جنگلی بوٹی۔۔۔۔ امرتا پریتم

انگوری میرے پڑوسیوں کے پڑوسیوں کے گھر، ان کے بڑے پرانے نوکر کی بالکل نئی بیوی ہے۔ نئی اس معنی میں کہ وہ اپنے شوہر کی دوسری بیوی ہے، سو اس کا پتی دو ہاجو ہوا۔ جون کا مطلب اگر جون ہو تو اس کا مطلب ہوا دوسری جون میں جانے والا آدمی، یعنی دوسری Read more about جنگلی بوٹی۔۔۔۔ امرتا پریتم[…]

اپنے دُکھ مجھے دے دو ۔۔۔ راجندر سنگھ بیدی

اندو نے پہلی بار ایک نظر اوپر دیکھتے ہوئے پھر آنکھیں بند کر لیں اور صرف اتنا سا کہا۔ ’’جی‘‘ اسے خود اپنی آواز کسی پاتال سے آئی ہوئی سنائی دی۔ دیر تک کچھ ایسا ہی ہوتا رہا اور پھر ہولے ہولے بات چل نکلی۔ اب جو چلی سو چلی۔ وہ تھمنے ہی میں نہ Read more about اپنے دُکھ مجھے دے دو ۔۔۔ راجندر سنگھ بیدی[…]

نہیں، رحمن بابو۔۔۔۔۔ جوگندر پال

( ۱) نہیں رحمن بابو، تم خوامخواہ تعجب کر رہے ہو؟ میرے بھی تو ایک کی بجائے دو سر ہیں۔۔۔ کیسے؟۔۔۔۔ ایسے بابو، کہ اپنے ایک سر سے میں کچھ اچھا سوچتا ہوں اور ایک سے کچھ بُرا۔۔۔ ہاں اسی لئے کچھ اچھا ہوں، کچھ بُرا۔ ہر ایک کے ساتھ یہی تو ہوتا ہے۔۔۔۔نہیں، تم Read more about نہیں، رحمن بابو۔۔۔۔۔ جوگندر پال[…]

برائے کہانی :ایک ناگزیر فتویٰ ۔۔۔ احمد ہمیش

  آج کہانی وسعتِ موضوع کی اُس نہج پر آ پہنچی ہے کہ اب اُس کے سامنے ایک پورا نظامِ وسعت ہے مگر اس میں لے جانے والا کہانی کار ہی اس کبریائی کا اکابر ہو گا۔ جب کہ وہ بیشتر کہانی کار جو ایک عمر گزار کے بہ وجوہ ایک مثالی کہانی خلق نہ Read more about برائے کہانی :ایک ناگزیر فتویٰ ۔۔۔ احمد ہمیش[…]

تانگے والے کا بھائی ۔۔۔ سعادت حسن منٹو

سید غلام مرتضیٰ جیلانی میرے دوست ہیں۔ میرے ہاں اکثر آتے ہیں گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں۔ کافی پڑھے لکھے ہیں ان سے میں نے ایک روز کہا۔ ’’شاہ صاحب! آپ اپنی زندگی کا کوئی دلچسپ واقعہ تو سنائیے!‘‘ شاہ صاحب نے بڑے زور کا قہقہہ لگایا ’’منٹو صاحب میری زندگی دلچسپ واقعات سے بھری پڑی Read more about تانگے والے کا بھائی ۔۔۔ سعادت حسن منٹو[…]

شاکر میرٹھی ۔۔۔ عابد رضا بیدار

پیارے لال شاکرؔ میرٹھی باشندہ میرٹھ۔ شاگرد حضرت شوکت میرٹھی، مذہباً عیسائی۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ مدتوں منشی راے نظر سے دوستی اور رفاقت رہی اور کلام میں بھی ان سے مشورہ کرتے رہے۔ پیدائش میرٹھ میں ۱۳مارچ ۱۸۸۰ ء کو ہوئی، ۲۰ فروری ۱۹۵۶ء کو وفات پائی۔ قبر پہاڑ گنج دہلی کے مسیحی قبرستان Read more about شاکر میرٹھی ۔۔۔ عابد رضا بیدار[…]

مثنوی خواب و خیال ۔۔۔ میر تقی میرؔ

  خوشا حال اس کا جو معدوم ہے کہ احوال اپنا تو معلوم ہے   رہیں جان غم ناک کو کاہشیں گئیں دل سے نومید سو خواہشیں   زمانے نے رکھا مجھے متصل پراگندہ روزی پراگندہ دل   گئی کب پریشانی روزگار رہا میں تو ہم طالع زلفِ یار   وطن میں نہ اک صبح Read more about مثنوی خواب و خیال ۔۔۔ میر تقی میرؔ[…]

اس کے دشمن ۔۔۔ وزیر آغا

سحر ہوئی تو کسی نے اٹھ کر لہو میں تر ایک سرخ بوٹی بڑی کراہت سے آسماں کے فراخ آنگن میں پھینک دی اور طویل متلی کی جان لیوا سی کیفیت سے نجات پائی   مگر فلک کے فراخ آنگن میں بادلوں کے سفید سگ اس کے منتظر تھے جھپٹ پڑے اس لہو میں تر Read more about اس کے دشمن ۔۔۔ وزیر آغا[…]