مجھے کہنا ہے کچھ …….

نئے سال کے نئے شمارے کے ساتھ حاضر ہوں۔ مگر کس دل سے نئے سال کی آمد پر خوشیاں منائی جائیں جب کہ غاصب اسرائیل کی جانب سے مسلسل معصوم فلسطینیوں پر ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں۔ پچھلے شمارے کا یکم اکتوبر کو اجراء ہونے کے بعد اگلے ہی ہفتے اسرائیل کے حملے شروع ہو گئے، نام نہاد طوفان اقصیٰ کے خلاف۔ جو مسلسل جاری ہیں۔ خدا کرے کہ نئے سال میں اس پر روک لگ جائے۔ خواہش تو یہی ہے کہ فلسطینیوں کو اپنی زمین واپس مل جائے، لیکن کم از کم یہ دعا تو فوری قبولیت پا سکتی ہے کہ ان پر مظالم کا خاتمہ ہو جائے۔

بہر حال زیرِ نظر شمارے میں ایک خصوصی گوشہ فلسطین کے موضوع پر شامل کیا جا رہا ہے۔

ایک بات یہ بھی کہنی ضروری ہے کہ اس بار کچھ تخلیقات ایسی ہیں جو ایک سے زائد زمروں میں شامل کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً محمود درویش ، خالد جمعہ اور رفعت العریر کی عربی نظمیں، جن کے ترجمے گوشۂ فلسطین میں شامل ہیں۔ اور اس وجہ سے ’مانگے کا اجالا‘ زمرہ الگ سے شامل نہیں ہے۔  اسی طرح ’گاہے گاہے باز خواں ‘کے تحت اقبال کی فارسی نظم  ؔحضور رسالتؐ‘ کا ترجمہ بھی اس زمرے کے علاوہ، ’مانگے کا اجالا‘ کے تحت بھی شامل کیا جا سکتا ہے اور ’عقیدت‘ کے تحت بھی۔

مشہور افسانہ نگار سلام بن رزاق کی زیر نگرانی سوشل میڈیا پلیٹ فارم واٹس ایپ پر بزم افسانہ نامی گروپ کافی فعال ہے۔ اس گروپ میں پچھلے دنوں ہمارے دوست سید محمد اشرف کا مشہور افسانہ ’بادِ صبا کا انتظار‘، جو اسی نام کے مجموعے میں شامل ہے، پیش کیا گیا اور اس پر گفتگو کی گئی۔ یہ افسانہ اور اس پر گفتگو اس شمارے میں شامل کی جا رہی ہے۔

کچھ عرصے سے یاد رفتگاں سلسلہ موقوف تھا، جو از حد مسرت کی بات تھی۔ لیکن اس سہ ماہی میں یکے بعد دیگرے تین ستون ڈھہ گئے۔ اسلامیات کے نبض شناس، ڈرامہ نگار اور شاعر انور معظم ارض دکن میں ہی انتقال کر گئے۔ وہ عرصے سے ادبی طور سے خاموش تھے، اور ان کا تعارف محض مشہور افسانہ نگار جیلانی بانو کے شوہر کی حیثیت سے ہی ہونے لگا تھا۔ بہر حال سَمت کے قارئین کو ان کا مکمل تعارف دینے کی ضرورت تھی، اس لئے ان پر گوشہ بھی شامل اشاعت ہے۔ اس کے علاوہ افسانہ نگار انور قمر اور اردو اور ادب کے فعال جہد کار امام اعظم بھی ہمیں داغِ مفارقت دے گئے۔ ان دونوں پر گوشے بھی شامل اشاعت ہیں۔

اصغر وجاہت کے ہندی ناولٹ ’من ماٹی‘ کا اردو روپ ’خاکِ دل‘ کے عنوان سے پچھلے شمارے میں شامل کیا گیا تھا۔ اس شمارہ ۶۱ میں اس ناولٹ کی دوسری اور آخری قسط پیش کی جا رہی ہے۔

امید ہے کہ یہ شمارہ بھی آپ کو پسند آئے گا۔

اپنی آراء سے نوازتے رہیں اور تخلیقات سے بھی۔ بطور خاص نظمیں اور افسانے، کہ معیاری نظموں اور افسانوں کا فقدان ہے۔

ا۔ع

٭٭٭

پس تحریر:

یہ شمارہ مکمل ترتیب پا چکا تھا کہ ایک عزیز دوست کے انتقال کی خبر ملی، اردو ویب کی معروف شخصیت، ایک نابغۃ روزگار ہستی، اردو محفل کے بنیاد گذار اور ہر دلعزیز رکن محمد وارث اسدؔ اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان شاء اللہ ان کے تعارف کے ساتھ مختصر گوشہ اگلے شمارے میں شائع کیا جائے گا۔ یہ سطور بھی صرف ویب پر پوسٹ کی جا رہی ہیں، یہ اضافہ ڈاؤن لوڈ کئے جانے والے جریدے کی فائلوں میں نہیں ملے گا کہ اب ان کی باز ترمیم اور باز تشکیل کا یارا نہیں۔

رہے نام اللہ کا.

ا۔ ع۔

One thought on “مجھے کہنا ہے کچھ …….

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے