غزلیں ۔۔۔ محمد احمدؔ

  نظر سے گُزری ہیں دسیوں ہزار تصویریں سجی ہیں دل میں فقط یادگار تصویریں   مری کتاب اٹھا لی جو دفعتاً اُس نے گِریں کتاب سے کچھ بے قرار تصویریں   میں نقش گر ہوں، تبسّم لبوں پہ رکھتا ہوں مجھے پسند نہیں سوگوار تصویریں   بس اک لفافہ! اثاثہ حیات کا؟ کیسے؟ بس Read more about غزلیں ۔۔۔ محمد احمدؔ[…]

غزلیں ۔۔۔ سلیمان جاذب

  نظروں سے کسی کو بھی گراتے نہیں جاناں ہر بات رقیبوں کو بتاتے نہیں جاناں   رہتے ہیں وہ مرجھائے ہوئے موسمِ گل میں جو لوگ کبھی ہنستے ہنساتے نہیں جاناں   ہر پل تری آنکھیں تری خوشبو ہے مرے ساتھ یہ بات مگر سب کو بتاتے نہیں جاناں   اَٹ سکتا ہے تیرا Read more about غزلیں ۔۔۔ سلیمان جاذب[…]

غزل ۔۔۔ عاطف ملک

  شوق اب وحشت میں داخل ہو رہا ہے خستگی میں لطف حاصل ہو رہا ہے   زخم کھائے دل کی طاقت ہی عجب ہے سینہِ خنجر بھی گھائل ہو رہا ہے   جس کی غم خواری متاعِ جاں تھی میری وہ ستم کاروں میں شامل ہو رہا ہے   اک قیامت ٹوٹنے والی ہے Read more about غزل ۔۔۔ عاطف ملک[…]

غزلیں ۔۔۔ ستیہ پال آنند

  چیز چمکیلی سی بیٹھی تھی مرے پھن میں تنی سنگ اسود کا کوئی ٹکڑا تھا یا پارس منی   کھٹکھٹائیں کس کا در اس شہر کے دریوزہ گر گانٹھ کے پکے ہیں دونوں، شوُم کیا اور کیا غنی   اک زمرد اب اگلنا ہی پڑے گا وقت پر بھول سے وہ کیوں نگل بیٹھی Read more about غزلیں ۔۔۔ ستیہ پال آنند[…]

غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر رؤف خیرؔ

  کوئی امید کسی سے نہ گلہ رکھتے ہیں بے نیازانہ جو جینے کی ادا رکھتے ہیں   ہم مریضان تجاہل کو خفا رکھتے ہیں دُکھتی رگ پر کبھی انگلی جو ذرا رکھتے ہیں   جذبہ و شوق شہادت تو وہ کیا رکھتے ہیں جیب میں جان بچانے کی دوا رکھتے ہیں   بد گمانی Read more about غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر رؤف خیرؔ[…]

غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر فریاد آزرؔ

  حصۂ درد وراثت سے زیادہ ہی ملا یعنی مجھ کو مری قسمت سے زیادہ ہی ملا   غم زمانے کا ذرا سا ہی خریدا تھا مگر مال مجھ کو مری قیمت سے زیادہ ہی ملا   وہ سیاست نے دیا ہو کہ محبت نے تری زخم اس دل کو ضرورت سے زیادہ ہی ملا Read more about غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر فریاد آزرؔ[…]

غزل ۔۔۔ سعید

  کبھی طلب، کبھی وحشت، کبھی نمُو نے مری مجھے کہیں کا بھی رکھا نہ جُستجو نے مری   وہ ہاتھ جس کا دلاسہ ہی میرا سب کچھ تھا بکھر چکا ہوں تو آیا ہے خاک چھُونے مری   کوئی نصاب نہ مکتب جو بھید کھول سکا وہ عشق کھولا ہے مجھ پر کتاب رُو Read more about غزل ۔۔۔ سعید[…]

غزلیں ۔۔۔ پریتپال سنگھ بیتاب

  سال گزشتہ کے نام ایک غزل بروز ۳۱ دسمبر ۲۰۲۰   میں چھوڑ آیا ہوں پیچھے بے شک دیارِ رفتہ مگر نہیں چھوڑتا مُجھے یہ خمارِ رفتہ   قدم بڑھاؤں گا آگے رستہ نظر تو آئے چھٹا کہاں ہے ابھی تلک یہ غبارِ رفتہ   میرے پروں کو نہیں وہ پرواز بننے دیتا لدا Read more about غزلیں ۔۔۔ پریتپال سنگھ بیتاب[…]

غزل ۔۔۔ نجمہ ثاقب

  جھیل سی آنکھوں میں کوئی آبپارہ ڈھونڈتے تیرنے کو آبپارے میں شکارا ڈھونڈتے   تند تھی بحری ہوا اور بادباں کھلتے نہ تھے رات عرشے پر رہے قطبی ستارہ ڈھونڈتے   شب کے منظر میں کوئی بھی دلکشا صورت نہیں رتجگوں میں ورنہ کوئی ماہ پارہ ڈھونڈتے   موج دریا بن کے جا پھنستے Read more about غزل ۔۔۔ نجمہ ثاقب[…]