غزلیں ۔۔۔ تنویر قاضی

کسی بارش کے جو با دل رہے ہیں تمہاری آنکھ کا کاجل رہے ہیں   نہیں مانجھی سے اب نظریں ملاتے مسافت کے لئے بے کل رہے ہیں   رکھو جاری تم اپنی گُفتگُو کو لگے جیسے کہ جادو ٹل رہے ہیں   زمانے بن گئے ہیں شامیانے تمہارے ساتھ اک دو پل رہے ہیں Read more about غزلیں ۔۔۔ تنویر قاضی[…]

غزلیں ۔۔۔ عاطف ملک

آباد درد و غم سے ہے کاشانِ عین میم* اشکِ لہو سے لکھا ہے دیوانِ عین میم   تیرِ نظر تھا ان کا، خطا ہوتا کس طرح ہونا تھا جن کو، ہو گئے، اوسانِ عین میم   اس نازنیں کی تابشِ رخسار دیکھ کر ناصح بھی ہو گئے تھے رقیبانِ عین میم   خاکِ وفا Read more about غزلیں ۔۔۔ عاطف ملک[…]

غزلیں ۔۔۔ نوید ناظم

ہجومِ یاراں کو بھی میں کم تر نہیں سمجھتا پہ دردِ تنہائی سے تو بڑھ کر نہیں سمجھتا   مجھے وہ اندر سے جان پائے یہ چاہتا ہوں وہ جو مِری بات کو بھی اکثر نہیں سمجھتا   اگر مِرا غم نہ ہو تو میں بھی نہیں رہوں گا میں جس سے قائم ہوں تُو Read more about غزلیں ۔۔۔ نوید ناظم[…]

غزلیں ۔۔۔ تابش صدیقی

اِلٰہی عَفو و عطا کا تِرے اَحَق ہوں میں خطاؤں پر ہوں میں نادم، عَرَق عَرَق ہوں میں   کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری کتابِ زیست کا موڑا ہوا وَرَق ہوں میں   یہ تار تار سا دامن، یہ آبلہ پائی بتا رہے ہیں کہ راہی بہ راہِ حق ہوں میں   Read more about غزلیں ۔۔۔ تابش صدیقی[…]

غزلیں ۔۔۔ عبید الرحمٰن نیازی

جو میری روح کی گہرائیوں میں اترا تھا وہ ایک نرم ملائم ہوا کا جھونکا تھا   اس ایک لمس کے بارے میں کیا بتاؤں تمھیں ٹھٹھرتی سردیوں کی تیز دھوپ جیسا تھا   میں اک زمین بنا گھومتا تھا جس کے سبب وہ ایک گل تھا، مرے چاند پر جو کھلتا تھا   وہ Read more about غزلیں ۔۔۔ عبید الرحمٰن نیازی[…]

غزلیں ۔۔۔ سلیمان جاذب

الوداع اس طرح کہا میں نے خود سے خود کو جدا کیا میں نے   ماننا دل کا فیصلہ ہے اب کر لیا ہے یہ فیصلہ میں نے   مشکلوں سے جسے قریب کیا عجلتوں میں گنوا دیا میں نے   اتنے نزدیک سے اسے دیکھا درمیاں رکھ کے فاصلہ میں نے   ایک چپ Read more about غزلیں ۔۔۔ سلیمان جاذب[…]

غزل ۔۔۔ مہتاب حیدر نقوی

لفظ اس کے ہیں مگر ان میں روانی میری قصہ گو کوئی سہی، ہے تو کہانی میری   لوگ راوی کے کہے کو ہی حقیقت سمجھے مجھ سے سنتا کوئی آشفتہ بیانی میری   زخم بھرنے کے لیے، داغ ہیں مٹنے کے لیے نقش بر آب ہے ہر ایک نشانی میری   دست تائید پہ Read more about غزل ۔۔۔ مہتاب حیدر نقوی[…]

غزل ۔۔۔ عبید الرحمٰن نیازی

میں دیکھتا نہیں، گرچہ دکھائی دیتا ہے بچاؤ کا یہی رستہ سجھائی دیتا ہے   اگر تجھے تری شرکت ذرا نہیں بھاتی تو پھر تُو خلق کو کیونکر خدائی دیتا ہے   میں جب بھی شام کی خاموشیوں کو سنتا ہوں تھکے پرندوں کا نوحہ سنائی دیتا ہے   تُو روکتا ہے اُسے! جب کہ Read more about غزل ۔۔۔ عبید الرحمٰن نیازی[…]