اگر میں مر جاؤں ۔۔۔ ڈاکٹر رفعت العریر / ترجمہ نجمہ ثاقب

غزہ یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر ڈاکٹر رفعت العریر  نے اپنی شہادت سے پہلے ٹویٹر پہ اپنی آخری نظم جو شیئر کی تھی، اس کا اردو ترجمہ ۔۔۔۔۔۔

 

اور اگر میں مر جاؤں

تم میری خاطر زندہ رہنا

مجھ پر جو کچھ بیت چکا وہ

دنیا کے لوگوں سے کہنا

میری چھوڑی چیزیں لے جا

ان کے ہاتھوں بیچ کے آنا

اور اس کے بدلے میں لینا

کپڑے کی اک چھوٹی دھجی

اور کچھ ڈوریں

دودھ کی رنگت جیسی دھجی

ڈوروں سے دمدار بنانا

نیل گگن کی سمت اڑانا

تاکہ دور کہیں غزہ میں

رہنے والا کوئی بچہ

روشن آنکھوں کی کھڑکی سے

گردوں کی جانب تکتا ہو

اپنے پیارے باپ کا رستہ

باپ جو اس کو چھوڑ گیا تھا

آگ اور خون کی برساتوں میں

جاتے دم کا آخری بوسہ

تک جو اس کو دے نہ سکا تھا

سوختہ تن کا ماس اور ہڈی

ساتھ وہ اپنے لے نہ سکا تھا

آنکھ کا روشن دیا جلائے

جب یہ بچہ

تیری ڈور، پتنگ، یہ دھجی

دور سے اڑتے دیکھے گا

اک لمحے کو یوں سمجھے گا

شاید کوئی پاک فرشتہ

اس کی ’جنت‘ کو لوٹانے

دنیا کی جانب آتا ہے

دیکھ مرے ہمدم، ہر صورت

یہ امید بچائے رکھنا

اور اگر میں مر بھی جاؤں

اس کی ننھی آنکھوں کا

یہ روشن دیا جلائے رکھنا

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے