لمحۂ تخلیق ۔۔۔ ساجدہ زیدی

  وہ کیسا سحرِ وجود تھا۔۔۔ بیکراں خلاؤں سے کیسی آواز آ رہی تھی وہ کیسا آغاز تھا۔۔۔۔ وہ کیا تھا وہ کون سا رنجِ نا رسائی تھا حزن ہستی تھا۔۔۔۔۔۔۔ یا سیہ بحرِ بیکراں تھا جہاں مرے روز و شب کا درد آشنا سفینہ سا بہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ کیسا بہتا ہوا سا غم Read more about لمحۂ تخلیق ۔۔۔ ساجدہ زیدی[…]

نظمیں ۔۔۔ گلزار

  بارش آنے سے پہلے ہی۔۔۔   بارش کے آنے سے پہلے ہی بارش سے بچنے کی تیاری جا ری ہے ساری دراریں بند کر لی ہیں اور لیپ کے چھت، اب چھتری بھی مڑھوا لی ہے کھڑکی جو کھلتی ہے باہر اُس کے اُوپر بھی اِک چھجّہ کھینچ دیا ہے مین سڑک سے، گلی Read more about نظمیں ۔۔۔ گلزار[…]

آشوب ادب ۔۔۔ قاضی عبد الستار

  مائک پہ وہ کوے کی طرح بول رہے ہیں بلبل جو زمانے کے ہیں خاموش کھڑے ہیں   سب صدر میں بیٹھے ہیں بجاتے تھے جو بھونپو فن کار ہیں جتنے وہ کناروں پہ پڑے ہیں   اس ہاتھ میں تحفے ہیں تو اس ہاتھ میں پرچے دفتر میں مدیروں کے وہ چھپنے کو Read more about آشوب ادب ۔۔۔ قاضی عبد الستار[…]

اے وقت ذرا تھم جا ۔۔۔ امجد اسلام امجد

  اک خواب کی آہٹ سے یوں گونج اٹھیں گلیاں امبر پہ کھلے تارے باغوں میں ہنسیں کلیاں ساگر کی خموشی میں اک موج نے کروٹ لی اور چاند جھکا اس پر پھر بام ہوئے روشن کھڑکی کے کواڑوں پر سایہ سا کوئی لرزا اور تیز ہوئی دھڑکن پھر ٹوٹ گئی چوڑی، اجڑنے لگے منظر Read more about اے وقت ذرا تھم جا ۔۔۔ امجد اسلام امجد[…]

ڈرتے ڈرتے دمِ سحر سے ۔۔۔ شفیق فاطمہ شعریٰ

  چاند بیگانہ ہے، کون اس کو کہے گا اپنا اس کے حالات جدا، اس کے مقامات جدا نو دمیدہ کبھی، کامل کبھی، نا پید کبھی بس یہی رنگ تلوّن ہے تشخّص اس کا   تارے سرگوشیاں کرتے رہے، ان کی تب و تاب ان سے اچھی کہ رسائی مرے دل تک پائی چاند نے Read more about ڈرتے ڈرتے دمِ سحر سے ۔۔۔ شفیق فاطمہ شعریٰ[…]

سٹیپنی سے مکالمہ ۔۔۔ کشور ناہید

  بالوں میں کلر لگا رہی تھی آئینے نے پوچھا یہ ناز و نخرہ کس کے لئے ہے؟ تم وصال کے لیئے دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو جاتی ہو انتظار کرتی ہو ٹکنیشین کا کہ وہ کب گاڑی ٹھیک کر کے لائے گا انٹرنیٹ پر چیٹنگ کے لئے تمہارے بیٹوں کو فرصت نہیں Read more about سٹیپنی سے مکالمہ ۔۔۔ کشور ناہید[…]

کتنی مشکل ہے! ۔۔۔ وزیر آغا

  تھکن آنکھوں کی بھاری چلمنوں سے لگ کے بیٹھی دھند اوڑھے منظروں کو دیکھتی۔۔۔کب دیکھتی ہے! جھکی شاخوں سے چمٹے سبز پتے سکڑتی تتلیاں بن کر ندی پر جھک گئے ہیں ندی کا تہہ نشیں پانی زمیں کی کوکھ میں ٹھہرا ہوا ہے فلک۔۔۔اک گول برتن خاک پر اوندھا پڑا ہے سلو موشن میں Read more about کتنی مشکل ہے! ۔۔۔ وزیر آغا[…]

نذرِ جذبی ۔۔۔۔ منیب الرحمٰن

  (۲۰۰۲ء کے اواخر میں جب میں علی گڑھ گیا تو مجھے عرصۂ دراز کے بعد اپنے شفیق دوست معین احسن جذبی سے ملنے کا موقع ملا۔ یہ نظمیں اسی ملاقات کی یادگار ہیں)   باز جست     چلو کہ شہرِ فراموش کا نشاں ڈھونڈیں وہ بام و در، وہ گلی کوچے، وہ مکاں Read more about نذرِ جذبی ۔۔۔۔ منیب الرحمٰن[…]

رات شیطانی گئی ۔۔۔ ن۔ م۔ راشد

  رات شیطانی گئی ہاں مگر تم مجھ کو الجھاؤ نہیں میں نے کچل ڈالے ہیں کتنے خوف ان پاکیزہ رانوں کے تلے (کر رہا ہوں عشق سے دھوئی ہوئی رانوں کی بات!) رات شیطانی گئی تو کیا ہوا؟ لاؤ جو کچھ بھی ہے، لاؤ یہ نہ پوچھو راستہ کے گھونٹ باقی ہے ابھی آج Read more about رات شیطانی گئی ۔۔۔ ن۔ م۔ راشد[…]

ایک نظم ۔۔۔ اسنیٰ بدر

  اپنی ایک طالبہ زینب کے نام _____________________   کسے معلوم ہے بارہ برس کی سانولی زینب جب اپنے گھر پہنچتی ہے تو اوروں کی طرح کھانا نہیں کھاتی نہ بستہ پھینک کر بستر پہ گرتی ہے وہ اپنے ساتویں نمبر کے بھائی کو کھلاتی ہے کبھی روٹی پکاتی ہے کبھی سالن چڑھاتی ہے کسے Read more about ایک نظم ۔۔۔ اسنیٰ بدر[…]