میرے تخلیقی محرکات ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

  اگر ہم بیش تر شاعروں، ادیبوں، علماء، حکماء یا محض ان پڑھ لیکن تخلیقی مزاج کے حامل لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ہمیں ان کے کردار میں ایک طرح کی بوالعجبی بہر حال ملے گی۔ وہ مشرق ہو یا مغرب، غالب ہوں یا ایڈگر ایلن پو یا ہم اپنے آس پاس ہی Read more about میرے تخلیقی محرکات ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]

مجھے گھر یاد آتا ہے ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

  پہلے گھر ہوتے تھے اب تو ٹی۔ وی، گیس کے چولہے، ریفریجریٹر قالینوں کے بیچ میں ہی رہنا ہے یہ بھی ٹھیک ہے۔ دُنیا بدلی ہم بھی بدلیں۔ کبھی کبھی تو ہم کو اپنا یہ بدلا بدلا رُوپ بھی اچھّا لگتا ہے جب کچھ دِن کو (سسرال سے ) دیباؔ ، اُس کا دُولہا Read more about مجھے گھر یاد آتا ہے ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]

غزل ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

  اشکوں سے بہ رنگِ آب ہم نے دریا کو لکھا سراب ہم نے ہم خود سے سوال کر رہے تھے لو۔ ڈھونڈ لیا جواب ہم نے دیکھا نہیں اس کو کتنے دِن سے انگلی پہ کیا حساب ہم نے اب اپنی نگاہ درمیاں ہے دیکھا تجھے بے نقاب ہم نے کیا کیا نہ ہمارے Read more about غزل ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]

سفید تحریر ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

  آؤ بچپن کی ان سنہری وادیوں میں چلیں شاید وہاں میرے خوب صورت بھیا مل جائیں دو ننھے قدموں کے نشان گھاس پر موجود ہوں ایک رومال جس پر ٹیڑھے میڑھے حروف میں پنسل سے میں نے اپنا نام لکھا تھا اور باجی نے سرخ اور نیلے ریشم سے کاڑھا تھا باجی۔ جو، اب Read more about سفید تحریر ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]

مجھے صدا دے ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

  مجھے صدا دے کبھی مجھے اتنی دور سے صدا دے کہ تیری آواز کے تعاقب میں گھر سے نکلوں تو جنگلوں، وادیوں، پہاڑوں کا کارواں میرے ساتھ نکلے ہزار سمتوں کے ہاتھ میں ساعتوں کے نیزے جو میری آنکھوں میں بازوؤں میں گڑے ہوئے ہیں۔ ٹٹول کر اپنے جسم آنکھوں سے ایک ایک نیزہ Read more about مجھے صدا دے ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]

سمجھوتہ ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

  یوں نہ پاگل بنو، اداس نہ ہو اپنے اشکوں کو تم بھی پی لینا میں بھی جیتا ہوں، تم بھی جی لینا تمہیں کھونا بھی تم کو پانا ہے یوں بھی جینے کو چاہئے کوئی غم تمہیں کھونا تو اک بہانہ ہے ہجر کی رات ڈھل گئی اب تو غم نئی صبح لے کے Read more about سمجھوتہ ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]

اندھے خواب ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

  ’’تم سے کتنی بار کہا ہے اک اچھی سی ساڑی لادو ببو کی موٹر کا پہیہ ٹوٹ گیا ہے … وہ بنوا دو‘‘ ’’تم کہتے تھے اس پہلی پر سونے کے کنگن لاؤں گا یہ گجرا کتنا سندر ہے، میرے ہاتھ آٹے میں سنے ہیں لو تم ہی پہنا دو‘‘ کیسے خواب دکھاتی ہو Read more about اندھے خواب ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]

غزل ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

  اپنی سانسوں کے جال میں رہنا جسم و جاں کے وبال میں رہنا جیسے مکڑی خود اپنے جال میں ہو ہم کو اپنے کمال میں رہنا اک گلی جو کہیں نہیں جاتی اُس گلی کے خیال میں رہنا ہم کسی سے جواب کیوں مانگیں ہم کو اپنے سوال میں رہنا ذکر کیا بود و Read more about غزل ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]

میں بابو گوپی ناتھ نہیں ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

  مرے مولا میں منٹو کا کردار نہیں کسی زینت کا عاشق، شیدا میں بابو گوپی ناتھ نہیں مرے پاس تو اتنا دھن بھی نہیں … بس کچھ سانسوں کے سکے ہیں کچھ سجدے ہیں کسی ناز و ادا کے نُکڑّ پر … کسی کوٹھے پر کسی پیر فقیر کے تکیے پر اب ان کو Read more about میں بابو گوپی ناتھ نہیں ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]

غزل ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

  (اوم پرکاش نرملؔ کے نام)   خود سے ملنے ہم نکلے جان کے سَو جوکھم نکلے وہ کیا کرتا… اپنی ہی جان کے دشمن ہم نکلے ایسے گھاؤ نہیں بھرتے زخم ہی جب مرہم نکلے دُنیا ہم کو بھول گئی ہم بھی گھر سے کَم نکلے میرا آنگن روشن ہو میری مٹّی نَم نکلے Read more about غزل ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]