انشائیہ کی روایت۔ مشرق و مغرب کے تناظر میں ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر انور سدید

 

 

ایسّے (Essay) جسے اردو میں ’ انشائیہ‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے مغرب کے ادب کی ایک صنف ہے اور اس صنف کو معرضِ تخلیق میں لانے کا شعوری عمل فرانس کے دانشور مائیکل ڈی مانتین( Michal-De-montaigne)سے منسوب ہے۔ مانتین نے اپنی فعال زندگی کے اختتام پر ضعیف العمری کے دور میں اپنے لمحاتِ فراغت کا یہ مصرف نکالا کہ اپنے تجربوں اور مشاہدوں کی روشنی میں مختلف موضوعات پر اپنے غیر مربوط خیالات کو قلم بر داشتہ لکھنا شروع کر دیا۔ مانتین کی یہ عجیب و غریب باتیں چھپ کر سامنے آئیں تو اس نے اپنے قارئین کو مخاطب کر کے کہا:

’میری یہ کتاب دیانت کی امین ہے۔ اسے لکھنے کا مقصد ذاتی اور داخلی ہے۔ اسے لکھتے ہوئے آ پ کی خدمت یا اپنی شہرت کو ملحوظ نہیں رکھا کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں ۔ میرے پیشِ نظر تو دوستوں اور عزیزوں کی مسرت ہے تاکہ جب میں مر جاؤں ۔ ۔ اور عنقریب ایسا ہو نے والا ہے تو میرے کر دار اور مزاج کی بازیافت سے مجھے اپنی یادوں میں زند رکھ سکیں ۔ ‘

مانتین کے تجربوں اور مشاہدوں میں زندگی کی صداقت شامل تھی، اس کے انکشافِ ذات میں ندرتِ خیال کا نادر عنصر موجود تھا اور یہ تصنع اور بناوٹ سے پاک تھا۔ بلاشبہ مانتین اپنی کتاب کا موضوع خود تھا لیکن اس نے اپنی ذات میں اپنی عظمت کے نقوش شامل نہیں کئے جب کہ دنیا کے بیشتر مصنفین اپنی ذات کو مرکزِ عالم سمجھتے ہیں اور بقائے دوام کا تاج خود ہی زیبِ سر کر لیتے ہیں لیکن مانتین درویش مزاج انسان تھا۔ ہنری آ ف ناروے کے دربار میں اسے ایک اعلیٰ عہدہ پیش کیا گیا تو اس نے قبول نہ کیا۔ اس نے زمانے کے تہذیبی مزاج کا پورا ادراک رکھنے کے باوجود فطرت سے ہم آ ہنگی پیدا کی اور گر د و پیش کی چیزوں کی تصویر کشی سادہ طبعی سے کی تو یہ تقاضا بھی کیا کہ ’میری کمزوریوں کا مطالعہ زندگی کے ساتھ کیجئے‘۔ مانتین کی یہ معمولی سی بات غیر معمولی بات بن گئی اور اس نے قاری کو نہ صرف اپنی طرف متوجہ

کر لیا بلکہ اپنی ذات میں داخل ہونے کے لئے انشائیہ ( ایسّے ) کی کھڑکی بھی کھول دی۔ اور تسلیم کر نا پڑے گا کہ مانتین کا یہ اعلامیہ ایک بے ساختہ، نا تراشیدہ ہلکی پھلکی لیکن بے حد خیال افروز اور بہجت آ فریں صنفِ ادب کا نقطہ آغاز بھی تھا۔ جسے زمانے نے قبولِ عام کا درجہ دیا اور اس کی خوشبو پھیلنے لگی تو انگریزی زبان کے ادیبوں نے اسے اپنے دل میں زیادہ بسایااور بیکن۔ ابراہم کاؤلے۔ ایڈیسن۔ سٹیل۔ ہزلٹ۔ جانسن۔ گولڈسمتھ۔ چارلس لیمب۔ ڈیکوئنسی۔ سٹیونسن۔ چسٹرٹن۔ رابرٹ لِنڈ۔ جانسن۔ پرسٹلے۔ وولف۔ بیلاک۔ بیر بہوم۔ اور ایلفا وغیرہ انشائیہ نگار رونما ہوئے جو اپنی قوم کو اشیاء، مظاہر اور مناظر کا بہجت افروز زاویہ دکھانے کی قدرت رکھتے تھے۔

سر سید احمد خان لندن گئے اور انہوں نے انگریزی رسائل ٹیٹلر اور اسپکٹیٹر میں انشائیے پڑھے تو ایڈیسن اور سٹیل کو اپنی تہذیب کے پیغمبر شمار کیا اور وطن واپس آئے تو ان کی تقلید میں رسالہ ’تہذیب الاخلاق ‘ جاری کیا اور اپنی انشا پردازی سے وہی کام لینے کی کو شش کی جو ایڈیشن اور سٹیل لے رہے تھے۔ بیسویں صدی کے ثلث سوم میں اردو صحافت کو فروغ حاصل ہوا تو بعض نثر نگاروں کے مضامین میں انشائی خصوصیات بھی رونما ہو نے لگیں اور اس سلسلہ کو بیسویں صدی کے نصف اول میں زیادہ فروغ حاصل ہوا چنانچہ ظہیر الدین مدنی، سید صفی مرتضیٰ، سید محمد حسنین، ڈاکٹر آ دم شیخ اور اختر اورینوی نے مزاح نگاروں کے مجموعے کے پیشِ الفاظ لکھے تو ان میں انشائیہ کی جزئیات پر بھی بحث کی دلچسپ بات یہ ہے کہ انشائیہ (ایسّے ) مغرب میں کثرت سے لکھا گیا اور متعدد نامور انشائیہ نگاروں کے مجموعے بھی شائع ہوئے جن کے آغاز میں اس دور کے انگریز نقادوں نے انشائیہ کی بوطیقا (پوئیٹکس) پر بھی بحث کی اور ہر انشائیہ نگار کے فن کے انفرادی نقوش دریافت کر نے کی کاوش بھی کی لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انشائیہ کے فن پر انگریزی میں کوئی مبسوط اور مربوط کتاب نہیں چھپی اور اردو میں جو دیباچے لکھے گئے ہیں وہ بھی انگریزی کتابوں کے پیشِ الفاظ سے استفادہ کا نتیجہ ہیں ، مزید بر آں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مغرب کے ادبی حلقوں میں انشائیہ کو کبھی متنازع قرار نہیں دیا گیا اور اسے بحث کا موضوع بھی نہیں بنا یا گیا اور نہ ہی انشائیہ کو طنز و مزاح کے ساتھ خلط ملط کیا گیا ہے۔

اردو ادب میں انشائیہ کے باقاعدہ تعارف سے پہلے طنز و مزاح کی روایت فروغ پا چکی تھی اور یہ المیہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ شاعر جعفر زٹلّی کوہندوستان کے مغل شہنشاہ نے اس کی طنزیہ شاعر پر ہی پھانسی پر چڑھا دیا تھا۔ مزاح کے چند عناصر امیر خسرو کی پہیلیوں ، کہہ مکرنیوں اور فی البدیہہ دو سطری بیتوں میں موجود ہیں جو نہ صرف اپنے زمانے میں زبان زدِ خاص و عام ہو گئے بلکہ انھیں دوامِ ابد مل گیا اور یہ امیر خسرو کی انفرادیت پر منتج ہو تے ہیں ۔ ایک مثال حسبِ ذیل ہے جس کی تخلیق پنگھٹ پر لڑ کیوں کی فرمائش پر ارتجالاً ہوئی :

کھیر پکائی جتن سے، چرخہ دیا جلا، آ یا کتا کھا گیا، تو بیٹھی ڈھول بجا۔

اردو میں طنزیہ و مزاحیہ ادب کو اودھ پنچ کی اشاعت سے زیادہ فروغ ملا، تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ زندگی کی سنگلاخ سنجیدگی میں لطافت و بہجت کا زاویہ ہر دور میں طنز و مزاح نے پیدا کیا اور اس کے آ ثار ۱۸۵۷ سے قبل کے بالغ فکر اور بلند نظر شعرا کے ہاں دیکھے جا سکتے ہیں ۔ بالفاظِ دیگر طنز و مزاح کو زندگی میں ایک بنیادی قدر کی حیثیت حاصل تھی انیسویں صدی میں مرزا اسد اللہ خان غالب ؔ کو یہ اہمیت حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی فطری قنوطیت پسندی کے باوجود اپنے خطوط میں تبسم زیرِ لب پیدا کر نے کیلئے اردو نثر کو استعمال کیا اور اودھ پنچ جاری ہوا تو اس نے ۱۸۵۷ کی شکستِ عظیم کے اجتماعی ملال کو کم کر نے کے لئے شاعری کے ساتھ نثر کے طنز و مزاح نگاروں کو بھی اہمیت دی اور بقول پنڈت برج نارائن چکبست ؔ ’ ایک ایسے وقت میں جب کہ زندگی میں انقلاب انگیز تبدیلیاں پید ا ہو رہی تھیں فضا کو اعتدال پر لانے کی کوشش کی۔ ‘( بحوالہ : اردو ادب میں طنز و مزاح، از ڈاکٹر وزیر آغا)

سقوطِ دہلی کی شکست گزیدہ فضا میں سر سید کی اہمیت اس لئے زیادہ ہے کہ انہوں نے ایڈیسن اور سٹیل کے خطوط پر قوم کو موجود اشیاء، مظاہر اور مناظر پر تازہ کار نظر ڈالنے اور مشاہدہ کے شگفتہ زاویے ابھار نے کا انداز عطا کیا۔ چنانچہ اردو زبان کے نثری ادب میں ایک نئی صنفِ اظہار کے بیج بکھر نے لگے۔ جس کے چند تعارف کاروں کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔ لیکن یہ ظاہر نہیں ہو تا کہ ایک نئی صنفِ ادب کو جو نا موسوم تھی فروغ مل رہا تھا۔ یہ اعزاز ڈاکٹر وزیر آغا کو حاصل ہے کہ لاہور کے ممتاز جریدہ ’ادبی دنیا ‘ کے پانچویں اور آخری دور میں وہ مولانا صلاح الدین احمد کے مدیر معاون بنے تو انہوں نے اس ناموسو م صنفِ نثر میں پہلے نصیر آغا کے قلمی نام سے اور پھر اپنے اصلی نام سے کئی مضامین لکھے جو بعد میں کتاب کی صورت میں ’خیال پارے‘ کے عنوان سے شائع ہوئے۔ ’خیال پارے ‘کا پیش لفظ مولانا صلاح الدین احمد نے لکھا اور اردو ادب میں ایک نئی صنفِ ادب کی افزائش کی نوید دی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس دوران میں داؤد رہبر، ممتاز مفتی اور امجد حسین کے چند ایسے مضامین شائع ہو چکے تھے جن میں انشائیہ کے جملہ اوصاف مرتکز تھے۔ اور اب مضامین کی اتنی تعداد جمع ہو گئی تھی کہ اس نئی صنف کے فن پر بحث کرائی جا سکتی تھی۔ انشائیہ پر پہلی بحث ڈاکٹر وزیر آغا نے رسالہ ’ادبی دنیا ‘ میں استوار کی اور اس میں پروفیسر غلام جیلانی اصغر اور پروفیسر نظیر صدیقی کے علاوہ خود ڈاکٹر وزیر آغا نے حصہ لیا۔ میں ’ادبی دنیا‘ ا س بحث کو جدید انشائیہ کی تحریک کا نقطہ آغاز تصور کر تا ہوں جسے زیادہ فروغ بعد میں ’اوراق‘ اور ’ اردو زبان ‘نے دیا۔ علی گڑھ سے ڈاکٹر ابنِ فرید نے رسالہ ’ادیب ‘ کا انشائیہ نمبر شائع کیا۔ ہندوستان

( بھارت)سے جو ادبا انشائیہ میں ممتاز ہوئے ان میں احمد جمال پاشا، رام لعل نابھوی اور محمد اسد اللہ کو اہمیت حاصل ہے۔ ہندوستان ( بھارت)کے متعدد تخلیق کار جب انشائیہ اور خالص طنز و مزاح کو خلط ملط کر رہے تھے تو ان تین اصحاب نے انشائیہ کے حقیقی مزاج کو سمجھا۔ اور معمولی موضوعات پر خیر معمولی انشائیے لکھے جو ڈاکٹر وزیر آغا کے وضع کر دہ اس تعریف پر پورے اترتے تھے۔

’انشائیہ اس نثر ی صنف کا نام ہے جس میں انشائیہ نگار اسلوب کی تازی کاری کا مظاہرہ کر تے ہوئے اشیاء و مظاہر کے مخفی مفاہیم کو کچھ اس طور پر گرفت میں لیتا ہے کہ انسانی شعور اپنے مدار سے ایک قدم باہر آ کر نئے مدار کو وجود میں لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ‘

ڈاکٹر وزیر آغا کی اس تعریف سے اختلاف کے کئی زاویے سامنے آئے اور کئی اصحاب نے اپنے زاویہ نظر کے مطابق انشائیہ کی اصطلاح کو اپنی تعریف سے منور کر نے کی کو شش کی۔ وضاحتِ احوال کے لئے احمد جمال پاشا نے ماہنامہ ’اردو زبان ‘ (سرگودھا)میں ایک مضمون میں یہ خیال ظاہر کیا کہ ’انشائیہ کی اصطلاح کثرتِ تعبیر سے ایک خوابِ پریشاں بن گئی ہے۔ ‘تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ انگریزی میں انشائیہ کی تنقید تو انشائیہ کی کتابوں کے دیباچوں تک محدود ہے لیکن اردو ادب میں مشکور حسین یاد، ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر بشیر سیفی، ڈاکٹر وزیر آغا اور اس ناچیز انور سدید نے کتابیں بھی پیش کیں جو انشائیہ کی تحریک کو فعال بنانے میں کامیاب قرار دی جا سکتی ہیں ۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان میں انشائیہ کی تحریک گھن گرج کے ساتھ پر وان چڑھی لیکن ہندوستان میں اسے وسیع پیمانے پر قبولِ عام حاصل نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ جدید انشائیہ کو متعارف کرانے والے ڈاکٹر وزیر آغا یہاں طویل عرصہ تک انشائیہ نگاروں کی رہنمائی کر تے رہے اور انہیں رسالہ’ اوراق ‘ میں متعارف کرانے کے علاوہ حزبِ اختلاف کے اعتراضات کا جواب بھی لکھتے رہے۔ انہوں نے انشائیہ نگاروں کے علاوہ انشائیہ کے نقادوں کی ایک بڑی جماعت بھی پیدا کی جن میں مشتاق قمر، جمیل آذر، غلام جیلانی اصغر، ڈاکٹر رشید امجد، سلیم آغا قزلباش، حیدر قریشی، ناصر عباس نیر اور اکبر حمیدی وغیرہ شامل ہیں ۔ دوسری طرف ہندوستان میں احمد جمال پاشا اور رام لعل نابھوی اردو انشائیہ کے فعال رکن تھے لیکن زندگی نے ان کا ساتھ نہ دیا اور وہ منظرِ حیات سے اٹھ گئے۔ چنانچہ اردو انشائیہ کی نمائندگی کا تمام تر بوجھ محمد اسد اللہ صاحب کے کاندھوں پر آ پڑا۔ ان کی ادبی اور سماجی زندگی متعدد مصروفیتوں میں منقسم ہے اور ان کی کامیابیوں کا عمودی اور افقی گراف ظاہر کر تا ہے کہ وہ ہر شعبے سے انصاف کر تے اور اسے پوری توجہ دیتے رہے ہیں۔ انھوں نے طنز و مزاح بھی لکھا لیکن تخلیقی شعبہ میں انشائیہ کو فوقیت دی اور ۱۹۸۱میں انشائیوں کا پہلا مجموعہ ’ بوڑھے کے رول میں ‘شائع کیا۔ حال ہی میں دوسرا مجموعہ ’ڈبل رول‘ منظرِ عام پر آیا ہے۔ وہ ان مباحث سے بھی شناسا ہیں جو انشائیہ کے موضوع پر پاکستان کے اخبارات و رسائل و کتب میں چھپتے رہے ہیں ۔ اور ڈاکٹر مناظر عاشق ہر گانوی کے مطابق :

’ان سب کو اور انشائیہ پر دیگر مضامین کو سامنے رکھ کر محمد اسد اللہ نے اندازہ لگایا کہ اس صنف کے تعین میں الجھاؤ پیدا ہو گیا ہے اور مباحثِ رد و قبول کے درمیان شناختی نشان پر سوال کھڑا کر رہے ہیں۔

چنانچہ انہوں نے خود ’انشائیہ کی روایت۔ مشرق و مغرب کے تناظر میں ‘، کے عنوان سے ایک تحقیقی و تنقیدی کتاب لکھ دی جو اس موضوع پر تازہ ترین وقیع کام ہی نہیں بلکہ ہندوستان ( بھارت) میں چھپنے والی انشائیہ کی تنقید پر پہلی جامع اور فکر انگیز کتاب ہے۔ محمداسد اللہ نے یہ کتاب ڈاکٹر وزیر آغا مرحوم کے نام انتساب کی ہے جو ان کی نظر میں بر صغیر میں اردو انشائیہ نگاری کی تحریک کے کاروانِ سالار تھے۔

اس یک موضوعی کتاب کے بیانیہ کو چھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے باب میں انشائیہ کے فن پر مغرب و مشرق کے تناظر میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ انگلستان نے اس صنف کو فرانس سے در آ مد کیا تھا اور اس کے داخلی محاسن اور نقوش مختلف مصنفوں نے انگریزی مزاج کے مطابق ابھارے۔ اور کسی فنی تنازعے کو جنم نہیں دیا۔ اس کے برعکس بیسویں صدی میں وزیر آغا نے سر سید احمد خان کی متعارف کرائی ہوئی اس صنف کی تعریف وضع کی اور اسے مقبولیت بھی حاصل ہونے لگی تو یہ صنف متنازعہ بنا دی گئی۔ ڈاکٹر محمد اسد اللہ کا نئی اصناف کے بارے میں نظر یہ ہے:

’ ارتقا پذیر اصنافِ ادب اپنے دامن میں تخلیقی امکانات کا ایک جہاں چھپائے ہوئے ہوتی ہیں او ادبی تنقید تو ایک سائے کی مانند تخلیق کی پیروی پر مجبور ہے۔ اس سائے کے قدو قامت کا تعین تخلیق کے وجود پر منحصر ہے۔ ‘

انہوں نے بکھری ہو ئی صنف انشائیہ کے تخلیقی وجود کو تسلیم کیا لیکن جب تنقیدی سائے کے قد و قامت و ساخت کا سوال پیدا ہوا تو اس صنف کا گرد آلود مطلع بھی ان کے پیشِ نظر تھا۔ چنانچہ انہوں نے لکھا ہے:

’ انشائیہ کے ضمن میں ایک اہم بات یہ ہے کہ انشائیہ اردو کی سب سے زیادہ متنازعہ صنفِ ادب ہے۔ ۔ ۔ ۔ اس پر جس قدر مباحث وجود میں آئے اردو انشائیہ کامسئلہ اسی قدر الجھتا گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان مختلف و متنوع آراء کی موجود گی میں تفکر اور تلاش و جستجو کی راہیں کھلی ہوئی ہیں ۔ ‘

اس باب میں ڈاکٹر صاحب نے انشائیہ کے جن متنازعہ امور پر بحث کی ہے ان میں انشاء کا لفظ، انشائیہ کی اصطلاح، انشائیہ کی تعریف، انشائیہ اور مضمون میں فرق، طنزیہ و مزاحیہ مضمون اور انشائیہ میں انکشافِ ذات وغیرہ شامل ہیں ۔ موضوعات کی یہ تفصیل ظاہر کر تی ہے کہ محمد اسد اللہ نے اس باب کو کس وسعت سے بحث کا موضوع بنایا ہے۔ ڈاکٹر سلیم آغا قزلباش نے جو خود بھی تازہ فکر انشائیہ نگار اور اس صنف کے کشادہ نظر نقاد اور انشائیہ کی تحریک کے فعال رکن ہیں ، لکھا ہے :

’ ڈاکٹر محمد اسد اللہ نے مندرجہ بالا کتاب(انشائیہ کی روایت، مشرق و مغرب کے تناظر میں )قلم بند کر کے صنف انشائیہ کے سلسلے میں پھیلائی گئی بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کر نے کی کوشش کی ہے۔ ۔ ۔ اس ضمن میں انہوں نے جملہ نقطہ ہائے نظر کو اپنے تجزیے کی کسوٹی پر پر کھا ہے اور حقائق کو اجاگر کر نے کی سعی کی ہے۔ ‘

میں یہاں اس ضمن میں ’انشاء ‘کے لفظ پر اٹھائی گئی بحث کا حوالہ دوں گا جس کی معنوی تعبیر کے لئے محمد اسد اللہ نے قرآن مجید میں اس لفظ کے استعمال کا حوالہ دیا ہے تو فرہنگِ آ صفیہ سے بھی استفادہ کیا ہے اور ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر آ د م شیخ، شبلی نعمانی، عبدالماجد دریابادی اور مشکور حسین یاد کی توضیحات پر بحث کے بعد اپنا نقطہ نظر ان الفاظ میں پیش کیا ہے۔

’لفظ ’انشاء ‘۔ ۔ ۔ کے ساتھ وابستہ تحریر اور اندازِ نگارش کا محدود اور تکنیکی مفہوم فارسی میں موجود تخلیقی ادب کے زیرِ اثر ابتدا ہی سے وسعت آشنا ہو کر عبارت آ رائی اورحسنِ بیان کے معنوں میں استعمال ہو نے لگا تھا۔ انشا پردازی اسلوبِ بیان کی ایک مخصوص خوبی شمار کی جاتی رہی ہے۔ ‘

’انشائیہ کا فن ‘ کے باب میں انہوں نے ڈاکٹر وزیر آغا، مشکور حسین یاد اور ڈاکٹر سلیم احمد کے نظریات کے علاوہ رابرٹ لِنڈ کا حوالہ بھی دیا ہے اور اختلافی نکات نشان زد کر نے کے بعد اپنا موقف حسبِ ذیل پیش کیا ہے :

ایک انشائیہ اور غزل کے ایک شعر میں ہمیں گہری مماثلت محسوس ہوتی ہے اس کی وجہ دونوں میں فنکار کا وہ شخصی اظہار ہے جس کے توسط سے وہ اپنے دل کی بات اور منفرد احساسات ہم تک پہنچانا چاہتا ہے اوراس کا وہ تپیدہ جذبہ اظہار کی سعی میں غنائیت کی سر حدوں کو چھوکر دیگر اصناف سے ممتاز پیرایہ اختیار کر لیتا ہے۔ انشائیہ میں ہمیں اسی منفرد زبان و اسلوب کے نقوش ملتے ہیں۔ ‘

محمد اسد اللہ نے انشائیے کے مباحث کو الجھانے کے بجائے سلجھانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے ہر اختلافی نکتے پر اپنے پیش روؤں کے خیالات اقتباس کئے ہیں اور بے جا تنقید سے گریز کرتے ہوئے دلیل کی اساس پر اپنا نقطہ نظر ابھارا ہے۔ وہ اکثر مقامات پر ڈاکٹر سلیم اختر اور مشکور حسین یاد سے متفق نظر نہیں آ تے اور بعض نکات پر انہوں نے وزیر آغا سے بھی اختلاف کیا ہے لیکن ان کے اختلاف کا انداز شائستہ اور نکتہ آ رائی شگفتہ ہے۔ وہ تنقید میں تہذیب کے مدار کو قائم رکھتے ہیں ۔ میری ناچیز رائے میں یہ باب اس کتاب کا اہم ترین باب ہے اور محمد اسد اللہ کی تنقیدی نظر کی وسعت کو آ شکار کر تا ہے۔

کتاب کا دوسرا باب مغرب میں انشائیہ کی روایت کے تاریخی مطالعہ کا مظہر ہے۔ انہوں نے مغربی ادب کے قدیم نسخوں میں بکھرے ہوئے انشائیہ کے نقوش تلاش کرنے کے بجائے ہاؤسٹن پیٹر، کے قولِ فیصل کو قبول کیا ہے۔ ۱۵۸۰ میں جب مونتین نے اپنے تاثرات اور آراء پر مبنی پہلی دو کتابیں شائع کیں تو انشائیہ (Essay) کی اصطلاح کو پہلی دفعہ مخصوص معانی میں استعمال کیا گیا۔ محمداسد اللہ نے مونتین، بیکن، ابراہم کاولے، رچرڈ سٹیل، جوزف ایڈیسن، ولیم ہزلٹ، ڈاکٹر جانسن، جوناتھن سوفٹ، چارلس لیمب، گولڈ اسمتھ، آ ر ایل اسٹیون سن، جی کے چسٹرسن، ای وی لوکس، رابرٹ لِنڈ اور ایلفا آف دی پلو، کے انشائیہ کے تخلیقی سفر کو جو سولہویں صدی سے بیسویں صدی تک پھیلا ہوا ہے مناسب کفایتِ لفظی سے پیش کر دیا ہے۔ یہ باب محمد اسد اللہ کے وسیع مطالعہ اور مطالب و معانی کی گرہ کشائی کا آئینہ دار ہے۔

اگلے دو ابواب کا موضوع مشرق میں انشائیہ کا فروغ و ارتقاء ہے۔ محمد اسداللہ کے مطابق انشائیہ کے ابتدائی نقوش ملا وجہی کی نثر کی کتاب ’ سب رس ‘ میں ملتے ہیں جو ۱۶۳۵ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب کی اساس پر ہی ڈاکٹر جاوید وششٹ نے انشائیہ کو مغرب کے بجائے خالص مشرق کی صنفِ ادب قرار دیا تھا۔ محمد اسد اللہ نے بھی وجہی کی ۶۱ تحریروں کو انشائیے میں شمار کیا ہے اور انہوں نے ڈاکٹر جاوید وششٹ کی تحقیقی ہی کی تائید کی ہے۔ تاہم انہوں نے انشائیہ کے فروغ کو اٹھارویں صدی میں مرزا اسد اللہ خان غالبؔ اور ماسٹر رام چندر کے بعد سر سید، محمد حسین آ زاد، الطاف حسین حالی اور دیگر نوموز نثر نگاروں کی تحریروں میں بازیافت کیا ہے۔ یہ دو ابواب انشائیہ نگاروں کی طویل فہرستوں پر مشتمل ہیں تاہم ڈاکٹر مناظر عاشق ہر گانوی کی رائے میں میر محمد حسین عطا خان تحسین، رجب علی بیگ سرور، فقیر محمد گویا، مولانا غلام امام شہید، خواجہ غلام غوث بے خبر اور عبد الغفور شہباز کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جا سکتا تھا کہ ان کی نثری تحریروں میں انشائی عناصر موجود ہیں ۔ میری رائے میں تخلیقی نثر لکھنے والے ہر ادیب کے باطن میں ایک انشائیہ پرداز اپنے پورے وجود کے ساتھ موجود ہو تا ہے جس کی نمود لاشعوری طور پر ہو تی رہتی ہے اور وہ اپنے الہامی جملوں سے اپنی تحریروں کو لطافت آشنا کرتا رہتا ہے چنانچہ انشائی نقوش ہر نثری صنف میں تلاش کئے جا سکتے ہیں اور مشکور حسین یاد شاید اس دلیل پر ہی انشائیہ کو ام الاصناف کہتے ہیں ۔

محمد اسد اللہ نے لکھا ہے کہ ’بیسویں صدی کی انشائیہ نگاری شعور اور فن کی گہرائیوں کو سمیٹے ہوئے نظر آ تی ہے۔ ‘اور ’گزشتہ صدی کی بہ نسبت اس دور میں انشا پردازوں کا ایک قابلِ لحاظ طبقہ اپنی فطری صلاحیتوں کو اس صنف میں بروئے کار لایا جس کے نتیجے میں متنوع اسالیب اور انشائی تحریروں کے نت نئے نمونے اردو نثر کے دامن کی زینت بنے۔ ‘اس باب میں انہوں نے میر ناصر علی، نیاز فتح پوری، خلیقی دہلوی، مہدی افادی سجاد انصاری، فلک پیما، حسن نظامی،

فرحت اللہ بیگ اور رشید صدیقی جیسے بلند پایہ انشا پردازوں کی نثر کی انفرادی رعنائیوں اور موضوعات کے تنوع کو اجاگر کیا ہے۔ اور ان کی عطا کا اعتراف کیا ہے۔

عصری انشائیہ کا باب ڈاکٹر وزیر آغا سے شروع ہوتا ہے جن کی امتیازی حیثیت کو محمد اسد اللہ نے ان الفاظ میں خراجِ تحسین ادا کیا ہے :

’ وزیر آغا کی شخصیت میں مضمر تخلیقی توانائی اور تنقیدی صلابت نے اردو انشائیہ کو ایک منفرد صنفِ ادب کی حیثیت سے مستحکم بنیادیں فراہم کر دیں ۔ وزیر آغا نے نہ صرف مغربی اصولِ انشائیہ نگاری جو اردو میں متعارف کرایا بلکہ تخلیقی سطح پر بھی اس صنف میں قدرِ اول کے انشائیے تحریر کئے۔ ‘

انشائیہ کی تحریک کے سلسلے میں انہوں نے وزیر آغا کی خدمات کے تذکرہ میں لکھا ہے:

’ وزیر آغا کی ادارت میں شائع ہونے والا ادبی جریدہ’ اوراق، لاہور‘ انشائیہ کے فروغ میں پیش پیش رہا۔ اسرسالے کے توسط سے نئے انشائیہ نگار اردو ادب میں متعارف ہوئے اور اردو انشائیہ نگاروں کی ایک نئی نسل وجود میں آ ئی۔ وزیر آغا اس نسل کے سالارِ کارواں خیال کئے جاتے ہیں۔ ‘

مزید بر آں محمد اسد اللہ نے وزیر آغا کے چند انشائیوں کا تجزیہ بھی کیا ہے اور یہ نتیجہ نکالا ہے :

وزیر آغا انشائیہ کے موضوع کو تہذیب و تمدن کے وسیع پس منظر میں رکھ کر ایک وسیع تناظر میں پیش کر تے ہیں۔ ان کے ہاں اظہار، ذات بالواسطہ طور پر اسی حوالے سے ہو تا ہے۔ ان کے شعور کی جڑیں جس گہرائی تک اپنے تہذیبی ورثہ میں پیوست ہیں ان کی نمی سے انشائی شگوفے برگ و بار لاتے ہیں ۔ ان کے انشائیوں میں اظہارِ دانش اور شخصی تاثرات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ۔ ۔ اشیاء اور مظاہر کے علاوہ انشائیہ نگار کی اپنی ذات نت نئے انکشافات کا ذریعہ بنتی ہے۔ ‘

اس باب میں محترم مصنف نے غلام جیلانی اصغر، جمیل آذر، مشتاق قمر، سلیم آغا قزلباش، اکبر حمیدی، جان کاشمیری، کامل القادری، ناصر عباس نیر، بشیر سیفی اور انور سدید وغیرہ کی انشائیہ نگاری پر تنقیدی و تجزیاتی نظر ڈالی ہے اور ہر ایک کے بارے میں اپنا فنی فیصلہ بھی صادر کیا ہے۔ چند انشائیہ نگاروں کے بارے میں ان کے فیصلے ملاحظہ کیجئے جو ان کے مطالعہ کا حاصل ہے۔

’ شہزاد احمد کا انشائیہ ایک ایسا ریسیور ہے جو کائنات کی قلب کی گہرائیوں سے ابھرتی ہو ئی آوازیں وصول کر کے نشر کر رہا ہے۔ ‘

’ سلیم آغا قزلباش کے انشائیوں میں اشیاء کے حوالے سے رویوں تک پہنچنے کا رجحان غالب ہے اس طرح وہ اشیاء کے بطن میں پوشیدہ ایک غیر مرئی کائنات کی دریافت کا عمل انجام دیتے ہیں ۔ ‘

محمد اسد اللہ نے اس کتاب میں انشائیہ کے فن پر سیر حاصل بحث کی ہے اور مخالفین کی اڑائی ہوئی گرد کو شائستہ تہذیبی انداز میں صاف کر دیا ہے۔ نظریاتی اعتبار سے یہ اس موضوع پر ایک جامع کتاب ہے جو بھارتی یونی ور سٹیوں میں نصاب میں شامل ہونی چاہئے، تاہم عملی تنقید و تحقیق کے ضمن میں اس کا زمانی مدار ۱۹۹۰ تک کے۳۲ انشائیہ نگاروں تک محدود ہے جب کہ دسمبر۲۰۱۵ کے آخری دنوں میں اردو انشائیہ کی روایت مشرق و مغرب کے تناظر میں یہ سطور لکھی جا رہی تو اردو انشائیہ اپنا مزید تخلیقی سفرطے کر چکا ہے اور متعدد تازہ فکر اور خوش خیال انشائیہ نگار اس لطیف صنفِ ادب کے افق پر نمایاں ہو چکے ہیں ۔ توقع کرنی چاہئے کہ محمد اسد اللہ نئے ایڈیشن میں اس کتاب کے پورے زمانی تناظر پر نظر ڈالیں گئے۔

بھارت کے ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی نے اس کتاب کا خیال انگیز مقدمہ لکھا ہے اور سرِ ورق کی پشت پر ڈاکٹر شرف الدین ساحل کی رائے درج ہے کہ محمد اسد اللہ کی تحقیق کا معیار بلند ہے اور اسے حلقہ ادب میں مقبولیت ملے گی۔ میری ناچیز رائے میں انشائیہ کی تحقیق و تنقید پر انشائی اسلوب میں یہ کتاب بھارت میں انشائیہ کی تحریک کو فروغ دینے میں معاونت کرے گی۔ اس کا مطالعہ اس صنفِ لطیف کے بارے میں افقِ خیال کو روشن کر تا ہے۔

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے