غزل میں ماں کی نغمہ سرائی کرنے والا شاعر ۔۔۔ معشوق احمد

اردو شاعری میں جو استجابت اور مرغوبیت صنف غزل نے پائی وہ کسی اور صنف کو نصیب نہ ہوئی۔ غزل میں ہر دور میں شعراء نے مختلف موضوعات کو کامیابی کے ساتھ برتا ہے۔ میر ہو یا غالب، اقبال ہو یا حسرت، جگر ہو یا فراز ہر شاعر نے عمدہ غزلوں کی تخلیق کے ساتھ ساتھ نئے موضوعات، تجربات، احساسات اور جذبات کو اس میں داخل کیا ہے۔ غزل صرف عورتوں سے باتیں کرنا یا محبوب کا تذکرہ کرنے تک محدود نہ رہی بلکہ اس میں تاریخ، فلسفہ، مذہب، روزمرہ کے مسائل غرض من کی دنیا سے لے کر سنسار کے معاملات تک کو جمال و کمال سے پیش کیا گیا۔

اردو شاعری میں تو ماں کا تذکرہ بہت سارے شعراء نے کیا ہے۔ کسی نے مثنوی میں اپنے ماں کو خراج تحسین پیش کیا تو کسی نے نظم میں اس ہستی کی عظمت کے گن گائے۔ کلاسیکی شعراء ہوں یا ادبی دنیا کے نئے منظر نامے پر ابھرنے والے شعراء کم و بیش ہر شاعر نے ماں کی عظمت، الفت، محبت اور تقدس کا اظہار اپنی شاعری میں کیا ہے لیکن اردو غزل میں کم ہی شعراء ایسے ہیں جنہوں نے ماں کے مقدس وجود کی مختلف جہات کو غزل میں برتا ہے۔

منور رانا ان شعراء میں ہیں جنہوں نے اردو غزل میں کثرت سے ماں کا ذکر کیا ہے۔ ان کے یہاں غزلوں میں دیگر موضوعات کے علاوہ کثیر تعداد میں ایسے اشعار ہیں جن میں ماں جیسی متبرک ہستی کو موضوع بنا کر ان کیفیات و جذبات کا اظہار ملتا ہے جو ایک ماں کے دل میں اپنے بچوں کے تئیں موجزن ہوتے ہیں۔ اول اول میں تو ان کی اس جدت پر اعتراضات کیے گئے لیکن اعتراضات سے قطع نظر جن خوبیوں کے ساتھ انہوں ماں کے کیفیات، دعاؤں، عظمت، تقدس، بڑائی کا ذکر کیا اس کو سراہا گیا۔

منور رانا کے شعری مجموعے ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں چھپ کر منظر عام پر آئے ہیں۔ ان کے ہندی شعری مجموعوں میں غزل گاؤں (1981ء)، پیپل چھاؤں (1984ء)، مور پاؤں (1987ء)، سب اس کے لیے (1989ء)، نیم کے پھول (1991ء)، بدن سرائی (1996ء)، پھر کبیر (2007ء)، شادابہ (2012ء) اور سخن سرائی (2012ء) چھپ کر لوگوں میں مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے اردو کے شعری مجموعوں میں کہو ظل الٰہی سے (2000ء)، جنگلی پھول (2008ء) اور منور رانا کی سو غزلیں (2008ء) چھپ چکے ہیں۔

جو شعری مجموعے ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں چھپ چکے ہیں ان میں گھر اکیلا ہو گیا (2008ء)، ماں (2005ء)، نئے موسم کے پھول (2009ء) اور مہاجر نامہ (2010ء) شامل ہیں۔ شاعری کے علاوہ ان کی نثر میں بھی جان اور نیا پن ہے۔ ان کی شاعری کے دیوانے ان کی نثری کتابوں کو بھی سر آنکھوں پر رکھتے ہیں۔ انہوں نے خوبصورت نثر، دلکش اسلوب اور حسین انداز میں جو بزرگوں کے مرقعے کھینچے وہ لاجواب ہیں۔ ان کی نثری تصانیف میں بغیر نقشے کا مکان (2000ء)، سفید جنگلی کبوتر (2005ء)، چہرے یاد رہتے ہیں (2008ء) اور تین شہروں کا چوتھا آدمی (2010ء) شامل ہیں۔

منور رانا کے مختلف شعری مجموعے جو منظر عام پر آئے ہیں ان میں ماں کے بارے میں اشعار ملتے ہیں لیکن ان کا ایک شعری مجموعہ ماں کے عنوان سے 2005ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب ”ہر اس بیٹے کے نام جسے ماں یاد ہے“ کے نام کی گئی ہے۔ اس مجموعے کی محور و مرکز ماں ہے اور پورے مجموعے میں ماں، بہن، بھائی کے رشتوں کو شاعری میں پرویا گیا ہے۔ شعراء جس دور میں غزل میں محبوب کی جدائی، وصال، بے وفائی، دنیوی مسائل اور سیاست کا ذکر کر رہے تھے اور سائنسی کی ایجادات سے لے کر معاشرے کے بدلتے ہوئے رویوں تک نئے نئے موضوعات کو غزل میں بیان کر رہے تھے وہیں منور رانا ماں کی عظمت، دعاؤں کا اثر، بیٹے کے تئیں شفقت، بچوں کی نگہداشت کرنے والی شخصیت کا بیان عمدہ پیرائے میں کر رہے تھے۔

انسانی رشتوں میں سب سے مقدس، پاکیزہ اور مضبوط رشتہ ماں کا ہے۔ ماں زمین پر اللہ کی رحمت خداوندی کا نمائندہ خاص ہے۔ ماں اپنے بچے کے لیے کیا نہیں کرتی خود تکالیف اٹھاتی ہے، دایہ بن کر بچے کی پرورش کرتی ہے، باورچن اور خادمہ کا روپ دھارن کر لیتی ہے تاکہ اپنے بچوں کا خیال اور نگہداشت کر سکے۔ اپنا پیٹ کاٹ کر بچے کی خوراک کا انتظام کرتی ہے۔ یوں ہی ماں کے پیروں تلے جنت نہیں ہے۔ اللہ نے قرآن میں تاکید کی ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ۔

ماں کا حق بہت زیادہ ہے۔ اللہ نے ان تکالیف کا بھی تذکرہ کیا ہے جو ماں اپنے بچے کے سلسلے میں برداشت کرتی ہے۔ ولادت کے وقت جان کنی کی مانند تکالیف سے دوچار ہوتی ہے، پیدائش کے بعد اسے دودھ پلاتی ہے، اس کی تربیت کرتی ہے، اس کے آرام کے خاطر اپنا آرام قربان کرتی ہے، اسی لیے ماں کا حق باپ سے زیادہ ہے۔ اس دنیا میں سب سے بڑی نعمت ماں اور اس کی دعائیں ہیں۔ حضرت موسی علیہ السلام انظاکیہ سے شام جا رہے تھے۔ چلتے چلتے تھک گئے تو اللہ نے وحی فرمائی میرے کلیم اس پہاڑی وادی میں میرا ایک خاص بندہ ہے اس سے سواری طلب کر۔

آپ نے ایک بندے کو نماز پڑھتے دیکھا جب وہ فارغ ہوئے تو آپ نے کہا: اے خدا کے بندے مجھے سواری چاہیے۔ اس نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی تو بادل کا ٹکڑا آتا دکھائی دیا۔ اس نے کہا نیچے آ اور اس انسان کو یہ جہاں جانا چاہتا ہے پہنچا دے۔ حضرت موسی سوار ہوئے اور چل دیے۔ اللہ نے فرمایا اے میرے کلیم تمہیں معلوم ہے کہ اس کو یہ مرتبہ کیسے حاصل ہوا۔ میں نے اسے یہ مرتبہ اپنی ماں کی خدمت کے صلے میں دیا ہے۔ اس کی ماں نے بوقت اجل دعا مانگی تھی کہ الٰہی اس نے میری ضرورت کا خیال رکھا تیرے حضور میری دعا ہے کہ تجھ سے یہ جو بھی طلب کرے عطا فرمانا۔

اے موسی اگر یہ مجھ سے آسمان کو زمین پر الٹ دینے کی بھی درخواست کرے گا تو میں وہ بھی منظور کر لوں گا۔ منور رانا ماں کی عظمت، مرتبے اور اسلامی تعلیمات سے واقف نظر آتے ہیں۔ ماں کی عظمت کا بیان جو اسلامی تعلیمات میں در آیا ہے اس بنیاد پر ماں سے محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ منور رانا نے ماں کی محبت، عقیدت، مرتبے، حرمت کی زرخیز زمین پر اپنی شاعری کا محل کھڑا کیا ہے۔

انسان میں کمیاں اور خامیاں ہو سکتی ہیں۔ چونکہ شاعر بھی انسان ہے خلاف قیاس نہیں کہ اس کے کلام میں بھی کمیاں اور خامیاں ہوں۔ کسی شاعر کے یہاں یہ دعوی نہیں ملتا کہ اس کا کلام حرف آخر ہے اور تمام فنی خامیوں اور کوتاہیوں سے پاک ہے۔ ناقدین اور معترضین کسی بھی شاعر کے کلام پر اعتراضات اٹھاتے ہیں۔ بعض اعتراضات حق بجانب ہوتے ہیں اور بعض مجذوب کی بڑ ثابت ہوتے ہیں۔ منور رانا جب غزل میں ماں کی پرستش اور اس کی عظمتوں اور محبتوں کو بیان کر رہے تھے تو ان پر بھی تنقید ہوئی اور یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنائے گئے کہ غزل کے معنی محبوب سے باتیں کرنا

ہیں، جس کے جواب میں وہ اپنے شعری مجموعے ماں میں ’اپنی بات‘ کے عنوان سے ان خیالات کا اظہار کرتے ہیں کہ۔

’’ہر خاص و عام لغت کے مطابق غزل کا مطلب محبوب سے باتیں کرنا ہے۔ اگر اسے سچ مان لیا جائے تو محبوب ’ماں‘ کیوں نہیں ہو سکتی! کیا دنیا کے سب سے مضبوط، سدا بہار اور پاکیزہ رشتے کو غزل بنانا گناہ ہے، کیا تقدس کے’پھول بستر‘ پر غزل کو سلانا جرم ہے۔ میری شاعری پر اکثر زیادہ پڑھے لکھے لوگ جذباتی استحصال کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ اگر اس سے درست مان لیا جائے تو پھر محبوب کے حسن و شباب، اس کے تن و توش، اس کے لب و رخسار، اس کے رخ و گیسو، اس کے سینے اور کمر کی پیمائش کو عیاشی کیوں نہیں کہا جاتا ہے۔

اگر میرے شعر emotional blackmailing ہیں تو پھر۔

’جنت ماں کے پیروں کے نیچے ہے‘

’موسی اب تو تیری وہ ماں بھی نہیں رہی جس کی دعائیں تجھے بچا لیا کرتی تھیں‘

’اگر مرد کو سجدہ کرنے کی اجازت ہوتی تو ماں کے قدموں پر ہوتی‘

’میدان حشر میں تمہیں تمہاری ماں کی نسبت سے پکارا جائے گا‘

جیسے جملے کیا بے معنی ہیں؟

میں پوری ایمانداری سے اس بات کا تحریری اقرار کرتا ہوں کہ میں دنیا کی سب سے مقدس اور عظیم رشتے کا پرچار صرف اس لئے کرتا ہوں کہ اگر میرے شعر پڑھ کر کوئی بھی بیٹا اپنی ماں کا خیال کرنے لگے، رشتوں کی نزاکت کا احترام کرنے لگے تو شاید اس کے اجر میں میرے کچھ گناہوں کا بوجھ ہلکا ہو جائے۔‘‘

(مجموعہ ماں۔ اپنی بات از منور رانا)

غزل کا دامن اتنا وسیع ہے کہ اس میں ہر موضوع کو سمایا جا سکتا ہے شرط سلیقہ اور طریقہ ہے جس سے منور رانا واقف ہیں۔ اب محبوب کے لب و رخسار، گیسو و عارض، کمر، قد، ہجر و وصال، جدائی اور ملن کی روداد ہی غزل میں بیان نہیں ہوتی بلکہ اب تو غزل کے موضوعات میں ساری کائنات کے علاوہ ہماری، تمہاری بات بھی شامل ہے۔

 

ایسا نہیں ہے کہ منور رانا نے دیگر موضوعات جن پر ان کے معاصرین خامہ فرسائی کر رہے تھے کو اپنی غزلوں میں نہیں برتا۔ غزل کے موضوعات کو وسعت دینے اور نئے نئے مضامین کو اچھے ڈھنگ سے برتنے میں منور رانا کا جواب نہیں۔ جہاں انہوں نے سماجی، سیاسی، معاشی، معاشرتی مسائل کی عکاسی کی وہیں ایک خاص اضافہ موضوع کے اعتبار سے یہ کیا کہ ماں کے حوالے سے مختلف موضوعات جو بن سکتے تھے ان کو صفحہ قرطاس پر اتارا۔ ان کے چند اشعار دیکھیں جن میں دیگر موضوعات کو برتا گیا ہے۔

 

چمن میں گھومنے پھرنے کے کچھ آداب ہوتے ہیں

ادھر ہرگز نہیں جانا ادھر صیاد رہتا ہے

 

صرف تاریخ بتانے کے لیے زندہ ہوں

اب مرا گھر میں بھی ہونا ہے کیلنڈر ہونا

 

آپ کو چہرے سے بھی بیمار ہونا چاہیے

عشق ہے تو عشق کا اظہار ہونا چاہیے

 

ایرے غیرے لوگ بھی پڑھنے لگے ہیں ان دنوں

آپ کو عورت نہیں اخبار ہونا چاہیے

 

اب بڑے لوگوں سے اچھائی کی امید نہ کر

کیسے ممکن ہے کریلا کوئی میٹھا کر لے

 

خود اپنے ہی ہاتھوں کا لکھا کاٹ رہا ہوں

لے دیکھ لے دنیا میں پتا کاٹ رہا ہوں

 

خون رلوائے گی یہ جنگل پرستی ایک دن

سب چلے جائیں گے خالی کر کے بستی ایک دن

 

اللہ کی طرف سے خاص اور نرالا تحفہ ماں ہے۔ جس کی کوکھ سے عظیم، معتبر، بزرگ، نجیب اور افضل ترین انسانوں نے جنم لیا۔ اللہ کو جب اپنی رحمتوں، شفقتوں، عظمتوں اور رفعتوں کا جلوہ دکھانا مقصود ہوا تو انہوں نے ماں جیسی ہستی کا چناؤ کیا جو نہایت مہربان، شفیق اور محبت کی انتہائی پاکیزہ مثال کا مجسمہ ہے۔ اس کی آغوش درسگاہ ہے اور خوشنودی باعث نجات۔ دنیا کی کسی دوا میں وہ تاثیر نہیں جو اس کی دعا میں ہے۔ ہر دکھ کا مداوا، ہر پریشانی کا حل، ہر مصیبت کی نجات اور ہر کرب سے چھٹکارا اگر کوئی چیز دلا سکتی ہے تو وہ ماں کی دعا ہے۔

ہر مذہب میں اس کا احترام اور عظمت مسلم ہے۔ اس کی عزت و شرف، حرمت اور توقیر سے کسی کو انکار نہیں کہ یہ سراپا اخلاص اور محبت کا پیکر ہے۔ ماں ہی ہے جو اپنے اولاد کے لیے سو تکلیفیں اٹھاتی ہے۔ خود اذیت برداشت کرتی ہے لیکن اپنی اولاد کو ایذا میں نہیں دیکھ سکتی۔ اولاد کے لیے منتیں کرتی ہے، خدا کے حضور رو رو کر دعا کرتی ہے اور حتی الامکان کوشش کرتی ہے کہ اپنی اولاد کو غموں، مصیبتوں، پریشانیوں اور دھوپ چھاؤں سے محفوظ رکھ سکے۔

اس کی دعا میں اثر اور تاثیر ہے جو اولاد کی دنیا اور آخرت سنوارنے کی طاقت رکھتی ہے۔ واقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے فرمایا کہ سمندر کی طرف جائیں۔ آپ نے اپنے وزیر حضرت آصف کو ساتھ لیا اور سمندر کے قریب پہنچے پر کچھ نظر نہ آیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے آصف کو حکم دیا کہ سمندر میں غوطہ لگائیں۔ انہوں نے حکم کی تعمیل کی تو انہیں سمندر میں عجیب و غریب گنبد نظر آیا۔ اس عمارت میں چار دروازے موتی، یاقوت، جواہر اور زبرجد کے بنے ہوئے پائے اور سبھی کھلے پڑے ہیں لیکن قطرہ بھر پانی بھی اندر نہیں جاتا۔

اس عمارت کے اندر ایک حسین و جمیل نوجوان عبادت میں مصروف پایا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام اس کے پاس گئے اور حال معلوم کیا۔ نوجوان نے بیان کیا کہ حضور میرا باپ اپاہج اور والدہ اندھی تھی۔ میں نے سات سال تک ان کی خوب خدمت کی۔ میری والدہ نے انتقال سے قبل میرے لیے دعا کی کہ الٰہی اس کو اپنی عبادت کے لیے طویل عمر عطا کر اور ایسی جگہ عطا کر جو نہ زمین میں ہو نہ آسمان میں۔ یہ سب ماں کی دعا کی برکت ہے۔

ہر بچے کو اپنی ماں سے لگاؤ ہوتا ہے اور ماں کا اپنے بچے سے انس و محبت رکھنا فطری ہے۔ ماں اپنے بچے پر جی جان وارتی ہے، اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے اس وقت سے ہی اپنی دعاؤں کے سائے اس پر کیے رکھتی ہے۔ بچہ اٹھا کھڑا ہو جائے تو دعا اور بیٹھ جائے تو دعا، سفر پر جانا ہو یا کسی کام کی شروعات کرنی ہو ماں کی زبان دعائیں دیتے دیتے نہیں تھکتی۔

چونکہ ماں اپنے بچہ کی شفیق اور مہربان ہوتی ہے وہ اپنے اولاد کے لیے دل سے دعائیں کرتی ہے اور دل سے کی ہوئی دعائیں بارگاہ الٰہی میں جلدی قبول ہو جاتی ہیں۔ ماں کی دعا سے ہر مصیبت اور مشکل ٹل جاتی ہے۔ اولاد کی قسمت سنور جاتی ہے۔ ماں کی دعا اپنے بچے کے لیے برکتوں اور رحمتوں کے نزول کا سبب بنتی ہے۔ منور رانا نے اپنی غزلوں میں ان دعاؤں کو موضوع بنایا جو ماں اپنے اولاد کے لیے مختلف وقتوں میں کرتی ہے۔ ماں کی دعائیں مصیبتوں، حادثوں، بلاؤں اور تکلیفوں کے سامنے ڈٹ کر انہیں پسپا کرتی ہیں۔ یہ دعاؤں کا حصار ہر بلا اور مصیبت سے حفاظت کرتا ہے۔

 

بھیجے گئے فرشتے ہمارے بچاؤ میں

جب حادثات ماں کی دعا میں الجھ پڑے

 

جب کشتی میری سیلاب میں آ جاتی ہے

ماں دعا کرتے ہوئے خواب میں آ جاتی ہے

 

گھیر لینے کو مجھے جب بھی بلائیں آ گئیں

ڈھال بن کر سامنے ماں کی دعائیں آ گئیں

 

حادثوں کی گرد سے خود کو بچانے کے لیے

ماں ہم اپنے ساتھ بس تیری دعا لی جائیں گے

 

ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ نہیں ہو گا

میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے

 

ماں بچوں کی خوشی سے خوش اور ان کے غم سے غمگین ہوتی ہے۔ ماں کی حقیقی خوشی اپنے لخت جگر کو خوش اور پر مسرت دیکھ کر ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچے سے ناراض نہیں ہوتی نہ ہی اس کے لیے بددعا کرتی ہے۔ وہ اپنے سارے غم اپنے بچے کو دیکھ کر بھول جاتی ہے۔ منور رانا نے ان تمام کیفیات کو اپنے اشعار میں پرویا ہے جن کو ماں محسوس کرتی ہے جب اس کا بیٹا اس کے سامنے اور خوش و شادمان ہو۔ اس کی تھکن مسرت میں بدل جاتی ہے جب ماں اپنی اولاد کو دیکھتی ہے۔

 

دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہے لیکن

ماں نے مجھے دیکھا تو تھکن بھول گئی ہے

 

مقدس مسکراہٹ ماں کے ہونٹوں پر لرزتی ہے

کسی بچے کا پہلا سپارا ختم ہوتا ہے

 

لبوں پہ اس کے کبھی بد دعا نہیں ہوتی

بس ایک ماں ہے جو مجھ سے خفا نہیں ہوتی

 

ماں سے گھر کی رونق ہوتی ہے۔ گھر میں چہل پہل اور حقیقی خوشی اسی سے ہے۔ وہ گھر پر رونق ہوتا ہے جس گھر میں ماں کی ممتا اور وجود ہو۔ وہ گھر غموں کے اندھیر سے دور اور خوشیوں کی روشنی سے قریب ہوتا ہے۔ ماں کے وجود سے گھر میں اجالا اور تابندگی ہوتی ہے۔ اولاد جب تک گھر نہیں لوٹتی ماں اس کے لیے دعا گو رہتی ہے۔

 

اے اندھیرے دیکھ لے منہ تیرا کالا ہو گیا

ماں نے آنکھیں کھول دی گھر میں اجالا ہو گیا

 

یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا

میں جب تک گھر نہ لوٹوں ماں سجدے میں رہتی ہے

 

ماں کی دعائیں ڈھال بن کر ہی بچے کی حفاظت نہیں کرتی بلکہ خود ماں بھی اپنی اولاد کی ہر مصیبت سے حفاظت کرتی ہے۔ خود پریشانیاں سہتی ہے لیکن بچے کو اپنے آنچل میں چھپا کر ممتا کے سائے تلے آرام پہنچاتی ہے اور ہمیشہ اپنے اولاد کا ساتھ ہر دکھ سکھ میں دیتی ہے۔

 

ہوا دکھوں کی جب آئی خزاں کی طرح

مجھے چھپا لیا مٹی نے مری ماں کی طرح

 

اب بھی چلتی ہے جب آندھی کبھی غم کی رانا

ماں کی ممتا مجھے بانہوں میں چھپا لیتی ہے

 

مصیبت کے دنوں میں ماں ہمیشہ ساتھ رہتی ہے

پیمبر کیا پریشانی میں امت کو چھوڑ سکتا ہے۔

 

بچے جب بڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کی شادیاں ہو جاتی ہیں اور نوبت یہاں تک آن پہنچتی ہے کہ گھر تقسیم ہو جاتا ہے تو ماں اکثر چھوٹے بھائی کے حصے میں آتی ہے۔ یہ اس کے لیے رحمت کا سبب ہے اور باقی بھائیوں کے لیے طنز کہ۔

 

کسی کو گھر ملا حصہ میں یا کوئی مکاں آئی

میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی

 

اولاد کو بھی اپنی ماں سے محبت اور شفقت ہوتی ہے۔ ماں کی صورت دیکھنا جنت کے دیدار کے برابر لگتا ہے۔ اس کیفیت کو منور رانا نے اس انداز میں بیان کیا کہ۔

 

مجھے بس اس لیے اچھی بہار لگتی ہے

کہ یہ بھی ماں کی طرح خوشگوار لگتی ہے

 

مختصر یہ کہ منور رانا نے اپنی شاعری کے ذریعے ماں کی ممتا، دعاؤں، کیفیات، جذبات اور رشتہ شفقت کو بڑے موثر انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی شاعری کو پڑھ کر ماں سے عقیدت اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو ماں کی ممتا اور قربانیوں کو بھول گیا ہے اگر وہ ان کی شاعری کو پڑھے گا تو یقیناً وہ اپنے کیے پر پشیمان ہو گا۔ موجودہ دور میں جہاں ماں باپ کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے وہاں ایسی شاعری کی قدر و منزلت اور بڑھ جاتی ہے جو سبق آموز ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین اخلاقی اقدار کا پرچار کرتی ہو۔

 

آنکھوں سے مانگنے لگے پانی وضو کا ہم

کاغذ پر جب بھی دیکھ لیا ’ماں‘ لکھا ہوا

٭٭٭

https://www.humsub.com.pk/410364/mashooq-ahmad-45

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے