17 جنوری 2010 ۔۔۔ ربیعہ سلیم مرزا

کتبے پہ لکھی اس تاریخ کا میری زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس دن میں اچھی بھلی گھر کے کام نبٹا کر پچھلی سردیوں کی قمیض کے پلیٹ ادھیڑ رہی تھی۔

وزن بڑھتا ہے تو جگاڑ سے گذارا چلتا ہے. درد اچانک ہی بائیں بازو سے اٹھ کر دل تک چلا آیا۔ میں بیٹھی بیٹھی صوفے پہ لیٹ گئی۔

کہا ناں!

اس دن کا میری زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس دن میں چپ چاپ مر گئی۔

مرنے کے بعد اگر آج میں لکھ رہی ہوں تو یہ معجزہ صرف میرے اعجاز کی وجہ سے ہے۔

میرا اعجاز جو اس وقت میری قبر کی پائنتی بیٹھا ہوا اداس ہے۔

اعجاز ہر جمعے قبرستان آتے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح صرف ایک پھول لے کر۔

یہ ایک پھول وہ اس دن بھی لائے تھے۔ جب مجھے پہلی بار امید ہوئی اور تب بھی جب میرا پہلا مس کیرج ہوا تھا۔

پھر دس سال تک امید کے پھول آتے مرجھاتے رہے۔ زندگی دو سے تین نہ ہوئی۔

میرے بعد اعجاز اکیلے ہیں، کیسے جی رہے ہوں گے.؟

ایک دن کی اجازت لی ہے کہ یہ دیکھ سکوں۔

میں ان کے پیچھے پیچھے چلتی موٹر سائکل تک آئی۔ ان کے اسٹارٹ کرنے سے پہلے پیچھے بیٹھ گئی.

بے وزن ہونا بھی کیسا حسین احساس ہے۔ ورنہ اعجاز نے کہنا تھا

’’بازار جانا ہے، ٹانگیں ایک طرف سمیٹ کر بیٹھو. شہر جانا ہے۔۔۔ دونوں طرف کر کے بیٹھو۔‘‘

ہم قبرستان سے نکلے تو راستے وہی تھے۔ جہاں سے میں بارہا گذری تھی، کچھ بھی تو نہیں بدلا، حلوہ پوری والا اب بھی ویسے ہی کھسروں جیسی تالیاں بجا کر گاہک گھیر رہا ہے۔

مجھے پوری حلوے کے ساتھ اچھی لگتی تھی۔ چنے کے سالن کے ساتھ روٹی لگنے لگتی۔

اعجاز گلی کا موڑ مڑے تو چاچے شفیع کے کھوئے والے نان چنے کی دکان تھی۔

دو کوفتے ایک انڈا، اور دو نان۔۔

میں نے بلڈ پریشر سے ہی مرنا تھا۔

ہائیں۔

’’اعجاز گھنٹی کیوں بجا رہے ہیں۔ گھر میں کون ہے؟‘‘

دروازہ کھلا تو آنٹی گوگی نظر آئیں۔

انہیں دیکھ کر سانس میں سانس آئی۔ ورنہ دل کی مریض ہوں۔ ہارٹ اٹیک پکا تھا۔

شاید اعجاز نے انہیں بزرگ سمجھ کر بلا لیا ہو۔؟

آنٹی گوگی خاندان کی واحد بیوہ اور مطلقہ ہیں۔ ان کو ہمیشہ لاہور آ کر میرے ہاں رہنے کا شوق ہے۔ مگر میں ان کی بلی جیسی عادت سے تنگ ہوں۔ جب بھی آئیں سارا دن سارے محلے میں لور لور پھرتی ہیں۔

بس ان کا ایک فائدہ ہے ان کیلئے کچھ خاص بلکہ کچھ بھی نہیں پکانا پڑتا۔

جہاں وقت ہوا۔ وہیں اسی گھر سے کھا لیا۔

بلکہ اگلے وقت کا ساتھ بھی لے آتی ہیں۔

’’دیکھ رجو، امرتسریوں کے گھر سے کوفتے لائی ہوں۔ کیا ذائقہ ہے ان کی بہو کے ہاتھ میں ‘‘

مجھے رضیہ کی بجائے رجو کہنے سے چڑ تھی. مگر مجال ہے جو آنٹی گوگی کے کان پہ جوں بھی رینگ جائے۔ باریک کنگھی کرتی ہیں۔۔۔

آنٹی ڈائن کی طرح چالیس گھر چھوڑ کر بھی کسی چڑیل کو سہیلی بنا لیتی ہیں .جن کا آنا جانا لگا رہتا۔ جتنے دن وہ رہتیں میں نمانی رضیہ ان غنڈی آنٹیوں میں پھنس کر رہ جاتی۔

میری اور آنٹی گوگی میں ایک بات مشترک تھی کہ گھر ہم دونوں کے پاس نہیں تھا۔ ہر چھٹے آٹھویں مہینے بعد انہیں بہو نکال باہر کرتیں اور ہمیں ہر مالک مکان۔

اعجاز نوکری پیشہ تھے۔۔۔ ان کی معاشی مشکلوں کو میں نہیں تو اور کون سمجھے گی۔۔۔ ویسے بھی ہر وہ عورت جسے اپنے شوہر سے سچی محبت ہے وہ اس کے دئیے گھر سے بھی محبت کرتی ہے، چاہے کرائے کا ہی کیوں نہ ہو۔۔۔

سو میں بھی سر جھکائے سامان اٹھائے گھر بدلتی رہی۔

جیسے ہی آنٹی گوگی کو خبر ہوتی اگلے ہی دن آ جاتیں۔۔۔ میرے ساتھ مل کر صفائی ستھرائی کرواتیں سامان ٹھکانے پہ رکھواتیں۔

ہم دونوں کی اچھی نبھ رہی تھی۔

ویسے بھی گود سے گور تک ہم عورتوں کی ساری زندگی آسروں پہ ہی تو گزرتی ہے۔

اعجاز کے پیچھے گھر میں داخل ہوئی تو جیسے میری چاپ ہر جگہ بکھری پڑی تھی جسے آنٹی گوگی کا چپل گھسیٹ کر چلنا بھی مانند نہیں کر پایا تھا۔ ہر سمت پھیلی تنہائی میں میری اپنی ہی خوشبو نے آگے بڑھ کے مجھے گلے لگا لیا۔

میں سیدھی اپنے کمرے میں آ گئی۔ میری آخری بار بستر جھاڑنے کی سرسراہٹ ابھی تک ہوا میں تھی۔۔ دروازے کے کھلنے اور پھر بند ہونے کا احساس گرہستی کے پرانے خوابوں پہ دستک دے رہا تھا۔

میں نے پلنگ پہ بیٹھ کر بیتے ہوئے لمحوں کی سب آہٹیں محسوس کرنے کی کوشش کی۔ بستر کی سلوٹوں کو چھوا تو نظر بھیگ کر لوٹ آئی۔

میرے جانے کے بعد گھر میں گرد آنے تھی۔

کسی کو تو آنا تھا۔

آنٹی گوگی سے تو اکیلے اتنا کام نہیں ہونا تھا سو ہر طرف بے وجہ سی بے ترتیبی تھی۔۔

لوگ کہتے ہیں پہلے انسان گھر سے جاتا ہے پھر رفتہ رفتہ اس کا سامان جاتا ہے۔۔ شکر ہے میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

میرے اعجاز کو لال رنگ بہت پسند ہے۔ میرا نیا نکور لال رنگ کا جوڑا ابھی بھی کھونٹی پہ ٹنگا ہے۔ گھوم کے دیکھا تو بیڈ کی دوسری سائیڈ پہ میری چپل بھی ویسی ہی پڑی ہے جیسے میں نے ابھی اتاری ہو۔۔۔ ٹیبل پہ میری بلڈ پریشر والی دوائی بھی موجود تھی۔

میرا فون؟

سائیڈ ٹیبل پہ پڑا تھا۔

مجھے اعجاز پہ بے تحاشا پیار آ رہا ہے۔ بیڈ کی ساتھ کپڑوں کی الماری صوفہ اور اس سے ذرا ہٹ کے میری سنگھار میز جس پہ ابھی بھی لپ سٹک کے ہلکے گہرے ریڈ شیڈ پڑے تھے۔

ریڈ لپ سٹک اعجاز کو بہت پسند تھی۔۔۔ جسے ہر رات لگانا میری عادت بن چکی تھی۔۔۔ اور میرا لکڑی کا کنگھا۔۔۔ وہ بھی تو یہیں تھا۔؟

میں نے کنگھے کی تلاش میں نظریں دوڑائیں تو اعجاز کے تکیے کے نیچے کنگھے کی چھب دکھائی دی۔۔۔ میرے کچھ بال ابھی بھی اس میں اٹکے ہوئے تھے۔۔۔ بے اختیار جی۔ چاہا چیخ چیخ کے روؤں۔

میرے لمبے بال اور ان کی خوشبو اعجاز کو کس قدر پسند تھی۔۔۔ ہر رات بال کھول کے سونا میرا معمول تھا۔۔۔ میرے۔ بالوں کی خوشبو اعجاز کو بہت بھاتی تھی۔۔۔

میرے پیچھے پیچھے کمرے میں داخل ہو کر اعجاز بیڈ کی پائنتی پہ دونوں بازو ٹکا کر بیٹھ گئے جیسے اس دو کوس کے سفر نے انہیں بہت تھکا دیا ہو۔۔۔ لُٹے ہوئے مسافر کی طرح سر جھکا ہوا تھا اور ٹھوڑی سینے کو چھو رہی تھی۔۔۔ بڑھی ہوئی شیو دنوں کا پتہ دے رہی تھی۔ قمیض کے کالر اور کف کے کناروں پہ میل۔ جمنے لگی ہے جانے کتنے دنوں سے نہائے بھی نہیں۔

میں نے گھوم کر باتھ روم کی طرف دیکھا میرے استری کئے ہوئے کپڑوں کا انبار۔۔۔ دھلنے کا منتظر دکھائی دیا۔۔

جانے کن سوچوں میں الجھے ہوئے تھے۔ کبھی بے دھیانی میں سر اٹھا کر کچھ کہنے لگتے۔۔

لفظ ہونٹوں پر آ کر پلٹ جاتے۔۔۔

اپنے اعجاز کو یوں تنہا دیکھ کر میرا کلیجہ منہ کو آنے لگا۔۔۔ جی چاہا انہیں گلے سے لگا کر تسلی دوں کہ آپ کی رضیہ کہیں نہیں گئی۔

یہیں ہے۔

پر وہی بے وزن ہونے کا احساس۔۔

برتنوں کی کھنک پہ مڑ کے دیکھا تو آنٹی گوگی کچن میں چائے کا پانی چڑھا رہی تھیں۔

میں کچن میں آ گئی۔

آنٹی نے ایک دو ڈبے کھنگال کر چائے میں دو تین الائچیاں بھی ڈال دیں۔۔ یہیں پہ بس نہیں کیا بلکہ ایک بڑا چمچ بھر کر پتی بھی جھونک دی۔

’’اللہ کی بندی ٹرک ڈرائیوروں والی چائے بنا رہی ہو یا کاڑھا‘‘؟

اعجاز تو پہلے ہی سے میری طرح بی پی کے مریض ہیں۔۔۔ اور خالی پیٹ چائے تو سیدھی کلیجے میں لگتی ہے۔۔۔ میں تو اپنے اعجاز کو کبھی خالی پیٹ چائے نہ دوں۔

میرے ہاتھ کے بل دار پراٹھے اعجاز کو بہت پسند ہیں۔۔۔

میں آنٹی کو ٹوکنے ہی والی تھی کہ اعجاز کو الائچی والی چائے پسند نہیں اور وہ صرف میرے ہاتھ کی بنی چائے پیتے ہیں۔

کہ اعجاز کی آواز سنائی دی۔۔۔ وہ فون پہ کسی سے بات کر رہے تھے۔

’’کل رضیہ کا چالیسواں ہے۔ میری آنٹی صرف تمہارے لئے رکی ہیں۔ میں کل دن رکھنے کیلئے آنٹی کو تمہارے گھر بھیجوں گا۔ اب تمہارے بناء جیا نہیں جاتا۔‘‘

یہ سب سننے کے بعد۔

میں بھی واپس اپنے گھر لوٹ آئی ہوں جس کے باہر میرے اپنے نام کی تحتی لگی ہوئی ہے۔

رضیہ اعجاز

تاریخ وفات 17 جنوری غلط ہے۔ میں تو چھبیس فروری کو مری تھی۔

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے