نظمیں ۔۔۔ حفیظ تبسم

ایک نادار ملک کی تاریخ

 

تاریخ بنائی نہیں جاتی

یہ خود بن جاتی ہے

قدیم داستان کی طرح

 

روٹی کی تلاش میں

ہم جنگل میں داخل ہوئے

جس کے کنارے فاختہ کے نشان والا پرچم نصب تھا

 

سالانہ تہوار کے دن

بادشاہ کے قصیدے

اور ملکہ کے لیے گیت گائے جاتے

جو کسی قومی شاعر نے نہیں لکھے تھے

اس کے باوجود

متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو کر چھپے

 

تخت کے چوتھے پائے میں

خوبصورت ترین لڑکی کے کپڑے اُتارے جاتے

جس کا نام

رواں سال کی رائے شماری میں درج نہیں ہوتا

اور ذبح کر دی جاتی تھی

یہ جانتے ہوئے بھی

کہ یہ رسم منسوخ ہو چکی ہے

 

رات دیر تک

خواب فروش لطیفے سنانا

اور وزیر مقدس حلف نامے میں ترمیم کرتے

 

نئے سال کے کیلنڈر پر

جب بادشاہ کے سرخ دستخط رسید ہوتے

تب تالیوں کی گونج میں

مذہب کے نام پر زندہ لوگ رقص کرتے

جو نہ پرہیز گار تھے نہ گناہ گار

 

یہ پوری تاریخ نہیں

ایک نادار ملک کی کہانی ہے

جو دنیا کے نقشے میں نہیں ملتا

٭٭٭

 

وہ سب رو رہے تھے

 

وہ سب رو رہے تھے

یادگار پر پھول چڑھا کر

اور فریم میں لگی تصویروں کے چہرے

سیاہ حاشیے سے

پسند کا پھول چومنے سے قاصر تھے

 

بوڑھے چہرے نے

ساتھ کی تصویر کو کہنی مارتے ہوئے کہا:

اتنے آنسو کہاں سے آئے

ہمارے دور میں ایسی دوکانیں نہیں تھیں

’’خاموش رہو‘‘

تقریب کے بعد بتاؤں گی

 

چھوٹے بچے نے

ساتھ کے فریم میں بیٹھے بچے سے کہا:

اتنے کھلونے کہاں سے آئے

ہمارے قصبے میں ایسی دوکانیں نہیں تھیں

’’خاموش رہو‘‘

ہمیں پہچان لیا جائے گا

 

تقریب کے اختتام پر

تصویریں عجائب گھر واپس لوٹیں

پھول اور کھلونے

انتظامیہ کے گھروں میں

 

حاشیے میں نیند جھولتی تصویریں

کئی ہفتے تبصرہ کرتی رہیں

وہ کون لوگ تھے

جو آنسو بہانے کے مقابلے میں شریک ہوئے

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے