پاس کی دوری ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی
وہ سوتی ہے اور میں اب تک جاگ رہا ہوں اس کا سر تکیے سے ڈھلکا میں نے آ کر آہستہ سے پھر اس کا سر تکیے پر رکھا میں نے دیکھا اس کی پلکوں پر ایک ستارہ میں نے دیکھا اس تکئے کے نیچے سچا موتی ہے وہ جو میری بانہوں Read more about پاس کی دوری ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]
