منور رانا _ ہم سے محبت کرنے والے روتے ہی رہ جائیں گے ۔۔۔ منصور الدین فریدی

منور رانا نہیں رہے۔ ہندوستان کی اردو شاعری کا ایک باب موت کی آغوش میں سمٹ گیا۔ ایک ایسا انسان جس نے کبھی فلمی چکنا چوند میں خود میں ’’شترو گھن سنہا‘‘ پایا تھا بلکہ خوشیوں کے شہر میں ’’شتروگھن سنہا آف کولکتہ‘‘ بھی کہلایا تھا۔ لیکن یہ قسمت تھی جس نے ایک ایسی انگڑائی لی کہ دنیا نے اسے ایک شاعر ’منور رانا ‘ کے طور پر جانا اور چاہا۔ خود منور رانا نے نہیں سوچا ہو گا کہ ان کا فلمی شوق انہیں فلمی پردے کے بجائے مشاعرے کے اسٹیج پر پہنچا دے گا۔ وہ انسان جو شتروگھن سنہا کے ساتھ مختلف فلمی ہستیوں کی آواز کی نقل کرنے کا ماہر تھا دنیا میں اپنی حساس شاعری کے لیے دل جیتے گا اور دماغ پر حاوی ہو جائے گا۔

وہ فلم زدہ نوجوان جب شاعری کے عروج پر پہنچا تو ایک ایسا شاعر نظر آیا جس کی شاعری مقدس رشتوں کی پاکیزگی اور احترام سے عبارت بنی۔ جس نے اپنی شاعری میں دنیا کے سب سے مقدس ’’ماں‘‘ کے رشتے کو جس انداز میں پیش کیا۔ اسے بھلایا نہیں جا سکے گا۔ شاعری کی دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ محبت کے جذبوں کا اظہار آسان نہیں ہوتا لیکن منور رانا نے اس جذبے کا بھی خوب اظہار کیا اور ہر ممکن موقعے پر ’’ماں‘‘ کے تصور کو نہایت خوبصورتی سے اپنے اشعار کے قالب میں ڈھالا۔ یہی وجہ ہے کہ منور رانا کو رشتے کے تعلق سے دل کی بات کہنے کے لیے جو مقبولیت حاصل ہوئی، ان کے معاصر شعرا میں کسی اور۔ کو نہیں مل سکی

دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہے لیکن

ماں نے مجھے دیکھا تو تھکن بھول گئی ہے

ایک اور مقبول شعر ہے کہ۔–

لپٹ جاتا ہوں ماں سے اور موسی مسکراتی ہے

میں اردو میں غزل کہتا ہوں ہندی مسکراتی ہے

ساہتہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ ممتاز ادیب حقانی القاسمی کے بقول۔ ۔ منور رانا نے اپنی شاعری کے لیے ایک نئی بشارت دی اور یہی انسانی جذبہ اور احساس ان کی شاعری کو زندہ رہنے کی ضمانت عطا کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں سب سے بڑی لہر جو ہے وہ ہے انسانیت کی لہر وہی سورج، دہی روشنی وہی خوشبو، وہی پھول ہے جو انسانی وجود سے وابستہ ہیں۔ انسانی رشتے کی قطری خوشبو نے ہی ان کی شاعری کو تازگی تحرک، توانائی اور تمکنت عطا کی ہے۔ بقول ممتاز شاعر معین شاداب کہ۔ ۔ ان کے اشعار میں رشتوں کا حسن رہا، وہ ٹوٹتے بکھرتے بشری رابطوں کو جوڑتے رہے۔ وہ صارفیت کے اس عہد میں انسانی رشتوں کی قیمت نہیں، قدر طے کرتے رہے۔ محنت کشوں کے پسینے کو انہوں نے اپنے قلم کی روشنائی بنایا۔ منور رانا سماجی خرابیوں کے خلاف شکوہ نہیں احتجاج کرتے۔ حق و انصاف کی خاطر اقتدار سے ٹکر لیتے رہے۔

 

فلمی چکر کا خاتمہ

 

منور رانا اپنے دور جوانی میں شہر بھر میں توجہ کا مرکز تھے، اداکاری کا شوق انہیں قلم کار بنا رہا تھا تو اداکار بھی۔ انہوں نے ڈرامہ نگاری شروع کی۔ مختصر کہانیاں لکھیں۔ وہ ڈراموں کی طرف راغب ہو گئے۔ اس طرح 1971 میں انہوں نے اپنا پہلا ڈراما ’’جئے بنگلا دیش‘‘ کلکتہ کے ہومیوپیتھی کالج میں منعقدہ سہ لسانی ڈراما مقابلے کے لیے نہ صرف تحریر کیا بلکہ اس کی ہدایت کاری بھی انجام دی۔ جسے انعام یافتہ بھی قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے پرتھوی راج اور آغا حشر کاشمیری کے کئی ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔ بالخصوص سجن کمار کی زیر ہدایت آغا حشر کاشمیری کا ڈرامہ ’’ آنکھ کا نشہ‘‘ میں بینی پرشاد کے مرکزی کردار میں ان کی اداکاری اتنی پسند کی گئی کہ اس ڈراما کے کئی کامیاب شوز منعقد کیے گئے۔ بالآخر انہوں نے فلم اداکار، ہدایت کار اور پروڈیوسر جوگندر کی ایک فلم ’’گیتا اور قرآن‘‘ کے لیے کہانی بھی لکھی۔ جس کا ٹائٹل بھی طے ہو گیا تھا لیکن کسی وجہ سے یہ فلم نہ بن سکی۔ اس ناکامی کے بعد منور رانا نے اداکاری اور ڈرامہ نگاری ترک کرنے کا فیصلے کیا تھا۔ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اس میدان میں ان کی کامیابی مشکوک ہے

 

شتروگھن سنہا آف کلکتہ سے منور رانا تک

 

اہل کولکتہ جانتے ہیں کہ منور رانا کو شاعری نے کس انداز میں پر لگائے۔ فلمی چکر اور ڈرامہ نگاری کے چنگل سے آزاد ہونے کے بعد آٹھویں دہائی میں منور رانا نے قلم تو اٹھایا لیکن ڈرامہ نگاری کے لیے نہیں بلکہ شاعری کے لیے۔ ان کا خیال تھا کہ بنگال میں شاعری کا میدان ان کے لیے موزوں رہے گا۔ کیونکہ اس دور میں مشاعروں کی رونق بھی کسی فلمی محفل سے کم نہیں ہوتی تھی۔ غزل کو وسیلۂ اظہار بنانے کے ساتھ انہوں نے مشاعروں کی دنیا میں ’سید منور علی‘ نے خود کو ۷۰۔ ۱۹۶۹میں قلبی واردات، احساسات اور جذبات کی چنگاری سے ’’منور علی آتش‘‘ بن کر متعارف کرایا۔

میں نے اپنے اس دور میں منور رانا کو قریب سے دیکھا تھا، ان کا زکریا اسٹریٹ میں ’رانا ٹرانسپورٹ‘ تھا جو کہ خاندانی کام تھا۔، وہ اخبارات کے دفاتر میں بھی نظر آتے تھے اور اس وقت کے ممتاز صحافیوں کے ساتھ ان کے بہت اچھے مراسم ہو گئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شاعری کی شروعات میں منور رانا نے پروفیسر اعزازؔ افضل کو استاد بنایا تھا۔ جن کے بغیر بنگال کی تاریخ اردو ادب مکمل نہیں ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ منور رانا نے اپنی شعلہ بیانی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اپنی عمر کے سولہویں سال میں پہلی نظم کہی جو محمد جان ہائر سیکنڈری اسکول کے مجلے میں چھپی لیکن بحیثیت شاعر ان کی پہلی تخلیق سال 1982 میں منور علی آتش کے نام سے کلکتہ کے ایک معیاری رسالہ ماہنامہ ’’شہود‘‘ میں شائع ہوئی۔ آگے چل کر منور رانا نے نازش پرتاپ گڑھی اور رازؔ الہٰ آبادی کے مشوروں سے اپنا تخلص بدلا اور ’’منور علی شاداں‘‘ بن کر غزلیں کہنے لگے۔ بعد ازاں انہوں نے جب والی آسیؔ سے شرف تلمذ حاصل کیا تو ان کے مشورے سے 1977 میں ایک مرتبہ پھر اپنا تخلص بدلا اور ’’منورؔ رانا‘‘ بن گئے۔ اس طرح سید منور علی کو منور علی آتش سے منور علی شاداں ؔ اور پھر منور رانا بننے تک پورے نو سال کا عرصہ لگ گیا۔

 

شاعری کے ساتھ نثری ادب

 

ملک میں شاعری کے دیوانے بلاشبہ منور رانا کی شاعری میں ہی غرق رہے لیکن ان کی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ شاعری کے علاوہ منور رانا کی ایک بڑی خصوصیت ان کی تیکھی، دھاردھار، لطیف و دل پذیر اور رواں دواں نثرنگاری بھی ہے۔ وہ اپنی خداداد شعری صلاحیتوں کی طرح نثر لکھنے پر بھی ید طولیٰ رکھنے والے ایسے قلم کار ہیں جو انشائیہ اور خاکہ نگاری کے میدان میں بھی اپنے ہم عصر لکھنے والوں سے کہیں آگے ہیں۔ ان کے انشائیوں کے مجموعے بغیر نقشے کا مکان، سفید جنگلی کبوتر اور خاکوں کا مجموعہ ’’چہرے یاد رہتے ہیں‘‘ اردو نثری ادب میں کبھی فراموش نہ کی جانے ولی تخلیقات ہیں۔ منور رانا کئی اہم اداروں سے وابستہ رہے اور مختلف عہدوں پر بھی فائز رہے جن میں اتر پردیش اردو اکادمی کے سابق صدر، والی آسی اکیڈمی کے چیئرمین اور رکن مجلس انتظامیہ مغربی بنگال اردو اکادمی جیسے اہم عہدے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اردو روزنامہ مسلم دنیا، لکھنؤ اور ہندی ہفت روزہ ’جن بیان‘ لکھنؤ کی ادارت سے منسلک رہے۔

 

تنازعہ ایک ایوارڈ واپسی کا

 

ان کی زندگی میں یوں تو ملک کا کوئی ایوارڈ ایسا نہیں تھا جو ان کی جھولی میں نہیں آیا ہو، مگر ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ برائے اردو ادب 2014۔ کے ساتھ ایک تنازعہ جڑ گیا تھا جب 2015 میں ایک راست ٹیلی ویژن گفتگو کے دوران انہوں نے ملک میں عدم روا داری اور دیگر انعام واپس کرنے والوں کے جذبے کے خلاف انعام اور انعامی واپس کر دی۔ ساتھ ہی مستقبل میں کوئی سرکاری اعزاز لینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

در حقیقت منور رانا نے شہرت اور مقبولیت کی جو بلندی پائی، وہ ہر کسی کے نصیب میں نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ منور رانا کو اپنے سیدھے سادے الفاظ اور عام فہم انداز بیان سے براہ راست لوگوں کے دلوں میں اتر جانے کا ہنر آتا تھا۔ ان کی غزلیں جذبے کی صداقت سب سے بڑی طاقت تھی۔ جن سے ان کی شعری اور فکری۔ شناخت میں انفرادیت کی جھلک بہت نمایاں ہوتی تھی۔

ایک بار انہوں نے کہا تھا کہ۔ اسپتال آدمی کو زندہ رکھنے کی آخری کوشش کا نام ہے۔ ۔ ان کی زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ بیماری نے ایسا جکڑا کہ منور رانا مشاعروں سے دور اور اسپتال کے قریب ہو گئے اور اب اس بیماری سے لڑتے ہوئے موت کی آغوش میں چلے گئے لیکن ان کی شاعری، ہی انہیں اس دنیا سے جانے کے بعد بھی زندہ رکھے گی۔

ماخذ: آواز

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے