اختر شمار اور اطہر ناسک: چند یادیں، چند باتیں ۔۔۔ رحمان حفیظ

اختر شمار کا وداع بھی اطہر ناسک کی وفات کی طرح ہم میں سے بیشتر کے لئے نا قابلِ یقین ہے۔ اطہر ناسک نے تو چلو کچھ بیماری بھی کاٹی لیکن پہاڑ جیسے مضبوط، پر اعتماد اور دبنگ اختر شمار کی موت کے اچانک اعلان نے تو جیسے انتہائی حیرت و استعجاب سے دوچار کر دیا۔

اختر شمار اور اطہر ناسک کے ساتھ میرا تعارف 1986 یا 1987 میں یونیورسٹی کی تعلیم کے زمانے میں ہوا جب لاہو رمیں اجنبی ہم دو چار ہم جماعتوں نے پاک ٹی ہاوس کے چکر لگانے شروع کئے۔ ان دنوں ملتان سے تعلق رکھنے والے ( پروفیسر) آصف ہمایوں، اختر شمار اور اطہر ناسک اکٹھے اٹھتے بیٹھتے تھے۔ اکثر ان احباب کے ساتھ ( جھنگ سے لاہور منتقل ہوئے) فرحت عباس شاہ اور دیگر کئی احباب بھی شامل ہو جاتے جنہوں نے بعد میں "لوگ” تنظیم بنا کر اپنے رسوخ کو مزید فعال بنایا۔ جہلم سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوست، ہم سے سینئر شاعر احمد لطیف کی نشست و برخاست سب گروپوں میں تھی چنانچہ ان کی وساطت سے ہماری رسائی اس میز تک ہو ئی جس پر اطہر ناسک ہمہ وقت گفتگو کرتے اور اختر شمار اس پر مسکراتے پائے جاتے۔ ( بعد ازیں احمد لطیف ہی کے توسط سے میں وزیر آغا اور خالد احمد کے حلقوں تک بھی پہنچا)۔

اختر شمار کو کم مستعمل بحر ہزج (مفعول مفاعلن فعولن) میں اشعار کہنے کی بڑی مشق تھی جس پر وہ اکثر مان بھی کیا کرتے۔ انہوں نے ہم سے ایک بار راولپنڈی میں مقیم استاد شاعر اختر ہوشیارپوری کا بہت تذکرہ کیا جن کا اسی فیصد کلام اسی بحر میں ہوتا تھا۔ دوسری جانب اطہر ناسک "مفتعلن مفاعلن” کے قتیل تھے اور ان کا ایک مصرع مجھے آج بھی یاد ہے جسے وہ بار بار پڑھتے تھے

ع۔۔۔ زخمی ہرن کو شیرنی کاندھے پہ ڈال لے گئی

بر سبیلِ تذکرہ یاد آیا کہ ان نشستوں میں بعض اوقات ملتان یا جنوبی پنجاب کے دیگر علاقوں سے آنے والے کئی لکھاری اپنے ہی ایک ساتھی ( آج کے ایک مقبول شاعر) کی لاہور میں مقبولیت پر منفی خیالات کا اظہار بھی کرتے پائے جاتے۔ وہاں شاید سب سے زیادہ ذکر بیدل حیدری کا ہوتا تھا۔ حیرت انگیز طور پر یہ لوگ خورشید رضوی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ اختر عثمان کا لاہور آنا جانا ہوا تو ان سے خورشید رضوی کے اشعار سنے جاتے۔ بے تکلفی پر اختر شمار نے انکشاف کیا کہ وہ در اصل ملتان کے نہیں بلکہ راولپنڈی کے ایک دیہی علاقے سے ہجرت کر کے ملتان میں جا بسے تھے شاید اسی لئے انہوں نے اپنی تدفین کے لئے بھی خطۂ پوٹھوہار کو ترجیح دی (اللہ ان کے لئے اس مٹی کو گل و گلزار کر دے۔ آمین)۔

اطہر ناسک اکثر ہمیں اپنے گھر بھی لے جاتے۔ اختر شمار، احمد لطیف اور میں وہاں مزے سے چائے پیتے اور کبھی کبھار تیز مرچوں والا کھانا بھی کھاتے کہ بقول اطہر ناسک مرچیں سموکرز کے لئے اینٹی کینسر تھیں ۔ وہ سبز مرچیں بطور سلاد کھاتے تھے لیکن شومیِ قسمت کہ بعد ازیں ان کی وفات کینسر ہی کے باعث ہوئی۔ یاد رہے کہ اختر شمار گوشت خور نہیں تھے اور میری معلومات میں وہ واحد ایسے شخص ہیں جنہیں میں نے گوشت سے بے اعتنا پایا۔ ہم ان کا سرخ و سپید چہر ہ اور بڑی جسامت دیکھ کر اکثر یہ سوچا کرتے تھے کہ شاید ایسا سبزی خوری کی برکت سے ہے۔

اطہر سرگودھا کے ایک اخبار "آزادی” کی ادارت کرتے جو لاہور میں چھپتا اور وہیں فروخت کیا جاتا۔ اس اخبار کے ماتھے پر مالک نے لاہوریوں کو چکر دینے کے لئے بہت نمایاں کر کے

"خطۂ لاہور! تیرے جاں نثاروں کو سلام”

لکھا ہوتا تھا۔ اطہر ناسک نا قابلِ یقین واقعات اور بعض بلند و بالا دعووں سے جب مجھے مبہوت کر کے رکھ دیتے تو میں بے بس ہو کر اکثر احمد لطیف اور اختر شمار کی جانب دیکھتا جو اس وقت بالکل نیوٹرل ہو جاتے اور کبھی کبھار ایک دوسرے کو آنکھ مار کے مسکرا بھی دیتے۔ کچھ عرصہ بعد میں نے بھی اس صورت حال کو قبول کر لیا چنانچہ ایک بار کسی نے مجھے کہا کہ تم اطہر ناسک کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہو جس کے دعوے ایسے ویسے ہیں تو میں نے اسے کہا کہ ناسک ہم تم لوگوں سے پھر بھی اچھا ہے کہ وہ کسی اور پر بہتان نہیں باندھتا۔ میری یہ بات احمد لطیف اور اختر عثمان سمیت کئی احباب مجھے آج تک یاد دلاتے ہیں۔

خیر، مذکورہ بالا میز کے شرکا کا محبوب موضوع لاہور کے ادیبوں کی وہ کلاس تھی جو ان کے بقول تمام رسائل و اخبارات اور اداروں پر قابض تھی خاص طور پر حلقہ ارباب ذوق لاہور کا ذکر ہوتا جس میں نئے ارکان کی بھرتی سات سالوں سے بند تھی۔ ان مقصد کے لئے مشترکہ جد و جہد کے عہد و پیمان بھی کئے جاتے۔ اس مقصد کے لئے "بجنگ آمد” نامی ایک ادبی خبر نامے کا اجرا بھی کیا گیا جس سے کئی لوگ آنکھ چراتے پھرتے تھے۔ میں عام طور پر غیر جانبدار ہی رہنے کی کوشش کرتا تھا (اس لئے کچھ مشکوک بھی سمجھا جاتا تھا) لیکن فیصل آباد سے آئے ہوئے ایسے ہی خیالات رکھنے والے افسانہ نگار رشید مصباح نے جب مجھے اچانک اس ادبی ایلیٹ کلاس کے متوازی قائم ہوئے نئے حلقے "سوچ قبیلہ” کا سیکریٹری بنا لیا تو میری غیر جانبداری بھی ہوا ہو گئی۔ یہ تنظیم دوسرے احتجاجی گروپس کو ساتھ ملا کر لاہور کے فائیو سٹار ہوٹلوں سے لے کر فلیٹیز اور پاک ٹی ہاوس تک ہر کہیں ایک سے ایک کامیاب ادبی و تنقیدی پروگرام منعقد کر کے آخر کار حلقے کی انتظامیہ کو دباؤ کی زد پر لانے میں کامیاب ہو گئی اور 1992 میں حلقے کی ممبر شپ کھول دی گئی ( مجھے یہی وجہ بتائی گئی تھی)۔ رکن بننے والوں میں اختر شمار، غافر شہزاد، اشفاق رشید، ادریس بابر، احمد لطیف، فرحت عباس شاہ اور راقم الحروف رحمان حفیظ کے علاقہ چند اور ادیب شامل تھے۔

اس کے بعد ان دوستوں سے مزید ملاقاتیں جاری نہ رہ پائیں۔ اختر شمار اور اطہر ناسک نے اگرچہ 1994 میں اسلام آباد میں منعقد کی گئی مشہور بین الاقوامی ادبی کانفرنس میں آمد کا عندیہ ظاہر کیا تھا لیکن وہ وہاں دکھائی نہیں دئیے اور یہ وقفہ طویل ہوتا کئی عشروں پر پھیل گیا۔ اس دوران اختر شمار کئی سالوں تک مصر کی قاہرہ یونیورسٹی میں تدریس بھی کرتے رہے۔

اختر شمار سے ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ تب بحال ہوا جب گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے کے بعد میری تعیناتی اسلام آباد میں ہوئی۔ یہ ادیبوں میں فیس بک کی مقبولیت کے آغاز کا زمانہ تھا سو رابطے کی بڑی صورت فیس بک ہی رہی۔ اطہر ناسک کی موت بھی انہی دنوں میں ہوئی۔ افسوس موت نے ان دونوں احباب کو جلد آ لیا۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے۔

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے