دو دو غزلے ۔۔۔ ظہیرؔ احمد

دو غزلہ ۱ آنکھوں میں ہوں سراب تو کیا کیا دکھائی دے پانی کے درمیان بھی صحرا دکھائی دے بینائی رکھ کے دیکھ مری، اپنی آنکھ میں شاید تجھے بھی درد کی دنیا دکھائی دے دنیا نہیں نمائشِ میکانیات ہے ہر آدمی مشین کا پرزہ دکھائی دے آدم غبارِ وقت میں شاید بکھر گیا حوّا Read more about دو دو غزلے ۔۔۔ ظہیرؔ احمد[…]

غزلیں ۔۔۔ محمد احسن سمیع راحلؔ

دل ہائے گرفتہ کو خوشا کون کہے گا اس بیعتِ قسری کو بجا کون کہے گا! سب کا ہی مفاد اور غرض زد میں ہو جس کی آمین بر ایں حرفِ دعا کون کہے گا! خائف نہ ہوں کیوں اہل چمن میری نوا سے صرصر کو بھلا باد صبا کون کہے گا! اک لفظ تسلی Read more about غزلیں ۔۔۔ محمد احسن سمیع راحلؔ[…]

غزلیں ۔۔۔ تنویر قاضی

خواب جب اُتر آئے ساحلی علاقے میں ماہی گیر گھر آئے ساحلی علاقے میں آنکھ اشک بھر آئے ساحلی علاقے میں دل کو خالی کر آئے ساحلی علاقے میں سُرخ پینگوئن ایسے منظروں سے دُھتکارے پھر نہ عمر بھر آئے ساحلی علاقے میں میتیں دِکھانے کا اہتمام کیا کرتے سب بغیر سَر آئے ساحلی علاقے Read more about غزلیں ۔۔۔ تنویر قاضی[…]

غزلیں ۔۔۔ ظہیرؔ احمد

اُجلی رِدائے عکس کو میلا کہیں گے لوگ آئینہ مت دکھائیے، جھوٹا کہیں گے لوگ شاخیں گرا رہے ہیں مگر سوچتے نہیں پھر کس شجر کی چھاؤں کو سایہ کہیں گے لوگ واقف ہیں رہبروں سے یہ عادی سراب کے دریا دکھائیے گا تو صحرا کہیں گے لوگ شہرت کی روشنی میں مسلسل اُچھالئے پتھر Read more about غزلیں ۔۔۔ ظہیرؔ احمد[…]

غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر فریاد آزرؔ

نہ ہو گر خوفِ دوزخ اور نہ لالچ بھی ہو جنت کا بھرم کھل جائے پھر ہم جیسے لوگوں کی عبادت کا ملا تھا کل جسے رتبہ جہاں کی بادشاہت کا تماشا بن چکا ہے آج وہ خود اپنی عبرت کا خدا کو اتنے چہروں میں کیا تقسیم بندوں نے بڑی مشکل سے آتا ہے Read more about غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر فریاد آزرؔ[…]

غزلیں ۔۔۔ عاطف ملک

    جس دل میں صبر، ضبط، اطاعت، وفا نہیں وہ گھر ہے جو مکین کے لائق بنا نہیں   ایسا مرض نہیں کوئی جس کی شفا نہیں درماں ہی وجہِ درد اگر ہو دوا نہیں   کہنے کو آدمی سے بڑے آدمی بہت سوچو تو آدمی سے کوئی بھی بڑا نہیں   کس نے Read more about غزلیں ۔۔۔ عاطف ملک[…]

غزلیں ۔۔۔ سلیمان جاذب

      ترے رستے میں بیٹھے ہیں، تو اس میں کیا برائی ہے تجھے ہم دیکھ لیتے ہیں، تو اس میں کیا برائی ہے   ہمارا جرم اتنا ہے، تمہیں اپنا سمجھتے ہیں تمہیں اپنا سمجھتے ہیں، تو اس میں کیا برائی ہے   بچھڑ کر تم سے ہم جاناں تمہارے پاس ہوتے ہیں Read more about غزلیں ۔۔۔ سلیمان جاذب[…]

غزل ۔۔۔ اقبال رضوی شارب

      مرے وجود میں شامل جو سرکشی ہے میاں انا کی شکل میں ظاہر وہ ہو رہی ہے میاں   کشیدگی سے بھری یہ جو زندگی ہے میاں کسی کے لطف سے اسمیں شگفتگی ہے میاں   ہر ایک بات پہ ردِّ عمل نہیں اچھا ذرا سا صبر کہ دنیا تو سرپھری ہے Read more about غزل ۔۔۔ اقبال رضوی شارب[…]