غزلیں ۔۔۔ تسنیم عابدی

صاحب اسلوب شاعر علی زریون اور نسیم سید کی نذر

 

وحشت رفتہ رفتہ مجھ میں خاک اڑا کے بیٹھی ہے

دھڑکن خاموشی کی صورت شور مچا کے بیٹھی ہے

 

رات تمناؤں کے زیور تن پہ میرے سجتے رہے

صبحِ حسرت من کو نیا گہنا پہنا کے بیٹھی ہے

 

اک اک رسم نبھائی ایسے صبح شام میں ہانپ گئی

زیست تو رت گڑیا گڈے کا کھیل رچا کے بیٹھی ہے

 

چوبِ جاں سے دیر تلک کل رات دھواں اٹھتے دیکھا

خیمہ دل کو ایک تمنا آگ لگا کے بیٹھی ہے

 

عطر فروش ! میں یاد کی خوشبو مثلِ صبا لئے پھرتی ہوں

اس کے پیراہن کی خوشبو مجھ میں آ کے بیٹھی ہے

 

موجہ وقت طلب کا دریا سوکھنے دے آواز نہ دے

جیسے ماں پیاسے بچے کو ابھی سلا کے بیٹھی ہے

 

کمرے کے دیوار و در کے شور سے بچنے کی خاطر

تنہائی خاموشی سے کھڑکی میں جا کے بیٹھی ہے

٭٭٭

 

 

یاسر جواد اور درویش صلاح الدین کی نذر

 

تمثالِ وفا کی کوئی قیمت تو نہیں ہے

یہ دل ہے مرا مالِ غنیمت تو نہیں ہے

 

کتنے ہی مواقع تھے جہاں چپ ہی رہے ہم

وہ پوچھا کئے کوئی شکایت تو نہیں ہے ؟

 

یہ ہجرِ مسلسل ہے نہیں وصلِ معین

اس زخم کو بھر آنے میں عجلت تو نہیں ہے

 

ہے چاک گریبانیِ گفتارِ معانی

معلوم کریں قیس سے نسبت تو نہیں ہے

 

جس رخ سے بھی چاہے وہ کرے بے رخی مجھ سے

آئینے کی اپنی کوئی صورت تو نہیں ہے

 

اس بار میں روٹھی ہوں کہ وہ مجھ کو منائے

تجدیدِ وفا کی جسے فرصت تو نہیں ہے

 

کیوں آپ بھی آمادہ تکرار ہیں حضرت

اس کفر مین ایمان کی شدت تو نہیں ہے ؟

 

اک سمت چلے جاتے ہیں رفتارِ جنوں سے

کیا آخری منزل پہ محبت تو نہیں ہے !!

 

دیوار سے اس شخص نے تصویر ہٹا دی

یہ سوچ کے اب اس کی ضرورت تو نہیں ہے

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے