غزلیں ۔۔۔ عرفان ستار

ہاتھوں میں سپر ہے، نہ ہی شمشیر بکف ہوں اے شخص، میں تیرے لیے آسان ہدف ہوں   لہجے میں ہے میرے مری سچائی کی تلخی کیسے تجھے سمجھاؤں کہ میں تیری طرف ہوں   کٹتے گئے، چھٹتے گئے، بکتے گئے سب لوگ اب اہلِ جنوں کے لیے میں آخری صف ہوں   اے اہلِ Read more about غزلیں ۔۔۔ عرفان ستار[…]

غزلیں ۔۔۔ احمد صفی

مجھ کو پچھلے پہر ہے پھر لائی *’شاہراہوں پہ میری تنہائی‘   گرد و گرما میں خوب بہلائی یہ طبیعت بھی تو ہے صحرائی   در پئے جان، جانِ جاں تم ہو اس طرح جان پر ہے بن آئی   ہاتھ میں فون ہے کہ دنیا ہے کوئی دیکھے تو عالم آرائی   تم نہیں Read more about غزلیں ۔۔۔ احمد صفی[…]

غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر رؤف خیر

کیچ چھٹتے نہیں یہ چھوڑ دیے جاتے ہیں کھیل کے رُخ کو نئے موڑ دیے جاتے ہیں   ہار نا جیتنا پہلے ہی سے طے ہوتا ہے جتنے قانون ہیں، سب توڑ دیے جاتے ہیں   تیسری آنکھ بھی سچ بول نہیں سکتی ہے لینس ایسے بھی کبھی جوڑ دیے جاتے ہیں   کھیلنے والے Read more about غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر رؤف خیر[…]

غزلیں ۔۔۔ عرفان ستار

ہاتھوں میں سپر ہے، نہ ہی شمشیر بکف ہوں اے شخص، میں تیرے لیے آسان ہدف ہوں   لہجے میں ہے میرے مری سچائی کی تلخی کیسے تجھے سمجھاؤں کہ میں تیری طرف ہوں   کٹتے گئے، چھٹتے گئے، بکتے گئے سب لوگ اب اہلِ جنوں کے لیے میں آخری صف ہوں   اے اہلِ Read more about غزلیں ۔۔۔ عرفان ستار[…]

غزلیں ۔۔۔ محمد صابر

عجیب پھیر ہے دیوار و در پھرے ہوئے ہیں مرے پڑوس کے آدم نگر پھرے ہوئے ہیں   تمہارے شہر کے لوگوں سے کیسے بات کروں تجھے نکال کے ساروں کے سر پھرے ہوئے ہیں   ہمارے بت بھی پڑے ہیں مراقبے میں یہاں کئی خمار میں ہیں بیشتر پھرے ہوئے ہیں   ڈرے ہوئے Read more about غزلیں ۔۔۔ محمد صابر[…]

غزلیں ۔۔۔ علی تاصف

پیارے نحریر جاوید کی نذر   یوں تو اپنے تئیں تھے بہت با خبر کھلتے کھلتے کھلا اس حقیقت کا در ہائے افسوس ہم بے خبر ہی رہے بے خبر جائیں گے خواب رہ جائیں گے در کھلا تو کھلا فلسفہ زیست کا کوئی کچھ بھی کہے ماجرا ہے یہی جانتے کچھ نہیں اک نہ Read more about غزلیں ۔۔۔ علی تاصف[…]

غزل ۔۔۔ ڈاکٹر فریاد آزرؔ

حسن دیرینہ روایات کا پتلا پھونکا اس نے آتے ہی مساوات کا پتلا پھونکا   گاؤں کی سادہ مزاجی کی خبر لی نہ گئی شہر کیا آ گئے، دیہات کا پتلا پھونکا   غم آفاق کی ورنہ نہ خبر ہوتی کبھی یوں مرے دل نے غم ذات کا پتلا پھونکا   جانے کس بات پہ Read more about غزل ۔۔۔ ڈاکٹر فریاد آزرؔ[…]

غزلیں ۔۔۔ اسلم عمادی

بر سرِ عام ترے عشق کا دعوی کر کے۔۔! ہم بڑے چین سے ہیں سب سے کنارا کر کے   آنکھیں چندھیا گئیں، گم ہو گئے احساس و حواس اس نے لوٹا ہمیں جلووں سے اجالا کر کے   رات دن بن گئی، کیا جان جہاں ہے اپنا؟ زیست کی سمت بدل ڈالی اشارہ کر Read more about غزلیں ۔۔۔ اسلم عمادی[…]