اعجاز گل کی شاعری ۔۔۔ نوید صادق

انسانی ذہن سوالات کی آماج گاہ ہے،اور شاعر کا ذہن عام انسانی فکر سے ماورا ہے۔ اس لیے اس کے ہاں زندگی کی حقیقتوں کو جاننے کے لیے عام روش سے ہٹ کر سوچنے کا عمل دکھائی دیتا ہے۔  چناں چہ اس کا ذہن ایسے سوالات اٹھانے پر مجبور رہتا ہے جو عام سطح پر انسانی شعور کا حصہ نہیں بنتے۔ اگرچہ شاعر کوئی ماورائی مخلوق نہیں ، اُس کا ذہن بھی اپنے چار سو میں انھی مشاہدات کی آئینہ کاری کرتا ہے جو دوسروں کے لیے بھی تعجب خیز ہوتے ہیں ۔لیکن وہ سلیقہ اور وہ احساس جو شاعر کے ہاں گہری فکر سے نمو پذیر ہوتا ہے،اس کی فکری سطح عمومیت سے ماورا ہونے کی بنا پر کئی قسم کے سوالات اٹھاتی ہے۔عموماً دیکھا گیا ہے کہ ان کی نوعیت تین قسم کی نظر آتی ہے۔ اول وہ جن کے جواب سے شاعر خود واقف نہیں ہوتا۔وہ دوسروں سے ان کے جواب کی توقع رکھتا ہے۔ وہ جب ایسے حقائق سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے دل میں ان کا جواب یا اصلیت جاننے کی خواہش بیدار ہوتی ہے لیکن بہ استثنائے چند وہ اپنے محدود علم یا واقفیت کے باعث ان حقیقتوں تک رسائی حاصل نہیں کر پاتا۔ ایسے میں وہ استفہامیہ انداز میں دوسروں کی طرف دیکھتا ہے۔ دوم وہ سوالات جن کے جواب سے شاعر خود واقف ہوتا ہے۔ لیکن وہ دوسروں کے مطمع نظر سے واقفیت کا خواہاں رہتا ہے۔ ایسے سوالات قاری میں جذبۂ تجسس کو بیدار کرتے ہیں ،اور کبھی کبھی کسی ایک تحریک کا موجب بنتے ہیں ۔ سوالات کی تیسری قسم وہ ہے جن کا جواب خود شاعر ہی کیا، کسی کے پاس بھی نہیں ۔ یہیں سے وہ تحیر خیز فضا جنم لیتی ہے جو شعری اسلوب کی مختلف پرتوں کو نمایاں کرتی ہے اور شاعری میں دل کشی اور معنی آفرینی کی خصوصیات کو اجاگر کرتے ہوئے قاری پر نئے جہانوں کے در وا کرتی ہے۔ سوالات کا تیسرا سلسلہ ما بعد الطبیعیاتی فلسفے سے تعلق رکھتا ہے جس کا تعلق بہ ہر حال کسی نہ کسی طور تصوف  کے قریب تر ہو جاتا ہے۔

یہ تمہید ہمیں اس لیے باندھنا پڑی کہ اعجاز گل کے زیر نظر مجموعہ ’’ گماں آباد‘‘ میں ’ کیا ہے؟‘ ، ’کیوں ہے؟‘ بہت ہے۔ اِس’ کیا ہے؟‘،’ کیوں ہے؟‘ کے متعلق بات کرنا آسان نہیں کہ کہیں کہیں یہ سلسلہ بہت الجھ جاتا ہے۔ تاہم مابعد الطبیعیاتی شاعری کا تعلق انسان کے کلی تجربے سے ہوتا ہے۔

انسان اپنے گرد و پیش کی دنیا، کائنات، زمان و مکاں کی حقیقت جاننے کا ہمیشہ سے متمنی رہا ہے۔ اس میں کبھی کہیں کوئی امید کی کرن نظر آتی ہے تو کبھی علوم کا حصول بے کار نظر آنے لگتا ہے۔کبھی یہ سب ایک دھوکہ معلوم پڑتا ہے، کبھی محض خیالی باتیں ۔ انسان کی غایت کیا ہے؟ انسان کی تخلیق سے پہلے کیا تھا؟ انسان کے بعد کیا ہو گا؟ یہ ہنگامہ سا کیا برپا ہے؟ ، اس طرح کے کئی سوال اعجاز گل کے ہاں نمایاں دکھائی دیتے ہیں :

ذرا بتلا،زماں کیا ہے ؟ مکاں کے اُس طرف کیا ہے

اگر یہ سب گماں ہے، تو گماں کے اُس طرف کیا ہے

سنا ہے ، اِک جہانِ رفتگاں ہے دوسری جانب

خبر کیا ہے؟ جہانِ رفتگاں کے اُس طرف کیا ہے

 

کوئی گردش تھی کہ ساکت تھے زمین و خورشید

گنبدِ وقت میں دن رات سے پہلے کیا تھا

میں اگر پہلا تماشا تھا تماشا گہ میں

مشغلہ اُس کا مری ذات سے پہلے کیا تھا

 

منتظر بعدِ فنا کیا ہے ؟ کسے معلوم ہو

گردشِ ہفت آسماں ، ہفت آسماں کے بعد بھی

کیا خبر کتنے جہاں ہیں اس جہاں کے بعد بھی

یا گماں اندر گماں ہے ہر گماں کے بعد بھی

ایسے سوالات پر مبنی کتنے ہی شعر اپنے خوبصورت پیرائے میں اعجاز گل کی شعری فضا کو مترنم بناتے ہیں لیکن ان سوالات کا جواب دینا یا حاصل کرنا ہر کس و ناکس کے بس میں نہیں ۔ حقیقت تک رسائی آسان نہیں کہ ایک پردہ درمیان پڑتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں تک عقلِ نارسا کام کرتی ہے:

حیرت ہے ، سب تلاش پہ اُس کی رہے مُصر

پایا گیا سراغ نہ جس بے سراغ کا

 

ازل ابد کا معمہ رہا ہے لاینحل

ترے مراقبے سے ، میرے اعتکاف سے بھی

عجیب ہے یہ تری کائناتِ صد اَسرار

کھلی نہ مجھ پہ کسی اسمِ انکشاف سے بھی

 

یہ دھندلکا سا ہے شاید ہر خرابی کا سبب

جو یقیں سے پیش تر ہے اور گماں  کے بعد بھی

 

نہیں جواب سوالوں کے میرے پاس ، سو میں

کلام خود سے زیادہ کبھو نہیں کرتا

 

ایک حساس شاعر کی زندگی میں مختلف تجربات پیش آتے ہیں ۔ محبت، رومانویت، محبت کا روحانی و جسمانی پہلو، خدا سے انسان کا روحانی ربط، انسان سے انسان کا تعلق، امکانی و احتمالی ابدیت، غم، خوشی اور علمی و فنی ادراک۔ شاعر کا مزاج اس بات کا ذمہ دار ٹھہرتا ہے کہ اس کا جھکاؤ فنی و حِسی اعتبار سے کس طرف ہوتا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کے لائق ہے کہ جھکاؤ اِدھر ہو یا اُدھر، انسانی زندگی کے تمام تجربے اپنی کلی حیثیت میں اس پر اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ کہیں ادراک ہو جاتا ہے اور کہیں بات اس سے آگے نکل جاتی ہے۔

اعجاز گل کے ہاں محبت کا پہلو ذرا دبا دبا سا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ میں نے اعجاز گل کا اُس دور کا کلام نہیں دیکھا، جس میں محبت کے جمالیاتی پہلوؤں کا ذکر بڑے دھڑلے سے ہوتا ہے۔ وصال، فراق اور متعلقاتِ ہجر و وصال کا اظہار بھی دکھاتی دیتا ہے۔ اس کا نمایاں اظہار ممکن ہے اُن کے عہدِ جوانی کے کلام میں موجود ہو جو اس مجموعے میں شامل نہیں کہ موصوف اسے متروک قرار دے چکے ہیں ۔ یوں نقاد کے لیے بڑی مشکل یہ آن پڑتی ہے کہ شاعر کے ہاں ان نازک معاملوں سے متعلق اظہار کہیں بہت نیچے کی تہ میں چلا جاتا ہے اور اس کی دریافت کارِ دشوار۔ بعض مقامات پر اعجاز گل کے اشعار میں دبی دبی یا ملفوف کیفیات نظر آتی ہیں جن سے اشارے ملتے ہیں اور ایک مکمل کہانی ترتیب دی جا سکتی ہے:

قریبِ سنگِ منزل آ گیا تھا

نظر رخسار کا تل آ گیا تھا

 

مہک اٹھے ہیں مرے باغ کے خس و خاشاک

کوئی ٹہلتا ہوا صورتِ صبا گیا ہے

 

ہر ملاقات کا انجام جدائی تھا اگر

پھر یہ ہنگامہ ملاقات سے پہلے کیا تھا

 

اسے بھی اپنے مشاغل سے فرصتیں کم ہیں

یہ واقعہ ہے کہ میں بھی اُدھر نہیں جاتا

 

حسن تھا ہنگامہ آرا اندرونِ ذات اور

بے خبر عشاق دشت و کاخ و کو پھرتے رہے

 

میں تھا کہ جس کے واسطے پابندِ عہدِ ہجر

وہ اور ایک ہجر کے میثاق میں رہا

 

کھلے کواڑ ہیں نہ سائے چلمنوں کی اوٹ میں

تو کیا کرے گی جھانک کے اب آرزو اِدھر اُدھر

 

چلمن سے جھانکتی تھیں جو آنکھیں کہاں گئیں ؟

تھا سامنے گلی میں جو دَر باز، کیا ہوا؟

 

مسئلہ حل نہ ہوا عشق کی ارزانی سے

حُسن کم یاب یہاں اور گرانی سے ہوا

 

سینکڑوں محمل تھے لیکن سب سراب اندر سراب

پوچھ مت لیلیٰ کا قصہ اِس گریباں چاک سے

 

نہیں کرتا وہ دل جوئی کبھی کاغذ کے ٹکڑے سے

مکاں کے سامنے سے روز نامہ بر نکلتا ہے

 

اتنا طلسم یاد کے چقماق میں رہا

روشن چراغ دور کسی طاق میں رہا

 

کبھی قطار سے باہر ، کبھی قطار کے بیچ

میں ہجر زاد ہوا خرچ انتظار کے بیچ

 

جل بجھ چکا ہے خواہشِ ناکام سے وجود

پرچھائیں پھر رہی ہے مکانِ سیاہ میں

ہلکان مَیں نہیں تری خاطر سرِ ہجوم

سب مر رہے ہیں خواہشِ یک دو نگاہ میں

 

اے حسن! اختتامِ تعلق سے پیش تر

طے کر ذرا جدائی کی تفصیل میرے ساتھ

 

ترکِ تعلقات پہ رخصت سے پیش تر

دل میں مراجعت کا ارادہ کیا گیا

 

رات کے پچھلے پہر تک اُس گلی سے اِس گلی

پوچھنے احوالِ ہجراں ، ماہتاب آیا کِیا

 

داخلہ ممنوع ٹھہرا میرا میری ذات میں

دائرہ کھینچا کسی نے جب سے اپنے نام کا

 

معکوس و عکس کیسے ہیں پیوست دیکھ تو

آئینہ کر رہا ہے سنگھار آئنے کے ساتھ

 

کوئی پلٹ کے نہ آیا اِدھر ، برس گزرے

کوئی چراغ جلاتا کنارِ بام کہ ہے

 

وصال کی کیفیات میں ہجر کا احساس کہ جسے ایک دائمی احساسِ تشنگی بھی کہا جا سکتا ہے۔وصال، وصال نہیں اور فراق، فراق نہیں ۔ کرب و نشاط کے رنگوں کو الگ الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ ایک نفسیاتی اضطراب ہے۔ یہ بڑی عجیب لیکن دل چسپ رمز ہے کہ بقول اشفاق احمد : ’’محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہو گی، وہ محبت ہی نہیں جو اُداس نہ کر دے۔‘‘  ان کیفیات سے دوچار یہ شعر دیکھیے:

عجب ہے قطعِ تعلق ، فراق بھی مفقود

کہ دل وصال کی بھی آرزو نہیں کرتا

 

مخفی بھی تھا وصال کا وہ بابِ مختصر

کچھ دل بھی محوِ ہجر کے اسباق میں رہا

 

ہے کھیل نارسائی کا عجیب گرد و پیش میں

کہ تو کبھو اُدھر اِدھر تو میں کبھو اِدھر اُدھر

 

محمل ہے مطلوب نہ لیلیٰ مانگتا ہے

چاک گریباں قیس تو صحرا مانگتا ہے

ہجر ، سرِ ویرانۂ جاں بھی مہر بلب

وصل ، گلی کوچوں میں چرچا مانگتا ہے

 

ہوتا ہے پھر وہ اور کسی یاد کے سپرد

رکھتا ہوں جو سنبھال کے لمحہ فراغ کا

 

کبھی وصال بے کشش ، کبھی فراق بے طلب

طریق مختلف رہا ہے دل کی واردات کا

 

گویا ’’وصل میں مرگِ آرزو،  ہجر میں لذتِ طلب‘‘ لیکن وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ انسان کفِ افسوس ملتا رہ جاتا ہے۔شاد عظیم آبادی کا شعر حسبِ حال ہے:

نہ جاں بازوں کا مجمع تھا ، نہ عشاقوں کا ریلا تھا

خدا جانے کہاں مرتا تھا میں جب تو اکیلا تھا

 

اسی تناظر میں منیر نیازی کا ایک شعر دھیان میں آتا ہے:

میں خوش نہیں ہوں بہت اس سے دور ہونے پر

جو میں نہیں تھا تو اس پر شباب کیوں آیا

 

یہاں منیر نیازی کی نظم کا ایک مصرع:

اور دونوں کے بیچ کھڑی ہے بیس برس کی جدائی

 

تو یہی حال اعجاز صاحب کے ہاں بھی نظر آتا ہے۔ وہ کہاوت ہے ناں کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے:

اب اتنے سال کی دوری سے کون پہچانے

برا کیا ہے بڑھاپے نے سب کا حال تو پھر

خالد احمد کہتے ہیں :

’’ادیب زندگی کو اپنا موضوعِ سخن قرار دے یا نہ دے، زندگی بہرطور ادیب کی ہر تخلیق میں در آتی ہے، اور یہ بات کسی وضاحت کی محتاج بھی نہیں کہ یہ فن کار کے اردگرد پھیلی ہوئی زندگی کے سوا کوئی اور زندگی نہیں ہوتی۔یہ بات بھی کسی تفصیل کی طالب نہیں کہ یہ زندگی کی اطلاقی صورت کے عکس کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔‘‘

(ادب میں وابستگی کا مسئلہ: جدید تر پاکستانی ادب)

اعجاز گل کی شاعری میں بھی اردگرد کی زندگی اپنی پوری توانائی سے در آئی ہے۔ اپنے اردگرد پھیلے انسانوں کے مسائل، ان کے غم، ان کی خوشیاں اعجاز کے اہم موضوعات ہیں ۔ان کے ہاں عصری شعور کی ترجمانی بھورپور طور پر موجود ہے ۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک شخص جو عرصہ دراز سے پردیس میں ہے، اس سے امید تو یہ بنتی تھی کہ وہ ہجرت کے تجربات کو اپنے اظہار میں لائے گا۔ غریب الوطنی کے آلام کو بیان کرے گا لیکن عجیب اور دل چسپ بات یہ نکلی کہ ایسا نہیں ہوا بل کہ اس کی شاعری کو دیکھ کر تو ایسا لگا کہ اس شخص نے سرے سے ہجرت کی ہی نہیں ، وہ مسائل جو ہجرت اور غریب الوطنی سے متعلق ہیں ، اس کے تجربے ہی میں نہیں آئے تو کیا ہم سچ مچ یہ مان لیں کہ اعجاز گل کے تجربے میں ہجرت کہیں نہیں ؟ اک ذرا توقف کہ اگر ایسا کیا جائے تو بات شاید انصاف پر مبنی نہ ہو۔ ’’گماں آباد‘‘ کی شاعری کے بار بار مطالعہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ محبت بھی ہے، ہجر بھی ہے، وصال بھی ہے، ہجرت بھی ہے، غریب الوطنی بھی ہے لیکن ہر موضوع سے بڑھ کر جو موضوع ہے وہ یہ کہ اعجاز گل کے جسم نے ہجرت کی، اس کے دل نے نہیں ، دماغ نے نہیں ۔ میں واقفِ حال تو نہیں پھر بھی اتنا ضرور کہوں گا کہ وہ ہجرت جو تلاشِ روزگار کے لیے تھی، اس نے اعجاز کو اپنے وطن سے دور نہیں کیا۔سو وہ وہاں بیٹھ کر بھی یہاں کے حالات پر کڑھتے نظر آتے ہیں لیکن اس کا اظہار واقعاتی سطح سے اوپر اٹھتا محسوس ہوتا ہے:

شیشۂ عمر پریشان ہمارا کیوں ہے

عکس ناقابلِ پہچان ہمارا کیوں ہے

ہم تماشائی ہیں جب اپنی زبوں حالی کے

دوسرا کوئی نگہبان ہمارا کیوں ہے

طاقِ نسیاں پہ دھرا رہتا ہے زادِ رستہ

ہر سفر بے سر و سامان ہمارا کیوں ہے

 

ہنر تھا جس میں سفید و سیاہ کرنے کا

کیا ہے کام اُسی نے تباہ کرنے کا

 

گنگ تھیں سب کی زبانیں خوفِ حاکم کے سبب

لوگ ہونٹوں میں دبائے گفتگو پھرتے رہے

 

دشمنوں نے جو کیا تھا ، سو کیا تھا لیکن

اک نگر تھا کہ مکینوں نے بھی برباد رکھا

 

مخالف سمت طے کی تھی مسافت

وگرنہ کب کا ساحل آ گیا تھا

 

مسافرت کا ہنر ہے نہ واپسی کی خبر

سو چل رہا ہوں جدھر بھی یہ راستا گیا ہے

 

 

عجب تھا شہر ، فلاطونِ عقل تھے سب لوگ

یہاں کسی نے کسی سے نہ استفادہ کیا

 

جو سنگِ میل تھے پہچان کے ، ہوئے معدوم

تری رضا جہاں اب راہِ بے نشاں ! لے چل

 

اور پھر یہ معاملات، یہ کرب اپنی ذات، اپنے لوگوں ، اپنے ملک سے اوپر اٹھ کر پوری انسانیت کے دکھوں کا احاطہ کرتے محسوس ہوتے ہیں ۔عام انسان کے مسائل آج بھی وہی ہیں جو کل تھے، افلاس، مجبوری آج بھی اس کا منہ چڑا رہے ہیں ۔طاقت ور اپنی طاقت کے بل بوتے پر جو چاہتا ہے،کرتا ہے۔ محکوم، محکوم ہی ہے۔انسان کی پہچان کہیں کھو گئی ہے۔قدریں اپنا جواز کھو چکی ہیں ۔

معروف بنگلہ دیشی بنکار اور ماہرِ معاشیات ڈاکٹر محمد یونس (نوبل انعام یافتہ) لکھتے ہیں :

 

"The system we have built refuses to recognize people. Only credit cards are recognized. Drivers’ licenses are recognized. But not people. People haven’t any use for faces anymore, it seems. They are busy looking at your credit card, your driver’s licence, your social security number. If a driver’s license is more reliable than the face I wear, then why do I have a face?”

(Banker to the Poor: Micro-Lending and the Battle Against World Poverty)

یہ ایک سوال ہے جو جدید تمدن کے رسیا اور پرچارکوں سے بنتا ہے۔اگر مادی ذرائع ہی سب کچھ ہیں تو پھر انسان کہاں گیا؟ انسانیت کیا ہوئی؟

بند تھا جن پر فراتِ آرزو پھرتے رہے

اپنے ہاتھوں میں لیے خالی سبو پھرتے رہے

 

خوشبو کے پھیلنے سے ہوا نام باغ کا

ورنہ تو ہر شجر پہ تصرف ہے زاغ کا

 

بچھڑنے جا رہی تھی نسلِ آدم

دلوں میں خطِ فاصل آ گیا تھا

 

قسمت کی خرابی ہے کہ جاتا ہوں غلط سمت

پڑتا ہے بیابان ، بیابان سے آگے

 

اماں کو نیل میسّر نہ میں کوئی موسیٰ

مجھے سپردِ فراعین کر دیا گیا ہے

 

گلی میں آیا ہے قاصد ، ذرا خبر تو لے

ترے علاوہ وہ کس کس کے گھر نہیں جاتا

مرے وجود سے گردش ہے جس زمانے کو

گروں جو تھک کے تو دم بھر ٹھہر نہیں جاتا

 

اٹکا ہوا سورج ہے اسی ایک سبق پر

بڑھتا نہیں دن رات کی گردان سے آگے

 

قائم ہے یہاں وقت کی تقسیم ازل سے

بدلا ہے شب و روز کا دوران بہت کم

 

عام سی مخلوق ، موسم گرم ، لکڑی کے مکاں

دیکھتا ہوں شہرِ حاصل چشمِ حیرت ناک سے

 

درست بات تھی اپنی شناخت سے محروم

غلط ہوئی تو جہاں میں مثال ہو گئی ہے

 

کرتی ہے روز قتل مجھے زندگی یہاں

جاتا نہیں ہوں چھوڑ کے اس قتل گاہ کو

 

بدل نہ اب بیان کو ، اگر کہا گیا تھا کل

یہی زمین آسمان کائنات ہے فقط

 

فلک زمین سے اب گفتگو نہیں کرتا

یہ خاک زاد بھی کچھ ہاؤ ہو نہیں کرتا

 

فلسفۂ  وجودیت میں انسان کی پیدائش اور موت جبر کی علامت ہیں ، جب کہ اسی فلسفے میں خود ایک جبری صورت یوں نمو پذیر ہوتی ہے کہ ان دونوں وقوعات یعنی پیدائش اور موت کے درمیانی عرصہ میں فرد کو با اختیار قرار دیا گیا ہے۔حال آں کہ فلسفۂ  وجودیت کو اگر پیشِ نظر رکھا جائے تو یہ اختیار بھی بے معنی ہے۔ اس رویے کا لازمی نتیجہ شدید مغائرت تھا۔ معاشرہ بے چینی کا شکار ہوا۔کوئی کسی کی بات پر کان دھرنے کو تیار نہیں ۔ انسان اپنے مفادات کے لیے اپنا راگ الاپنے لگا۔انسان خدا، فطرت حتیٰ کہ اپنے ہم جنسوں سے بھی الگ ہوتا گیا۔ روایتی معاشرے میں ایسا نہیں تھا۔ دکھ سکھ سانجھے تھے۔ ملکیت کا تصور نہیں تھا۔چناں چہ:

’’ روایتی معاشرے میں انسان ذی شعور اور ذی ارادہ تھا۔ وہ ایک عقلی اور روحانی حقیقت تھا۔ اسے اپنی ذمہ داریوں کا بھی احساس تھا اور اپنی بڑائی کا بھی شعور۔‘‘

(انسان کے دو جدید تصور: قصہ نئی شاعری کا)

نہیں وجود و عدم سے مجھے کوئی نسبت

ہوں ایک وہم جو دونوں کے درمیاں کا ہے

 

سبب نہیں تھا زمیں پر اتارنے کا مجھے

سبب بغیر ہی واپس اٹھا لیا گیا ہے

 

پھیلا عجب غبار ہے آئینہ گاہ میں

مشکل ہے خود کو ڈھونڈنا عکسِ تباہ میں

 

لمحہ بہ لمحہ ٹوٹ رہا ہے یہ خاک داں

معدوم ہو رہا ہوں میں اپنے غبار میں

لا حاصلی کی بھیڑ میں کیا تذکرہ کہ تُو

آگے قطار میں ہے کہ پیچھے قطار میں

جتنا کہ اس طلب کو کشادہ کیا گیا

محرومیوں کو حد سے زیادہ کیا گیا

 

مرے  علاوہ  نہیں  ہے  اگر  کوئی  موجود

سنا  رہا  ہوں  کسے  داستاں  اکیلا  میں

 

بے منظر و مکالمہ ، کردار سے تہی

تنہائی کی عجیب ہے تَمثیل میرے ساتھ

 

آگ بھی منکرِ تعظیم تھی وقتِ تخلیق

خاک بھی خاک کی کرتی رہی تذلیل یہاں

 

کھلتا نہیں کچھ ہونے نہ ہونے کا معمہ

پہلے تھا کہ اب آیا ہوں افلاک کے اندر

 

اعجاز گل نے انسانی آشوب کو اپنی فکر پر طاری کیا ہوا ہے۔اور یہی فکر شعر کے روپ میں ہم تک پہنچتی ہے۔ اعجاز گل انسانی نفسیات میں پیدا تشکیک ، وجود کی حقیقت، انسانی زندگی میں موجود تضادات، زندگی میں شکست و ریخت کو اپنے اشعار کا موضوع بناتے ہیں ، اس لیے کہ ہم سیاسی، سماجی،ملکی اور معاشی اعتبار سے سخت انتشار اور افراتفری کا دور میں زندہ ہیں ۔

اعجاز گل حیات آشنا ہیں ۔روحِ عصر سے آگاہی رکھتے ہیں ۔ کیفیاتِ حیات، عصری تغیرات، تحولات و ترجیحات سے آشنائی ان کے اشعار سے آشکارا ہے۔وہ اخلاقی اقدار کو اعلیٰ زندگی کی کلید قرار دیتے ہیں ۔اعلیٰ انسانی اقدار کی زبوں حالی نے انسان اور انسانیت کو شدید صدمات سے دوچار کر رکھا ہے:

منظر سمٹ گئے ہیں تماشے کے یا مری

محدود کر دیا گیا حدِ نگاہ

 

یہیں کہیں ہے کوئی ساتویں جہت موجود

ملا نہیں وہ اگر شش جہات کے اندر

کس شے کی کشش کھینچ کے لے جاتی ہے واپس

رکتا نہیں تا دیر کوئی خاک کے اندر

 

کترا کے اس طرف سے گزرتی رہی بہار

جو انتظار میں تھے ، رہے انتظار میں

 

یہ خاک ، چاک نیا مانگتی ہے ، ڈھونڈتا ہوں

تجھے ، اے کوزہ گرِ دو جہاں ! اکیلا میں

 

ایسا نہیں کہ جسم ہے میرا فنا پذیر

ہوتے ہیں گرد و پیش بھی تبدیل میرے ساتھ

 

ایسا نہیں کہ پہلے نہ رُسوا کیا گیا

اس بار کچھ زیادہ تماشا کیا گیا

پھیلا کے آفتاب سے پرچھائیوں کا خوف

ظلمت میں بستیوں کو اکیلا کیا گیا

آہو قفس میں ڈال کے کھیلا گیا شکار

گرد و نواحِ شہر کو صحرا کیا گیا

 

کسی کسی سے یہ رکھتا ہے صحبتیں ایسی

کلام کرتا نہیں سب سے عیش دُنیا کا

 

آتی نہیں ہے لوٹ کے اب باز گشت بھی

آخر طلسم گنبدِ آواز کیا ہوا

 

غلط سلط کو مشتہر کیا گیا ہے اِس طرح

غلط سلط قبولِ خاص و عام ہو چکا ہے اب

 

اعجاز گل کی شاعری میں مشاہدے کی بہت اہمیت ہے۔ اس مشاہدہ میں سرسری پن ہرگز نہیں بلکہ ایک عمق ہے۔پھر اس مشاہدہ کے بیان میں جذباتی پن کی جگہ تفکر دکھائی دیتا ہے۔ اس کے استعارے کلام کو مزید پراثر بنا دیتے ہیں :

مختلف کچھ بھی نہ تھا اِس رات  دن کے کھیل میں

ہُو بہ ہُو سا واقعہ تھا ، جُوں کا تُوں ہوتا گیا

 

میں عمر کو تو مجھے عمر کھینچتی ہے اُلٹ

تضاد سمت کا ہے اسپ اور سوار کے بیچ

 

کیا گیا ہے زیر آج پیاس ہی سے پیاس کو

شکستہ کر کے پتھروں پہ یہ سبو اِدھر اُدھر

 

بدلتے رہتے ہیں شکلیں یہاں تماشائی

طلسم ایک سا ہے منظرِ تماشا کا

رہا یہ راز بدن اور عمر کے مابین

کہ کس نے کس کا ہے بارِ گراں اٹھایا ہوا

 

سانحہ یہ کہ رہی خاک نمو سے محروم

باغ ویران ہوا اور بھی گل کاری سے

 

حیرت مجھے آئینے پہ ، وہ مجھ سے پریشان

اک زنگ سے آلودہ تو اک خال نہ خد سے

 

رستے کی بھیڑ بھاڑ پہ شور و شغب سوا

باتیں ہیں دائیں بائیں تو اجسام پیش و پس

 

دیوار کے پیچھے ہے جاری کوئی ہنگامہ

یہ صحن تو مدّت سے سنسان برابر ہے

 

زنگارِ شام نے کیا ہر آئنہ خراب

چاندی سے عکسِ صبح کی رنگت ہوئی تمام

 

پڑھا سنا تھا ذکر ایک عمرِ بے ثبات کا

یہ کیا ہے فلسفہ نیا حیات در حیات کا

 

کر دیا سورج نے شاید دوپہر کو منجمد

یا ہُوا ہے دھوپ میں تحلیل سایہ شام کا

اب کھلا ہے ، وہ تماشا تھا یہی یک دو نفس

جس تماشے کی طلب میں چارسُو پھرتے رہے

 

جلوسِ تخت نشینی نہ میّتِ شاہی

تو کیسی بھیڑ لگی ہے یہ رہ گزار کے گرد

 

کل کہ جس بات پہ ہوتا تھا کرشمے کا گماں

عقل حیران ہے وہ آج حکایت نکلی

 

ماضی کی یاد اور ماضی پرستی دو الگ الگ چیزیں ہیں ۔اعجاز گل کے ہاں اول الذکر کیفیت نمایاں ہے۔کہیں گم گشتہ اقدار کا نوحہ ہے تو کہیں گزشتگاں کی یاد۔کہیں گزرے دنوں کی انبساط انگیز یادیں ہیں تو کہیں ماضی میں درپیش تلخیاں اور کہیں دیروز اور امروز میں نامرادی کی یکسانیت کا تذکرہ لیکن انھوں نے کہیں بھی ماضی کی یادوں کو پرستش نہیں بننے دیا۔  Rick Warren لکھتے ہیں :

"We are products of our past, but we don’t have to be prisoners of it.”

(The Purpose Driven Life: What on Earth Am I Here for?”)

Sarah Dessen کہتی ہیں :

Your past is always your past. Even if you forget it, it remembers you.

(What Happened to Goodbye)

 

نہ ڈھونڈ عمرِ گزشتہ کے داغ پانی میں

جو خاک گھل گئی ، کیسا سراغ پانی میں

 

ملتے ہیں روز خاک میں غلطاں نقوشِ پا

گم گشتہ یادِ عمر کی معدوم راہ میں

 

کبھی گزر تھا اِدھر سے بھی ایک دریا کا

کہ اب ٹھکانہ ہے جن بستیوں میں صحرا کا

 

گزشتگاں ہی مرے منتظر ہیں ، یا کوئی

نیا یہ سلسلہ دنیائے بے نشاں کا ہے

 

جب نشاں ملتا نہیں کھوئے ہوئے ایام کا

تذکرہ کیسے کریں اُس شہرِ دل آرام کا

 

انکار ہے امروز کو بھی میری طلب سے

رفتہ نے بھی پورے کیے ارمان بہت کم

 

میں خرچ کرتا ہوں امروز کو بھی رفتہ میں

کہ سکّہ چلتا ہے واں میری بادشاہت کا

 

عمرِ رفتہ! ترے مٹی سے اَٹے رستوں پر

کوئی معدوم ہوئے نقشِ قدم ڈھونڈتا ہے

 

کبھی کبھی تو غنیمت ہے یاد رفتہ کی

بٹھا نہ روز لگا کے اسے سرہانے سے

 

رائیگانی اور احساسِ زیاں کا احساس اعجاز گل کے ہاں شکلیں بدل بدل کر سامنے آتا ہے۔ کہیں اپنے اعمال پر بے اطمینانی کا اظہار ہے تو کہیں اپنے سامع کی ناسمجھی کا ادراک:

یہیں پہ فردِ عمل کھول ، پڑھ سنا تفصیل

زیاں زیاں ہی رہے گا ، کسی جہاں لے چل

 

وہ سن رہا ہے جسے کچھ سمجھ نہیں آتی

جسے سمجھ ہے وہ سامع نہیں حکایت کا

 

جو عمر باقی ہے تفصیل اس کی نامعلوم

جو  کی  گئی  ہے  بسر ،  رایگاں   زیادہ  ہے

 

متفق دونوں ہیں اس جسم کی بربادی پر

دن بھی بہتر نہ کٹے ، رات بھی ابتر ٹھہرے

 

آتا نہیں کچھ یاد کہ اے ساعتِ نسیاں !

کیا رکھا ترے طاق پہ ، کیا طاق سے باہر

 

تمام کام ادھورے رہیں تو حیرت کیا

دِنوں میں ختم ہو جب عمرِ ماہ و سال تو پھر

 

مرے علاوہ بھی اِس ذات کے خرابے میں

کوئی مکین شب و روز خود کلام کہ ہے

 

موت کے حوالے سے خلیل جبران کے درج ذیل اقوال لائقِ توجہ ہیں :

’’ میں نے ایک مرتبہ زندگی سے کہا، ’میں چاہتا ہوں ، زندگی کو بولتے سنوں ۔ زندگی نے اپنی آواز قدرے بلند کی اور کہا:  تم اس وقت موت کی آواز سن رہے ہو۔‘‘

اور اعجاز گل کے اشعار میں موت کا حوالہ بہ کثرت ملتا ہے۔کہیں علامتی پیرایہ میں موت کے متعلق استفسار ہے تو کہیں صاف، سیدھا، سچا بیان۔کہیں موت کے بعد زندگی کی طرف اشارہ ہے تو کہیں خال و خد کے اجڑنے کا ذکر۔ کہیں بڑھاپے میں لاحق تنہائی سے عاجز آ کر درونِ ذات محفلیں سجانے کا عندیہ۔کہیں خود سے بچھڑ جانے کا ماتم ہے تو کہیں گزرتے سن و سال پر اطمینان کا اظہار۔ کہیں کسی کے اشارے کا انتظار ہے تو کہیں موت کی آواز سنائی دیتی ہے:

کتنی دھوپ چھاؤں ہے ، راستہ کہاں تک ہے

اِس سفر میں منزل کا فاصلہ کہاں تک ہے

کتنی دیر مہلت ہے اور ابر و باراں کی

کاغذی سا یہ پیکر اُڑ رہا کہاں تک ہے

 

اور کتنی دیر ہے اب اِس سرائے میں قیام

کتنی ساعت اور ہے اب میزبانی خاک کی

 

کچھ دیر ٹھہر اور ذرا دیکھ تماشا

ناپید ہیں یہ رونقیں اِس خاک سے باہر

 

ٹھہر تو اور برس دو برس گزارتے ہیں

نہیں پسند اگر عمرِ مہرباں ! لے چل

 

آخرِ دم ، تن کی حالت دیدنی

اور کہے دل ، سیرِ جادہ ایک اور

ہے معمہ زندگی کا یہ طلسم

بند اک در تو کشادہ ایک اور

 

زنگارِ عمر نے کیے سب خال و خد تمام

عکسِ نگارِ آئنہ پرداز کیا ہوا

 

درونِ ذات سجا محفلیں ، کہن سالی!

زمانہ تجھ سے اگر گفتگو نہیں کرتا

 

ہے کون یہ مقیم مرے خاکدان میں

وہ  شخص  جس  کا  نام  تھا  اعجاز  کیا  ہوا

 

یہ عمر مناسب ہے تناسب کے ہنر سے

دشوار زیادہ ہے نہ آسان بہت کم

 

اٹھا کے پھینک تو دوں سر سے عمر کا اسباب

ہے انتظار کسی اور کی اجازت کا

 

کیا گیا تھا کہیں سے پہلے بھی بے ٹھکانہ

میں منتقل ہو رہا ہوں اب خاکدان سے بھی

 

سنبھال ، عمرِ کہن! اپنے سقف ، دیواریں

کہیں نواح میں آوازِ انہدام کہ ہے

 

لیکن درج ذیل دو اشعار میں تو انھوں نے حد ہی کر دی۔ ساٹھ سال کے قیام کو کافی سمجھ کر نئے نگر، نئی جگہ کوچ کی تیاری اور اس پر مستزاد یہ کہ اپنے کیے دھرے کو شعبدہ گری قرار دے کر سانس کی مہلت کے ختم ہونے کا اعلان کر ڈالا:

چل اُٹھ بھی ، کوچ کر کسی نئی جگہ ، نئے نگر

اِدھر توساٹھ سال کا قیام ہو چکا ہے اب

 

کر بند حرف و صوت کی یہ شعبدہ گری

اعجاز! اُٹھ ، کہ سانس کی مہلت ہوئی تمام

 

اعجاز صاحب! آپ یہ عمر کی سیڑھیاں گننا چھوڑ دیں ۔ گرتے در و دیوار آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کہ آپ کے اندر کا تخلیق کار ابھی بہت توانا ہے۔ میرے کہے پر یقین نہ ہو تو اپنا شعر ہی دیکھ لیجیے کہ ابھی تو:

ہے ارتکازِ ذات میں وقفہ ذرا سی دیر

ٹوٹا نہیں ہے رابطہ لَو سے چراغ کا

٭٭٭

مجموعے ’گماں آباد‘ سے

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے