ماہ نو، لاہور جلد ۶۹، شمارہ ۴ ۔۔۔ تبصرہ: ڈاکٹر غلام شبیر رانا

جریدہ: ماہ نو، لاہور جلد ۶۹، شمارہ ۴

وزارت اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ حکومت پاکستان

سال اشاعت ۲۰۱۶،

قیمت چار سو روپے۔

 

پاکستان میں اردو زبان میں شائع ہونے والے سرکاری شعبے کے ادبی مجلات میں ’’ماہ نو ‘‘ایک قدیم ادبی مجلہ ہے۔ اس ادبی مجلے نے سال ۱۹۴۸میں علم و ادب کے فروغ کی روشنی کے سفر کا آغاز کیا۔ حال ہی میں ادبی مجلہ ’’ماہ نو ‘‘لاہور کا انتخاب ایڈیشن شائع ہو گیا ہے۔ نہایت نفیس آرٹ پیپر پر شائع ہونے والا پانچ سو اڑتیس صفحات (۵۳۸) کا یہ انتخاب ایڈیشن گزشتہ اٹھائیس برس(۱۹۸۷تا۲۰۱۵)کی منتخب تحریروں پر مشتمل ہے۔ مجلہ ماہ نو کے نگران اعلا محمد سلیم ہیں جب کہ مجلس ادارت میں شبیہہ عباس، صائمہ بٹ، سائرہ رضا اور مریم شاہین شامل ہیں۔ حالیہ شمارے کا ڈیزائن تیار کرنے میں شہزاد انور نے نہایت محنت کا ثبوت دیا ہے۔ مجلے کے سر ورق پر اکیس اور پشت پر بائیس نابغۂ روزگار ادیبوں کی رنگین تصاویر شائع کی گئی ہیں جن سے اس مجلے کے حسن کا چار چاند لگ گئے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس انتخاب میں ان تمام رجحان ساز ادیبوں کی بلند پایہ تخلیقات شامل ہیں۔ تحریروں کا یہ انتخاب مجلس ادارت کے ذوق سلیم کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ عملی زندگی میں جہد و عمل اور زندگی کی تاب و تواں کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ادبی مجلات کا کردار مسلمہ ہے۔ اگر تخلیق ادب کے سوتے بند ہو جائیں تو جامد و ساکت ماحول پر شہر خموشاں کا گماں گزرتا ہے جہاں زندگی کی تمام رُتیں بے ثمر ہو جاتی ہیں۔

ماہ نو کے اس انتخاب نمبر میں حمد، نعت، مضامین، ڈراموں، افسانوں، مکالمات، نظمیں، غزلیں، تراجم، کتابوں پر تبصرے، انشائیے، سفرنامے، طنز و مزاح اور تنقید و تحقیق کو شامل کیا گیا ہے۔ اس انتخاب میں ایسی متعدد تخلیقات جلوہ گرہیں جو ابلقِ ایام کے سُموں کی گرد میں اوجھل ہو گئی تھیں۔ اس اشاعت میں ہماری بزم وفا کے وہ مشاہیر اپنا رنگ جما رہے ہیں جو ماضی قریب میں افق ادب پر مثلِ آفتاب و ماہتاب ضو فشاں رہے مگر اجل کے بے رحم ہاتھوں نے انھیں ہم سے چھین لیا اور اب یہ ہم سے بہت دُور اپنی الگ بستیاں بسا چکے ہیں۔ ماہ نو کے اس انتخاب میں حمد و نعت میں تیرہ تخلیقات، ڈرامہ میں ایک، مضامین میں تیرہ، مکالمات میں آ ٹھ، افسانوں میں چوبیس، تراجم میں اٹھارہ، کتابوں پر تبصرے میں چھے، نظم میں پینتالیس، غزلیات میں ساٹھ، رباعی میں ایک، قطعہ میں ایک، سفرنامہ میں ایک، طنزو مزاح میں ایک اور دائم آباد کے تحت ایک تخلیق کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ ابتدا میں جو تخلیقی تحریریں ادبی مجلات کی زینت بنتی ہیں وہی بالآخر یک جا ہو کر کتابی صورت میں منصۂ شہود پر آ تی ہیں۔ یہی وجہ کہ ادبی جرائد میں اشاعت کی غرض سے تخلیقی تحریروں کے انتخاب میں ادبی مجلات کی مجلس ادارت محتاط رویہ اپناتی ہے۔ ان تحریروں کے مطالعہ سے قلب اور روح کو سکون ملتا ہے اور قاری کے دل کی دھڑکن تخلیق کار کے تخلیقی وجدان سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔

گلزار ہست و بُود پر اپنائیت کی نگاہ ڈالنے والے یہ جری تخلیق کار خونِ دِل سے گلشن ادب کو سیراب کرنے میں مصروف رہے۔ انھوں نے اپنی راحتوں اور آرام و آسائش کے لمحات کو پس ماندہ اور مفلوک الحال طبقات کے چاکِ دامن کو رفو کرنے اور انسانیت کے وقار اور سر بلندی پروار دیا۔ حریتِ فکر و عمل کو نصب العین بنانے والے ان با صلاحیت ادیبوں نے سداجرأت اظہار کا اپنا نصب العین بنایا اور فسطائی جبر کے سامنے سپر انداز ہونے سے ان کار کر دیا۔ ان کی تحریروں نے دلوں کو ایک ولولۂ تازہ عطا کیا اور قارئین کو وہ حوصلہ عطا کیا کہ خزاں کے مسموم ماحول میں گل و گلزار کے ذوق نمو میں کمی نہ آ ئی۔ آلامِ روزگار کی کڑی دھُوپ میں تپتے صحراؤں کے سرابوں میں ان واقفِ اسرار ادیبوں نے ید بیضا کا معجزہ دکھایا اور الم نصیبوں کے دِلوں کو مرکزِ مہر و وفا کرنے کی مقدور بھر کوشش کی۔ آلام روزگار کے مہیب بگولوں میں حوصلے، اُمید اور وفا کی شمع فروزاں رکھنے والے ان ادیبوں نے طلوعِ صبحِ بہاراں کی نوید سنائی اور منزلوں کی جانب رواں دواں رہنے پر اصرار کیا۔ ماہ نو کے اس انتخاب میں جن ممتاز ادیبوں کی تخلیقات شامل ہیں ان کے نام درج ذیل ہیں :

آغا ناصر، آفتاب حسین، آصف فرخی، آغاسہیل، آفتاب اقبال شمیم، احمد ندیم قاسمی، انجم رومانی، اکرم کامل، امرتا پریتم، انتظار حسین، اختر جمال، اختر ہوشیار پوری، اختر امام رضوی، احمد فراز، افتخار نسیم، افتخار عارف، ادا جعفری، الطاف فاطمہ، ایوب خاور، اقبال ساجد، انور مسعود، ام عمارہ، انور سجاد، ارشاد حسین، افضل مراد، انور سد ید، انوار احمد، اعجاز رضوی، امجد اسلام امجد، احمد ظفر، انجم رومانی، اسرار زیدی، اسیرعابد، انور شعور، بلراج کومل، باصر سلطان کاظمی، پروین شاکر، ثروت حسین، جمیلہ ہاشمی، جاوید شاہین، جمیل ملک، خواجہ حمید شیروانی، جعفری شیرازی، حمید اختر، حمایت علی شاعر، حسن عباس رضا، حفیظ تائب، خالدہ حسین، خورشید رضوی، خالد احمد، ذکا الرحمن، رضا ہمدانی، رضیہ طارق، روحی کنجاہی، سجاد باقر رضوی، سرمد صہبائی سریندر پر کاش، ستار طاہر، سلیمہ ہاشمی، سہیل احمد خان، سجاد حیدر ملک، شہزاد احمد، شہرت بخاری، شبنم شکیل، ضیا الحسن، ضمیر جعفری سید، صبا اکبر آبادی، طاہر اصغر، ظہیر کاشمیری، ظہیر پراچہ، ظفر اقبال، عبداللہ ملک، علی تنہا، علی اکبر عباس، عرش صدیقی، عمر فیضی، عبادت بریلوی، عبدالحق مولوی، عذراعباس، غلام الثقلین نقوی، غلام محمد قاصر، عذرا اصغر، عقیل عباس جعفری، عباس تابش، فر خندہ لودھی، فاروق احمد، فاروق عثمان، قتیل شفائی، قیوم مروت، قمر رضا شہزاد، کلیم عثمانی، کشور ناہید، گلزار بخاری، مسعود اشعر ، محمد سعید شیخ، منصور قیصر، منیر الد ین احمد، محسن احسان، محشر بدایونی ، محمد اجمل، مشکور حسین یاد، ممتاز مفتی، منشا یاد، منیر احمد شیخ، مظفر علی سید، محمد سلیم الرحمن، منیر نیازی، محمد اجمل نیازی، مجتبیٰ حسین، محمد اظہار الحق، محسن نقوی، نسیم شاہد، نور الہدیٰ شاہ، نثار عزیز بٹ، نشاط فاطمہ، وزیر آغا۔

ماہ نو کا یہ انتخاب قاری کو فکر و خیال کی ایسی وادی میں پہنچا دیتا ہے جہاں اُسے فی الفور آلام روزگار سے نجات مِل جاتی ہے اور وہ اپنے رفتگان کو یاد کر کے اپنے دِل کو ان کی عطر بیز یادوں سے آباد کرنے کی کوشش کر کے قلبی سکون اور راحت کے احساس سے سرشار ہوتا ہے۔ ادبی مجلات ہر عہد میں نو خیز ادیبوں کی صلاحیتوں کو صیقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس انتخاب میں شامل تحریریں ماضی کی تاریخ، اس کے مسلسل عمل اور تخلیقی فعالیت کے پس پردہ کار فرما عوامل کے تمام پہلوؤں کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ رنگ، خوشبو اور حسن و خوبی کے ازدحام میں یہ تحریریں حقائق کے منابع کی حقیقی تصویریں بن کر نہاں خانۂ دِل پر دستک دیتی ہیں۔ قلب اور روح کیا تھاہ گہرائیوں میں اُتر جانے والی تحریروں کا یہ حسین اور جاذبِ نظر گُل دستہ قارئین کو ایام گزشتہ کی کتاب کے اوراق سے متعارف کراتا ہے۔ اس کے مطالعہ سے قاری عزم و ہمت، ثابت قدمی، بے لوث محبت، بے باک صداقت اور حریت فکر و عمل کا پرچم تھام کر صبر و تحمل سے سوئے منزل روشنی کا سفر جاری رکھنے کا عزم کرتا ہے۔ ماہ نو کے اس انتخاب کی ترتیب اور اشاعت پر قارئین ادب مسرت کے احساس سے سرشار ہیں۔

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے