غزل ۔۔۔ عبید الرحمٰن نیازی

میں دیکھتا نہیں، گرچہ دکھائی دیتا ہے بچاؤ کا یہی رستہ سجھائی دیتا ہے   اگر تجھے تری شرکت ذرا نہیں بھاتی تو پھر تُو خلق کو کیونکر خدائی دیتا ہے   میں جب بھی شام کی خاموشیوں کو سنتا ہوں تھکے پرندوں کا نوحہ سنائی دیتا ہے   تُو روکتا ہے اُسے! جب کہ Read more about غزل ۔۔۔ عبید الرحمٰن نیازی[…]

غزل ۔۔۔ مہتاب حیدر نقوی

لفظ اس کے ہیں مگر ان میں روانی میری قصہ گو کوئی سہی، ہے تو کہانی میری   لوگ راوی کے کہے کو ہی حقیقت سمجھے مجھ سے سنتا کوئی آشفتہ بیانی میری   زخم بھرنے کے لیے، داغ ہیں مٹنے کے لیے نقش بر آب ہے ہر ایک نشانی میری   دست تائید پہ Read more about غزل ۔۔۔ مہتاب حیدر نقوی[…]

غزل ۔۔ طارق بٹ

وجہِ بےگانگی بتاتے نئیں جو ہمارے ہیں اور ہمارے نئیں   آپ کیا دوریاں مٹائیں گے راستے ملنے کے بناتے نئیں   چلیے منزل شناس ہم نہ ہوئے خیر سے آپ بھی تو پہنچے نئیں   ہم نے ہر لمحہ دل اُسارے ہیں کر کے پیماں کسی سے توڑے نئیں   اک تمھیں اپنی داستاں Read more about غزل ۔۔ طارق بٹ[…]

غزل ۔۔ مصحف اقبال توصیفی

ہمیں کیوں آ کے سمجھائے گا کوئی نہیں آیا نہیں آئے گا کوئی   اگر وہ آئے بھی تو کیوں ملیں ہم ملے گا پھر بچھڑ جائے گا کوئی   ہمیں دیکھو تو جا کر کہہ بھی آئے تمہیں کھو کر نہ پچھتائے گا کوئی   ہزاروں آئینے اور ایک چہرہ تو پھر کیسے نہ Read more about غزل ۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]

غزلیں ۔۔۔ کاوش عباسی

جان فانی پر ابَد کا گریہ لکّھیں آؤ کاوش زِندگی کا نوحہ لکّھیں   بے اَماں دِل کی لرزتی دھڑکنوں پر مستقل کرب فنا کا سایہ لکّھیں   زِندگی کی بے نیازی کو چِڑاتا مَوت سے بھی تِیکھا اِک طنزیہ لکّھیں   جِس حیات بے کراں کو پُوجتے ہیں آج اُس کو اَحقر و بے Read more about غزلیں ۔۔۔ کاوش عباسی[…]

غزلیں ۔۔۔ احمد شہریار

خون؟ نہیں، آبِ وضو ہے مرا نیزہ؟ نہیں، شوقِ نمو ہے مرا   کوئی کماں ہے؟ نہیں، یہ تیر ہے تیر؟ نہیں، رزقِ گلو ہے مرا   کون؟ یہ میں ہوں، یہ مرے لوگ ہیں لوگ؟ نہیں، تو ہے، یہ تو ہے مرا   کیسی جہت؟ یہ ہے روانی مری! کیسی روانی؟ یہ لہو ہے Read more about غزلیں ۔۔۔ احمد شہریار[…]

غزلیں ۔۔۔ نوید ناظم

اس لیے اب بھی راستے میں ہوں کہ میں چلتا ہی دائرے میں ہوں   یہ مِرا عکس ہے جو باہر ہے دیکھ میں خود تو آئینے میں ہوں   میں عناصر بکھیر دوں اپنے تیرے کہنے پہ ضابطے میں ہوں   رک سکوں اور نہ چل سکوں آگے کیا کروں سخت مرحلے میں ہوں Read more about غزلیں ۔۔۔ نوید ناظم[…]

غزل ۔۔۔ محمد اورنگزیب

کیوں الجھنے لگی ہوا مجھ سے جل اٹھا ہے اگر دیا مجھ سے   اس کو کہتے ہیں لازم و ملزوم میں خدا سے ہوں اور خدا مجھ سے   آنکھ حیرت سے بھر گئی لیکن ایک مصرع نہیں ہوا مجھ سے   عکسِ آئندہ ہوں میں زندہ ہوں حظ اٹھاتا ہے آئینہ مجھ سے Read more about غزل ۔۔۔ محمد اورنگزیب[…]

غزلیں ۔۔۔ طارق بٹ

نقش تیرا میں جاں سے دھویا نئیں خود کو رویا ہوں، تجھ پہ رویا نئیں   کھو گیا ہے سمے کی دھند میں تو دل کے منظر نے تجھ کو کھویا نئیں   آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ہے جیسا سنتے تھے ویسا ہویا نئیں   سانس لیتی ہیں تیری تصویریں کون تصویر میں تو گویا Read more about غزلیں ۔۔۔ طارق بٹ[…]