غیر افسانوی تحریر کی فسوں کاری ۔۔۔ ۔۔۔ غضنفر

 

’’یاد ایک ایسا پُر سکوں اور طوفانی، شفّاف اور گدلا سمندر ہے جس کی تہہ میں ان گنت شکستہ جہازوں، جگمگاتے خزانوں اور لاشوں کے شہرِ خموشاں دفن ہیں۔ ان زیرِ آب بلّوریں محلّات میں سمندری پھول تیرتے پھرتے ہیں۔ سبز اور نیلی موجوں کے عکس ان ایوانوں میں لہریں مارتے ہیں اور زمردّ کی روشنی میں مونگے کی چٹانوں کے پیچھے جل پریوں کی آواز یں اس سیّال ابدی سنّاٹے میں مدھم مدھم گونجتی ہیں۔ (یہ آواز یں اگر آپ ساحل پر کوئی سیپی اٹھا کر کان سے لگائیے تو آپ کو سنائی دیں گی۔ ) منّور نازک سنہری مچھلیاں اور ہیبت ناک شارک چکر کاٹتے ہیں اور وقت کے نئے طوفانوں میں نئے جہاز ڈوب کر اسی تہہ میں جا بیٹھے ہیں۔ مزید لاشوں اور مزید خزانوں کے انبار کا اس زیر آب شہرِ خمو شاں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ تہہ میں پڑی پرانی لاشیں اور گہرائی میں ڈوبتی چلی جاتی ہیں۔ ان کی شکلیں مدھم ہو جاتی ہیں۔ جواہرات ماند پڑ جاتے ہیں اور شکستہ جہاز کھیل کھیل ہو کر پانی گھل جاتے ہیں۔ اسے بھول جانا کہا جاتا ہے۔ ‘‘

یہ اقتباس کسی ناول یا افسانے کا نہیں بلکہ ایک رپورتاژ سے ماخوذ ہے جس کا عنوان ہے ’’چھٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا‘‘ اور جس میں جزیرۂ انڈو مان یعنی کالا پانی میں رہ رہے ہندوستانیوں کے حالات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ مگر گردشِ چمن یا سیتا ہرن، کی طرح اس میں بھی افسانوی رنگ غالب ہے۔ زبان، بیان اور موضوعِ داستان سبھی اپنی اپنی تخلیقی قوت کا جوہر دکھا رہے ہیں۔ اپنا اپنا جادو جگا رہے ہیں۔ لفظوں کے انتخاب، ترتیب، تضادات، تلازمات رعایتوں کا التزام، ثنائی نظام، تمثیلی طریقۂ کار اور استعاراتی عمل نے تو اس میں فسوں پھونکا ہی ہے۔ شکستہ جہازوں، جگمگاتے خزانوں اور لاشوں کے شہرِ خموشاں نیز منّور نازک مچھلیوں اور ہیبت ناک شارک کے چکرّوں نے ایسا پراسرارتجسس پیدا کر دیا ہے کہ رپورتاژ یا مضمون کا یہ اقتباس فکشن کا ایک دلکش اور دلچسپ نمونہ بن گیا ہے۔ ساتھ ہی لکھنے والے کی لسانی ہنر مندی اور فنی چابک دستی نے اس افسانوی سمندر کو کوزے میں بند کر کے نثر میں صنعتِ ایجاز کا اعجاز بھی دکھا دیا ہے۔

اب ذرا اس دوسری عبارت پر نظر ڈالیے:

’’سامنے فرسٹ کلاس میں نیویارک کے ایک سندھی تاجر کی عمر رسیدہ زوجہ ایک فربہ پنجابی لڑکی سے ایک مائیکرو ویو تنور کا تذکرہ کر رہی ہے جو اس نے حال میں خریدا ہے اور جس میں کھانا تین منٹ میں پک جاتا ہے۔ (یاد رکھو اور ایمان لے آؤ کہ دوسرا طوفانِ نوح بڑھیا کے اسی مائیکرو ویو تنور سے نکلے گا۔ ) فربہ پنجابی لڑکی نے گلے میں اپنے تازہ ترین فیشنل ایبل گرو کی مالا پہن رکھی ہے۔ اُدھر ملحد و دہریے روسی کرۂ قمر پر اپنے ہتھوڑے اور درانتی کے نشان چھوڑ آئے ہیں اور باقی دنیا پر وہ حاوی ہیں۔۔ ۔۔ فرسٹ کلاس میں سندھی خاتون سے آگے چند عرب جلوہ گرہیں۔ ہاتھ میں ان کے تفریح گاہوں اور ان کے قِمار خانوں کے متعلق مفصل اطلاعات کے چمکے لیے مصّور رسالے ہیں۔ ’’ملکتہ الملائکہ ‘‘ پہنچ کر لاکھوں پیڑوں ڈالر جوئے میں ہاریں گے۔ (کوئی مضائقہ نہیں اگر برِّ صغیر پاکستان و ہند کے غریب مسلمان طلبہ اسکول اور کالج کی فیس نہ ادا کر سکیں )ان عربوں کی بیویاں ناک پر لکڑی کی چونچ لگائے نقاب اوڑھے بیٹھی ہیں۔ یہ لندن اور پیرس میں بے دریغ خریداری کر کے آ رہی ہیں اور اب امریکہ میں بے دریغ خریداری کریں گی۔ (کوئی مضائقہ نہیں اگر مصیبت زدہ فلسطینی عورتیں اپنے شکستہ خیموں میں بمباری کا نشانہ بنتی رہیں )‘‘

یہ اقتباس بھی ایک رپورتاژ یا مضمون جس کا عنوان ہے ’’اڑن ہاتھی اور بڑھیا کا تنور‘‘ سے اخذ کیا گیا ہے۔ غیر افسانوی صنفِ نثر سے تعلق رکھنے والی اس تحریر میں بھی علامات و اشارات کے ذریعے نہایت بلیغ اور پُر اثر زبان میں امریکہ کی مشینی اور تکنیکی ترقی، روسی دہریوں کی چاند پر رسائی، با باؤں کی اندھی تقلید کرنے والی ہندوستانی ذہنیت کی پستی اور اس پست ذہنیت کا فائدہ اٹھانے والے ڈھونگی باباؤں کی بنا ہرے پھٹکری لگے چوکھے رنگ والی کمائی اور اس کمائی سے ٹھاٹھیں مارتا ہوا ان کا ٹھاٹھ، ان کی بے لگام موج مستی، نیز عرب مسلمانوں کی فضول خرچی، عیش پرستی بد مستی، بے حسی، برّصغیر ہند و پاک کی بڑھتی ہوئی تنگ دستی، اسرائیلی جارحیت وہ چیرا دستی، فلسطینی خیموں کی شکستگی، بارودی شعلوں میں جھلستی ہوئی زندگی اور ان سب کے اسباب و علل کی کہانی کہی گئی ہے۔ مفت میں حاصل بے تحاشہ پٹرو ڈولر کی چمک دمک سے خود کو مزّین کرنے والے عرب مسافروں کے لیے ’’جلوہ گر‘‘ پنجابی لڑکی کے لیے ’’فربہ‘‘ روحانیت کے علم بردار گرو کے لیے ’’تازہ ترین اور فیشن ایبل‘‘، تفریح گاہوں اور ان کے قمارخانوں کے متعلق مفصّل اطلاعات دینے والے رسالوں کے لیے ’’چمکے لیے مُصّوَر‘‘ الٹرا ماڈرن میک اپ سے آراستہ لندن، پیرس اور امریکہ کے توبہ شکن مالوں میں بے پروا پھرنے والی عرب بیبیوں کے لیے ’’لکڑی کی چونچ والے نقاب ‘‘اور ان کی مالِ مفت دلِ بے رحم والی خریداری کے لیے ’’بے دریغ‘‘جیسے لائے گئے لفظ ان کی صورت گری اور کردار کشی تو کرتے ہیں ان کی معاشرتی حیثیت کو بھی نمایاں کر دیتے ہیں۔ ساتھ ہی موزوں و مناسب مقام پر مستعمل یہ لفظ لکھنے والے کی قوتِ مشاہدہ، قدرتِ زبان اور اس کے شعورِ مصوری اور سلیقۂ صورت گری کا پتا بھی دیتے ہیں۔ اس طرح فکشن میں فیکٹ کی ملاوٹ اور محاکات کی صنعت گری نے بیان کو اور بھی وقیع، جاندار اور دلکش بنا دیتی ہے۔ موزوں و مناسب مقام پر مستعمل یہ لفظ لکھنے والے کی قوتِ مشاہدہ قدرتِ زبان اور اس کے شعورِ مصوری اور سلیقۂ گری کا پتا بھی دے دیتے ہیں۔

اب ذرا یہ مکالمہ بھی سن لیجیے:

کو ارٹریٹ کے نزدیک ایک گملے کے نیچے رکھا وہ چھوٹا سا مجسمہ ایک فاقہ زدہ ایشیائی لڑکے کا تھا جو سرجھکائے بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے کی بے چارگی اور احساسِ محرومی کا حقیقت آمیز تاثر حیرت انگیز تھا۔ وہ ننھا لڑکا احساسِ فراغت اور عشرت اور تہذیبی اور روحانی طمانیت کے اس ماحول میں ایک کونے میں چھپا یہ سب دیکھ دیکھ کر گویا پتھرا چکا تھا۔ کسی نے اس مورتی کا نوٹس نہیں لیا تھا۔ چلتے وقت میں نے پر فیسر پرلنگ سے پوچھا۔

’’یہ مجسمہ میرے ایک شاگرد نے جنوبی ایشیا میں بنایا تھا، یاد نہیں آ رہا ہے کون سے ملک میں ؟

انھوں نے جواب دیا۔

’’کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سلجاطِ فقروں فاقہ جنوبی ایشیا کے سارے ملک یکساں نہیں۔ ‘‘

’’یہ مکالماتی اقتباس ایک مضمون ’’کہرے میں چھپے جزیرے ‘‘ سے تعلق رکھتا ہے۔ آرٹ کے ایک پروفیسر کے گھر میں رکھا یہ افسانوی مجسمہ ایشیائی ملکوں کے فقر و فاقہ کی کہانی تو سناہی رہا ہے، امریکیوں کی ثروت مندی، دانشوروں کی کھوکھلی دانشوری، شائقین فن کی بے روح فنون نوازی اور مہذب انسانوں کی بے حسی کا فسانہ بھی کہہ رہا ہے اور لفظوں سے پوٹریٹ بنانے اور اس پوٹریٹ سے بے چارگی اور احساسِ محرومی کا حیرت انگیز تاثر ابھارنے کا ہنر بھی دکھا رہا ہے ساتھ ہی عشرتی، تہذیبی اور روحانی عانیت سے لبریز ماحول کا مذاق بھی اڑا رہا ہے۔

مذکورہ بالا تحریروں کے علاوہ اس مصنف کی دوسری نگارشات، خواہ وہ ستمبر کا چاند ہو یا اس چاند کے ہالے میں چمکنے والے لندن لیٹر، در چمن ہر ورقی حال دگرست اور جہانِ دیگر ہوں، خواہ کوہِ دماوند کی وادی میں کھلنے والے ایرانی پھول ہوں، منظرِ گلگشتِ روس ہو، کشمیری کی وولر جھیل کے کنارے سوچتا ہوا خضر ہو یا جگمگاتا ہوا دکن کا پٹھار ہو، ان سب میں بھی کسی نہ کسی روپ میں افسانوی طریقۂ کار موجود ہے۔ ان غیر افسانوی تحریروں میں افسانوی فسوں کاری اس لیے پیدا ہو گئی ہے کہ یہ ساری کی ساری ایک سدھے ہوئے قلم سے معرضِ وجود میں آئی ہیں۔ شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ سدھا ہوا قلم جس موضوع پر بھی اٹھتا ہے اور جس جانب بھی رخ کرتا ہے، کرشمے ضرور دکھاتا ہے۔ سدھے ہوئے قلم کے کرشمے میں سیاہی نور بن جاتی ہے۔ روشنائی سے روشنی پھوٹ پڑتی ہے۔ دھند آئینہ بن جاتی ہے۔ اندھیرے جگمگا اٹھتے ہیں۔ شعلے راکھ ہو جاتے ہیں، راکھ سے چنگاریاں پھوٹ پڑتی ہیں۔ آواز یں بے آواز ہو جاتی ہیں۔ سنّاٹا چیخ پڑتا ہے۔ زمین اوپر اٹھ جاتی ہے، آسمان نیچے آ جاتا ہے، مری ہوئی تہذیبیں جی اٹھتی ہیں۔ چلتی پھرتی ثقافتیں لاش بن جاتی ہیں۔ پردار بے بال و پر ہو جاتے ہیں اور بے بال و پر پرواز بھرنے لگے ہیں۔ شاخِ ثمر دار بے برگ و بار ہو جاتی ہے اور شجرِ خشک سے کونپلیں پھوٹ پڑتی ہیں۔ اس کرشمے میں لفظ نہیں رہ جاتا۔ لفظ رنگ بن جاتا ہے۔ لفظ نور میں بدل جاتا ہے، لفظ خوشبو ہو جاتا ہے۔ لفظ سُر میں ڈھل جاتا ہے۔ لفظ رقص کرنے لگتا ہے۔ اس کرشمے میں آگ کا دریا تو دکھائی دیتا ہی ہے اس آتشیں دریا میں کوہِ دماوند بھی تیرنے لگتا ہے۔ تہوں سے سفینۂ غم دل بھی ابھر آتا ہے۔ لندن لیٹر، لو لیٹر یعنی عشق نامے کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور جہان دیگر اپنی دنیا بن جاتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ جس قلم سے اس طرح کے کرشمے نکلتے ہیں وہ قلم ان انگلیوں میں سدھتا ہے جن کی نسوں میں ہمہ وقت بصیرت آمیز اور نشاط انگیز تخلیقیت کی سدھا بہتی رہتی ہے اور ان نسوں کا تعلق ایک ایسی تخئیلی طلسمی نگاہ سے ہوتا ہے جو کسی نقطے پر مرکوز ہوتی ہے تو نقطہ نقطہ نہیں رہ جاتا بلکہ دائرہ بن جاتا ہے اور وہ دائرہ تیزی سے دائرہ در دائرہ پھیلتا چلا جاتا ہے اور اس دائرہ بنے نقطے سے نکات بھی نکلتے جاتے ہیں۔ ایسے نکات جو حیات و کائنات کے اسرار کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ مرکز نگاہ والے نقطے کی اکثر ماہئیت بھی بدل جاتی ہے۔ رسی سانپ بن جاتی ہے۔ چاند چہرہ ہو جاتا ہے۔ کتا آدمی کا روپ لے لیتا ہے۔ وقت دریا میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اڑن ہاتھی امریکہ کی کامیابی کی اڑان کا استعارہ اور بڑھیا کا مائیکرو ویو تنور امریکیوں کی تکنیکی ترقی کی علامت بن جاتا ہے۔ قلم کو سادھنے والی انگلیوں کی وہ نسیں ایک ایسے حسّاس دل سے بھی ملی ہوتی ہیں جو ذراسی ٹھیس پر لہو لہان ہو جاتا ہے۔ رگ و پے میں درد کی لہریں اُبھار لیتا ہے۔ آنکھوں میں سمندر اتار لیتا ہے۔ ذہن میں ہلچلیں مچا دیتا ہے۔ جو مشرق اور مغرب کے درمیان پائے جانے والے بعد و تفاوت کو شدّت سے محسوس کرتا ہے دونوں کے رویوں اور نفسیات کی ضرب سے تلملا کر یہ سوالات کھڑے کرنے پر مجبور ہوتا ہے:

’’شیکیسپئر کو انگلستان کا کالی داس کیوں نہ کہا گیا؟ شیکیسپئرین ڈراموں کو دیسی جامہ پہنانے والے آغاز حشر کاشمیری نہایت فخر سے انڈین شیکیسپئرکیوں کہلائے ؟ سنسکرت ناٹک کی جنم بھومی میں آج ڈراما نگاری اس قدر کمزور اور پھسپھسی کیوں ہے ؟ مہابھارت، جاتک، پرانوں الف لیلیٰ، فارسی حکایات اور داستانوں کی سرزمینِ مشرق میں ناول اور افسانہ مغرب سے کیوں آیا؟یہیں سے کیوں نہ اُگا؟‘‘

ان سوالوں پر غور کیجیے تو اندازہ ہو گا کہ سوال پوچھنے والا ان کے جواب کو اچھی طرح جانتا ہے اور جواب میں چھپے حاکم اور محکوم کے رشتے کی اس نفسیات کو شدّت سے محسوس کرتا ہے جو حسّاس دل کی رگوں میں آتشِ سیّال بھر دیتی ہے۔ جو یوروپ کی اقتدارانہ بالادستی اور ایشیائی اور افریقی اقوام کی مظلومانہ خاموشی، شریف الفنسی اور غلبۂ حاکمیت کے زیرِ اثر بننے والی فطرتِ محکومی کو محسوس کرتے ہوئے پوچھتا ہے:

’’یوروپینوں کے اقتدار کا سبب کیا ہے ؟ وہ تجارت یا سیاسی تسلط کے لیے اتنی آسانی سے ایشیا اور افریقہ کیسے آ جاتے ہیں ؟ ہم ایشیائی یا افریقی ان کے ساحلوں پر حملہ کیوں نہیں کرتے ؟ ان کی بندرگاہوں میں نوآبادیاتی قائم کر کے ان کے حکمرانوں پر اپنے قوانین نافذ کیوں نہیں کرتے ؟ وہی سمندری ہوائیں جو ان کو یہاں لاتی ہیں، وہاں ہمیں کیوں نہیں لے جاتیں ؟‘‘

اس طرح کے سوالات کے کلّے صر اسی دل میں پھوٹ سکتے ہیں جو حالات کو صرف محسوس ہی نہیں کرتا بلکہ درد سے تڑپ بھی جاتا ہے۔ ایسے درد مند حساس دل کی حسّاسیت اور اس حساسیت کے زور پر پھوٹنے والے تخلیقی وفور کی دھار جب انگلیوں کی نسوں میں رواں ہوتی ہے تو انگلیوں میں دبا قلم رقص کرنے لگتا ہے اور حالتِ وجد میں رقص کرتا ہوا اپنے دائرے سے باہر نکل جاتا ہے۔ ایسے میں اس کے اپنے دائرے میں وسیع تر کائنات کی بو قلمونیاں بھی سمٹ آتی ہیں۔ لکھنؤ، دہرہ دون، بمبئی، شملہ، کشمیر، انڈومان وغیرہ کے ساتھ لندن، پیرس، فرانس، امریکہ، چین، جاپان، ایران، افغانستان اور ترکستان کے رنگ بھی منعکس ہونے لگتے ہیں اور نوکِ کلک سے ایسی ایسی رنگینیاں نکلنے لگتی ہیں کہ آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں اور عام منطق کی عادی نگاہوں کو ان میں سے بعض تو ناقابلِ یقین اور کچھ بے تکی بھی لگنے لگتی ہیں۔ در اصل ایسے قلم کی اپنی ایک منطق ہوتی ہے اور وہ منطق ایسی ہوتی ہے کہ جس کی روسے جامِ سفال، جامِ جم سے اچھا ہو جاتا ہے۔ مٹّی کا دیا بلّوریں جھاڑ اور فانوس سے بہتر ثابت ہو جاتا ہے اور وہ شے جو چشم تنگ میں رہنے والی پتلیوں کی پرکھ میں بے تکی معلوم ہوتی ہے، دیدۂ کشادہ میں معقول بن جاتی ہے۔ یہ وہی منطق ہے جو قریب کی شے کو دور سے دکھاتی ہے اور وسیع تر تناظر اور بڑے کینوس میں رکھ کر اس کی قدرو قیمت کو اجاگر کرتی ہے۔ اس قلم کو اپنی اس منطق کے متعلق یہ احساس بھی رہتا ہے کہ جامِ سفال کو مٹی کا پیالہ اور مٹی کے دیے کو مٹّی کا دیا سمجھنے والا ذہن کبھی بھی انھیں جامِ جم اور جھاڑ فانوس نہیں سمجھ سکتا۔ اسی لیے اس قلم کو یہ لکھنا بھی پڑتا ہے:

’’مجھ سے پوپ آف روم کے متعلق مضمون لکھنے کے لیے کہا جائے تو پہلے میں ہولی رومن ایمپائر پر روشنی ڈالوں گی۔ پھر اگلے ڈیڑھ ہزار سال کے متعلق معاملات پر۔ کچھ عرصہ قبل بمبئی کے انگریزی روزنامے کے لیے جنگِ عراق اور ایران پر لکھتے ہوئے میں نے جنگِ قادسیہ کی وجوہات کا تذکرہ مناسب جانا۔ اردو میں میں نے نوٹس لیا کہ جب بھی کسی ادبی شخصیت پر لکھنے کے لیے کہا جاتا ہے تو میں فوراً لکھنؤ، دہرہ دون، غازی پور وغیرہ کی سمت چل پڑتی ہوں۔ پڑھنے والوں کے لیے یہ مقامات صبر آزما ہوں گے مگر کیا کیا جائے، عادت ہی یہی ہے۔ اب آپ غور فرمائیے کہ لاہور کے غلام عباس صاحب کے متعلق لکھتے ہوئے بھلا دہرہ دون یا غازی پور کے تذکرے کی کیا تک ہے۔ ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ۔

اپنے اس رویے پر یہ قلم ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ والی، کہاوت تو ضرورسناتا ہے مگر یہ کہاوت ہمارے لیے ہے اس کے لیے نہیں کہ  وہ اچھی طرح سمجھتا ہے:

’’ہر ملک کے ادب کا منظر اس کے سیاسی، معاشی اور سماجی حالات سے جڑا ہوتا ہے بلکہ یہ کہیے کہ ان کا نمائندہ ہوتا ہے۔ ملک کے حالات کا اثر پڑتا ہے ادب پر۔ ملک میں جس طرح کی سیاست کا غلبہ ہو گا اس کا اثر ادیب پر ضرور پڑے گا۔ ..۔ ..چاہے ادیب کسی بھی فریم ورک میں اپنی تخلیقات تحریر کرے سیاسی، معاشی اور سماجی اثرات کا اثر وہ ضرور لے گا۔

اور وہ یہ جانتا ہے کہ لکھنے والے کا معاشرہ صرف لکھنے والے کے محلّے تک محدود نہیں ہوتا۔ وہ بہت دور تک پھیلا ہوتا ہے۔ اتنی دور تک کہ اس کی مکانی حد میں زمانی سرحدیں بھی داخل ہو جاتی ہیں۔ در اصل اس طرح کا  قلم ہومیوپیتھک طریقۂ علاج کا قائل ہوتا ہے کہ جس میں مرض کو سمجھنے اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مریض کی پچھلی ہسٹری میں بھی کافی دور تک جانا پڑتا ہے۔ یعنی یہ قلم اشیا کو وسیع تر تناظر میں اور بڑے کینوس پر دیکھتا ہے اور ان کا رشتہ دور دراز تک کے حالات و معاملات سے جوڑتا ہے تاکہ حقیقت اپنے تمام تر جزئیات و تفصیلات، انسلاکات، تلازمات اور جہات کے ساتھ سامنے آ سکے اور کسی شے کی پوری معنویت اُبھر سکے۔ اپنی خورد بیں نظر سے یہ دور تک اس لیے بھی دیکھتا ہے کہ اس کے مشاہدات، تجربات اور محسوسات کا نچوڑ ایک ایک دل و دماغ تک پہنچ جائے اور دوسروں کے حواس بھی انھیں کیفیات سے گزر سکیں جن کیفیات سے صاحبِ قلم گزرا اور وہی ردِّ عمل ان میں بھی پیدا ہو سکے جو اس کے اندر پیدا ہوا تاکہ حیات و کائنات کے بگاڑ کے بناؤ کا دل میں جذبۂ عمل نہیں تو کم سے کم تحریکِ تمنّا تو اُبھر جائے اور زندگی کی مسخ شدہ صورتوں کو مزید بگڑنے سے بچایا جا سکے۔

بلا شبہ اس صاحبِ قلم نے غیر ویب یائی عہد میں بھی معلومات و محسوسات کے ایسے ایسے خزانے جمع کر دیے ہیں کہ ان پر طلسمات کا گمان ہوتا ہے۔ ان خزیوں تک صاحبِ قلم کی رسائی یوں ہی نہیں ہو گی۔ ضرور اس نے صحرا نوردیاں کی ہوں گی۔ دشوار گزار سفر کی صعوبتیں اُٹھائی ہوں گی۔ علوم کے دریا پار کیے ہوں گے۔ فنون کے پہاڑیاں عبور کی ہوں گی۔ زبان کی سکریٹ پانے کے لیے مراقبوں میں بیٹھا ہو گا۔ کش کے عمل سے گزرا ہو گا۔ چنتن منن میں دن کا چین گوایا ہو گا۔ راتوں کی نیندیں اُڑائی ہوں گی۔ یہ وہی صاحبِ قلم ہے جو اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی اپنے فن کی داد نہ پا سکا اور ادب و فن کے پار کیوں سے آخر آخر تک شاکی رہا اور ایک موقع پر اسے یہ کہنا بھی پڑا:

’’ذاتی طور پر میں ضرور ایک صاحبِ نظر نقاد سے یہ توقع رکھوں گی کہ وہ میرے سکریٹ لنگویج کو سمجھ لے اور اس کی تفسیر و تشریح کر سکے لیکن جب تخلیق کار اور نقاد کے درمیان ہی کمیونیکیشن نہیں تو یہ قصور کس کا ہے ؟ ناقد کو بلا شبہ میرے عندیے تک پہنچنا چاہیے اور اگر وہ نہ سمجھ سکے تو اس کا بر ملا اظہار ہونا چاہیے۔ بغیر سمجھے بوجھے اپنے رائے دینا میرے نزدیک نقاد کا صحیح منصب نہیں ہے۔ مجھ سے اکثر طنزاً کہا جاتا ہے کہ آپ کی تحریروں پر لکھنے کے لیے بہت سے علوم سے واقف ہونا چاہیے، یہ بالکل مہمل بات ہے۔ اگر ناقدین نے اپنے آپ کو ادب کا پارکھ مان کر اپنی گدّیاں سنبھالی ہیں تو یقیناً ان کو بہت سی پوتھیاں بانچنی چاہیے۔ ادب اکہری چیز نہیں ہے ‘‘

آگ کا دریا جیسی شاہکار اور آخرِ شب کے ہم سفر اور گردشِ رنگِ چمن جیسی بلند معیار افسانوی تخلیقات رچنے اور غیر افسانوی تحریروں میں افسانوی روح پھونکنے والی تخلیق کار یعنی قرۃالعین حیدر کی یہ شکایات کیا حق بجانب نہیں ہے ؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو ناقدینِ نو کو چاہیے کہ وہ ان کے سکریٹ لنگویج کو سمجھیں۔ اس کی تفسیرو تشریح کریں۔ متاعِ متن اور مخزنِ معنی تک پہنچیں مگر یہ نکتہ بھی یاد رکھیں کہ طلسماتِ گنجینۂ معانی رکھنے والی کسی سکریٹ لنگویج کا در یوں وا نہیں ہوتا۔ اسے کھولنے کے لیے کسی سم سم کی ضرورت ہوتی ہے اور اس سمسمی منتر کے لیے آگ کے دریا سے گزرنا پڑتا ہے۔

٭٭٭

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے