شوہر کیسے کیسے ۔۔۔ سلمیٰ یاسمین نجمی

شوہر حضرات بھی تو لوگوں کی ہی ایک قسم ہیں کیونکہ خواتین کی اکثریت کی گفتگو شوہروں کے قصیدوں یا فضیحتوں سے شروع ہو کر اس موضوع پر ختم ہوتی ہے۔ یہاں ہماری مراد شادی شدہ خواتین ہیں۔ دنیا کا کوئی مسئلہ ہو، کوئی معاملہ ہو، بادہ و ساغر کی طرح بچے اور شوہر صاحب دھرے ہوتے ہیں اور ان کی رائے حرف آخر سمجھی جاتی ہے۔ سقراط، بقراط سب ان کے شوہروں سے سامنے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔ بھئی شوہر ان کے ہیں نکاح میں بندھی ہوئی ہیں مجبوری ہے۔ جو چاہیں انہیں سمجھیں مگر دوسروں نے کیا کیا ہے جو وہ بھی ایمان لائیں۔

ایک دوست ہیں ہماری۔ کہنے لگیں‘‘ بھئی میرے میاں تو چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا ہیں۔’’

’’کون سی والی؟ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا یا شاہکار بک والوں کی؟’’

’’وہ انسان ہیں کتاب نہیں۔ میں تو کہہ رہی تھی کہ دنیا کی تمام معلومات ان کی فنگر ٹپس پر ہوتی ہیں ملکی معاملات ہوں کہ بین الاقوامی، سیاست ہو یا معیشت، تاریخ ہو یا جغرافیہ یہاں تک کہ اسٹاک ایک چینج کے کریش کی وجوہات بلکہ راز بھی تمہیں بتا دیں گے، اور اسپورٹس میں تو خیر ان کی جان ہے۔ تم جو چاہو پوچھ لو۔‘‘

’’ہمیں کسوٹی کسوٹی کھیلنے کا کوئی شوق نہیں، نہ ہمارا تعلق ایف بی آئی سے ہے۔ تم ہی کان کھاؤ ان کے۔‘‘

’’سچ کہتی ہوں تم کوئی موضوع چھیڑ کر تو دیکھو۔ بخیے ادھیڑ کر رکھ دیتے ہیں۔‘‘

’’بھئی بخیے ادھیڑنا تو سب سے مشکل کام ہے۔ ہمیں تو زہر لگتا ہے۔ اس لیے ہم نے سینا پرونا سیکھا ہی نہیں۔ کون بخیے ادھیڑتا رہے اور ترپائیاں کرتا رہے۔ کیا وہ ترپائی کاج بٹن وغیرہ بھی کر لیتے ہیں؟؟‘‘

’’نا، کیا وہ درزی کی اولاد ہیں؟ ایک بہت بڑی کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں۔ سمجھیں تم۔‘‘

’’تو پھر بخیے کیوں ادھیڑتے ہیں۔؟‘‘ ہم نے معصومیت سے پوچھا۔

’’اللہ تم سے پوچھے تم تو بات کی کھال ادھیڑتی ہو۔‘‘ وہ خفا ہو گئیں۔

یہ آپ کو ادھیڑنے سے اتنی دلچسپی کیوں ہے کہ بے چارے بال کی بھی کھال لے کے آدھی کر دی ہے۔ ارے بھئی بال کی تو کھال اتاری جاتی ہے۔‘‘

’’خدا کے واسطے چپ ہو جاؤ۔ وہ چلائیں۔ اب کیا تم میری کھال اتارو گی۔‘‘

دوسری خاتون بولیں۔ ’’بھئی میرے میاں بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ وہ محض گفتار کے غازی نہیں ہیں۔ عمل کرتے ہیں عمل۔ ہر فن مولا ہیں۔ دیوار میں کیل ٹھکوانی ہو، فیوز لگوانا ہو، فلش کی ٹنکی ٹھیک کروانی ہو، گیزر کا مزاج درست کرنا ہو۔ کسی کی خوشامد نہیں کرنی پڑتی۔ یہ سارے بکھیڑے وہی سنبھال لیتے ہیں۔‘‘

’’تو کیا آپ کے میاں کوئی پلمبر وغیرہ ہیں؟‘‘ کسی نے پوچھا۔

’’کیوں جی گھر کے کام کرنے سے کوئی پلمبر یا مستری بن جاتا ہے،  کیا امریکہ یورپ میں سب کے میاں گاربیج کے تھیلے ڈھوتے نظر نہیں آتے، گھر میں ویکیوم وغیرہ بھی کرتے ہیں۔ کرتے ہیں یا نہیں؟؟‘‘

ہم نے فوراً ہاں میں ہاں ملائی۔ ’’کیوں نہیں،  کیوں نہیں‘‘

 

ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی

یک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبعیت بھی

 

’’یہ حسرت صاحب کون ہیں؟ میرے میاں کا نام تو شفقت ہے اور میں نے یہ کب کہا کہ وہ چکی میں آٹا پیستے ہیں۔ یہ تم بھری محفل میں بیٹھ کر الٹی سیدھی نہ ہانکا کرو۔‘‘

ان کی ہمسائی بولیں۔ ’’تم نے تو بتایا تھا کہ ایک بار جو وہ کیل ٹھونکنے لگے تو اپنی آستین کا کف بھی ساتھ میں ٹھونک دیا۔‘‘

’’ہائے تو کیا وہ تصویر کی طرح دیوار سے لٹک گئے تھے۔‘‘

’’اللہ نہ کرے وہ کیوں لٹکتے۔ انہوں نے فوراً قمیص اتار دی۔ سو وہ لٹکی رہی۔ اصل میں ان کی نظر کمزور ہے۔ اس دن اپنی عینک کہیں رکھ کر بھول گئے تھے تو بغیر عینک کے ہی کیل ٹھونکنے لگے۔ ایک دو بار تو اپنے انگوٹھے پر بھی ہتھوڑی دے ماری۔‘‘

ان ہی ہمسائی نے پھر یاد دلایا۔ ’’ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی گل کھلاتے رہتے ہیں،  ایک بار جو غسل خانے کا نلکا ٹھیک کرنے لگے تو پورا پائپ ہی اکھاڑ دیا۔ لو جی سارا گھر ہی جل تھل ہو گیا۔ قالین بھیگ گئے، بچوں کی کاپیاں، کتابیں اور جوتے تیرتے پھر رہے تھے۔‘‘

’’تو کیا ہو گیا۔ آخر کو بندہ بشر ہیں بھول چوک ہو جاتی ہے۔‘‘

’’اچھا جی اس دن تو تم نے اس بندہ بشر کے ایسے لتے لیے کہ تم سے جان چھڑا کر ہر فن مولا صاحب ایسے اڑنچھو ہوئے کہ شام کی خبر لائے۔

لو۔ کیسی ہمسائی ہے میری۔ تمہیں اور کوئی کام نہیں، سوائے میرے گھر کے اندر تاکا جھانکی کرنے اور کن سوئیاں لینے کے۔‘‘

’’لو جی اور سنو،  اب جو تم پنچم سر میں میاں سے لڑو گی تو کان میں آواز تو آئے گی نا۔ میں کوئی بہری تو نہیں اور نہ سارا دن کان میں روئی ٹھونس کر بیٹھ سکتی ہوں۔ بھئی تم پیسے بچانے کا چکر چھوڑ کر اصلی پلمبر بلوا لیا کرو تاکہ تمہارے بہت سے مسائل حل ہو جایا کریں۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم نے آج تم اپنے میاں سے تنکا دوہرا نہیں کروایا۔ وہ خیر سے ہمارے شوہر ہیں نوکر نہیں۔ ہم تو چائے ناشتہ تک ان کو بستر پر پہنچاتے ہیں۔ کپڑے استری کر کے غسل خانے میں لٹکا دیے۔ جوتے چمکا کر سامنے دھر دیے۔‘‘

’’اور منہ کون دھلاتا ہے؟‘‘ ہمسائی کی ہمسائی بولیں۔

’’اللہ نہ کرے،  کوئی ہاتھ پیر سے معذور ہیں کیا اور فرض کیا۔ ہم منہ بھی دھلوا دیں تو ایسی کون سی آفت آ جائے گی۔ آخر چلمچی آفتابے کے دور میں دھلایا ہی جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے شوہروں کے بڑے حقوق رکھے ہیں۔ خدمت گزار بیویاں سیدھی جنت میں جائیں گی۔‘‘

’’اچھی بیویوں کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ شوہروں کے پیر دھو دھو کر پیتی ہیں۔ کیا خیال ہے؟؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

’’اللہ نہ کرے کہ ہم کسی کے پاؤں دھو کر پئیں۔ انہوں نے ابکائی لی۔ دنیا میں خالی یہی مشروب رہ گیا ہے پینے کو۔‘‘

ان کی ہمسائی پھر بولیں۔ ’’سچ بتاؤ۔ یہ تم خدمت کس وقت کرتی ہو؟ سارا دن تو تیرا بازار کی خاک چھاننے یا تیرے میرے گھر کے چکر لگانے میں گزر جاتا ہے۔ جو باقی بچتا ہے وہ لگائی بجھائی بلکہ ’’لگائی‘‘ پر کٹتا ہے۔ بھئی ہم نے خود اپنی گناہ گار آنکھوں سے انہیں روٹی پکاتے دیکھا ہے۔‘‘

’’اوئی اللہ۔  کسی اور کو دیکھا ہو گا۔ وہ اور روٹی پکائیں۔ باؤلی تو نہیں ہو گئیں۔‘‘

’’تو کیا ان کا کوئی جڑواں بھائی بھی ہے؟ یا میاں کی کلوننگ کروائی ہے ایک شکل کے دو شوہر کیسے ہو سکتے ہیں؟ ہم نے بیل دی،  موصوف ایپرن باندھے چہرہ مبارک پر آٹے کا غازہ لگائے ہاتھ میں بیلنا پکڑے برآمد ہوئے۔ اب یہ حلیہ تو کسی روٹی پکانے والے کا ہی ہو سکتا ہے۔ ہم نے پوچھا کہ تم کہاں ہو؟ تو انہوں نے بیلنے سے اشارہ کیا۔ اگر ہم اچک کر پیچھے نہ ہو جاتے تو یقیناً ہماری ایک آدھ آنکھ اس بیلنے سے پھوٹ سکتی تھی۔ پھر انہوں نے یہ یاد کرنے کی کوشش کی کہ تم جن محترمہ کے گھر براجمان ہو،  ان کا بھلا سا نام کیا ہے۔ بے خیالی میں اپنا ہاتھ سمجھ کر انہوں نے بیلنا اپنے صفا چٹ کوجیک نما سر پر دے مارا اور پھر دوسرے ہاتھ سے سر سہلاتے رہے انگلیوں پر لگا آٹا بے چارے سر پر چپک گیا۔ اسی بیلنے سے انہوں نے ایک بار اپنا کان اور دوسری بار اپنی پیٹھ کھجانے کی سعی ناکام فرمائی۔ اب تم خود بتاؤ کہ بیلنے سے روٹی بیلی جاتی ہے یا مقالہ لکھا جاتا ہے۔‘‘

’’توبہ استغفار۔ اگر کبھی بھولے بھٹکے پکا بھی لی تو کون سا گناہ ہو گیا۔ ہم گھر میں جو نہیں تھے۔ آخر پیٹ تو ہر بندہ بشر کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ بھوک لگ رہی ہو گی زور کی۔‘‘

’’ارے بھئی تم روٹی پکواؤ یا آٹا گندھواؤ،  ہماری بلا سے۔ تمہارے میاں ہیں تم جانو، سچی بات پوچھو تو شکل سے بڑے مظلوم لگتے ہیں۔‘‘

’’تم چاہتی ہو کہ ظالم لگیں، تمہارے میاں کی طرح۔ آغا حشر کے ڈرامے صید ہوس کے جلاد کی طرح۔‘‘

انہوں نے ان کی بات نظر انداز کر دی اور بڑے معنی خیز انداز میں بولیں۔ ’’اب تم پوچھو انہیں دوسری مرتبہ ہم نے کہاں دیکھا۔‘‘

’’نا میں کوئی لال بھجکڑ ہوں جو بوجھوں ظاہر ہے بریلی کے بازار میں تو نہ دیکھا ہو گا۔‘‘

’’نہ جی نہ،  بریلی کے بازار تک جانے کی کیا ضرورت ہے۔ اب تو اتوار اور جمعہ بازار ہوتے ہیں۔ بستر پر چائے ناشتہ نوش فرمانے کی بجائے اک پھٹیچر سی چپل پہنے ہاتھ میں تھیلا لٹکائے ایک ایک آلو پیاز تمہارے لیے چن چن کر خرید رہے تھے۔‘‘

’’اب اتوار بازار میں وہ بالی(Bali) کا جوتا پہن کر جانے سے تو رہے۔ در اصل ان کی پسند بڑی منفرد اور اونچی ہے۔ کسی کا لایا ہوا گوشت، مرغی یا سبزی ان کو پسند نہیں آتی۔ خوب ٹھونک بجا کر اور چھانٹ کر لاتے ہیں۔‘‘

’’سبزی پھل خریدتے ہیں یا کسی کا رشتہ طے کرتے ہیں۔ حد ہو گئی۔ میں تو صرف اس لیے پوچھ رہی ہوں کہ تم جمعہ اور اتوار بازار کے بڑے خلاف تھیں اور کہتی تھی کہ بھئی میں تو سب کچھ کورڈ مارکیٹ سے خریدتی ہوں بندہ دام زیادہ دے۔ پر چیز اچھی خریدے۔ اتوار بازاروں میں کون مارا مارا پھرے۔‘‘

’’آں جام شکستند و آں ساقی نہ ماند۔ کورڈ مارکیٹ ہی نہیں رہی۔ تو اب بے چارے اتوار بازار نہ جائیں۔ تو کیا لندن پیرس جائیں گے ہم نے ان کا ساتھ دیا۔‘‘

’’بس اب آئندہ سے میاں کی ناز برداریوں کے قصے سنانا بند کرو اور اللہ کے واسطے ان کے ہاتھ سے بیلن لے لو۔ کسی دن غصے میں آ کر تمہارے سر پر نہ دے ماریں۔‘‘

یہ کہہ کر وہ چمپت ہو گئیں اور ہم ناز برداری کرنے والی خاتون سے ہجو سنتے رہے۔

٭٭

 

 

ایک چیز ہماری ناقص عقل میں نہیں آتی کہ بیگمات تو بڑی عمر میں بھی ماشا اللہ نک سک سے درست،  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں لگتی ہیں واکنگ اور ڈائٹنگ کر کر کے سلم سمارٹ۔ اس پر ان ہی کے درجے کے سلک کے سوٹ۔ شانوں پر پڑی قیمتی پشمینہ کی شالیں۔ ہم رنگ پرس اور جوتے۔ انگلیوں میں جگمگاتی انگوٹھیاں۔ باقاعدگی سے جم اور بیوٹی پارلرز کے چکر اور فیشل سے لائی گئی آپ اور پھر قیمتی کوسمیٹکس کے استعمال سے چھپائی گئی لکیریں۔ سنہری کمانیوں کی عینک یا لینس اور سنہرے رنگے بالوں میں پڑی اسٹریکس مگر جب ان کے شوہروں کو دیکھیں تو عبرت حاصل ہوتی ہے۔ ان کے مقابلے میں اپنی خستہ حالی کی وجہ سے وہ شوہر کم اور خانساماں،  ڈرائیور یا چوکیدار لگتے ہیں۔ چلیے جی کچھ قدرت کی وجہ سے عطا میں کمی رہ گئی ہو گی۔

٭٭

 

کچھ عمر کا تقاضا بھی ہو گا مگر ہمارے نزدیک بیویوں کی بے توجہی کا اس میں بڑا عمل دخل ہے اپنے سے فرصت ہو تو غریب شوہر کا دھیان کریں۔ اکثر آپ کو ان ٹپ ٹاپ لیڈیز سے چند قدم پیچھے چلتا ہوا ایک ڈھیلا ڈھالا شخص نظر آئے گا یا تو وہ سوکھا امچور کی پھانک ہو گا۔ آنکھوں پر موٹے شیشوں کی عینک، چھدرے چھدرے بال جو اکثر کھڑے ہی رہتے ہیں۔ سفاری سوٹ جسم پر لٹکا ہوا نظر آتا ہے کیونکہ اچھے وقتوں میں بنا تھا جب آتش جواں تھا یا پھر اسی سوٹ یا شلوار قمیص واسکٹ میں پھنسا ہوا بندہ دکھائی دے گا۔ سر کے بال امتداد زمانہ کے ہاتھوں غائب۔ صفا چٹ میدان کے بعد عینک بار بار پھسل کر ناک کی پھنگ پر اٹک جاتی ہے۔ بیگم سے اتنا نہیں ہوتا کہ اس کی کمانیاں کسوا لیں یا فریم بدلوا لیں۔ تربوز نما پیٹ شرٹ سے باہر آنے کو بے قرار، بٹن بے چارے بمشکل اس کو تھامے ہوئے لڑھکتے چلے آ رہے ہیں۔ ایسے قابل رحم حلیے والے شوہروں کو دیکھ کر دل دکھنے لگتا ہے۔

 

اپنی طرف پھینکے ہیں گل بلکہ ثمر بھی

اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی۔

 

بھئی اب اپنے سے کچھ بچے گا تو پھینکا جائے گا۔ ایک صاحبہ کے شوہر کے اوپر نیچے کے دو دو دانت غائب تھے۔ ہم نے کہا۔ ’’آپ نے اتنی قیمتی بتیسی فٹ کروا رکھی ہے، دو چار دانت میاں کے بھی لگوا دیتیں۔ تو کیا حرج تھا؟ بے چاروں کے نوالے اور الفاظ منہ سے نکل نکل بھاگتے ہیں۔‘‘

’’واہ بھئی واہ۔‘‘ وہ چمک کر بولیں۔ ’’دانت لگوا دوں۔ بال ٹرانسپلانٹ کرا دوں تا کہ کوئی شکارن جو شکار میں بیٹھی ہو،  وہ آ کر جال ڈالے اور میرا میاں لے اڑے۔‘‘

ہم بڑے حیران ہوئے۔ یہ کیا بات ہوئی۔ خود سجی سنوری رہو اور ان کو برے حال میں رکھو۔

’’ہاں تو عورتوں کو تو کہا گیا ہے کہ اپنے شوہروں کے لیے سجیں بنیں۔ مردوں کو ایسا حکم کب دیا گیا ہے۔ مرد کی یہ عمر بڑی خطرناک ہوتی ہے۔ وہ آسودہ حال ہو چکا ہوتا ہے۔ کار بنگلہ، بینک بیلنس سب موجود، چھوکریاں ایسے ہی مردوں کے لیے گھات لگائے بیٹھی ہوتی ہیں۔ میرے لیے کیا ضروری ہے کہ میں انہیں سجا سنوار کر رکھوں اور اپنا گھر برباد کروں۔ بس بھئی بس، بی لومڑی، بلی لنڈوری ہی بھلی۔‘‘

’’یہ آپ ہمیں لومڑی کہہ رہی ہیں وہ بھی لنڈوری۔‘‘

’’اصل میں،  میں یہ کہنا چاہ رہی ہوں بلکہ گر کی بات بتا رہی ہوں کہ اپنے شوہروں کا حلیہ خراب اور خستہ ہی رکھنا۔ نہ منہ میں دانت ہوں، نہ پیٹ میں آنت،  تب ہی سکون سے زندگی گزار سکوں گی اور پھر جب ہمیں کوئی اعتراض نہیں تو کسی اور کو کیوں ہو؟‘‘

٭٭

 

خواتین کی ایک محفل تھی۔ خواتین حسبِ معمول اپنے شوہروں کے یا تو بخیے ادھیڑ رہی تھیں یا پھر قصیدے پڑھ رہی تھی۔ ایک خاتون بولیں۔

’’شکر ہے اللہ کا،  شوہر کے معاملے میں،  میں بڑی لکی (خوش قسمت) ہوں۔ میرے میاں انتہائی با وقار، سوبر اور ہینڈسم ہیں۔‘‘

دوسری نے پوچھا۔ ’’کیا یوسف ثانی ہیں؟‘‘

’’کم نہیں ہیں۔ بخدا عورتیں دیکھیں تو انگوٹھے کاٹ لیں۔ جل مریں۔‘‘

ایک اور نے پوچھا۔  ’’کس کے انگوٹھے۔؟‘‘

ساری عورتوں کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔

’’خدا نخواستہ ہم کیوں کسی غیر مرد کی خاطر اپنے انگوٹھے کاٹ کر بیٹھ جائیں۔‘‘

’’اور تمہارے انگوٹھے کیسے سلامت ہیں؟ تم نے کیوں نہ کاٹے بی زلیخا!‘‘

ایک اور بولی ’’اگر تمہارے میاں یوسف ثانی ہیں تو ہمارے کیا کسی افریقہ کے جنگل سے پکڑ کر لائے گئے ہیں۔‘‘

’’تمہارے بچے دیکھ کر تو یہی شک ہوتا ہے۔‘‘ وہ پورے اطمینان سے بولیں۔

’’دیکھو زبان سنبھالو۔ اب تم بچوں تک پہنچ رہی ہو۔ کوئی ماں یہ برداشت نہیں کر سکتی۔ تم نے کبھی اپنے بچے دیکھے ہیں’بل بتوڑے ناسیں چوڑے۔‘‘‘

بڑی مشکل سے خواتین کو باہم لڑنے سے بچایا گیا۔ تقریب کا اختتام ہوا۔ ہم باہر نکلے تو سامنے ایک گاڑی میں ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمیں دیکھ کر باہر نکل آئے۔

فاختی رنگ کے شلوار سوٹ میں ملبوس تھے۔

پیروں میں پلاسٹک کے چپل پہنے ہوئے۔ پسینہ بری طرح بہہ رہا تھا۔ گنجے سر پر سائیڈ سے چند لٹیں گھسیٹ گھساٹ کر چندیا پر چپکائی ہوئی تھیں۔ رنگ گہرا سانولا تھا۔ آنکھیں موٹے موٹے شیشوں میں سے جناتی سائز کی نظر آ رہی تھی۔ ایک لمحے کو تو ہم ڈر سے گئے۔

’’سنیے جی،  ذرا بیگم سیف اللہ کو بلا دیں۔ گھنٹہ بھر ہو گیا انتظار کرتے۔

ہم الٹے پیروں پلٹے۔ ’’مسز سیف اللہ! آپ کا ڈرائیور بلا رہا ہے۔‘‘

’’ڈرائیور!‘‘ وہ ذرا کی ذرا حیران ہوئی ’’ہمارے پاس تو آجکل ڈرائیور ہے ہی نہیں۔‘‘

’’ایک مخنچو سا بندہ آپ کو بلا رہا تھا۔ ہم سمجھے ڈرائیور ہو گا۔‘‘

’’پتہ نہیں سیفی نے کس بد بخت کو بھیج دیا میں نے تو کہا تھا کہ خود لینے آئیں۔ میں نے شاپنگ کے لیے چین ون جانا تھا۔ جان چھڑانے کے لیے جانے کس کو بھجوا دیا۔ پتہ نہیں یہ شوہر لوگ بیویوں کی شاپنگ سے اتنا الرجک کیوں ہوتے ہیں۔‘‘ وہ بڑبڑاتے ہوئے اٹھیں۔ ہم دونوں ساتھ ہی باہر نکلے اور وہ بے چارہ بد بخت ’’مخنچو‘‘ ہی وہ سوبر، ہینڈسم، با وقار، شوہر نامدار تھا جن کو دیکھ کر انگوٹھے کٹنے کا خدشہ تھا۔

’’آپ میرے شوہر کو مخنچو کہہ رہی تھیں۔‘‘ وہ دانت پیستے ہوئے دبی زبان میں بولیں۔

’’آپ نے بھی بد بخت کہا تھا۔‘‘

’’آپ نے نقشہ ہی ایسا کھینچا تھا۔‘‘

’’مگر آپ تو کہہ رہی تھیں کہ بڑے ہینڈسم، با وقار۔ ۔ ۔‘‘

انہوں نے بات کاٹی۔ ’’تو کیا اب پچپن ساٹھ سال کی عمر میں وہ راک ہڈسن دکھائی دیں گے۔ آپ کو شوہر اور شوفر میں فرق نظر نہیں آتا؟‘‘

’’اوہو، تو آپ ان کی جوانی کا تذکرہ کر رہی تھیں۔‘‘

یہ قصہ ہے تب کا جب‌ آتش جواں تھا

’’یہ نامراد آتش کہاں سے آن ٹپکا۔ میرے میاں کا نام تو سیف ہے،  سیف۔ آپ کی یہ عجیب منحوس عادت ہے نام بدلنے کی۔ بے چارے شفقت کو اس دن حسرت بنا دیا تھا۔ مخبوط الحواس تو پہلے ہی تھیں۔ اب خیر سے سٹھیانے کا مرض بھی لگ گیا ہے۔ خبردار رہنا،  کل کلاں کو اپنے میاں کو کسی اور نام سے ہی نہ پکارنے لگنا۔‘‘

ان صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو کر اب چھلکنے لگا تھا۔

’’تمہاری یہ بک بک کب ختم ہو گی۔ میں تمہارا نوکر نہیں لگا ہوا جو اس سڑی گرمی میں بیٹھ کر تمہارا انتظار کروں اور تم وہاں اے سی میں بیٹھی گپیں لڑاؤ۔ آئندہ ٹیکسی، رکشہ کرنا یا تانگا یا گدھا گاڑی۔ مجھے تو معاف ہی رکھنا۔‘‘

وہ جلدی سے اپنے با وقار شوہر کی گاڑی میں بیٹھیں اور گاڑی ایک فراٹے کے ساتھ چل پڑی۔

٭٭

 

اسی طرح ایک بار خواتین کلب کے ایک بینچ میں ایک خاتون اپنے شوہر کی ذہانت، لیاقت، دیانت،  شجاعت، نجابت، شرافت اور حماقت کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہی تھیں۔ حماقت تو ہم کہہ رہے ہیں، ورنہ وہ تو اس کو ان کی سادگی اور بھولا پن کہہ رہی تھیں کہ کس طرح تمام دوست احباب اور خاص طور پر سسرال والے ان کو الو بنا کر اپنا الو سیدھا کرتے رہتے ہیں۔ دنیا داری کی چالاکیاں انہیں نہیں آتیں۔ ان کی تعریفیں سن کر ہمارے تصور میں تو نسیم حجازی کے ناول کا کوئی ہیرو گھومنے لگا اور ہم ان کی قسمت پر کافی دیر تک رشک کرتے رہے اور سوچتے رہے کہ آخر ہماری اماں کو ایسا کوئی ہیرو کیوں دستیاب نہ ہو سکا۔

’’نام کیا ہے آپ کے شوہر کا؟‘‘

’’شہزادہ سلیم۔‘‘

’’ہائیں،  یعنی جہانگیر۔‘‘ مارے حیرت کے ہم دم بخود رہ گئے۔

’’جہانگیر تو میرا بیٹا ہے جی۔‘‘

’’میں سمجھی نہیں۔  بیک وقت آپ بیوی اور اماں کیسے ہو سکتی ہیں۔؟‘‘

’’دماغ تو ٹھیک ہے آپ کا۔ نہ جانے کیا اول فول بک رہی ہیں۔‘‘

’’کیا یہ وہی شہزادہ سلیم ہیں جن کی انار کلی کو زندہ دیوار میں چنوا دیا گیا تھا؟‘‘

’’یہ انار کلی کون محترمہ ہیں؟ یہ آپ کی کیا لگتی ہیں اور ان کا ہمارے میاں سے کیا تعلق ہے؟‘‘

’’دیکھیں نا،  شہزادہ سلیم تو اکبر بادشاہ کا بیٹا تھا نا۔ مغل اعظم۔۔‘‘

وہ ہماری بات کاٹ کر بولیں۔ ’’اوہ تو آپ امتیاز علی تاج کے ڈرامے انار کلی کی بات کر رہی ہیں جو الحمرا میں لگا تھا۔ آپ کے خیال میں شہزادہ سلیم کا پارٹ میرے شوہر نے ادا کیا تھا؟ کیا ہمیں بھانڈ میراثی سمجھ رکھا ہے۔‘‘

’’توبہ استغفار۔ ویسے بھانڈ میراثی تو اب متروک ہو چکے۔  اب تو فنکار ہوتے ہیں۔ اصل میں ہم یہ پوچھنا چاہ رہے تھے اگر وہ مغل شہزادے نہیں ہیں تو پھر کس ملک کے شہزادے ہیں۔ ابنِ صفی کے پرنس آف ڈھمپ کی طرح کے تو نہیں ہیں۔‘‘

’’بی بی ان کا نام ہے یہ۔ آپ کو کوئی اعتراض ہے؟‘‘

’’بھئی ہمیں کیوں اعتراض ہونے لگا۔ بے شک شہنشاہ نام رکھیں یا غلام رکھیں، ہمیں کیا۔ البتہ شوہر شہزادوں سے زیادہ غلام زیادہ بہتر رہتے ہیں۔ دیکھیں نا پہلے آر سی مصحف میں دلہن اس وقت تک آنکھیں نہیں کھولتی تھی جب تک دلہا میاں یہ نہ کہتے تھے کہ بیوی آنکھیں کھولو میں تمہارا غلام۔‘‘

اتنے میں پانچ فٹ کے ایک منحنی سے صاحب شیروانی اور کھلے پائنچوں کے پاجامے میں ملبوس سلیم شاہی جوتی پہنے ہاتھ میں ایک نفیس سی چھڑی تھامے خراماں خراماں چلے آ رہے تھے مونچھیں کوب نوکیلی تھیں اور آنکھیں چمکیلی۔

’’لو وہ آ گئے ہمیں لینے۔‘‘  وہ چہک کر بولیں۔

’’تو یہ ہیں آپ کے شہزادہ سلیم۔ شرافت، نجابت اور شجاعت کے شاہکار۔‘‘

انہوں نے ہماری سنی ان سنی کی اور اپنے شہزادے کے ساتھ رفو چکر ہو گئیں۔

٭٭

 

یادش بخیر،  ہماری ایک دوست تھیں،  وہ کہا کرتی تھیں کہ ’’نوکر نوکرانیوں کو زیادہ دیر تک نہیں رکھنا چاہیے،  ورنہ وہ، چوڑ،  ہو کر سر چڑھ جاتے ہیں۔ بھئی میں تو چند ماہ بعد ہی اپنی کابینہ بدل ڈالتی ہوں۔‘‘

ایک دن بڑے غصے میں تھیں۔ ’’ببن کے ذمے صبح مجھے بیڈ ٹی دینا ہے۔ سارے دن میں بس ایک یہ کام اسے کرنا ہوتا ہے مگر کیا مجال کو کوئی ڈیوٹی نبھا سکے۔ میں صبح سے شام تک کولہوں کے بیل کی طرح لگی رہتی ہوں۔‘‘

’’بھئی بے شک تم اس وقت بہت غصے میں ہو مگر تذکیر و تانیث کا خیال تو رکھنا چاہیے۔ تم بیل کس طرح کہلائی جا سکتی ہو۔ کولہو کی گائے کہو۔ آخر کولہو میں گائے بھی تو جوتی جاتی ہو گی۔‘‘

’’میں اپنا مسئلہ تمہیں سنا رہی ہوں اور تم گائے بیل کے چکر میں پڑ گئیں۔ کیا منحوس عادت ہے تمہاری۔ اصل موضوع سے بھٹک کر غیر ضروری باتوں میں الجھ جاتی ہو۔ دیکھو نا فون کی گھنٹی بجتی رہتی ہے۔ کیا مجال جو اٹھائے۔ کانوں میں روئی ٹھونس کر بیٹھا رہتا ہے۔ میں ہی سو کام چھوڑ کر اٹھوں تو اٹھوں۔ پورا نواب زادہ ہے۔ ماں کے لاڈ پیار سے بگڑا ہوا میری قسمت میں لکھا ہوا تھا۔‘‘

’’تو بھئی بدل دو، تم سے کس نے کہا کہ ایسے نا ہنجار سے سر پھوڑو۔ دفع دور کرو۔‘‘

’’کیا کہا؟‘‘ انہوں نے ایک دلدوز چیخ ماری۔ ہم سہم کر رہ گئے۔

’’بدل دوں؟ تم نے اسے نا ہنجار کہا ہے؟‘‘

’’ہاں تو ایسے نا ہنجار کو ہڈ حرام نہ کہوں تو کیا ہز میجسٹی ببن میاں کہوں۔ خود ہی تو کہتی ہو کہ میں ہر چند ماہ بعد اپنی کابینہ بدل ڈالتی ہوں۔‘‘

’’کابینہ بدلتی ہوں،  میاں تو نہیں بدلتی۔‘‘

ہائیں۔ حیرت سے ہمارا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔

’’تو یہ تم اپنے میاں کا ذکر جمیل کر رہی تھی؟ ہم سمجھے کسی نوکر کا ذکر ہے۔ ہم کیا جانیں کہ یہ ببن کون حضرت ہیں۔ تمہارے میاں کا نام تو مرزا لال بیگ ہے۔‘‘

’’خدا تم سے سمجھے۔ اب تم نے میرے میاں کو تل چٹا بنا دیا۔ ان کا نام مرزا ہلال بیگ ہے۔ ہلال سمجھتی ہو نا۔ پہلی کا چاند۔ رہ گئی بات ببن کی تو یہ اس کی اماں کا رکھا ہوا نام ہے جو سب کے منہ پر چڑھ گیا ہے۔‘‘

’’جو بھی ہو شوہر اور نوکر کا فرق تو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ کچھ ادب اور لحاظ بھی ہونا چاہیے۔ یہ کیا کہ ایک تو نام لے کر پکارا جائے اور دوسرا، وہ آیا تھا،  وہ گیا تھا،  اس نے یہ کیا اس نے وہ کیا۔‘‘

’’اچھا تو اب میں اٹھارویں صدی کی عورتوں کی طرح شرما شرما کر، ان،  کا ذکر کروں۔ ’’وہ‘‘ کہہ رہے تھے، ’’ان‘‘  کو ذرا بلا دیں۔ خود آواز دینی ہو تو کہوں ’’اجی سنتے ہو‘‘ یا پھر منے کے ابا،  یا ’’چنی کے ابو‘‘ کہہ کر پکاروں۔ کیا مجھے وہ نیک پروین سمجھا ہے جو نکاح ٹوٹنے کے ڈر سے نماز میں سلام پھیرتے ہوئے بھی‌ ڈر کے مارے رحمت اللہ نہیں کہتی تھیں۔ بلکہ بڑے احترام سے کہتی تھی ’السلام علیکم منے کے ابا‘۔ ویسے بھی میرے منے میاں اب خیر سے بڑے ہو گئے ہیں تو بھئی میں تو ببن ہی کہوں گی۔‘‘

٭٭

 

اس طرح ہماری ایک ملنے والی تھیں۔ جب کوئی بات کرتی ٹیپ کے مصرع کی طرح ’’میرے میاں‘‘  کو درمیان میں گھسیٹ لاتیں۔ میاں کم اور پیر و مرشد زیادہ لگتے تھے۔ ہر بات ان کے حوالے سے کرتی تھیں۔

’’میرے میاں کہہ رہے تھے کہ پاکستان میں جمہوریت نام کی کوئی شے نہیں۔‘‘

’’یہ تو بہت سے لوگ کہتے ہیں۔‘‘

’’کہتے ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں ہر شخص بکاؤ مال ہے۔ صحیح قیمت لگاؤ اور خرید لو۔ کوئی چند ٹکوں میں بک جاتا ہے تو کوئی لاکھوں مگر بک جاتا ہے۔۔‘‘

کسی نے پوچھا۔ ’’اور انہوں نے اپنی قیمت کیا لگائی ہے۔؟‘‘

’’وہ تو انمول ہیں انمول۔ کوئی مائی کا لال انہیں خرید سکتا ہے؟‘‘

وہ بڑے فخر سے بولیں۔ ’’میرے میاں کہہ رہے تھے کہ ٹونی بلیئر اور بش بہت بڑے دہشت گرد ہیں۔‘‘

’’یہ بات تو نوم چومسکی نے کہی ہے۔‘‘ ہم ڈرتے ڈرتے بولے۔

’’کہی ہو گی،  مجھ سے تو میرے میاں نے کہی ہے۔ میں کیا جانوں یہ نوم چومسکی یا چوسکی کون ہیں۔‘‘

’’ہو سکتا ہے نوم چومسکی کو آپ کے میاں ہی نے بتایا ہو۔‘‘  ہم نے فوراً اتفاق کر لیا۔

بہرحال ایک دن پتا چلا کہ ’’میرے میاں،  نے دوسری شادی کر لی‘‘ تو ہم نے مشورہ دیا کہ ’’اب یہ مناسب نہ ہو گا کہ آپ میرے میاں کی بجائے ہمارے میاں کہنا شروع کر دیں۔‘‘ ہمارے اس بے ضرر سے مشورے پر تو وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گئیں۔ انہوں نے ہمیں ایسے دیکھا جیسے زندہ ہی چبا جائیں گی۔

’’تم میرا مذاق اڑا رہی ہو۔ میرے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہو۔ اللہ کرے تمہارا میاں بھی دوسری بیاہ لائے، تب تمہیں آٹے دال کا بھاؤ پتہ چلے گا۔‘‘

گویا انہوں نے ہمیں پہلی چڑیل بنا دیا۔ واقعی آج تک دنیا میں کسی نے کسی کے نیک مشوروں پر عمل کیا ہے جو وہ کرتیں۔

٭٭

 

ہمیں ایک اور شوہر یاد آ رہے ہیں۔ بہت دنوں کی بات ہے۔ جب ہم شادی کے بعد نئے نئے لندن میں رہائش پذیر تھے تو ایک دفعہ ہماری ملاقات ایک خاتون سے ہوئی۔ انہوں نے چادر اوڑھی ہوئی تھی اور کان میں لمبے لمبے سونے کے بندے تھے۔ ہمارے پوچھنے پر کہ وہ کہاں کی رہنے والی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرتارہ پورہ راولپنڈی کی۔ ہم سمجھے کہ وہ مسلمان ہیں لیکن جب بعد میں ان کے شوہر کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ سکھ ہیں۔ مگر بخدا سارا حلیہ اور طور طریقے مسلمانوں جیسے ہی لگ رہے تھے۔ ان کی شفقت کی وجہ سے دوستی کا سلسلہ چل پڑا۔ وہ کبھی کھبار ہم سے ملنے آ جاتی تھیں۔

آخر ایک دن ان کے اصرار پر ہم نے سوچا کہ ہم بھی چکر لگا لیں۔ ان کے گھر پر پہنچ کر ہم نے بیل دی۔

سردار صاحب نے دروازہ کھولا اور باہر جھانکنے لگے۔ ہم انہیں دیکھ کر حیران رہ گئے۔‘‘ یا اللہ یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا۔ کل تک تو ایک چھوٹی سی داڑھی تھی اور آج وہ ناف سے نیچے تک لہرا رہی تھی۔ ناصرف داڑھی بلکہ گھنے لہریے بال بھی کمر سے نیچے کی خبر لا رہے تھے۔ پیروں میں لکڑی کی کھڑاویں تھیں اور ایک تہمد پہنا ہوا تھا۔ ہم تو سچی بات ہے کہ پہچان ہی نہ پائے، وہ بولے۔

’’اندر آ جاؤ پتری! تمہاری آنٹی کو بتاتا ہوں۔‘‘

اسی وقت دروازہ ان کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور پٹاخ سے بند ہو گیا۔ البتہ نصف داڑھی ہماری طرف رہ گئی۔ ظاہر ہے بقیہ نصف ان کے چہرہ مبارک پر ہی موجود ہونی چاہیے۔ اب وہ کھولنے کے لیے زور لگا رہے ادھر سے ہم مدد کر رہے تھے۔ مگر درمیان میں داڑھی کے پھنس جانے کی وجہ سے وہ سختی سے بند ہو گیا تھا۔ ادھر سے ہم، پش،  کر رہے تھے اور ادھر سے وہ، پل،  کر رہے تھے۔ ہم نے جو پوری قوت سے دھکا دیا تو دھڑاک سے دروازہ کھلا۔ داڑھی تو آزاد ہو گئی مگر کھڑاویں پھسل گئیں اور سردار صاحب چاروں شانے چت زمین پر گر گئے۔ شور سن کر آنٹی بھی تشریف لے آئیں۔ بمشکل بالوں کے ڈھیر میں سے انہیں برآمد کیا۔ کھڑاویں اتروائیں اور ان کے قدموں پر کھڑا کیا۔

وہ لنگڑاتے ہوئے کسی کمرے میں غائب ہو گئے اور ہم کچھ شرمندہ شرمندہ سے ان کے ساتھ کمرے میں ‌آ گئے۔ آنٹی ست نام کور بولیں۔

’’سو واری کہا ہے کہ کھڑاویں نہ پہنا کریں، پھسل جائیں گے۔ یہ امرتسر نہیں ہے لندن ہے۔،

’’اصل میں ان کی داڑھی پھنس گئی تھی دروازے میں۔‘‘

، یہ تو روز کا ہی چکر،  جگہ جگہ پھنستی رہتی ہے۔ ایک بار تو جل بھی گئی تھی۔ کینڈل لائٹ ڈنر کا شوق ہوا تو میں نے کہہ دیا کہ سردار جی! ذرا موم بتیاں تو جلا دیں۔ موم بتیاں تو شودے کیا جلاتے، البتہ داڑھی جلا لی۔ یہ تو واہگورو کا کرم ہوا کہ منہ نہیں جل گیا۔ کوٹ،  سویٹر اور واسکٹ کے بٹنوں سے اکثر مجھے ہی چھرانی پڑتی ہے۔‘‘

، مگر یہ داڑھی ایک دن میں کیسے اگ آئی کل تک تو نہیں تھی۔‘‘

، ایک دن میں‘‘  وہ حیران ہو کر بولیں۔‘‘  نہ جی نہ،  یہ تو سدا سے ہے۔ باہر نکلتے ہوئے اسے لپیٹ لیتے ہیں‘‘

ہم نے آنٹی کی چوہے کی دم جیسی چوٹی پر نظر ڈالی۔

’’ماشا اللہ انکل کے بال تو کسی حسینہ کی طرح گھنے اور لمبے ہیں اور ابھی تک کالے سیاہ ہیں۔ اس کا راز کیا ہے؟ ہم نے رشک سے پوچھا۔

’’کیا کرنا ہے۔ اصل راز ہی یہی ہے کہ کچھ نہیں کرتے۔ ہمارے بال تو فکریں کر کر کے،  غم کھا کھا کے جھڑ گئے ہیں۔ ان کا یہ ہے کہ‘‘ فکر نہ فاقہ عیش کر کاکا’’ بڑی دیکھ ریکھ کرتے ہیں۔ یہاں بھی لسی سے سر دھوتے ہیں۔ سر میں مکھن لگاتے ہیں۔ دہی انڈے بھی سر پر تھوپتے رہتے ہیں۔ میرے پاس اتنی فرصت کہاں۔ ساری دیہاڑ ہانڈی روٹی، صفائی ستھرائی میں گزر جاتی ہے۔

ہم بولے‘‘

داڑھی تو بڑھا لی سن کی سی

مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی

’’ہیں،  تو کیا مولوی مدن کی داڑھی سردار صاحب سے بھی لمبی تھی؟

’’اجی کہاں،  ہم تو آپ کے سردار جی کو مولوی مدن کا خطاب دے رہے تھے۔ ان سے لمبی داڑھی کسی کی نہیں ہو سکتی۔ آپ مطمئن رہیں۔‘‘

اتنے میں سردار جی کی آواز آئی۔ ’’او نیک بختے، ونڈو شٹ کر دے۔ سی لگ رہا ہے۔ نالے ہاٹ ملک میں ایک انڈا پھینٹ کر دے۔ پتری کی کچھ خاطر بھی کی ہے یا خالی گپیں لگا رہی ہے۔ پھش فنگراں (fish fingers) فرائی کر دے ٹی شی بنا کر دے۔‘‘

تو یہ تھے آنٹی ست نام کور کے شوہر سردار جاگیر سنگھ۔‘‘

٭٭

 

اب قارئین یہی کہیں گے کہ دوسروں کے کچے چٹھے تو کھول دیے، یہ تو بتاؤ تمہارے شوہر کس کھیت کی مولی ہیں؟ یہاں ہمیں مولی پر اعتراض ہے۔ مولی مونث ہوتی ہے۔ اب اسے اگر مردوں کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے یقیناً مردانگی کی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔ مردوں کے لیے مختلف محاورے ہونے چاہیں۔ یعنی ’’ذرا دیکھیں تو تمہارے شوہر کس کھیت کے ٹنڈے، کدو، بینگن، شلجم یا آلو ہیں۔‘‘

اب اصغر خان کا نام بھٹو نے آلو رکھا تھا۔ مولی گاجر یا میتھی تو نہیں کہا تھا۔ بے چارے نواز شریف بھی کشمیری گونگلو کہلائے جاتے رہے۔ کشمیری ناشپاتی یا زعفران تو نہیں کہا کسی نے۔

بہر حال اتنا اطمینان ہم آپ کو ضرور دلاتے ہیں کہ وہ خیر سے ظاہری طور پر بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں۔ ماشاء اللہ دراز قد ہیں۔ نک سک سے درست ہیں۔ نہ موٹے ہیں نہ سینک سلائی ہیں۔ سر پر سفید چاندی جیسے بالوں کا ڈھیر ہے۔ داڑھی بھی ایسی ہی سفید جھاگ ہے،  اس لیے اپنی عمر سے کئی برس بڑے لگتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ انہیں خضاب لگانا پسند نہیں۔ وہ اب سلور بلونڈ رہنا چاہتے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اس لیے خواتین کو اکثر غلط فہمیاں ہوتی رہتی ہیں۔

مثلاً ایک بار ایک ملنے والی تشریف لائیں تو پوچھنے لگیں۔ ’’آپ کے والد صاحب کب تشریف لائے؟‘‘

’’والد صاحب!‘‘ ہم حیران ہوئے۔ وہ جنت مکانی کہاں سے تشریف لے آئے؟

’’اوہ معاف کیجئے گا سسر ہوں گے۔ ماشا اللہ بڑے نورانی چہرے والے ہیں۔ ہم تو آپ پر رشک کر رہے تھے کہ ’ایسا ابا کہاں سے لبھا‘۔ یہ باہر لان میں ٹہل رہے ہیں۔‘‘

’’یہ آپ مسلسل ان کو میرا ابا بنائے دے رہی ہیں۔ کیا نکاح تڑوائیں گی میرا۔ وہ میرے شوہر ہیں بھئی، ذرا غور سے دیکھتیں تو صاف پتہ چل جاتا کہ شوہر ہیں یا کہ ابا۔‘‘

بہرحال تو ہم کہہ رہے تھے، ویسے تو ان میں ساری شوہرانہ خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں مگر ایک اضافی خوبی یہ ہے کہ تھوڑا تھوڑا فلسفیانہ مزاج رکھتے ہیں اس فلسفی پروفیسر کی طرح جو بعض اوقات چھڑی کو بستر میں لٹکا کر خود دروازے کے پیچھے کھڑے ہو جاتے تھے یا ان پروفیسر کی طرح جنہیں جب بتایا گیا کہ ان کی بیوی بیمار ہیں تو وہ گھبرا کر دوڑ پڑے۔ تھوڑی دور جا کر یاد آیا کہ ان کی تو ابھی شادی ہی نہیں ہوئی۔

ہمارا میکہ سیالکوٹ میں ہے۔ ایک بار وہ ہمیں سیالکوٹ جانے کے لیے ٹرین پر سوار کرانے لئ گئے۔ اس زمانے میں لاہور اور سیالکوٹ کے درمیان بابو ٹرین چلتی تھی۔ دو بچوں اور سامان کے ساتھ ہم پلیٹ فارم پر پہنچے۔ انہوں نے ہمارا اٹیچی کیس اٹھایا اور لپک کر ڈبے میں چڑھ گئے۔ ہم سمجھے کہ ہمارے لیے جگہ کا بندوبست کرنے گئے ہیں۔ گاڑی نے وسل دی اور رینگنا شروع کر دیا۔ مارے گھبراہٹ کے ہمارے تو ہاتھ پیر پھول گئے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔

اتنے میں جناب والا کا چہرہ کھڑکی میں نظر آیا۔ چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا انہوں نے ہاتھ ہلا کر ہمیں خدا حافظ کہا۔ ہم حیران و ششدر کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔ ہمارے بجائے وہ سیالکوٹ پہنچ گئے۔ اگلے روز اسی بابو ٹرین سے واپس آ کر بولے۔

’’عجیب بد حواس خاتون ہو، سیالکوٹ جانے کی بجائے اطمینان سے پلیٹ فارم پر کھڑی رہیں اور ہمیں گاڑی میں سوار کرا کر بھجوا دیا۔ نہ ہمارے پاس کوئی کپڑا نہ لتا۔ تمہارا کیا خیال تھا کہ تمہاری شلوار قمیص یا ساڑھی پہن کر پھروں گا یا تمہارے خیال میں پلیٹ فارم ہی سیالکوٹ جا رہا تھا جو وہاں گل محمد بنی کھڑی تھیں۔‘‘

’’ارے،  یہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘

’’تمہارے باوا کوتوال تھے۔ یہ تم نے کب سے کوتوالی شروع کر دی۔ اپنے شوہر کو چور کہہ رہی ہو! ہم نے کیا چرایا ہے،  ذرا پتہ تو چلے۔‘‘

’’کیا نہیں چرایا۔ ہمارا ٹکٹ، ہمارا سفر،  ہمارا اٹیچی کیس،  ذہنی سکون۔ کمال ہے۔ ہمیں اسٹیشن پر بے یار و مددگار چھوڑ کر خود چمپت ہو گئے۔‘‘

’’تو بھئی،  یہ بھی تمہارا فرض تھا کہ یاد دلاتیں کہ تمہیں جانا ہے، ہمیں نہیں۔‘‘

اسی طرح ایک مرتبہ ایک بچہ بیمار تھا۔ ہم دونوں اسے دکھانے ایک چائلڈ اسپیشلٹ کے پاس لے گئے۔ ویٹنگ روم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ موصوف ایک روتا ہوا بچہ کلیجے سے لگائے ٹہل ٹہل کر چپ کرا رہے ہیں۔

’’یہ کس کا بچہ پکڑ لائے؟‘‘ ہم نے دبی آواز میں پوچھا۔

’’کس کا بچہ؟ پاگل ہو گئی ہو،  اپنا بلو ہے۔‘‘

’’اپنا تو نہیں نہ جانے کس کا بلو ہے۔ اپنا تو یہ میری گود میں سو رہا ہے۔‘‘

’’لاحول ولا قوۃ۔ تو پھر یہ کہاں سے آیا؟ بری طرح رو رہا تھا۔ میں نے مارے ہمدردی کے تم سے کہا کہ لاؤ مجھے دے دو، میں چپ کرائے دیتا ہوں۔‘‘

’’ہم سے نہیں۔ اس بلو کی اماں سے کہا ہو گا’’

’’بھئی وہ بھی تمہاری طرح کالے برقعہ میں تھیں۔ اب ہمیں کیا معلوم کہ اس کالے نقاب کے پیچھے کون جلوہ فرما ہے۔‘‘

’’تو کیا بلو نے بھی کالا برقعہ پہنا ہوا تھا؟ بیوی کی پہچان نہیں ہے تو کیا اپنا بچہ بھی نہیں پہچان سکتے۔ ساری برقعے والیاں آپ کے بلو کی اماں ہو گئیں۔ سارے کالے میرے باپ کے سالے۔ ہمیں تو کچھ دال میں کالا نظر آ رہا ہے۔ اب خدا کے لیے اس بلو کو اس کی ماں کے حوالے کر کے آئیں، اس سے پہلے کہ اغوا برائے تاوان کے الزام میں وہ آپ کو پکڑا دے۔‘‘

٭٭٭

 

اور یہ تو ابھی چند روز پہلے کی بات ہے کہ شوہرِ محترم دفتر ایک پاؤں میں براؤن اور دوسرے میں سیاہ جوتا پہن کر سدھارے۔ واپس آئے تو ہماری نظر پڑی۔

’’یہ کیا تماشا بنا رکھا ہے آپ نے؟‘‘ ہم نے جوتوں کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے پیروں کی طرف دیکھا۔

’’ہیں۔ یہ ایک ٹانگ تو ہماری ہے دوسری کس کی ہے؟‘‘

’’یہ دوسری بھی بفضل خدا آپ کی ہی ہے۔ البتہ دوسرا جوتا مختلف ہے۔ لوگ ہنستے ہوں گے آپ پر۔ آپ دھیان کیوں نہیں کرتے۔‘‘

’’بھئی تمہارے جوتے پہن کر جاتا تو لوگ ضرور ہنستے۔ جوتے میرے ہیں۔ میں جس طرح چاہوں پہنوں۔ دو رنگ کے پہنوں یا ایک رنگ کے۔ کسی کو کیا؟‘‘

جیو جیسے چاہو جیو۔ یہی نعرہ نا آج کا۔

اور ایسی ہی حرکت موصوف نے ایک بڑے ڈنر کے موقعے پر کی۔ سیرینا میں بینکرز نے مدعو کیا ہوا تھا۔ سج دھج کے ہوٹل پہنچے۔ بیٹے کمال نے ان کا تعارف کراتے ہوئے یک لخت نیچے نگاہ ڈالی تو سٹ پٹا گیا کیونکہ چئیرمین صاحب غسل خانے کی چپل پہن کر آ گئے تھے۔

’’اچھا تو کیا کسی نے ہوٹل سے مجھے نکال دیا۔ لوگوں نے مجھ سے ملنے سے انکار کر دیا۔ وہ مجھ سے ملنے آئے تھے یا میرے جوتوں سے۔ میرے ناچیز جوتے کوئی رام چندر جی کی کھڑاویں تو نہیں ہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں ان پر شرمسار ہونا چھوڑو۔ دنیا میں شرمندہ ہونے کے لیے اور بڑے بڑے معاملات ہیں، پہلے ان پر تو اظہار شرمندگی کر لو۔‘‘

تو یہ ہیں ہمارے شوہر بلکہ نایاب گوہر۔ اے ماؤ، بہنو،  بیٹیو! شوہر کی عزت تم سے ہے اور تمہاری عزت بھی شوہر سے ہے۔ تم ان کا لباس ہو اور وہ تمہارا۔ یہ بڑی بری بات ہے کہ ایک کا لباس تو شان دار اور خوش نما ہو اور دوسرے کا پھٹا پرانا۔

اللہ تعالیٰ سب سہاگنوں کا سہاگ سلامت رکھے (آمین)

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے