قیدی ۔۔۔ انور قمر

1

قیدیوں کے پیروں میں بیڑیاں ہیں اور ہاتھوں میں کدالیں۔ ایک لمحہ میں کدالیں فضا میں بلند ہوتی ہیں، دوسرے میں زمین کے پتھریلے سینے میں اتر جاتی ہیں۔ قطعی میکانیکی طور پر یہ کام ہو رہا ہے۔ گجر بجتے ہی ایک وین ہمارے مکان سے کچھ فاصلے پر آ کر رکتی ہے۔ جمعدار دروازہ کھولتا ہے۔ یکے بعد دیگرے خانے دار موٹے کپڑے کی قمیص، نیکر اور ٹوپی پہنے قیدی وین سے اترتے ہیں۔ بیڑیاں بجنا شروع ہو جاتی ہیں اور اس وقت تک بجتی رہتی ہیں کہ جب تک وہ تمام قیدی ایک قطار میں چلتے ہوئے اپنے اپنے کام کرنے کی جگہ پر جا کر نہیں ٹھہر جاتے۔

میں دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لیے اور ڈبل روٹی منہ میں دبائے انہیں دیکھتا رہتا ہوں۔ نانا نے بتایا ہے کہ سڑک کے کنارے لیمپ پوسٹوں کے کیبل بچھائے جائیں گے، اس لیے نالا کھودا جا رہا ہے۔ میں خوش ہوں۔ سڑک پر روشنی ہو گی تو میں رات میں بھی سائیکل چلا سکوں گا۔ اب تو بتی جلتے ہی گھر واپس ہونا پڑتا ہے۔

امی کہتی ہیں، ’’شریف لوگ اندھیرا ہونے سے پہلے گھر آ جاتے ہیں۔‘‘ لیکن میرے نانا رات گئے تک اسپورٹس کلب میں بیٹھے تاش کھیلا کرتے ہیں۔ نانی مجھے اکثر انہیں بلانے بھیجا کرتی ہیں۔ اسپیڈ، فایو، ڈائمنڈ، سکس۔ کلب ایٹ، نو ٹرمپ کی آوازیں میرے کانوں میں پڑ رہی ہیں اور میں اپنے نانا کی پشت پر کرسی کا سرا پکڑے کھڑا ہوں اور بار بار ان کی پیٹھ میں انگلی چبھو کر انہیں گھر چلنے کو کہتا ہوں۔

’’شیخ صاحب۔ آپ کا نواسا آپ کو بلانے آیا ہے شاید!‘‘ یہ کہہ کر ایک بوڑھا چٹکی میں دبی ناس ناک میں سڑکتا ہے۔

’’ہوں۔۔۔‘‘ نانا اس کی طرف دیکھے بغیر پتا پھینکتے ہیں۔

میں اپنے نانا نانی کا لاڈلا اور اپنے ماں باپ کا ٹھکرایا ہوا ہوں۔

اس لیے وہ جمعدار جب بھی کسی قیدی کو ڈانٹتا یا سونٹے سے مارتا ہے تو وہ مجھے اپنے بے رحم باپ ہی کا ایک روپ نظر آتا ہے اور میں اپنے آپ کو ستم رسیدہ قیدی سمجھنے لگتا ہوں۔

میں پتنگ اڑا رہا ہوں۔ پتنگ آسمان میں تارا بن گیا ہے۔ پیلا رنگ نیلے آسمان میں ڈوب ڈوب جاتا ہے۔ میں چرخی ہاتھ میں لیے ڈور دیے جا رہا ہوں اور پتنگ چکراتا ہوا اونچا اور اونچا اٹھا چلا جا رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ پتنگ اتنا بڑھ چکا ہے کہ اگر میں اسے غوطہ دوں تو وہ اس دیوار کے پرلی طرف بیٹھ سکتا ہے۔ دیوار ہماری کالونی کا احاطہ کرتی ہے۔ بہت دور تک چلی گئی ہے یہ دیوار۔ سائیکل پر اس کے متوازی چلتے چلتے مجھے آدھ گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ اور اونچی بھی بہت ہے یہ! جب تک میں اپنے مکان کی کھپریل کی چھت پر نہ چڑھوں، مجھے اس کے دوسری جانب کا کچھ بھی نظر نہیں آتا لیکن اب مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ دیوار کی اس طرف کیا ہے۔ باغ ہیں۔ کھیت ہیں۔ کنویں ہیں۔ کنوؤں پر رہٹ چلتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے مکانات ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے کہ میری READER میں بنے ہیں۔ تکونے، رنگین۔ نازک سے۔

’’دیکھو بالے کی پتنگ کتنی اونچی اڑ رہی ہے۔‘‘

میں اکڑ کر دو ہاتھ دھاگا کھینچتا ہوں اور پتنگ کا رخ موڑتا ہوں۔

’’کہاں یار؟‘‘ ایک قیدی ہتھیلی سے آنکھ پر سایہ کر کے پوچھتا ہے۔

’’وہ۔۔۔ وہ رہی۔۔۔ اس ببول کے ٹھیک اوپر۔۔۔‘‘

’’ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ نظر آ گئی۔۔۔ نظر آ گئی۔۔۔‘‘

’’واہ میاں خوب پتنگ اڑا رہے ہو۔ استاد ہو گئے ہو۔‘‘

میں پھول کر کپا ہو جاتا ہوں۔

’’انور۔۔۔‘‘ ایک گرج سنائی دیتی ہے۔

’’جی۔۔۔ جی آیا۔۔۔‘‘

’’کھانا نکل گیا ہے۔ چلو جلدی۔‘‘

ڈور ہاتھوں میں الجھنا شرع ہو جاتی ہے۔

’’میاں پتنگ آہستہ آہستہ اتار دو۔ اور ڈور یکجا نہ ہونے دو۔‘‘

’’جمعدار صاحب اس بچے کی مدد کریں ہم۔‘‘ وہ قیدی ملتجیانہ نظروں سے جمعدار کو دیکھتا ہے۔

جمعدار آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے کام جاری رکھنے کا حکم دیتا ہے۔

’’انور!‘‘ میرا باپ پھر چیختا ہے۔

شاید اسے چیخنے کا مرض ہے۔ اس کی کمرے سے اس کے دھاڑنے کی اور چیخنے چلانے کی آواز آتی ہی رہتی ہے۔ کبھی امی پر برستا ہے تو کبھی خانساماں پر۔ کبھی صفائی والے پر غراتا ہے تو کبھی دھوبی پر۔ ہر کوئی اس سے سہما سہما سا رہتا ہے۔ وہ مہینے دو مہینے میں بمبئی جاتا ہے۔ بمبئی جانے سے دو ایک روز پہلے وہ سب سے گھلا ملا رہتا ہے۔ یہی وہ چھوٹا سا عرصہ ہوتا ہے کہ جس کے دوران میں وہ مجھے اپنے قریب بلاتا ہے۔ پیار کرتا ہے۔ ان دو دنوں میں میری امی بھی بہت خوش رہتی ہیں۔ ہمارے گھر اُن دنوں اچھے اچھے کھانے پکتے ہیں۔

پھر وہ چلا جاتا ہے۔

اور مجھے جیسے امتحان بعد کی چھٹیاں مل جاتی ہیں۔ لیکن یہ چھٹیاں جلد ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ وہ ہفتہ دس دن میں واپس ہو جاتا ہے۔ دُکھی، رنجیدہ، تھکا تھکا سا۔ جیسے امتحان میں فیل ہو گیا ہو۔

دوسرے ہی دن سے اس کے کمرے سے دھاڑنے، چیخنے چلانے اور غرانے کی آواز سنائی دینے لگتی ہے اور پاس پڑوس کے رہنے والے امی سے کہتے ہیں، ’’انور کے ابا شاید واپس آ گئے ہیں۔‘‘

میرا ہاتھ تیزی سے ڈور پر چل رہا ہے۔ پتنگ لمحہ لمحہ اترتا چلا آ رہا ہے۔ اچانک ایک گرم سلاخ میری پیٹھ پر پڑتی ہے۔ میں تلملا کر پیٹھ ملنے لگتا ہوں۔ پتنگ بھیگا بھیگا سا نظر آتا ہے۔ چرخی ہاتھ سے چھین کر پٹخ دی جاتی ہے۔ پھر کسی کا بھاری پیر اس پر پڑتا ہے۔ کسی کے پنجے پتنگ کو پرزے پرزے کر دیتے ہیں۔ دو آنکھیں چشمے کے پیچھے سے آگ اُگل رہی ہیں۔ قمچی سانپ بن کر لہراتی ہے اور میرے گلے اور سینے پر آپڑتی ہے۔ اچانک ان آگ اگلنے والی آنکھوں میں خوف کی پرچھائیں دیکھتا ہوں۔ اٹھا ہوا ہاتھ رک جاتا ہے۔ میری آبدیدہ آنکھیں دیکھتی ہیں کہ،

کدالیں فضا ہی میں بلند ہیں۔ وہ نیچے نہیں آتیں۔ وہ ایک دہشت ناک احتجاج بن گئی ہیں۔ کدالیں اٹھائے ہوئے قیدیوں کی نگاہوں سے چنگاریاں پھوٹ رہی ہیں۔ میرا باپ چور نظروں سے انہیں دیکھتا ہے۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتا ہوا گھر کی طرف چل پڑتا ہے۔ میں گھٹنوں میں سر دیے ہچکیاں لے رہا ہوں اور قمچی کا ہر وار میری پیٹھ چاک کر رہا ہے۔ نانی دوڑتی ہوئی آتی ہیں۔ ایک شور مچتا ہے۔ بحث ہوتی ہے۔ واسطے دیے جاتے ہیں۔ ’’بچہ مر جائے گا۔ خدا کے لیے بخش دو۔‘‘

میں دیوار سے ٹیک لگائے کچھ دیر بیٹھ پاتا ہوں۔ پھر وہیں ڈھیر ہو جاتا ہوں۔

شام کا دھندلکا پھیل رہا ہے۔ میں کھڑکی سے پرندوں کو اپنے مسکن کو واپس ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ میرا ہاتھ دھیرے دھیرے پیٹھ کے زخموں کو چھو رہا ہے۔ ان پر مرہم لگایا جا چکا ہے لیکن ٹیسیں اب بھی اُٹھ رہی ہیں۔

وقت گزرتا چلا جا رہا ہے۔ سارے میں تاریکی پھیل گئی ہے۔ جھینگر سیٹیاں بجا رہے ہیں۔ وہ کدالیں فضا میں معلق ہیں۔ ہزار ہا آنکھ سے چنگاریاں پھوٹ رہی ہیں۔ ایک بچے کو کوئی جابر گھسیٹتا ہوا لے جا رہا ہے۔

نانی دبے پاؤں کمرے میں آتی ہیں۔

اندھیرا۔ مکمل اندھیرا۔

’’انور۔۔۔ انور۔۔۔ بیٹا دودھ پی لے۔ اٹھ بیٹے۔۔۔ اٹھ۔‘‘

میرے پیٹ میں آگ لگی ہوئی ہے۔

نانی کا ہاتھ ٹٹول کر میں پیالہ اپنے ہاتھوں میں لے لیتا ہوں اور منہ سے لگا لیتا ہوں۔ گرم اور میٹھے دودھ کا ہر گھونٹ نانی کے ڈھارس بندھانے والے جملوں کی طرح مجھے آسودگی بخش رہا ہے۔

دوسرے روز گجر بجتے ہی وہ وین ہمارے مکان سے تھوڑے فاصلے پرآ کر رکتی ہے۔ زنجیریں کھنکتی ہیں۔ بیڑیاں بجتی ہیں۔ قیدی ایک قطار میں چلتے ہوئے اپنے اپنے کام کرنے کی جگہ پر جا کر ٹھہر جاتے ہیں۔

جمعدار حکم دیتا ہے، ’’کا۔ آ۔ آ۔ م شرو۔‘‘

تمام کدالیں ایک ساتھ ہوا میں لہراتی ہیں اور زمین کے پتھریلے سینے میں دھنس جاتی ہیں۔ یہ منظر دیکھتے دیکھتے میرے سینے میں درد کروٹیں لینے لگتا ہے۔ ایک چٹان کوئی شخص پوری قوت صرف کر کے کھائی میں لڑھکا دیتا ہے۔ مٹھیاں بھنچ جاتی ہیں۔ اعصاب تن جاتے ہیں۔

چاروں طرف گلال بکھرا نظر آتا ہے۔ میں سائیکل اٹھاتا ہوں اور گھر سے نکل پڑتا ہوں۔ کالونی کے مغرب میں ایک چوکی ہے۔ وہاں ایک چوکیدار ہمیشہ پہرہ دیا کرتا ہے۔ آج بھی وہ وہاں چاق چوبند کھڑا ہے۔ میں اس خاکی وردی پوش مجسمے کے قریب جاتا ہوں۔

’’کیوں بابا تم یہاں تک آ گئے؟‘‘

’’اوں۔۔۔ بس ایسے ہی۔۔۔ مجھے باہر جانا ہے۔۔۔‘‘

میں کھلی اور کشادہ سڑک کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔

’’نا۔ نا۔۔۔ جاؤ۔۔۔ واپس جاؤ۔۔۔ بچے سڑک پر نہیں جاتے۔۔۔ سڑک پر موٹریں چلتی ہیں۔۔۔ جاؤ۔۔۔‘‘

یہ کہتے کہتے وہ میری سائیکل کا رخ الٹا پھیر دیتا ہے اور دو قدم میرے ساتھ چلتا ہے۔ میں بے بسی سے اسے دیکھتا ہوں اور غصہ میں دوڑ کر سائیکل پر سوار ہو جاتا ہوں اور پھر زور زور سے گھنٹی بجانا شروع کر دیتا ہوں۔

پیر بڑی تیزی سے چلنے لگتے ہیں۔ پہیے دگنی رفتار سے گھومنے لگتے ہیں۔ اسی تیز رفتاری سے میں کالونی کے مشرقی سرے پر پہنچ جاتا ہوں۔ وہاں ایک پتھر کی بنی عمارت ہے، جس میں سے کھٹاکھٹ، کھٹاکھٹ کی آوازیں ابھرتی رہتی ہے۔ کہتے ہیں کہ کسی غیر کو اس کے اندر جانے کی اجازت نہیں۔ عمارت کا کوئی دروازہ نظر نہیں آتا۔ عمارت کی کھڑکیوں پر لوہے کی جالیاں لگی ہیں۔ اندر روشنی ہو رہی ہے۔ خاکی وردی والے بیس بیس قدم پر سنگین چڑھی رائفلیں لیے پہرہ دے رہے ہیں۔

میں ایک سپاہی کے قریب جاتا ہوں۔

’’میں اپنے نانا سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘

’’نانا سے؟‘‘

’’ہاں۔ وہ اس میں کام کرتے ہیں۔‘‘ میں انگلی سے عمارت کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔

’’کیا نام ہے؟‘‘

’’شیخ صاحب‘‘

’’ہوں۔ کس کھاتے میں کام کرتے ہیں؟‘‘

’’کھاتا؟‘‘ میں وہ لفظ دہراتا ہوں۔

’’ہاں ہاں۔ جیسے پرنٹنگ، پروف ریڈنگ، ڈائی میکنگ، فاؤنڈری، ٹریثرری، کیش آفس، مینٹیننس، بویلر پلانٹ۔۔۔‘‘

’’بویلر پلانٹ۔۔۔‘‘ یہ لفظ میرے ذہن سے چپک جاتا ہے۔

’’بویلر پلانٹ۔۔۔‘‘ میں بڑبڑاتا ہوں۔ بغیر کچھ کہے چپ چاپ سر جھکائے میں وہاں سے چل دیتا ہوں۔

کافی دور تک مجھے اس پر اسرار عمارت کے متوازی راستہ طے کرنا پڑتا ہے۔ عمارت کے اندر سے کھٹاکھٹ، کھٹاکھٹ کی بے ہنگم آواز مجھے بدستور سنائی دے رہی ہے۔

ایک مقام پر پہنچ کر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دیوار، وہ لمبی چوڑی دیوار، اس عمارت کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہے اور اب ایک ناقابل عبور منزل کی طرح میرے سامنے کھڑی ہے۔ میں چپ چاپ اسے تاکتا کھڑا رہتا ہوں۔

پھر واپس ہوتا ہوں۔ اب میرا رخ کسی اور سمت نہیں بلکہ گھر کی طرف ہے۔

سائیکل کے پہیے کی سست رفتاری گرم دوپہر میں بدل گئی ہے۔

یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟

اکثر مکانوں سے لوگ باہر نکل آئے ہیں اور دو دو چار چار کی ٹکڑیوں میں بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ نانی، امی، ابا، خانساماں سب مکان سے باہر کھڑے ہیں۔ میں ان کے قریب پہنچنے سے چند قدم پہلے ہی سائیکل سے اترپڑتا ہوں اور دبے پاؤں ان کے قریب جاتا ہوں۔

کوئی مجھ سے کچھ نہیں کہتا۔

ابا بھی مجھے نہیں ٹوکتے، نہ مجھے دیکھتے ہیں۔

میں آنکھ بند کر کے اطمینان کا سانس لیتا ہوں، پھر سائیکل باغیچہ میں کھڑی کر کے ان میں جا ملتا ہوں۔

’’کہیں نہیں جا سکتے۔۔۔ گھنٹے دو گھنٹے میں دھر لیے جائیں گے۔‘‘

میرے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میری نظریں کسی کو تلاش کرنے لگتی ہیں۔ کدالیں کھدی ہوئی زمین پر بکھری پڑی ہیں۔

’’ظالموں نے جمعدار کو گرا کر مارا ہے۔ سر پھٹ گیا ہے غریب کا۔‘‘

میں بظاہر بے تعلقی سے ہر ہر لفظ پر کان لگائے ہوں۔

’’اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ اب تک بے ہوش ہے۔‘‘

’’پتا نہیں کیسے سالوں نے اپنے پیروں کی بیڑیاں کاٹ لیں اور دیوار پھاند کر بھاگ گئے۔‘‘

’’دھر لیے جائیں گے سالے۔۔۔ دھر لیے جائیں گے۔‘‘

میرے باپ کا آخری جملہ مجھے بالکل بے معنی سا لگ رہا ہے۔

لیکن وہ جملہ

’’پیروں کی بیڑیاں توڑلیں اور دیوار پھاند کر بھاگ گئے۔‘‘

کانوں میں گونج رہا ہے۔

مجھے خیال آتا ہے کہ میں دونوں ہاتھ تتلی کی طرح لہراتا سائیکل چلا رہا ہوں۔

میرا پتنگ بہت بلندی پر اڑ رہا ہے، جس کی ڈور کسی کے ہاتھ میں نہیں بلکہ صرف میرے ہاتھ میں ہے۔ پتنگ اونچا اور اونچا اٹھتا چلا جا رہا ہے۔

’’انور!‘‘ جیسے کسی نے میرے دل میں دہکتی سلاخ گھسیڑ دی ہو۔

’’چلو گھر میں۔ یہاں کھڑے کھڑے کیا کر رہے ہو؟‘‘

کوئی خوں خوار نظروں سے مجھے گھورتا ہے۔

اور میری آنکھوں میں وہ منظر گھوم جاتا ہے۔

ہاتھ بلند ہیں۔ کدالیں ہوا میں اٹھی ہوئی ہیں۔ سبھوں کی آنکھوں سے نفرت کی چنگاریاں پھوٹ رہی ہیں۔

اور میں سوچتا ہوں

کہ مجھے فوراً کسی سے بیڑیاں کاٹنے کا ہنر سیکھ لینا چاہیے۔

٭٭٭

مأخذ:

 

چاندنی کے سپرد (Pg. 6)

مصنف: انور قمر

ناشر: فاطمہ قمر

سن اشاعت: 1978

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے