گوپی چند نارنگ اور غالب شناسی۔ ۔ ۔ پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ

 

 

پروفیسر گوپی چند نارنگ کی نئی خیال افروز کتاب ’غالب : معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات‘ جب چھپ کر آئی تو اہلِ فکر و نظر حیرت زدہ رہ گئے۔ حیرت کی بات یہ نہ تھی کہ غالب پر ایک اور کتاب کا اضافہ ہوا ہے، کیوں کہ غالب پر وقفے وقفے سے اچھی بری کتابیں تو شائع ہوتی ہی رہتی ہیں۔ جس چیز نے لوگوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا وہ یہ ہے کہ اس کتاب میں نارنگ صاحب نے کلامِ غالب کے بعض ایسے گوشوں کو منور کیا ہے جن کی جانب گذشتہ ڈیڑھ سو سال کے دوران میں کسی بڑے سے بڑے نقاد کی بھی توجہ مبذول نہیں ہوئی تھی۔ حالی تا حال اردو کے کسی ادیب و دانش ور یا نقاد نے یہ نہیں سوچا تھا کہ کلامِ غالب کا مطالعہ قدیم ہندوستانی افکار و تصورات کے حوالے سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ نارنگ صاحب کی غالب تنقید اردو کے دوسرے نقادوں کی غالب پر تنقید سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اِس میں ان قدیم سرچشموں سے استفادہ کیا گیا ہے جن کا تعلق ویدانتی فلسفے سے ہے اور جو بودھی فکر کا احاطہ کرتے ہیں۔ غالب کے لاشعور میں ان افکار و تصورات کا وجود یقیناً ایک چونکا دینے والی بات ہے، اور اس سے بھی زیادہ حیران کن بات ان افکارو تصورات کی روشنی میں غالب کے متن کی نئی تعبیر و تشریح ہے۔

پروفیسر گوپی چند نارنگ کا زرخیز ذہن ادب و تنقید سے متعلق ہمیشہ نئی نئی باتیں سوچتا رہا ہے، چنانچہ غالب کے سلسلے میں بھی انھوں نے نئے مطالعے اور نئی تعبیر کی ضرورت کو محسوس کیا۔ یوں بھی ان کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ غالب کے کلام کی تعبیریں عہد بہ عہد بدلتی رہی ہیں۔ حالی ہوں کہ عبدالرحمن بجنوری یا شیخ محمد اکرام، ان سب نے غالب کو اپنے اپنے طور پر پڑھا اور پرکھا ہے۔ اسی طرح کلاسیکی، رومانی اور ترقی پسند ادبی نقادوں، نیز جدیدیت کے علم برداروں نے بھی غالب کی اپنی اپنی تعبیریں وضع کیں۔ نارنگ صاحب کا یہ بھی خیال ہے کہ جدلیاتی فکر عہدِ حاضر کے ما بعدِ جدید مزاج کو راس آتی ہے۔ غالب کے جدلیاتی ڈسکورس کے بارے میں وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ ما بعدِ جدید ذہن سے خاص نسبت رکھتا ہے۔ غالب کی فکر اور مابعد جدید مزاج میں مماثلت کے بارے میں ان کا یہ کہنا ہے کہ غالب کی مجتہدانہ فکر ہر نوع کی کلیت پسندی، جبر، ادعائیت اور مقتدروں کے خلاف ہے، چنانچہ ما بعدِ جدید مزاج بھی مقتدروں، آمریت اور ادعائیت کے خلاف ہے۔ غالب کے بارے میں نارنگ صاحب کا یہ بھی خیال ہے کہ وہ نہ صرف مغل جمالیات میں "رچے بسے” ہیں، بلکہ اس ملک کے فلسفیانہ تہذیبی وجدان کی جیسی نمائندگی وہ کرتے ہیں اس کی دوسری نظیر نہیں ملتی۔ غالب کی شعریات کے متعلق نارنگ صاحب کا خیال ہے کہ یہ انحراف، آزادی اور اجتہاد کی شعریات ہے، نیز ان کی شاعری میں "نشاطِ زندگی” قدرِ اوّل کا درجہ رکھتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ گوپی چند نارنگ کی متذکرہ کتاب کلامِ غالب کے نئے مطالعے، نئی تعبیر اور باریک بیں قرأت کی وجہ سے غالب شناسی میں ایک سنگِ میل کا درجہ رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب اہلِ علم و نظر کی خصوصی توجہ کا سبب بنی۔ اس کتاب کے بارے میں نقادوں اور ادبی تجزیہ نگاروں نے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ متعدد ادبی رسائل کے مدیروں نے اداریے لکھے اور تبصرے شائع کیے۔ پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا میں اس پر گفتگو ہوئی نیز ادبی انجمنوں اور اداروں میں مذاکرے منعقد ہوئے، اور ادب کے عام قاری نے بھی نارنگ صاحب کی اس کاوش کو سراہا اور انھیں داد دی۔ ڈاکٹر دانش الہٰ آبادی جو اردو زبان و ادب کے شیدائی ہیں اور ادبی صحافت میں ایک ممتاز درجہ رکھتے ہیں لائقِ مبارک باد ہیں کہ انھوں نے اپنی ادارت میں شائع ہونے والے رسالے ماہنامہ ’سبقِ اردوٗ کا ضخیم خصوصی شمارہ "گوپی چند نارنگ اور غالب شناسی” کے نام سے شائع کیا جس میں انھوں نے ان تمام تحریروں کو یکجا کر دیا ہے جوپروفیسر گوپی چند نارنگ کی متذکرہ فکر انگیز کتاب کے حوالے سے معرضِ وجود میں آئی ہیں اور جن میں ان کی غالب شناسی پر اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔ یہ خصوصی شمارہ اسی نام سے 2014ء میں کتابی شکل میں شائع ہوا جس کے مرتب بھی دانش الہٰ آبادی ہی ہیں۔

زیرِ نظر کتاب موسوم بہ ’گوپی چند نارنگ اور غالب شناسی‘ 615 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ نہایت سلیقے اور کمالِ فن کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔ اس کی کمپوزنگ اور طباعت نہایت عمدہ اور معیاری ہے۔ کتاب کے متعدد اندرونی صفحات کی طباعت دبیزقسم کے گلیز پیپر پر کئی خوبصورت رنگوں میں کی گئی ہے جس سے اس کی صوری دلکشی اور دیدہ زیبی میں چار چاند لگ گئے ہیں۔ یہ کتاب رنگین تصاویر سے بھی مزین ہے جن میں نارنگ صاحب کے علاوہ بعض سر بر آور دہ شخصیات کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ بلا شبہ اس کتاب کی طباعت و پیش کش نے اردو میں پبلشنگ کا ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔

یہ کتاب نہ صرف صوری اعتبار سے دامنِ دل کو اپنی جانب کھینچتی ہے، بلکہ معنوی اعتبار سے بھی اس کی قدر و قیمت کچھ کم نہیں۔ اس میں 40سے زائد اہلِ قلم کی نگارشات شامل ہیں جن میں نارنگ صاحب کی غالب شناسی کے مختلف گوشوں اور جہتوں کا احاطہ کیا گیا ہے اور غالب کی نئی تعبیر کے لیے انھیں جی بھر کر داد و تحسین سے نوازا گیا ہے کہ وہ بجا طور پر اس کے مستحق ہیں۔

زیرِ نظر کتاب کے پہلے حصے میں پروفیسر گوپی چند نارنگ کی فکر انگیز تصنیف ’غالب : معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات‘ کے بارے میں ہندو پاک کے معروف اہلِ قلم کی آراء شامل کی گئی ہیں جو میڈیا کے توسط سے منظرِ عام پر آئی ہیں۔ نارنگ صاحب کی یہ کتاب ساہتیہ اکادمی (نئی دہلی) کے علاوہ سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور سے بھی شائع ہوئی ہے جس کا دیباچہ انتظار حسین نے لکھا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں، "ڈاکٹر گوپی چند نارنگ غالب پر غور و فکر کرتے کرتے ایسی راہ کی طرف نکل گئے جس کی طرف شاید ہی کسی ماہرِ غالبیات کا دھیان گیا ہو۔ ” افتخار عارف نے جشنِ غالب (ٹورنٹو) کے موقع پر فرمایا، "یادگارِ غالب سے لے کر آج تک مطالعاتِ غالب پر اگر پانچ خاص کتابیں منتخب کی جائیں تو ان میں نارنگ کی کتاب سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ ” ساقی فاروقی نے لندن سے فون پر نارنگ صاحب سے اپنے مخصوص انداز میں کہا، "کیا دھانسو کتاب لکھ دی ہے تم نے میری جان۔ خدا تمھیں خوش رکھے … واہ!” بیگ احساس نے ماہنامہ ’سب رس‘ (حیدرآباد) کے اداریے میں لکھا، "اس کتاب نے غالب شناسوں پر سکتہ طاری کر دیا ہے۔ ” انور سِن رائے نے بی بی سی اردو کے حوالے سے کہا، "کتاب سے دل و دماغ روشن ہو گیا۔ ” علاوہ ازیں رؤف پاریکھ نے روزنامہ ’ڈان‘ (کراچی) میں، شافع قدوائی نے روزنامہ ’دی ہندو‘ (نئی دہلی) میں، اور عارف وقار نے ’دی نیوز‘   (لاہور) میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اِس کتاب کا دوسرا حصہ ’مضامین‘ پر مشتمل ہے جس میں چھے مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ معزز مضمون نگاروں کے نام ہیں، فرحت احساس، ناصر عباس نیر، علی احمد فاطمی، شافع قدوائی، ف۔ س۔ اعجاز، اور حقانی القاسمی۔ اس حصے کے تمام مضامین نہایت سیر حاصل ہیں اور دقتِ نظر کے ساتھ لکھے گئے ہیں۔ ان کے مطالعے سے نارنگ صاحب کی غالب شناسی کی گرہیں جستہ جستہ کھلتی چلی جاتی ہیں۔ فرحت احساس نے اپنے مضمون میں غالب پر نارنگ صاحب کی متذکرہ کتاب کو "غالب کی قفلِ ابجد کی طلسماتی کلید” سے تعبیر کیا ہے اور "تنقید کا تخلیقی حرفِ اجتہاد ” کہا ہے۔ ناصر عباس نیر کا مضمون تاثراتی نوعیت کا ہے جس میں انھوں نے نارنگ صاحب کی غالب پر اس کتاب کی اشاعت کو غالبیات کی تاریخ کا ایک "واقعہ” کہا ہے۔ اسے ایک” اہم واقعہ” سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ناصر عباس کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ نارنگ صاحب کی "یہ کتاب غالب پر لکھی گئی دوسری کتابوں سے نہ صرف الگ بلکہ غالب کی معنویت اور شعریات کے یکسر نئے سیاق کو سامنے لاتی ہے۔ ” علی احمد فاطمی نے اپنے مضمون "ورائے شاعری چیزے دگر است” میں گوپی چند نارنگ کی غالب شناسی کی مختلف جہات کا بڑی خوبی کے ساتھ تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے، اور ان کے اس کام کو ایک "بڑا کام” قرار دیا ہے جس کی وجہ سے بہ قولِ فاطمی ان کا شمار معتبر غالب شناسوں میں ہو گا۔ شافع قدوائی نے اپنے مضمون میں نارنگ صاحب کی غالب تنقید کو نئے علمیاتی اور شعریاتی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے، اور غالب پر ان کی متذکرہ کتاب کو انھوں نے اس سلسلے کی ایک "غیر معمولی” کتاب قرار دیا ہے۔ ف۔ س۔ اعجاز کا مضمون "غالب پر نارنگ کی تنقید: شوق کا دفتر کھلا” اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ انھوں نے نارنگ صاحب کی غالب تنقید کے ایک ایک نکتے کو عام فہم انداز میں نہایت ٹھہر ٹھہر کر بیان کیا ہے جس سے ایک عام قاری بھی غالب کی فکری جہات کو بہ خوبی سمجھ سکتا ہے۔ اعجاز صاحب نے سب سے پہلے غالب کی معنی آفرینی سے بحث کی ہے، پھر غالب کی جدلیات کی وضاحت کی ہے، پھر شونیتا (شونیہ تا) کے تصور پر روشنی ڈالی ہے، اور آخر میں غالب کی شعریات سے سادہ زبان میں بحث کرتے ہوئے اپنا مضمون ختم کر دیا ہے۔ بہ حیثیتِ مجموعی یہ مضمون ایک ایسی تنقید کا نمونہ ہے جس سے ’ذہنی کشمکش‘ میں مبتلا ہوئے بغیر ہر اردو داں طبقہ مستفید ہو سکتا ہے۔ ’مضامین‘ کے سلسلے کی آخری تحریر حقانی القاسمی کی "درِ گنجینۂ گوہر” ہے۔ یہ ان کے طویل مضمون کا ایک حصہ ہے جس کی ابتدا تنقیدی نوعیت کے چند سوالات سے ہوتی ہے جو انھوں نے گوپی چند نارنگ کی متذکرہ کتاب کو پڑھنے کے بعد قائم کیے ہیں۔ یہ سوالات تنقیدی اعتبار سے بے حد اہم ہیں جن کے جوابات کے لیے ایک دفتر درکار ہے، لیکن مضمون کے دوسرے ہی پیراگراف میں انھوں نے نارنگ صاحب کی اس کتاب کے "امتیازات” کا ذکر کیا ہے اور چند خوبیاں بھی گنائی ہیں جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔

زیرِ نظر کتاب موسوم بہ ’گوپی چند نارنگ اور غالب شناسی‘ میں ایک ’خصوصی مقالہ‘ بھی شامل ہے جس کے مصنف نظام صدیقی ہیں۔ نظام صاحب اپنی بسیار نویسی کے لیے اردو دنیا میں کافی مشہور ہیں، چنانچہ یہ مقالہ بھی ان کی بسیار نویسی پر دال ہے۔ یہ مقالہ اپنے حجم کے لحاظ سے سوا دو سو صفحات پر مشتمل ہے۔ بہتر ہوتا کہ اسے علاحدہ طور پر کتابی صورت میں شائع کر دیا جاتا۔ اس بھاری بھرکم مقالے کا عنوان ہے، "غالب کی تخلیقیت اور تاریخ ساز نئی بازیافت۔ ” وقت کی کمی کے باعث مَیں یہ گراں قدر (اور گراں بار) مقالہ از اوّل تا آخر نہ پڑھ سکا، تا ہم جہاں جہاں میری نظر پہنچی ہے اس کی بنیاد پر مَیں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ غالب کی تخلیقیت کا نہایت عمیق مطالعہ ہے۔ نظام صدیقی صاحب نے پروفیسر نارنگ کی غالب شناسی کو "تاریخ ساز نئی باز یافت” سے تعبیر کیا ہے اور ان کی متذکرہ کتاب کو "عظیم ترین تنقیدی صحیفہ” کہا ہے۔

نظام صدیقی کے اس خصوصی مقالے کے علاوہ چار دیگر ’مقالات‘ بھی اس کتاب میں شامل کیے گئے ہیں جن میں گوپی چند نارنگ کی غالب تنقید کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس میں سب سے اہم مقالہ سیدہ جعفر کا موسوم بہ "گوپی چند نارنگ کی معرکۃ الآرا تصنیف غالب” ہے۔ دوسرا مقالہ مولا بخش کا ہے جس کا عنوان ہے "غالب تنقید میں تحیر کی جہات اور گوپی چند نارنگ”۔ تیسرا مقالہ مشتاق صدف کا "الہامی تخلیق کی خیال افروز تفہیم” کے عنوان سے شاملِ کتاب ہے جس میں غالب کی تنقید ی بصیرت پر منفرد انداز سے اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔ چوتھے مقالے کا عنوان "غالب- نارنگ کا شاہکار” ہے اور یہ راشد انور راشد کی فکری کاوش ہے جس میں انھوں نے نئے زاویوں سے غالب کو پرکھنے کی نارنگ کی کوششوں کو سراہا ہے۔

’گوپی چند نارنگ اور غالب شناسی‘ میں مضامین کا ایک اور سلسلہ بھی ہے جسے ’حاصلِ مطالعہ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس شِق کے تحت پانچ مضامین شامل کیے گئے ہیں جن کے نام یہ ہیں  :

1-    "گوپی چند نارنگ : ایک عہد ساز دانش ور”/اصغر ندیم سید۔

2-    "فاروقی صاحب کی تنقیدی تخفیف : حافظے کی مراجعت کا المیہ”/ فرحت احساس۔

3-    "ساختیاتی وپس ساختیاتی فکریات اور گوپی چند نارنگ”/مرزا خلیل احمد بیگ۔

4-     "متن، قرأت اور معانی کا چراغاں -نارنگ تھیوری”/قدوس جاوید۔

5-    "ما بعد جدیدیت کی مشرقی اساس”/حقانی القاسمی۔

ہر چند کہ یہ مضامین راست پروفیسر گوپی چند نارنگ کی غالب تنقید یا ان کی غالب شناسی سے علاقہ نہیں رکھتے، تا ہم ان کا (بہ استثنائے "فاروقی صاحب کی تنقیدی تخفیف”) محور نارنگ ہی ہیں۔ حقانی القاسمی نے اپنے متذکرہ مضمون میں نارنگ صاحب کی مابعد جدیدیت سے بحث کی ہے اور اس کی مشرقی اساس پر زور دیا ہے۔ قدوس جاوید نے اپنے مضمون میں نارنگ صاحب کے حوالے سے متن، قرأت اور معانی کی تھیوری کی بحث اٹھائی ہے اور مغربی مفکرین کے حوالے بھی پیش کیے ہیں۔ اصغر ندیم سید کا مضمون عمومی نوعیت کا ہے جس میں انھوں نے نارنگ صاحب کی علمی فتوحات کا ذکر کیا ہے اور ان کے ذہنی سفر کی روداد بیان کی ہے۔ اصغر کی نظر میں نارنگ ایک "عہد ساز دانش در” ہیں۔ ’حاصلِ مطالعہ‘ کے تحت مرزا خلیل احمد بیگ کا مضمون "ساختیاتی وپس ساختیاتی فکریات اور گوپی چند نارنگ” بھی شاملِ کتاب ہے جو اپنی موجودہ صورت میں ماہنامہ ’سبقِ اردو‘ (بھدوہی) کی مئی، جون 2013ء کی اشاعت میں شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں نارنگ صاحب کی لسانیات سے اولین وابستگی اور اس کے توسط سے ساختیات وپس ساختیات تک ان کی رسائی اور نظریہ سازی کا بالتفصیل ذکر کیا گیا ہے۔

زیرِ نظر کتاب کی ایک شِق ’تذکرہ و تبصرہ‘ بھی ہے جس کے تحت شامل کیے گئے قابلِ ذکر مضامین یہ ہیں :۱) "غالب اور گوپی چند نارنگ” (سیفی سرونجی)، 2) "گوپی چند نارنگ کا ایک منفرد کارنامہ” (متین ندوی)، 3)”گوپی چند نارنگ کی غالب شناسی” (وسیم بیگم)، 4) "غالب پردستاویزی کتاب” (سید تنویر حسین)، اور 5) "غالب پر ایک عہد ساز تصنیف” (انوار الحق)۔

’گوپی چند نارنگ اور غالب شناسی‘ میں مرتب نے ایک فکاہیہ بھی شامل کیا ہے جس کے خالق ممتاز فکاہیہ نگار نصرت ظہیر ہیں، اور اس کا عنوان ہے "غالب، نارنگ اور ہم” اور اس کا ذیلی عنوان ہے "پڑھنا کتاب کا اور اچانک ٹپکنا لہو کا آنکھ سے”۔ لیکن جب آپ یہ فکاہیہ پڑھیں گے تو ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جائیں گے۔ بہت اچھا ہوا کہ دانش الہٰ آبادی نے اپنی اِس مرتبہ کتاب میں ایک فکاہیہ بھی شامل کر دیا، تاکہ قارئین خشک مضامین پڑھتے پڑھتے جب ’بور‘ ہو جائیں تو تھوڑی دیر کے لیے (یہ فکاہیہ پڑھ کر) ہنس لیں، بلکہ مَیں تو ادب کے سنجیدہ قاری سے یہی گزارش کروں گا کہ جب وہ اس کتاب کو پڑھنے بیٹھیں تو بسم اللہ اسی فکاہیے سے کریں، پھر تازہ دم ہو کر دوسرے مضامین کو ہاتھ لگائیں۔ نصرت ظہیر کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے محض دس گیارہ صفحات میں غالب کی معنی آفرینی اور نارنگ کی باریک بینی کے بارے میں اپنی گل افشانیِ گفتار سے بعض ایسی باتیں کہہ دیں جو سیکڑوں صفحات پر پھیلے ہوئے لق و دق مضمون میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گی۔

اِس کتاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں نارنگ صاحب کا وہ اہم انٹرویو بھی شامل کر لیا گیا ہے جو رخشندہ جلیل نے انگریزی میں ریکارڈ کیا تھا اور جو "Ghalib was the Greatest of Indian Minds” کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ علاوہ ازیں نارنگ صاحب کے حوالے سے انگریزی میں تحریر شدہ بعض دیگر مضامین کو بھی اس کتاب کی زینت بنایا گیا ہے جن کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے :

1-    محمد اسیم بٹ / "Two Faces of a Tradition” (’دی نیوز‘، لاہور)۔

2-    بدھا دتیہ بھٹاچاریہ/ "Reclaiming the Ghazal’s Space” (’دی ہندو‘، نئی دہلی)۔

3-    شافع قدوائی /”Grammar Precedes Text” (’دی ہندو‘، نئی دہلی)۔

4-     ہری ہر سروپ / "India’s Ambassador for Urdu” (’دی ٹری بیون‘، چنڈی گڑھ)۔

5-    انوج کمار / "Rare Pakistan Honour for Gopi Chand Narang”

(’دی ہندو‘، نئی دہلی)۔

6-     رخشندہ جلیل / "Ghalib : New Dimentions”

زیرِ نظر کتاب کے سب سے آخر میں (ص 614-15)، اردو کے بزرگ ادیب ستیہ پال آنند کی ایک مختصرسی تحریر موسوم بہ "فکر فی نفسہٖ”بھی شامل ہے جس میں انھوں نے الفاظ تو کم استعمال کیے ہیں، لیکن نارنگ صاحب کے علمی کاموں کی ستائش میں کوئی کمی باقی نہیں چھوڑی ہے۔ انھوں نے بجا طور پر اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ "تقسیمِ ہند کے بعد اگر کسی محبِ اردو نے اردو کی سب سے زیادہ بے لوث خدمت کی ہے تو وہ نارنگ ہیں۔ ” ان کا یہ قول بھی سچائی پر مبنی ہے کہ گوپی چند نارنگ "لکھنے میں یدِ طولیٰ تو رکھتے ہی ہیں، لیکن تقریر میں بھی برِ صغیر ہندو پاک میں آج ان کا کوئی ثانی نہیں۔ ”

گراں قدر کتاب ’گوپی چند نارنگ اور غالب شناسی‘ میں ’ منظومات‘ کا بھی ایک گوشہ قائم کیا گیا ہے جس میں چھے شعرا (نذیر فتح پوری، ذوالفقار کاظمی، بلراج بخشی، ابوالحسن نغمی، سید حسن، اور دل افگار مصطفی علی اثیر) کی شعری تخلیقات کو جگہ دی گئی ہے۔ ان تخلیقات کا انداز تہنیتی اور تحسینی ہے۔ دو نظمیں ’نذر‘ کے طور پر لکھی گئی ہیں۔ ابوالحسن نغمی (نیویارک) کی "نذرِ نارنگ” کے یہ دو شعر ملاحظہ ہوں :

عاجز و پنبہ دہاں، حیران و ششدر، دم بخود

ان کا علم و فضل ایسا ہے کہ مَیں تو دنگ ہوں

خوبیاں ان کی ہیں رنگا رنگ بے حد بے شمار

انکسار ایسا کہ فرماتے ہیں ’میں نارنگ ہوں ‘

آخر میں اس کتاب کے اداریے کا ذکر بھی ضروری ہے۔ دانش الہٰ آبادی نے مرتب کی حیثیت سے جو اداریہ قلم بند کیا ہے اس میں انھوں نے سمندر کو کوزے میں بند کر تے ہوئے وہ سب کچھ بیان کر دیا ہے جس کی تفصیل اس کتاب کے اندرونی صفحات میں موجود ہے۔ یہ بات تو سبھی کہتے ہیں کہ حالی کی ’یادگارِ غالب‘ کے بعد گوپی چند نارنگ کی ’غالب : معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات‘ غالب پر دوسری بڑی کتاب ہے، لیکن غالب پر اس "جیسی کوئی دوسری کتاب آنے میں صدیاں گذر سکتی ہیں "، یہ بات صرف دانش الہٰ آبادی نے کہی ہے۔ گراں قدر کتاب ’گوپی چند نارنگ اور غالب شناسی‘ کی ترتیب و اشاعت پر ہم ان کی خدمت میں خلوصِ دل سے ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں !

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے