ناصر کاظمی کی غزلیات میں محاورات کا شعری طلسم۔ ایک جائزہ ۔۔۔ محسن خالد محسنؔ

شاعری ایک خدا داد صلاحیت ہے۔ اسے کسرت اور ریاضت سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صلاحیت قدرت نے ودیعت کی ہے تو اس پر مشقت کی جا سکتی ہے۔ اسے تراش سنوار پر خوب سے خوب تر کی تلاش اور مصرعوں کی موزونی کے عمل کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ شاعری کی محبوب ترین صنف غزل ہے جس میں لکھنا بظاہر آسان لیکن انتہائی مشکل کام ہے۔ شعرا اس صنف میں بڑے شوق سے طبع آزمائی کرتے ہیں۔ دو چار غزلیں کہتے ہیں پھر نظم کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ نظم میں بھی ہوتے ہوتے بات آزاد نظم سے نثری نظم کی طرف جا نکلتی ہے جہاں اوزان و بحور کا کوئی التزام سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا۔

صنف غزل میں محمد قلی قطب سے میر تقی میر تک ہزاروں شعرا تذکروں میں پڑھنے کو ملتے ہیں جنھوں نے اس صنف کو انسانی جذبات کے جملہ اظہار کے لائق بنایا۔ میر تقی میر نے تو اپنی ساری زندگی اس صنف کے نام کر دی۔ میر کے بعد داغ دہلوی کا نام کلاسیکی غزل کی سادہ، آسان، رواں اور سہل زبان کے حوالے سے آتا ہے جنھوں نے زبان کو اس کے تمام تر اسالیب کے ساتھ برتا جس میں تشبیہ، استعارہ، تلمیح، مجاز مرسل سمیت محاورات و روزمرہ کا فنی التزام بہت اعلیٰ طریق کا ملتا ہے۔ داغ دہلوی کے بعد زبان کی سادگی اور سلاست کو غزل میں برقرار رکھنے والے سر فہرست شاعر ناصر کاظمی ہیں۔

ناصر کاظمی کی غزل کی طلسم کاریاں ہوش رُبا ہیں۔ ناصر کاظمی کا شعری سرمایہ ہر طرح سے لائقِ تحسین ہے۔ ناصر کاظمی نے جدید اُردو غزل کو زبان کے تمام تر لوازمات کے ساتھ دیگر شعری اصناف کے مقابلے میں نہایت بلند مقام سے روشناس کروایا ہے۔ ناصر کاظمی نے چار شعری مجموعے برگِ نَے، دیوان، نشاطِ خواب اور پہلی بارش یادگار چھوڑے۔ ان شعری مجموعوں کی زبان اپنے عہد کی معیاری زبان کا اختصاص پیش کرتی ہے۔ ناصر کاظمی نے شعر کے پیرہن کو تشبیہ، استعارہ، کنایہ اور محاورہ سے خوب سجایا ہے۔ داغ دہلوی کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اگر شعر سے محاورہ نکال دیں تو شعر پھسپھسا رہ جاتا ہے، یہی رائے ناصر کاظمی کی غزلیات کے حوالے سے ان پر صادق آتی ہے۔

محاورہ اُردو زبان میں بہت زیادہ مستعمل ہے۔ محاورے کا عام بول چال کی زبان میں استعمال اس عام ہے کہ پوری بات محاورے کی زبان میں ادا ہو جاتی ہے۔ اُردو محاورات کے بکثرت استعمال کا نمونہ دیکھنا ہو تو میرؔ، غالب ؔاور داغ کے کلام کو دیکھ لیجیے۔ یہ محاورہ ہی ہے جس کی وجہ سے اُردو زبان کے شعر و ادب میں رچاؤ، مٹھاس اور چاشنی کا ذائقہ ملتا ہے۔ یہ ایک ایسی طرزِ فکر ہے جو نثری ادب میں عموماً اور شعری ادب میں خصوصاً پائی جاتی ہے۔ دُنیا کی کوئی بھی زبان محاورے سے خالی نہیں ہے۔

محاورے کے بغیر کوئی بھی فن پارہ ادب عالیہ میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ محاورے سے زبان کی تنومندی اور ارتقائی اوج متشکل ہوتی ہے۔ اس کے استعمال سے لفظوں کی کثیر الجہتی پرتیں کھُلتی ہیں اور کلام میں اختصار پیدا ہوتا ہے۔ اس کے استعمال سے زبان کی باریکی اور لطافت کے در وَا ہوتے ہیں۔ معنی کو الفاظ کے پیرہن میں سجا، سنوار کر پیش کرنے کا نام محاورہ ہے۔ مطالب کو سمندر کے کوزے میں بند کرنے کا نام محاورہ ہے۔ محاورہ زبان کے پھیلاؤ اور خیال کی وسعت پر گرفت کو مضبوط کرتا ہے۔ محاورہ کثیر الجہتی مطالب کو کم سے کم الفاظ میں بیان کو محاورہ کہا جاتا ہے۔

محاورے سبھی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ لوگوں کی عوامی زبان اور مقامی لب و لہجے کی آمیزش سے زبانیں اپنے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کرتی رہتی ہیں۔ اُردو زبان میں پُر اثر اور دیدہ زیب محاورات کا ایک ذخیرہ موجود ہے جو لوگوں کے رویوں کے پس منظر میں پہناں تاریخ کی سماجی حیثیت اور عوامی رجحان کا پتہ دیتا ہے۔ ان کے ذریعے لوگوں کی زندگی کے دُکھ، سکھ، خوشیاں، اذیتیں، خواہشیں، آرزوئیں، محرومیوں اور ناکامیوں اور نفسیاتی الجھنوں سمیت تہذیب و تمدن کی پرچلت کا اظہار ہوتا ہے۔

جہاں تک محاورے کی بُنت کا سوال ہے۔ محاورہ مصدر کی طرح ہوتا ہے جسے مصدر کی طرح (ن) لگا کر زمانے کے صیغے کے موجب جملے میں برتا جاتا ہے۔ جس طرح مشہور ہے۔ ’بازو ٹوٹیں‘۔ اس کو (ن) لگا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ’’دشمن کے ساتھ مل جانے سے لڑائی میں سلیم کے بازو ٹوٹ گئے ہیں‘‘۔

نثر میں محاورے کی بُنت کی مثالیں دیکھیں:

٭۔ ڈوبے کو سانس نہیں آیا۔ [اس میں ’’ڈوبے کو سانس نہیں آتا‘‘ محاورہ ہے۔]

٭۔ پکائی بھی کیا اور سوکھی کھائی۔ [اس میں ’’سوکھی کھانا‘‘ محاورہ ہے۔]

٭۔ اللہ ملائی جوڑی ایک اندھا ایک کوڑھی [اس میں ’’جوڑی ملانا‘‘ محاورہ ہے۔]

محاورے کا برجستہ اور شگفتہ ہونا در اصل مصدر کے برجستہ اور شگفتہ ہونے کا کمال ہے۔ اُردو محاورات کے لسانی تناظر اور تشکیلی عوامل پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ جتنے بھی مصادر ہیں ان میں الفاظ کی ایک خاص ترتیب وضع کی گئی ہے۔ اس خاص ترتیب کی وجہ سے ان میں ایک طرح کی موزونیت کے ساتھ ایک خاص آہنگ اور لَے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ جو رفتہ رفتہ مصدر سے مملو ہو کر اپنے وجود کو محاورے کے کینوس میں مدغم کر دیتا ہے۔ جہاں محاورے کا رنگ روپ اپنے کمال کو چھو لیتا ہے

زبان دُنیا کی وہ پہلی ایجاد ہے جسے انسان نے اپنے لیے ایجاد کیا ہے۔ سب سے پہلے انسان نے بولنا اور گفتگو کرنا سیکھا ہے۔ کہتے ہیں: ’ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے‘۔ مرورِ وقت کے ساتھ جیسے جیسے دُنیا ترقی کرتی گئی ویسے ویسے انسان اپنا ارتقائی سفر طے کرتا چلا گیا۔ بڑے بڑے بھاری الفاظ کی جگہ کومل، نازک، سادہ اور عام فہم الفاظ نے لے لی۔ صدیاں برسوں میں، برس مہینوں میں اور مہینے دنوں، گھنٹوں اور منٹوں میں ڈھل گئے۔ ہر چیز نے خود کو مختصر اور دیر پا کر لیا۔ پہلے بڑی بڑی نظمیں (مثنویاں) لکھنے کا رواج تھا اور اب جدید دور میں مثنوی کی جگہ مختصر آزاد نظم (ایک مصرعی نظم) نے لے لی۔ اس ایک مصرعی نظم میں با آسانی وہ بات کہی جا سکتی ہے جسے ایک ضخیم مثنوی میں کبھی کہا جاتا تھا۔

مثلاً: ’کلیجہ ٹھنڈا کرنا‘۔ اس میں ’کرنا‘ مصدر ہے۔ محاورے کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے بلکہ محاورہ یک مصرعی نظم سے بھی مختصر ہے۔ دو چار الفاظ میں لمبی چوڑی کہانی نما داستان کو سمیٹ کر بیان کر دیتا ہے۔ محاورے کا خاصا یہ ہے کہ اس کے استعمال سے زبان کا چہرہ حسیں اور جاذب نظر ہو جاتا ہے اور ابلاغ میں سمپورتا اور امیرتا، در آتی ہے۔

کلاسیکی اُردو شعرا کے کلام میں میرؔ، غالب اور داغؔ کے کلام کی خصوصیت اور پذیرائی کی وجہ ان گنت لسانی خوبیوں کے علاوہ محاوروں کا استعمال بھی ہے محاورے بڑے پُر اثر اور معنویت سے بھر پور ہیں جن میں ابلاغ کی ساری خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ انھیں محاوروں کی وجہ سے میرؔ، غالبؔ اور داغؔ ؔ کے کلام کو امرتا اور دوام نصیب ہوا ہے۔ ان محاوروں کی یہ برکت ہے کہ کسی حاذق کو کوئی بات یا محاورہ سنایا جائے تو وہ فوراً میرؔ، غالبؔ اور داغؔ کا شعر سنا دے گا۔ میر، غالب اور داغ نے غزلیات میں محاورات کا استعمال کر کے گویا محاورہ کو ناقابلِ تردید سند فراہم کر دی ہے۔

ناصر کاظمی کی غزلیات میں محاورات کا شعری طلسم حیرت زدہ کر دیتا ہے۔ ناصر کی کوئی ایک غزل ایسی نہیں جس میں محاورات کا استعمال نہ کیا گیا ہو۔ ناصر کو محاورے بہت پسند تھے۔ شعر میں موضوع کی کیفیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ناصر محاورے کا انتخاب کرتے ہیں اور شعر میں اسے یوں کھپا دیتے ہیں کہ اگر محاورے کو شعر سے جز وقتی حذف کر کے دیکھا جائے تو پورا شعر بیکار اور بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ مثلاً یہ اشعار دیکھیں:

دل ترے بعد سو گیا ورنہ

شور تھا اس مکاں میں کیا کیا کچھ

 

کچھ نہ سُنا اور کچھ نہ کہا

دل میں رہ گئی دل کی بات

 

اب تو رستوں میں خاک اُڑتی ہے

سب کرشمے تھے باغ میں گل کے

 

جدائیوں کے مرحلے بھی حُسن سے تہی نہ تھے

کبھی کبھی تو شوق آئنے دکھا کے رہ گیا

 

دم گھٹنے لگا ہے وضعِ غم سے

پھر زور سے قہقہہ لگاؤ

 

ناصر کاظمی اُداسی، تنہائی، آشفتہ سری اور یاسیت کے شاعر کہلائے جاتے ہیں۔ ایک شاعر کو چند کیفیات کے تخصیصی ترجمان کا نمائندہ قرار دینا شاعر کے ساتھ زیادتی والا رویّہ ہے۔ شاعر کبھی خوش مزاج اور یاسیت زدہ یعنی قنوطی نہیں ہوتا۔ شاعر پر جو کیفیت طاری ہوتی ہے ؛شاعر اُسے پوری ایمانداری کے ساتھ شعر میں بیان کر دیتا ہے۔ ناصر کا معاملہ بھی یہی ہے کہ ناصر نے ہجرت کا دُکھ سہا ہے۔ محبت میں ناکامی ہوئی ہے۔ زمانے نے دُکھ دئیے ہیں اور اپنوں غیروں کی بے مروتیوں سے دل بجھا ہے۔ یہ سبھی جذبات ناصر کی شاعری میں نشاط و خوشی و وصال و کیف آور مناظر سے زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔ شاعر ہر طرح کی کیفیت، موضوع، خیال، خواہش، لمس، حدت، تڑپ اور شدت کو شاعری میں بیان کرتا ہے۔

ناصر کاظمی نے جدید اُردو غزل میں نت نئے تجربات کیے اور اس ویران گلستان کو اپنے شعری اسلوب سے گل گلزار کیا جس کا انھیں دعوا بھی تھا اور ناز بھی۔ ناصر کاظمی کے شعری مجموعے بر گِ نَے میں محاورات کے فنی التزام کو ناصر خصوصی دلچسپی سے لیا گیا ہے۔ اس مضمون میں ناصر کاظمی کے برگِ نَے کی غزلیات میں شامل محاورات کو غزلیات کے شعری مجموعے کی منطقی ترتیب کے مطابق فرہنگ ترتیب دی ہے جس سے زبان و بیان کے جملہ اسرار و رموز اور لوازماتِ شعری سے دلچسپی رکھنے والا قاری ناصر کے ہاں محاورات کے استعمال کے تنوع، وسعت اور بُنت کاری کا مطالعہ کر سکتا ہے۔

ذیل میں ترتیب دئیے محاورات کے مطالعے سے ناصر فہمی کا ایک نیا باب کھُلے گا جس سے ناصر کی غزلیات کو لسانی نکتہ نظر سے از سر نو تحقیق کرنے میں یہ عُنصر مہمیز کا کام کرے گا۔ ان محاورات کو شعری مجموعے کی جملہ غزلیات کی دی گئی ترتیب کے مطابق نکالا گیا ہے اور پورا شعر بطور حوالہ شامل کیا گیا ہے تاکہ شعر سے لطف اندوز بھی ہوا جائے اور شعر میں محاورے کے استعمال کے فنی حُسن سے بھی محظوظ ہوا جائے۔

 

وحشت ہونا:

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی

برہم ہوئی یوں بھی طبیعت کبھی کبھی

 

برہم ہونا:

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی

برہم ہوئی یوں بھی طبیعت کبھی کبھی

 

اشکوں میں ڈھلنا:

جوشِ جنوں میں درد کی طغیانیوں کے ساتھ

اشکوں میں ڈھل گئی ہے تری صورت کبھی کبھی

 

قیامت گزرنا:

تیرے قریب رہ بھی دل مطمئن نہ تھا

گزری ہے مجھ پہ یہ قیامت کبھی کبھی

 

ہوش ہونا:

کچھ اپنا ہوش تھا نہ تمہارا خیال تھا

یوں بھی گزر گئی شبِ فُرقت کبھی کبھی

 

کیا دن تھے :

کیا دن تھے جب نظر میں خزاں بھی بہار تھی

یوں اپنا گھر بہار میں بھی ویراں نہ تھا کبھی

 

دن دکھانا:

کیا دن مجھے عشق نے دکھائے

اک بار جو آئے پھر نہ آئے

 

ہوش میں آنا:

اُس پیکرِ ناز کا فسانہ

دل ہوش میں آئے تو سنائے

 

رونق ہونا:

رونقیں تھیں جہاں میں کیا کیا کچھ

لوگ تھے رفتگاں میں کیا کیا کچھ

 

دل سو جانا:

دل ترے بعد سو گیا ورنہ

شور تھا اس مکاں میں کیا کیا کچھ

 

آگ پھینکنا:

کلیاں جھلسی جاتی ہیں

سورج پھینک رہا ہے آگ

 

آگ لگنا:

دھوپ کی جلتی تانوں پر

دشتِ فلک سے لگ گئی آگ

 

خاک اُڑانا:

خاک اُڑاتے ہیں دن رات

مِیلوں پھیل گئے صحرا

 

کال پڑنا:

فصلیں جل کر راکھ ہوئیں

نگری نگری کال پڑا

 

کرن پھوٹنا: کیا خبر خاک ہی سے کوئی کرن پھوٹ پڑے

ذوقِ آوارگیِ دشت و بیاباں ہی سہی

 

جنگل ہوا:

بہاریں لے کے آئے تھے جہاں تم

وہ گھر سنسان جنگل ہو گئے ہیں

 

تاب لانا:

کہاں تک تاب لائے ناتواں دل

کہ صدمے اب مسلسل ہو گئے ہیں

 

آنکھ لگنا:

زلفوں کے دھیان میں لگی آنکھ

پُر کیف ہوا میں سو گئے ہم

 

چھلک کے رہ جانا:

بقدرِ تشنہ لبی پرسشِ وفا نہ ہوئی

چھلک کے رہ گئے تیری نظر کے پیمانے

 

ویرانے سُلگنا:

کہا ہے تو کہ ترے انتظار میں اے دوست

تمام رات سُلگتے ہیں دل کے ویرانے

 

دل پہ گزرنا:

اُمیدِ پُرسشِ غم کس سے کیجئے ناصرؔ

جو اپنے دل پہ گزرتی ہے کوئی کیا جانے

 

دل کی دل میں رہ جانا:

کچھ نہ سُنا اور کچھ نہ کہا

دل میں رہ گئی دل کی بات

 

رات کٹنا:

 

یار کی نگری کوسوں دور

کیسے کٹے گی بھاری رات

 

ناصر کاظمی کے مذکورہ اشعار میں محاورات کا نظام دیکھیں۔ ناصر کس خوبصورتی سے محاورات کو شعر کے قالب میں ڈھالا ہے۔ آنکھ لگنا، ویرانے سلگنا، دل کی دل میں رہ جانا، تاب لانا ایسے محاورے ہیں جو بظاہر عام فہم اور سطحی معلوم ہوتے ہیں لیکن شعر کی بُنت میں ان کی دخل اندازی غیر معمولی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ ویرانے سلگنے والا محاورہ ناصر نے ضرورتِ شعری کے تحت خود وضع کیا ہے۔ شاعر کو یہ اختیار ہے کہ وہ ضرورتِ شعری کے تحت نئے الفاظ و محاورات وضع کر سکتا ہے۔ شاعری اوزان بحور کے تحت اپنا ایک نظام رکھتی ہے۔ نثر نگار اس صفت سے محروم ہوتے ہیں۔

 

آنکھیں برسنا:

نہ آنکھیں ہی برسیں نہ تم ہی ملے

بہاروں میں اب کی نئے گُل کھِلے

 

گور کنارے پہنچنا:

پہنچے گور کنارے ہم

بس غمِ دوراں ہارے ہم

 

بیٹھ جانا:

سب کچھ ہار کے رستے میں

بیٹھ گئے دکھیارے ہم

 

سوال تڑپنا:

تڑپ رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگر

مرے لیے کوئی شایانِ التماس نہیں

 

دل کانپنا:

ترے جلو میں بھی دل کانپ کانپ اُٹھتا ہے

مرے مزاج کو آسودگی بھی راس نہیں

 

آس مٹنا:

مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے

بہت دنوں سے طبیعت مری اُداس نہیں

 

ڈیرے جمانا:

منزل نہ ملی تو قافلوں نے

رستے میں جما لیے ہیں ڈیرے

 

شام ہونا:

جنگل میں ہوئی ہے شام ہم کو

بستی سے چلے تھے منہ اندھیرے

 

اشک تھمنا:

رودادِ سفر نہ چھیڑ ناصرؔ

پھر اشک نہ تھم سکیں گے میری

 

دن پھرنا:

دن پھر آئے ہیں باغ میں گل کے

بوئے گل ہے سراغ میں گل کے

 

بہار آنا:

کیسی آئی بہار اب کے برس

بوئے خون ہے ایاغ میں گل کے

 

خاک اُڑنا:

اب تو رستوں میں خاک اُڑتی ہے

سب کرشمے تھے باغ میں گل کے

 

دم ہونا:

آنسوؤں کے دیے جلا ناصرؔ

دم نہیں اب چراغ میں گُل کے

 

اپنی سی کر گزرنا:

کوئی جیے یا مرے

تم اپنی سی کر گزرے

 

رنگ بھرنا:

دل میں تیری یادوں نے

کیسے کیسے رنگ بھرے

 

بات آنا:

یہ بھی کیا شامِ ملاقات آئی

لب پہ مشکل سے تری بات آئی

 

سوگ پھیلنا:

گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ

دلی اب کے ایسی اجڑی گھر گھر پھیلا سوگ

 

ناصر کاظمی نے جس انداز میں ہجرت کے تجربے کو بیان کیا ہے۔ یہ پیرایہ ان کے ہم عصر کے بالکل دکھائی نہین دیتا۔ سوگ پھیلنا، چوٹ کھانا، راس آنا، دل ڈوبنا ایسے محاورے ہیں جن سے ناصر کی محبت کا بھرم نظر آتا ہے اور دل پر محبت کی محرومی کی صاف چوٹ بھی دکھائی دیتی ہے۔ سوگ پھیلنے والے محاورے سے ناصر کی ہجرت کے وقت خون کی ہولی کی اذیت ناکی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ محاورہ سماج کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ سماج میں ہونے والے تغیر کا جملہ احوال محاورے میں مقید ہوتا ہے۔ محاورے داستان کی طرح اپنے اندر سماج کی جملہ کارفرمائیوں کو احوال لیے ہوتا ہے جس سے اس سماج کی نفسیاتی رو کو تحلیل کر کے دیکھنے اور نتائج بر آمد کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔

 

آنکھیں برسنا:

پھر جس کے تصور میں برسنے لگیں آنکھیں

وہ برہمی صحبت شب یاد رہے گی

 

چوٹ کھانا:

چوٹ کھائی ہے بار ہا لیکن

آج تو درد ہے عجب کوئی

 

پاؤں چلنا:

پاؤں چلنے لگی جلتی ہوئی ریت

دشت سے جب کوئی آہُو نکلا

 

آنکھوں میں کٹنا:

آنکھوں میں کٹی پہاڑ سی رات

سو جا دلِ بے قرار کچھ دیر

 

خمار رہنا:

پھر نغمہ و مے کی صحبتوں کا

آنکھوں میں رہا خمار کچھ دیر

 

راس آنا:

سائے کی طرح مرے ساتھ رہنے رنج و الم

گردشِ وقت کہیں راس نہ آئی مجھ کو

 

دل ڈوبنا:

دھُوپ اُدھر ڈھلتی ہے دل ڈوبتا جاتا ہے اِدھر

آج تک یاد ہے وہ شامِ جدائی مجھ کو

 

کھینچ کر لانا:

شہرِ لاہور تری رونقیں دائم آباد

تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو

 

آئنے دکھانا:

جدائیوں کے مرحلے بھی حُسن سے تہی نہ تھے

کبھی کبھی تو شوق آئنے دکھا کے رہ گیا

 

قیامت گزرنا:

کسے خبر کہ عشق پر قیامتیں گزر گئیں

زمانہ اُس نگاہ کا فریب کھا کے رہ گیا

 

فریب کھانا:

کسے خبر کہ عشق پر قیامتیں گزر گئیں

زمانہ اُس نگاہ کا فریب کھا کے رہ گیا

 

راستے سجھانا:

چراغِ شامِ آرزو بھی جھلملا کے رہ گئے

ترا خیال راستے سجھا سجھا کے رہ گیا

 

زخم ہرے ہونا:

رنگ برسات نے بھرے کچھ تو

زخم دل کے ہوئے ہرے کچھ تو

 

جی بہلنا:

آؤ ناصرؔ کوئی غزل چھیڑیں

جی بہل جائے گا ارے کچھ تو

 

تنہائی جاگنا:

ترے خیال کی لَو سے جاگ اُٹھی ہے تنہائی

شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی

 

خاک اُڑانا:

ٹھہر گیے ہیں سرِ راہ خاک اُڑانے کو

مسافروں کو نہ چھیڑ اے ہوائے صحرائی

 

راس آنا:

رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لے

یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی

 

آنکھ بھر آنا:

یہ سانحہ بھی محبت میں بارہا گزرا

کہ اُس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی

 

چونک پڑنا:

میں سوتے سوتے کئی بار چونک پڑا

تمام رات ترے پہلوؤں سے آنچ آئی

 

آنچ آنا:

میں سوتے سوتے کئی بار چونک پڑا

تمام رات ترے پہلوؤں سے آنچ آئی

 

رُسوائی ہونا:

پھر اُس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصرؔ

بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رُسوائی

 

ناز اُٹھانا:

بس اب تو ایک ہی دھُن ہے کہ نیند آ جائے

وہ دن کہاں کہ اُٹھائیں شبِ فراق کے ناز

 

ناصر کاظمی نے محبت کے جذبے کو جس عقیدت، شدت اور مروت سے غزل میں کھپایا ہے۔ یہ ان کا انفرادی وصف ہے۔ ناصر کے ہاں محبت جملہ جذبات کا سردار جذبہ ہے جس سے متاثر ہوئے اور اس میں مبتلا ہوئے بغیر زندگی کی معنویت کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ ناز اُٹھانا، پردہ اُٹھانا، نظر سے گزرنا، طلب ہونا، چونک پڑنا ایسے محاورے ہیں جن میں محبت کے سوز کو فراق کی وصلی آزردگی میں تحلیل ہو کر فنا ہو جانے کی جستجو میں ڈھلتے دیکھا جا سکتا ہے۔

 

پردہ اُٹھانا:

یہ بے سبب نہیں شام و سحر کے ہنگامے

اُٹھا رہا ہے کوئی پردہ ہائے راز و نیاز

 

نظر سے گزرنا:

پھر کئی لوگ نظر سے گزرے

پھر کوئی شہرِ طرف یاد آیا

 

چارا ملنا:

چلے چلو اِنھی گُمنام برف زاروں میں

عجب نہیں یہیں مل جائے درد کا چارا

 

طلب ہونا:

تیری زلفوں کا سبب ہے کوئی

آنکھ کہتی ہے ترے دل میں طلب ہے کوئی

 

آنچ آنا:

آنچ آتی ہے ترے جسم کی عریانی سے

پیرہن ہے کہ سلگتی ہوئی شب ہے کوئی

 

ہوش اُڑانا:

ہوش اُڑانے لگیں پھر چاند کی ٹھنڈی کرنیں

تیری بستی میں ہوں یا خوابِ طرب ہے کوئی

 

گیت بُننا:

گیت بُنتی ہے ترے شہر کی بھرپور ہوا

اجنبی میں ہی نہیں تو بھی عجب ہے کوئی

 

دن دکھانا:

خدا وہ دن نہ دکھائے تجھے کہ میری طرح

مری وفا پہ بھروسا نہ کر سکے تو بھی

 

دم لے کے چلنا:

دن بھر تو چلے اب ذرا دم کے لے چلیں گے

اے ہم سفرو آج یہیں رات گزارو

 

سر دیوار سے مارنا:

یہ عالمِ وحشت ہے تو کچھ ہو ہی رہے گا

منزل نہ سہی سر کسی دیوار سے مارو

 

خاک اُڑنا:

خاک بھی اُڑ رہی ہے رستوں میں

آمدِ صبح کا سماں بھی ہے

 

رنگ اُڑنا:

رنگ بھی اُڑ رہا ہے پھولوں کا

غنچہ غنچہ شرر فشاں بھی ہے

 

آنکھیں برسنا:

بیٹھے بیٹھے برس پڑیں آنکھیں

کر گئی پھر کسی کی آس اُداس

 

رہ رہ کے یاد آنا:

کوئی رہ رہ کے یاد آتا ہے

لیے پھرتی ہے کوئی باس اُداس

 

آنکھ بھر کے دیکھنا:

کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھے

گزر گئی جرسِ گل اُداس کر کے مجھے

 

مزہ ملنا:

ترے فراق کی راتیں کبھی نہ بھُولیں گی

مزے ملے انھیں راتوں میں عمر بھر کے مجھے

 

بیکار جاننا:

دن کے ہنگاموں کو بیکار نہ جان

شب کے پروردوں میں ہے کیا غور سے سُن

 

ہاتھ کانوں سے اُٹھانا:

کعبہ سنسان ہے کیوں اے واعظ

ہاتھ کانوں سے اُٹھا غور سے سُن

 

ناصر نے غزلیات میں دل، آنکھ، دھیان، محبت، رفتگاں، فرقت، وصال، ہجر، شب، جی، سوگ وغیرہ الفاظ کا بکثرت استعمال کیا ہے جس سے شعر کی فضا میں ایک طلسمی کیفیت کا غلبہ دکھائی دیتا ہے۔ ناصر کے ہاں موضوع کی تکرار کے باوجود تازگی اور ندرت کا عنصر زائل نہیں ہوتا۔ ناصر کا قوتِ مشاہدہ محاورے کی بُنت میں غضب کا رنگ پیدا کرتا ہے جس سے معنی کی ترسیل میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

 

دل پر گزرنا:

کیا گزرتی ہے کسی کے دل پر

تو بھی اے جانِ وفا غور سے سُن

 

آنکھ بھر آنا:

بھر آئے گی آنکھ بھی کسی دن

خالی نہیں صرفِ آہ میں رہنا

 

ہاتھ لگانا:

میں ہاتھ نہیں اُسے لگایا

اے بے گنہی گواہ رہنا

 

آنکھ رکھنا:

قہر سے دیکھ نہ ہر آن مجھے

آنکھ رکھتا ہے تو پہچان مجھے

 

جھمکی دکھانا:

یک بیک آ کے دکھا دو جھمکی

کیوں پھراتے ہو پریشان مجھے

 

کان سُن ہونا:

سُن کے آوازۂ گل کچھ نہ سُنا

بس اُسی دن سے ہوئے کان مجھے

 

جی ٹھکانے نہ ہونا:

جی ٹھکانے نہیں جب سے ناصرؔ

شہر لگتا ہے بیاباں مجھے

 

صدمے گزرنا:

ہم پہ گزرے ہیں خزاں کے صدمے

ہم سے پوچھے کوئی افسانۂ گل

 

دم رہنا/عالم رہنا:

جب تلک دم رہا ہے آنکھوں میں

ایک عالم رہا ہے آنکھوں میں

 

آنکھوں میں رہنا:

دل میں اک عمر جس نے شور کیا

وہ بہت کم رہا ہے آنکھوں میں

 

رنگ جمنا:

کبھی دیکھی تھی اُس کی ایک جھلک

رنگ سا جم رہا ہے آنکھوں میں

 

سائیں سائیں کرنا:

دل تو میرا اُداس ہے ناصرؔ

شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

 

قلق ہونا:

برابر ہے ملنا نہ ملنا ترا

بچھڑنے کا تجھ سے قلق اب کہاں

 

دم گھٹنا:

دم گھٹنے لگا ہے وضعِ غم سے

پھر زور سے قہقہہ لگاؤ

 

بساط اُلٹنا:

پھر دل کی بساط الٹ نہ جائے

امید کی چال میں نہ آؤ

 

چال میں آنا:

پھر دل کی بساط الٹ نہ جائے

امید کی چال میں نہ آؤ

 

تارے گنوانا:

تارے گنوائے یا سحر دکھلائے

دیکھیے شامِ غم کہاں لے جائے

 

چراغ مرجھانا:

صبحِ نورس کا راگ سنتے ہی

شبِ گل کے چراغ مرجھائے

 

آنکھ بھر آنا:

آ کے منزل پہ آنکھ بھر آئی

سب مزہ رفتگاں نے چھین لیا

 

راس ہونا:

یہ الگ بات کہ غم راس ہے اب

اس میں اندیشۂ جاں تھا پہلے

 

ڈیرے ڈالنا:

ڈیرے ڈالے ہیں بگولوں نے جہاں

اُس طرف چشمہ رواں تھا پہلے

 

ڈیرے ڈالے ہیں خزاں نے چوندیس

گل تو گل باغ میں کانٹا نہ رہا

 

دل ٹپکنا:

دل ٹپکنے لگا ہے آنکھوں سے

اب کسے راز داں کرے کوئی

 

ناصر کاظمی نے دل کو دل کی راہ سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ دل بڑا بے ایمان اور حوصلہ شکن ہے۔ یہ کسی کی نہیں سُنتا۔ ناصر کے ہاں طبیعت کا رجحان دل کی آمادگی سے مشروط ہے۔ ناصر نے طبیعت کی روانی کو دل کی آمادگی سے متصل کر کے وصال کی لذت سے محظوظ ہونے کی جستجو کی ہے۔ ناصر کے ہاں محبت کے اتنے شیڈ موجود ہیں کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ ناصر نے محبوب کو طعن و ملامت کی بجائے شرمسار نگاہوں سے متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اوس برسنا، لہو سرد ہونا، رستہ دیکھنا، ڈیرے ڈالنا، یہ وہ محاورات ہیں جن کے شعر میں ڈھلنے سے محبت کی تفہیم آسان ہو گئی ہے۔

 

اوس برسنا:

صبح تک ہم نہ سو سکے ناصرؔ

رات بھر کتنی اوس برسی ہے

 

لہو سرد ہونا:

منزل کی ٹھنڈکوں نے لہو سرد کر دیا

جی سُست ہے کہ پاؤں چبھن کو ترس گئے

 

اندھیر ہونا:

اندھیر ہے کہ جلوۂ جاناں کے باوجود

کوچے نظر کے ایک کرن کو ترس گئے

 

رستہ دیکھنا:

اُس نے منزل پہ لا کے چھوڑ دیا

عمر بھر جس کا راستا دیکھا

 

رنگ دکھلانا:

رنگ دکھلاتی ہے کیا کیا عمر کی رفتار بھی

بال چاندی ہو گئے سونا ہوئے رخسار بھی

 

دل ٹھنڈا کر دینا:

درد کے جھونکوں نے اب کے دل ہی ٹھنڈا کر دیا

آگ برساتا تھا آگے دیدۂ خونبار بھی

 

آگ برسانا:

درد کے جھونکوں نے اب کے دل ہی ٹھنڈا کر دیا

آگ برساتا تھا آگے دیدۂ خونبار بھی

 

کرامات ہونا: مشکل ہے پھر ملیں کبھی یارانِ رفتگاں

تقدیر ہی سے اب یہ کرامات ہو تو ہو

 

ہوا لگنا:

بہت ہی سادہ ہے تُو اور زمانہ ہے عیار

خدا کرے کہ تجھے شہر کی ہوا نہ لگے

 

رنگ دینا:

وہ رنگ دل کو دیے ہیں لہو کی گردش نے

نظر اُٹھاؤں تو دُنیا نگارخانہ لگے

 

کنارے لگنا:

عجیب خواب دکھاتے ہیں ناخدا ہم کو

غرض یہ ہے کہ سفینہ کنارے جا نہ لگے

 

رات ڈھلنا:

منہ لپیٹے پڑے ہو ناصرؔ

ہجر کی رات ڈھل ہی جائے گی

 

کمی آنا:

کیا کمی آ گئی وفاؤں میں

وہ اثر ہی نہیں دعاؤں میں

 

گھٹ کے مرنا:

گھٹ کے مر جاؤں گا اے صبحِ جمال

میں اندھیرے میں ہوں، آواز نہ دے

 

کام آنا:

زندگی اُس کے تصور میں کٹی

دُور رہ کر بھی وہی کام آیا

 

کال پڑنا:

کیسی گردش میں اب کے سال پڑا

جنگ سر سے ٹلی تو کال پڑا

 

مختصر یہ کہ ناصر کاظمی کی شعری فضا میں محاورات کا طلسمی رنگ شعر کی بُنت اور معنی کی ترسیل کو غضب کا قرینہ عطا کرتا ہے جس سے قاری اور تخلیق کار کے درمیان آگہی کا رشتہ اُستوار ہوتا ہے جس سے دل کی بات دل میں اُترتی ہے اور اثر کرتی ہے۔ ناصر کی غزلیات میں ہر رنگ موجود ہے اور ہر رنگ میں اتنے رنگ ہیں کہ پورا دیوان رنگینی سے مزین ہے۔

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے