ فکر و عمل کے ایک مجاہد کی حیثیت سے عزیز جبران انصاری نے ابتلا اور آزمائش کے ہر دور میں حرفِ صداقت لکھنا اپنا مطمحِ نظر بنایا۔ وہ مصلحتِ وقت کے قائل نہیں بل کہ سر اُٹھا کر چلنا ہمیشہ ان کا شیوہ رہا ہے ۔ ان کے مزاج میں ایک شانِ استغنا ہے ، اسی لیے وہ اپنی دنیا میں مگن نہایت خاموشی سے پرورش لوح و قلم میں مصروف رہتے ہیں اور اپنے تجربات و مشاہدات کو بلا کم و کاست زیبِ قرطاس کرتے چلے جاتے ہیں۔ اپنی ایک اور نظم "ذکر ایک سرکاری مشاعرے کا ” میں عزیز جبران انصاری نے سخن فروش نا شاعر مسخروں کو آئینہ دکھایا ہے۔ خود ستائی کے مرض میں مبتلا مہا تما(بہت بڑا حنظل) جب ہوس زر کا اسیر بن جاتا ہے تووہ نہ صرف اپنے منہ میاں مٹھو بننے کے خبط میں مبتلا ہو جاتا ہے بل کہ اہلِ کمال کی پگڑی اُچھا لنا اس کا وتیرہ بن جاتا ہے۔ ا یسے نا شاعر کی کور مغزی، ذہنی افلاس اور بے بصری کا یہ حال ہوتا ہے کہ خورشیدِ جہاں تاب کی ضیا پاشیوں کو بھی وہ محض جگنو کی روشنی پر محمول کرتا ہے۔ عزیز جبران انصاری کی ظریفانہ شاعری میں بلند فکری منہاج، وسیع مطالعہ، مشاہدات، تجربات اور تجزیات کا خرمن قاری کو مسحور کر دیتا ہے۔ معاشرتی زندگی میں رو نما ہونے والے مزاحیہ واقعات کی لفظی مرقع نگاری میں عزیز جبران انصاری کو کمال حاصل ہے۔ خود غرضی پر مبنی سفلی تمناؤں میں اُلجھے اور ہوسِ زر کے کُچلے نام نہاد سخن ور ستائش اور صلے کے لالچ میں جب زندگی کی اقدارِ عالیہ کو پسِ پشت ڈال کر اور اپنے ضمیر کا گلا گھونٹ کر قصیدہ گوئی اور مدح سرائی کی بھونڈی روش اپنا لیتے ہیں تو ان کا یہ انداز ان کی رسوائی اور جگ ہنسائی کا سبب بن جاتا ہے۔ سرکاری مشاعرے میں گھُس بیٹھنے والے غاصب اور قابض مسخروں اور بد ذوق تماش بینوں کا حال سنیے اور سر دھُنیے :

پچیس شاعروں میں جو تھا ایک مسخرہ

اُس کو مشاعرے کی نظامت ہوئی عطا

جتنے تھے حاضرین بنے سب تماش بین

برہم تھی اس لیے ہی فضائے مشاعرہ

شاعر تھے جتنے سب ہی لفافوں کے تھے حریص

اس مسخرے کو کرتے وہ ناراض کیوں بھلا

اس مسخرے کو کَہ نہیں سکتا تھا کوئی کچھ

وہ مسخرا عزیز تھا سرکاری مسخرا

عزیز جبران انصاری نے سرکاری مشاعرے کی نظامت پر مامور نا شاعر کو مزاحیہ کردار کے بجائے مسخرا قرار دیا ہے۔ مزاحیہ کردار اور مسخر ے میں جو فر ق ہے وہ اہلِ نظر سے پوشیدہ نہیں۔ معاشرتی زندگی میں مسخرے عزت و احترام سے محروم ہوتے ہیں۔ ان کی ہیئتِ کذائی دیکھ کر ہنسی ضبط کرنا محال ہوتا ہے۔ جہاں تک مزاحیہ کردار کا تعلق ہے تو یہ اپنی خود ساختہ جعلی اور فرضی توقیر و تکریم کی بنا پر اپنے تئیں عصرِ حاضر کا نابغہ سمجھتا ہے ۔ اس کی نظر میں کوئی اہل کمال جچتا ہی نہیں۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ مزاحیہ کردار جعلی وقار کا بھرم قائم رکھنے کے لیے بناوٹ، دکھاوے اور منافقت کا سہار ا لیتا ہے مگر مسخر ے کے عیوب اس قد ر واضح ہوتے ہیں کہ انھیں چھپانے کی کوئی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ سر کاری مشاعرے کی نظامت پر مامور نا شاعر کو مسخراقرار دے کر عزیز جبران انصاری نے نفسیات اور علم بشریات پر اپنی کا مل دسترس کا ثبوت دیا ہے۔ عزیز جبران انصاری نے لفافوں کو للچائی نگاہوں سے دیکھنے والے حرص کے مارے جن پچیس شاعروں کا ذکر کیا ہے وہ بھی کردار سے عاری تھے۔ وہ جس بے حسی اور ڈھٹائی کے ساتھ مشاعرے کی نظامت پر مامور سرکاری مسخرے کے ہم نوا بن گئے اور اس کے مضحکہ خیز طرزِ عمل کو خاموشی سے برداشت کرتے رہے اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ وہ سب کے سب مہا مسخرے تھے۔ عزیز جبران انصاری نے نہایت خوش اسلوبی سے ان تمام سخن فروش مسخروں کو طنز و مزاح کا ہدف بنایا ہے ۔ زندگی کی اقدارِ عالیہ اور درخشاں روایات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ہوسِ جاہ و منصب کے مارے درندوں نے ہر طرف اندھیر مچا رکھا ہے ۔ سیلِ زماں کے تھپیڑوں میں حالات کی سفاکی کو دیکھ کرایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم جزیرۂ جہلا میں پھنس گئے ہیں۔ چاروں طرف سمندر کی تلاطم خیز موجیں ہیں جہاں نہ تو کوئی اُمید بر آتی ہے اور نہ ہی بچ نکلنے کی کوئی صورت نظر آتی ہے ۔ کُوڑے کے ڈھیر سے جاہ و منصب کے استخواں نوچنے والے خارش زدہ سگانِ آوارہ اور درِ کسریٰ کی دہلیز پر ناک اور پیشانی رگڑ نے کے بعد کئی کرگس، زاغ و زغن اور بُوم و شپر اب شاہینوں کے آشیاں میں گھُس گئے ہیں۔ یہ حالات کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ شعر و ادب اور فلسفے کی ابجد سے لا علم انگوٹھا چھاپ بھی رواقیت کے داعی بن بیٹھے ہیں اور ذوقِ سلیم اور صحتِ زبان و ادب پر مسلسل ستم ڈھا رہے ہیں۔ یہ ابلہ بُزِ اخفش جو مضامین لکھتے ہیں، وہ سب کے سب پشتارۂ اغلاط ہوتے ہیں اور یہ چربہ، سرقہ اور کفن دُزدی کی بد ترین مثال ہیں۔ مشکو ک نسب کے وضیع بڑی بڑی جعلی ڈگریوں اور مصنوعی کرّو فر سے بلند مناصب پر غاصبانہ قبضہ کرنے میں کام یاب ہو جاتے ہیں اور مجبور انسانیت کے چام کے دام چلاتے ہیں۔ یہ بگلا بھگت رجلے خجلے، سفید کوے ، کالی بھیڑیں، گندے انڈے اور عفونت زدہ مچھلیاں اس حقیقت سے غافل ہیں کہ قصر و ایوان کی بلند و بالا فصیل پر بیٹھ جانے سے بُوم کبھی عقاب نہیں کہلا سکتااور وادی و مرغزار میں نیچی پرواز کرنے سے گِدھ کبھی سر خاب نہیں بن سکتا۔ ان چکنے گھڑوں کی جسارتِ سارقانہ کو دیکھ کر کلیجہ منہہ کو آتا ہے ۔ عزیز جبران انصاری نے اس قماش کے مفاد پرست انگوٹھا چھاپ جہلا کے قبیح کردار پر گرفت کرتے ہوئے ان کے مکر کا پردہ فاش کرتے ہوئے لکھا ہے :

پڑھے لکھوں کی ہے محفل میاں انگوٹھا چھاپ

گلے گی دال نہ ہر گز یہاں انگوٹھا چھاپ

نہ دِل گرفتہ ہو دولت اگر ہے پاس تو پھر

کہ بِک رہی ہیں سبھی ڈگریاں انگوٹھا چھاپ

لگی ہوئی ہے سبھی ڈگریوں کی سیل یہاں

جو دِل پسند ہوں لیں ڈگریاں انگوٹھا چھاپ

اگر دکان ادب کی تمھیں سجانی ہے

پی ایچ۔ ڈی کی سند لو میاں انگوٹھا چھاپ

یہ ڈگریاں بھی نہ اب تک اسے بگاڑ سکیں

ہے آج بھی وہ سرِ جاہلاں انگوٹھا چھاپ

جہاں تک مزاحیہ اسلوب کا تعلق ہے عزیز جبران انصاری کی ظریفانہ شاعری میں طنز و مزاح کے کئی حربے استعمال کیے گئے ہیں۔ ان میں سے زبان و بیان کی چست بندش اور مزاحیہ کیفیات کا کرشمہ دامنِ دِل کھینچتا ہے ۔ وہ معاشرتی زندگی میں رُو نما ہونے والے مضحکہ خیز واقعات اور مضحک کیفیات سے مواد حاصل کرتے ہیں۔ وہ محض طنز پر انحصار نہیں کرتے بل کہ ان کی شاعری میں طنز اور مزاح کا امتزاج پایا جاتا ہے ۔ وہ کسی کی تضحیک، دِل آزاری اور تمسخر اُڑانے کو نا پسند کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ طنز و مزاح کے امتزاج سے اپنے اسلوب کو قلب اور روح کی اتھاہ گہرائیوں میں اُتر جانے والی اثر آفرینی سے مزّین کر کے فکر و خیال کو اس طرح مہمیز کرتے ہیں کہ قاری پر سوچ کے نئے در وا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ انھوں نے فیض احمد فیض کی نظم ” مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ ” کی تحریف جس فنی مہارت اور شگفتہ انداز میں کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔

"مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ ” (پیروڈی)

"مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ”

یہ غلط ہے جو کبھی میں نے کہا تھا تجھ سے

"تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے

تو جو مِل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے "

پہلے نادان تھا میں، ہوش تو اب آیا ہے

بڑی مشکل سے یہ دِل اپنا سمجھ پایا ہے

یاد آتا ہے جو ماضی تو ہنسی آتی ہے

تیری اک ایک شرارت مجھے تڑپاتی ہے

اپنی پاکٹ منی میں تجھ پہ لُٹا دیتا تھا

سارے پیسوں کی تجھے چاٹ کھلا دیتا تھا

کتنا نادان تھا جھانسے میں جو آ جاتا تھا

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

یا دہے اب بھی ستم گر ترا ہر ظلم و ستم

پیپسی، کوک مری چھین کے پی جاتا تھا

شربتِ دید پہ ہی مجھ کو تُو ٹرخاتا تھا

میں نے سمجھا یہ غلط "تجھ سے درخشاں ہے حیات”

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات”

آ گئی میری سمجھ میں تیری ہر ایک ہے بات

اب نہ جھانسے میں ترے آؤں گا پہچان گیا

میں تجھے اچھی طرح جان گیا مان گیا

یہ غلط ہے کہ ترا حسن ہے پہلے جیسا

اب تو دس بچوں کی ماں ہے تجھے پہچان گیا

اب کوئی مجھ سے دغا بازی نہیں کر سکتا

اب کسی شوخ پہ اے جان نہیں مر سکتا

بر ملا کہتا ہوں اب تجھ سے یہی سن لے تُو

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

ایک زیرک مزاح نگار کی حیثیت سے عزیز جبران انصاری نے موازنہ اور کردار نگاری کو اپنے شگفتہ اسلوب میں نہایت بے تکلفی سے استعمال کیا ہے۔ اس کے نمونے "ان سے ملیے "اور” مجھ سے ملیے "میں موجود ہیں۔ ان ظریفانہ ادب پاروں میں انھوں نے شاہیں بچوں کو خاک بازی کا سبق پڑھا کر ان کا کام تمام کرنے والے جعلی معلم کے مکر کو طنزو مزاح کا ہدف بنایا ہے۔ ایسے خود ساختہ ادیب، سارق نقاد، چربہ ساز محقق اور جاہل معلم ننگِ ملت اور ننگِ قوم بن جاتے ہیں۔ وقت کے اس الم ناک سانحہ کو کس نام سے تعبیر کیا جائے کہ ہر طرف بڑی تعداد میں اس قماش کے جہلا اپنی جہالت کا انعام پا کر اہلِ کمال کے در پئے آزار ہیں۔ کسی بھی قوم کی یہ بہت بڑی بد قسمتی ہے کہ وہاں ایسے شیخ چِلّی قماش مسخروں کو شیخِ مکتب کے منصب پر فائز کر دیا جائے اور انھیں گلستانِ ادب کو تاراج کرنے کی کھلی چھوٹ مل جائے ۔ کئی خسیس متفنی مختلف بیساکھیوں کے سہارے بڑی بڑی درس گاہوں کے رئیس بنتے دیکھے گئے ہیں۔ اس قسم کے علم دشمن عناصر کے قبیح کردار اور جعل سازی کو تہس نہس کرتے ہوئے عزیز جبران انصاری نے انھیں ان کی اوقات یاد دلائی ہے :

ان سے ملیے

ان سے ملیے یہ ادب کے نام ور نقاد ہیں

واسطہ نقد و نظر سے ہو نہ ہو استاد ہیں

ان کا دعویٰ ہے جسے چاہیں بنا دیں آفتاب

میرؔو غالبؔسے بڑھا دیں یا ڈبو دیں زیرِ آب

محفلِ شعر و ادب کاہے انہی پر انحصار

ان کے دم سے ہی گلستانِ سخن ہے پُر بہار

عمر گزری ہے اِسی کارِ ہنر میں ان کی یار

کس طرح در پر رہے شہرت کے ماروں کی قطار

اپنے شاگردوں کے دم سے ان کو حاصل ہے وقار

سینئرہونے کے ناتے میرِ محفل ہر جگہ

یہ کسی کو کچھ کہیں، فرمان ان کا ہے بجا

جس سے خوش ہوں اس کو مہمانِ خصوصی دیں بنا

جس سے ہوں ناراض حلقے سے اُٹھا دیں بر ملا

عمر گزری ہے اسی کارِ شرارت میں عزیز

کوئی کوتاہی نہیں کی اس عبادت میں عزیز

کوئی بھی معاشرہ جب بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے تو وہاں تنقید اور احتسابِ ذات کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا۔ ایسی اعصاب شکن صورتِ حال میں خود ستائی ایک متعدی مرض کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔ قحط الرجال کے اس دور میں جس طرف نظر دوڑائیں اپنے منہ میاں مٹھو بننے والوں اور اپنی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے والوں کا جمِ غفیر امڈ آیا ہے۔ عزیز جبران انصاری نے اصلاحِ احوال کی خاطر اس نا پسندیدہ روش کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے اپنی نظم "مجھ سے ملیے "میں ایک جعل ساز معلم کو طنز و مزاح کا ہدف بنایا ہے۔

مجھ سے ملیے

مجھ سے ملیے میں محقق، نام ور نقاد ہوں

ان گنت شاگرد ہیں بے مثل میں استاد ہوں

جو ہوا شاگرد میر ا وہ بہت ہی شاد ہے

یعنی پھر وہ فکر نظم و نثر سے آزاد ہے

میرے ایوانِ ادب میں آ کے دیکھیں تو سہی

میرے دم سے ہی جہان فکر و فن آباد ہے

میر ؔ و غالبؔ قصۂ پارینہ ہیں عالی جناب

کتنے ذروں کو کیا ہے میں نے اب تک آفتاب

میری اُستادی سے جس نے بھی کیا انکار ہے

اس کا ہر بزمِ سخن میں کر دیا خانہ خراب

میرِ محفل میں ہی ہوتا ہوں جہاں ہو ں جس جگہ

سینئر ہوں مستند ہے   میر ا فرمایا ہوا

عمر گزری ہے اسی کا ر شرارت میں عزیز

کوئی کوتاہی نہیں کی اس عبادت میں عزیز

سا دیت پسندی کے مر ض میں مبتلا وہ ننگ انسا نیت درندے جن کے مکر کی چالوں سے زندگی کی تمام رُتیں بے ثمر، کلیاں شرر، زندگیاں پُر خطر، آہیں بے اثر، زندگیاں مختصر اور بستیاں خوں میں تر ہو گئیں، عزیز جبران انصاری کی ظریفانہ شاعری میں وہ اپنا کچا چٹھا دیکھ کر اپنی خست و خجالت کے ہاتھوں نڈھال اپنے ہی سنگِ آستاں پر اپنا سر پھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ آلام روزگار کی عقوبتوں کے چیتھڑوں میں ملبوس، زینہ ء ایام پر عصا رکھتی دُکھی انسانیت کے مسائل پر عزیز جبران انصاری تڑپ اٹھتے ہیں اور ہنسی کے خوش رنگ دامنوں میں اپنے آنسو چھُپا کر اپنی گُل افشانیِ گفتار سے پتھروں اور چٹانوں کو بھی موم کر دیتے ہیں۔ عزیز جبران انصاری نے نہایت خلوص اور دردمندی سے طنز و مزاح کو وسیلۂ اظہار بنایا ہے۔ انھوں نے ذہن و ذکاوت، فہم و فراست، بصیرت و تدبر اور ذوقِ سلیم کو اپنے فکر و فن کی اساس بناتے ہوئے معاشرتی زندگی کے بارے میں اپنے تجربات و مشاہدات اور جذبات و احساسات کو اس قدر دل کش اور شگفتہ انداز میں اشعار کے قالب میں ڈھالا ہے کہ اُن کی حِسِ ظرافت سے محفل کشتِ زعفران بن جاتی ہے ۔ ان کے منفرد اسلوب کا امتیازی وصف یہ ہے کہ اس میں پائی جانے والی ظرافت کے ترکش میں طنز و مزاح کے تِیرسنگلاخ چٹانوں، جامد و ساکت پتھروں اور بے حِس مجسموں میں پیوست ہو کر انھیں ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں۔ قلب اور روح کی وسعتوں میں سما جانے والی ان کی شگفتہ شاعری پتھروں سے بھی اپنی اثر آفرینی کا لوہا منوا لیتی ہے۔ یاد رکھنا چاہیے ذوقِ سلیم رکھنے والا ہر با ذوق انسان جو اعلیٰ ظرفی، عظمتِ کردار اور قابل قدر شخصی وقار سے متمتع ہے طنزو مزاح اس کی جبلت میں داخل ہے۔ آج کے مزاح نگار کو اس بات پر حیرت ہے کہ اس دھوپ بھری دنیا میں وہ انبوہِ عاشقاں اُمڈ آیا ہے کہ کہیں بھی تِل دھرنے کو جگہ نہیں مِلتی۔ بو الہوس عشاق کی فکری تہی دامنی کا یہ حال ہے کہ یہ کسی معمولی شکل و صورت والی دوشیزہ کے عام سے چہرے کے تِل پر سب کچھ نثار کر دیتے ہیں۔ محض ایک تِل کی دل کشی سے مسحور ہو کر وہ ایک بھینگی لڑکی یا ڈھڈو کُٹنی کو بھی دِل دینے پر تُل جاتے ہیں۔ اس قماش کے مسخرے عشاق جب سیلِ زماں کے تھپیڑوں کی زد میں آتے ہیں تو یہی تِل والی محبوبہ اپنے بے بصر عشاق کا تیل نکال کر ان بے صبر اور عقل کے اندھوں کو اِسی میں تَل کر لذتِ ایذا حاصل کرتی ہے اور جب مسلسل استعمال ہونے کے بعد یہ عشاق کھوکھلے ہو جاتے ہیں تو یہ بات زبان زدِ عام ہو جاتی ہے کہ اِن تِلوں میں تیل عنقا ہے۔ یہ باتیں سُن کر عشاق تِلملا کر رہ جاتے ہیں۔ خزاں کے سیکڑوں مناظر دیکھ کر بھی مزاح نگار طلوع صبحِ عیاراں سے متنبہ کرنے میں کبھی تامل نہیں کرتا۔

عزیز جبران انصاری کی سوچ ہمیشہ تعمیری رہی ہے کسی کی تخریب سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ انسانیت کو مصائب و آلام کی بھٹی میں جھونکنے والے درندوں کو جب وہ آئینہ دکھاتے ہیں تو سب اہلِ جور اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں۔ یہ ظریفانہ شاعری معاشرتی زندگی کے تضادات اور نا ہمواریوں کے ہمدردانہ اور سنجیدہ مطالعے پر مبنی ہے۔ انسانی ہم دردی کے جذبات سے سرشارایک مخلص، دیانت دار اور حساس تخلیق کار کی حیثیت سے عزیز جبران انصاری نے اس امر کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھا ہے کہ اعلیٰ اخلاقیات اور عمدہ عادات و اطوار کو ناقابلِ اندمال صدمات سے دو چار کرنے والے مفاد پرست عناصر کے مکر کا پردہ فاش کرنے میں کبھی تامل نہ کیا جائے۔ عزیز جبران انصاری کی ظریفانہ شاعری میں حریتِ فکر اور اصلاحی جذبے کے امتزاج سے جہانِ تازہ کا سماں ہے۔   ایک سچے اور بے حد حساس تخلیق کار کی حیثیت سے زندگی کی بے اعتدالیوں، تضادات بے ہنگم ارتعاشات اور ناہمواریوں کو سنجیدگی سے دیکھ کر وہ رنجیدہ بھی ہیں اور ان کے بارے میں اپنے ہمدردانہ شعور کو رو بہ عمل لاتے ہوئے نہایت خلوص اور فنی مہارت سے قارئین کو ان کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ان کی ظریفانہ شاعری محض دل خوش کرنے کے لیے نہیں بل کہ انسانیت کے وقار اور سر بلندی، معاشرتی زندگی کی اصلاح کی ایک سنجیدہ کاوش بھی ہے اس کے پس پردہ تخلیق کار کا جذبۂ انسانیت نوازی قاری کو مسحور کر دیتا ہے ۔ اپنے تخلیقی عمل کے اعجاز سے عزیز جبران انصاری نے قطرے میں دجلہ اور جزو میں کُل کا جو مسحور کُن سماں پیش کیا ہے وہ اسلوبیات اور زبان و بیان پر اُن کی خلاقانہ دسترس کی دلیل ہے۔ ان کی ظریفانہ شاعری اس قدر خندہ آور ہے کہ آلامِ روزگار کی گردشِ مدام اور ہجومِ غم سے جب قاری کا دِل حسرتوں سے چھا جاتا ہے اور اس جی ہجومِ غم کو دیکھ کراُسکا جی گھبرا جاتا ہے تواس شاعری کے مطالعے سے قاری کے دل میں مسرت و شادمانی کی اک لہر سی اُٹھتی ہے جو اس کے لیے راحت و اطمینان کی نوید لاتی ہے۔ وہ زندگی میں معنویت، مقصدیت اور افادیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے حریتِ فکر کو نا گزیر سمجھتے ہیں۔ عزیز جبران انصاری اپنے تجربات، مشاہدات، جذبات، احساسات، تجزیات اور مطالعات کو اس فنی مہارت سے پیرایۂ اظہار عطا کرتے ہیں کہ قاری سب غم بھول کر حیرت و استعجاب کے عالم مُسکرانے لگتا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ شاعری اسے اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور وہ فرط مسرت سے جھوم اُٹھتا ہے اور زندگی کے تلخ اور تُند حقائق کے بارے میں مثبت انداز میں سوچنے کی سعی میں انہماک سے کام لیتا ہے ۔ تیسری دنیا کے بعض پس ماندہ ممالک میں جمہوریت کی آڑ میں سیاسی جماعتوں کے قائدین نے آمریت قائم کر رکھی ہے۔ سیاسی جماعت کی قیادت پر قابض فردِ واحد جب اپنی پارٹی میں جمہوریت نہیں لا سکتاتواُس کی قیادت میں پوری مملکت میں سلطانیء جمہور کا خواب کیسے شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے۔ تیسری دنیا کے پس ماندہ ممالک میں عام انتخابات کے نتیجے میں بھی ہمیشہ کی طرح فقیروں، غریبوں اور قسمت سے محروم طبقے کے حالات تو جوں کے توں رہتے ہیں جب کے موقع پرست وزیروں کے دِن پھر جاتے ہیں اور بے ضمیروں کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ مفاد پرست طبقے کے مکر کی چالوں سے معاشرے میں عوامی زندگی اجیرن ہو چکی ہے ۔ حالات اس قدر ابتر ہو چکے ہیں کہ گھر سے بازار کو نکلتے ہوئے انسان کا زَہرہ آب ہوتا ہے ۔ ہر شاہراہ اور چوک نے مقتل کی صورت اختیار کر لی ہے اور بے بس لوگ اپنے گھروں کے زندان میں محبوس ہو کر ر ہ گئے ہیں۔ عزیز جبران انصاری کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری میں گرد و پیش کے حالات کی حقیقت پسندانہ انداز میں تصویر کشی کی گئی ہے ۔ چشم کشا صداقتوں سے لبریز یہ ظریفانہ شاعری قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے :

پارٹی لیڈر کا فرمان

پارٹی لیڈر کا ہر فرمان ہی ایمان ہے

اس پہ دِل قربان اس پر جان بھی قربان ہے

ہاتھ سے جائے نہ کرسی اب یہی ارمان ہے

اس پہ دل قربان اس پر جان بھی قربان ہے

اب کے بھی

وڈیرہ، چودھری، سردار، صنعت کار اب کے بھی

مقدر کے سکندر تھے یہی زر دار اب کے بھی

بہت شہرہ تھااُس کی منصفی کا شہرِ خوباں میں

مگر ثابت ہوا مٹی کا مادھو یار اب کے بھی

حالات کشیدہ ہیں

قانون کے محافظ، ڈاکو، لٹیرے ، قاتل

ہے تیرے حق میں اچھا گھر سے نکل نہ باہر

بے بس عدالتیں ہیں انصاف کیا ملے گا

بہتر ہے گھر میں مرنا گھر سے نکل نہ باہر

اہلِ قلم پہ قدغن، آزاد چور، ڈاکو

ہو گا کہاں ٹھکانہ، گھر سے نکل نہ باہر

انقلاب

آسماں پر جیسے منڈلاتے ہیں کوّے، چیل، گدھ

ایس ہی منظر دکھاتا جا رہا ہے انقلاب

اپنی گرتی ساکھ گر تم کو بچانی ہے تو پھر

بس یہی نعرہ لگاؤ، آ رہا ہے انقلاب

ڈبو کے چھوڑے گی

منافقت کی سیاست ڈبو کے چھوڑے گی

یہ بے حسی کی قیاد ت ڈبو کے چھوڑے گی

ہزاروں تجھ سے بھی پہلے گزر گئے نمرود

سنبھل کہ تجھ کو یہ نخوت ڈبو کے چھوڑے گی

شاعری میں تکنیک کا تنوع عزیز جبران انصاری کے شگفتہ اسلوب کا نمایاں وصف ہے ۔ معاشرتی زندگی کے جتنے بھی موسم اورجس قدر گنگا جمنی کیفیات وہ دیکھتے ہیں، ان کا احوال نہایت پر لطف انداز میں بیان کرتے چلے جا تے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے ، نظم، غزل، قطعات، ہزل اور تحریف نگاری میں خوب رنگ جما یا ہے۔ یہ تمام اصناف ادب ان کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری میں دھنک رنگ منظر نامہ پیش کرتی ہیں۔ موضوعاتی نظموں میں انھوں نے بہ ظاہر طنز و مزاح کے پیرائے میں اپنا ما فی الضمیر بیان کرنے کی کو شش کی ہے لیکن ان نظموں کے تخلیقی محرکات میں ان کی سنجیدگی، خلوص،   حب الوطنی اور درد مندی کو کلیدی اہمیت حاصل ہے ۔ ان کی نظموں میں جو صداقتیں پوشیدہ ہیں ان کے اعجاز سے عصری آگہی کو پروان چڑھا نے میں مدد ملتی ہے ۔ ان مزاحیہ نظموں کے مطالعے سے تاریخ کے مسلسل عمل سے آگاہی حاصل ہوتی ہے ۔ وقت کے ہلا کو خان، چنگیز خان، رابن ہُڈ، میر جعفر اور میر صادق قاری کی پہچان میں آ جا تے ہیں۔ رنج اور کرب کی تیز دھوپ اور راحت و مسرت کے خنک سائے لیے اپنے اور پرائے لو گوں کا احوال پیش کرتی درج ذیل نظمیں "چھڑ چھاڑ” کے انداز میں قاری کو متوجہ کرتی ہیں :

سنہری اصول، سوالی، ان سے ملیے ، مجھ سے ملیے ، خود مختار، شاہکار، نثری نظم کے شاعر اور سیا ست داں کے درمیان مکالمہ، الٹ پلٹ، سوال جہل ہے لیکن، انوکھا منصف، شا م سے پہلے، عالمی یو م صحافت، امریکا میرا داتا۔ ظریفانہ شاعری کے مجموعے "چھیڑ چھا ڑ "میں شامل قطعات طنز و مزاح اور اثر آفرینی کے حامل ہیں۔ حالات کے قدموں میں ڈھیر ہونے والے ابن الوقت عناصر پر ان قطعات میں گرفت کی گئی ہے ۔ ما دیت کے مسموم ماحول میں حریصانہ زندگی کی حراست میں لقمۂ تر پر مرنے والے ابلیس نژاد آدم خوروں کے لیے یہ قطعات تازیا نۂ عبرت ہیں عزیز جبران انصاری طنز و مزاح کے وسیلے سے قارئینِ ادب کی فطری جبلتوں کی تنظیم کے خواہاں ہیں۔ کسی بھی جبلت کی نمو انھیں کسی تشویش یا اضطراب میں مبتلا نہیں کر سکتی اس لیے وہ اس کو پروان چڑھنے سے روکنے کی سعی نہیں کرتے ۔ تخلیقِ فن کے لمحوں میں وہ خون بن کر رگِ سنگ میں اترنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تخلیقی عمل میں وہ اپنی داخلی کیفیت کو اس انداز میں رو بہ عمل لاتے ہیں کہ ان کے فکر و خیال کی دنیا کا پورا نظام ان کے داخلی احساسات کے سانچے میں ڈھلتا چلا جاتا ہے ۔ ہر نئی جبلت کو خوش دلی سے قبول کر تے ہوئے وہ اس اطمینان کے ساتھ مزاح لکھتے ہیں کہ اس کے معجز نما اثر سے وہ نہ صرف قارئین کے ذہنی دباؤ اور اعصابی تناؤ کو کم کرنے میں کام یاب ہو جائیں گے بل کہ خود ان کے تزکیہ نفس کی ایک صورت بھی پیدا ہو سکے گی۔ تباہیوں، ہلاکت خیزیوں کے موجودہ لرزہ خیز زمانے میں فرد کی بے چہرگی، پریشاں حالی، درماندگی، عذابِ در بہ دری اور عدم شناخت کے مسئلے نے گمبھیر صورت اختیار کر لی ہے ۔ تاریخ کے مسلسل عمل کے نتیجے میں ایامِ گزشتہ کی کتاب کے اوراق پر پڑ جانے والی ابلقِ ایام کے سموں کی گَرد تخلیقِ ادب کے ذریعے رفتہ رفتہ صاف ہو تی چلی جاتی ہے ۔ عزیز جبران انصاری کی ظریفانہ قاری کو شاعری تاریخی شعور سے متمتع کرتی ہے۔ ہر قسم کی عصبیت سے بالاتر رہتے ہوئے انھوں نے دلوں کو مرکزِ مہر و وفا کرنے پر اصرار کیا ہے ۔ وہ سماجی زندگی کے متعدد اہم واقعات، سیاست کے نشیب و فراز، تاریخی عوامل اور ادبی و فنی معائر کے امتزاج سے اپنی شاعری کو قلب اور روح کی گہرائیوں میں سما جانے والی اثر آفرینی سے مزین کرنے کے آرزو مند ہیں۔ اردو کی ظریفانہ شاعری کی روایات کی اساس پر وہ طنز و مزاح میں اپنے تخلیقی تجربات کا قصرِ عالی شان تعمیر کرنے کی سعی میں مصروف ہیں۔ ان کے قطعات میں طنز و مزاح کو قاری حیرت و استعجاب سے دیکھتا ہے۔ ان میں ایک مخلص تخلیق کار کی باغ و بہار شخصیت کا واضح پرتو دکھائی دیتا ہے ۔ طنز و مزاح پر مبنی یہ قطعات ذوقِ سلیم کو صیقل کر کے افکارِ تازہ کی مشعل تھا م کر جہان تازہ کی جا نب پیش قدمی پر مائل کر تے ہیں۔ اردو ادب کے قارئین اور لسانیات کے طلبہ کے لیے یہ ایک دلکش تجربہ ہے۔

کون

کرپشن، لُوٹ، اغوا، چور بازاری کی دنیا میں

ملو ث کون ہوتے ہیں سزائیں کون پاتے ہیں

جو چھوٹی مچھلیاں ہوتی ہیں بنتی ہیں وہی چارہ

جو قد آور یہاں ہوتے ہیں گلچھرے اُڑاتے ہیں

تاریخ کا فیصلہ

تمھارے پاس قوت ہے تو عقلِ کُل بھی ٹھہرو گے

بہ ہر صورت وہی ہو گا زباں سے تم جو بولو گے

کسی کو جان پیاری ہے ، کسی کو منصب و دولت

مگر تاریخ کا بھی فیصلہ تم جلد دیکھو گے

آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہوس نے نوعِ انساں کو انتشار اور افراتفری کی بھینٹ چڑھا دیا ہے ۔ عصبیت، دہشت گردی، اقربا پروری، مفاد پرستی، انصاف کُشی اور انسان دشمنی کے دبیز گرد و غبارمیں زندگی کی اقدارِ عالیہ اور درخشاں روایات عنقا ہو گئی ہیں۔ ایثار، وفا، علم دوستی اور انسانیت نوازی کے سب قصے اب تاریخ کے طوماروں میں دب گئے ہیں۔ سنگلاخ چٹانوں، جامد و ساکت پتھروں، خذف ریزوں اور چلتے پھرتے ہوئے مُردوں کے سامنے آلامِ روزگار کے پاٹوں میں پِستی ہوئی دُکھی انسانیت کے مصائب و آلام کی لفظی مرقع نگاری کرنا عصرِ حاضر کے تخلیق کار کے لیے ایک صبر آزما اور کٹھن مر حلہ ثابت ہوتا ہے۔ جو کچھ اس کے دِل پر گزرتی ہے اسے رقم کرنے کی خاطر وہ خونِ دِل میں اُنگلیاں ڈبو کر پرورشِ لوح و قلم میں مصروف رہتا ہے۔ عزیز جبران انصاری نے طنز و مزاح کے وسیلے سے جس طرح زندگی کی حقیقی معنویت اور مقصدیت کی تفہیم و توضیح کی سعی کرتے ہوئے اس کے نئے مطالب و مفاہیم کی جستجو کی ہے ، اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایک حساس تخلیق کار کی حیثیت سے وہ طنز و مزاح کو شعورِ حیات کی بیداری اور فکر و خیال کی تبدیلی اور زندگی کے بارے میں اقتضائے وقت کے مطابق مثبت اور قابلِ عمل اندازِ فکر اپنانے کے لیے استعمال کرنے کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔ ان کے اسلوب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ معاشرتی زندگی میں پائی جانے والی بے اعتدالیوں اور تضادات کے بارے میں نہایت سنجیدہ اور رنجیدہ ہیں۔ شگفتہ اسلوب اور ہنسی و مسکراہٹ کے پُر لطف پردوں میں چھُپے ان کے آنسو قاری کو صاف دکھائی دیتے ہیں۔ جب معاشرہ پیہم شکستِ دِل، خوف و دہشت کی فضا، لُوٹ مار اور عدل و انصاف کو بارہ پتھر کرنے اور زندگی کے تضادات پر ٹس سے مس نہیں ہوتا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ معاشرتی زندگی پر بے حسی کا عفریت منڈلا رہا ہے۔ عزیز جبران انصاری نے اس قسم کے گمبھیر حالات اور ان کے سنگین نتائج سے متنبہ کرتے ہوئے قارئینِ ادب میں زندگی کے بارے میں مثبت شعور و آگہی پروان چڑھانے کی کوشش کی ہے۔ طنز و مزاح میں ان کے منفرد اسلوب کا راز نُدرتِ تخیل، نفاستِ بیان، اظہار و ابلاغ کاسلیقہ، خلوص، ایثار اور دردمندی میں پوشیدہ ہے۔ وہ طنز و مزاح کے ذریعے معاشرتی زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں اپنے نئے تجربات اور مشاہدات کے ابلاغ کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔ طنز و مزاح کے ذریعے معاشرتی زندگی کے جملہ نشیب و فراز اور ارتعاشات کے بارے میں جذبات، احساسات اور مشاہدات کے ابلاغ کے لیے ان کے متنوع تخلیقی تجربات قاری کے شعور کو وسیع النظری او ر احساس و ادراک کو مسرت و انبساط کی فراواں دولت سے متمتع کر نے کا وسیلہ ثا بت ہو تے ہیں۔

عزیز جبران انصاری کے نشاط انگیز ظریفانہ اسلوب کے مطالعے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ حِسِ مزاح ان کی جبلت میں شامل ہے۔ زبان و بیان پر انھیں جو عالمانہ دسترس حاصل ہے وہ ان کے طنزیہ و مزاحیہ اشعار میں صاف دکھائی دیتی ہے ۔ اپنے ظریفانہ تخلیقی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ مزاح کی نمو کے لیے متعدد طریقے رو بہ عمل لاتے ہیں۔ ان کے شگفتہ اسلوب میں ہر لحظہ نیا طور نئی برق تجلی کی کیفیت ہے جس میں اُن کا مرحلۂ شوق طے ہی نہیں ہوتا۔ وہ کہیں تو سماجی زندگی کی بے ہنگم، نا ہموار اور مضحکہ خیز غیر متوازن کیفیات میں تقابل سے مزاح پیدا کرتے ہیں تو کہیں الفاظ و معانی کے استعمال کے دلچسپ کھیل سے مزاح کو تحریک دیتے ہیں۔ اپنے اسلوب میں بعض اوقات وہ تحریف نگاری پر توجہ مرکوز کرتے ہیں تو اکثر مضحکہ خیز صورتِ حال سے مزاح کشید کر کے قاری کو ہنسنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ان کے اسلوب میں کہیں چربہ ساز، سارق، کفن دُزد قماش کے جعل ساز مزاحیہ کردار اپنی فرضی اور موہوم عزت کا ڈھنڈورا پیٹتے دکھائی دیتے ہیں تو کہیں بے وقار مسخرے اپنے فکری افلاس اور علم تہی دامنی کے اشتہار کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ ان کے اسلوب میں طنز و مزاح کے سوتے معاشرتی زندگی کے تضادات، بے ہنگم ارتعاشات اور نا گوار بے اعتدالیوں سے پھُوٹتے ہیں۔ ان کا ظریفانہ اسلوب

ایک جامِ جہاں نما ہے جس میں معاشرتی زندگی کی تمام نا ہمواریاں حقیقی اور پر لطف صورت میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ منفرد اسلوب کے حامل اردو زبان کے اس با کمال مزاح نگار کی گُل افشانیِ گفتار پر مبنی شعری مجموعہ "چھیڑ چھاڑ "کی اشاعت اردو زبان و ادب کے لیے ایک نیک شگون ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے