مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔

 

دیکھتے دیکھتے پھر جولائی آ گیا اور نیا شمارہ پیش کرنے کا وقت۔ اچانک سیماب اکبر آبادی کا شعر یاد آ گیا۔  اگرچہ زبان کا شعر ہے لیکن دنیا کی بے ثباتی پر پر تاثیر تبصرہ

دیکھتے ہی دیکھتے دنیا سے میں اٹھ جاؤں گا

دیکھتی کی دیکھتی رہ جائے گی دنیا مجھے

اس تین ماہ کے عرصے نے کئی ادیبوں کو ہم سے چھین لیا۔ ایم اے راحت، احمد جاوید، اور مختار مسعود وغیرہ۔اور ہم دیکھتے کے دیکھتے رہے۔ کس کا قابو ہے قضا و قدر پر!! ان میں سے دو شخصیات کی یادیں اس شمارے میں شامل ہیں، اور  ایک اور پرانی یاد ۔۔۔ زبیر رضوی کی بھی۔

معاصر  فکشن میں غضنفر کا نام جانا پہچانا ہے۔ لیکن ان کے بارے میں بہت کم لکھا گیا ہے، بلکہ برادرم مکرم نیاز نے تو دو سال قبل ایک مضمون ہی لکھ دیا تھا جو ان کی ویب سائٹ تعمیر نیوز پر شائع ہوا تھا، کہ انٹر نیٹ پر ان کی عدم دستیابی کسی ممکنہ ادبی مافیا کے اندیشے کے باعث ہے۔(یہ مضمون بھی یہاں شامل ہے اور اس پر میرا ایک نوٹ بھی، کہ اب گوگل تلاش میں اتنی مایوسی نہیں ہوتی۔) فکشن کے علاوہ اب انہوں نے شاعری کی دنیا میں بھی با قاعدہ قدم رکھ دیا ہے۔ اگرچہ ان کی ادب پروری کی ابتدا بھی شاعری سے ہی ہوئی تھی۔  علی گڑھ میں میں ان کا گواہ نہیں ہو سکا کہ غضنفر  ؂ذرا دیر سے بازار میں آئے۔ میں ۱۹۷۵ء میں علی گڑھ چھوڑ چکا تھا۔اور سید محمد اشرف، ابو الکلام قاسمی، فرحت احساس، آشفتہ چنگیزی  اور شارق ادیب (اب مظفر ھسین سید) بازار میں آ چکے تھے۔

بہر حال امید ہے کہ ان پر ترتیب دیا گیا گوشہ پسند کیا جائے گا۔

ا۔ ع

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے