ترنم ریاض کی تلخ حقیقت۔ افسانہ نگاری کے حوالے سے ۔۔۔ شوکت احمد صوفی

 

ترنم ریاض تخلیقی جہت کی مالک ہیں جن کے اظہارخیال کا ایک میدان افسانہ بھی ہے، مگر اُن کی ذات میں قصہ گوئی کا فطری جوہر، زرخیز تخیل، وسعت مطالعہ کے سبب واقعے اور آدمی کو پرکھنے اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اُن کے پاس متبسم لہجے میں بہت کچھ کہہ جانے کا ہنرہے۔ ترنم کے نام کے ساتھ ہی کشمیر کی جیتی جاگتی، خالص اور بے ریا، کھری اور کھڑی زندگی کے سچے اور موثر نقشے جاگنے لگتی ہیں۔ ترنم بلاشبہ جدید اُردو افسانے میں ایک رجحان کا نام ہے اُنہوں نے کہانی کے روایتی سانچے اور اُسلوب کے مانوس لہجے کو شعوری طور پر توڑ کر اپنے عصر کی پیچیدہ صورت حال کے اظہار کے لیے نہ صرف نئے فنی وسائل تلاش کرنے کی کوشش کی بلکہ ایک نیا استعارہ بھی وضع کرنا چاہا۔ وارث علوی اپنے ایک مضمون میں یوں تحریر فرماتے ہیں:

’’ترنم ریاض کے افسانوں کو پڑھ کر پہلا احساس یہی ہوا کہ وہ ایک غیر معمولی صلاحیت کی افسانہ نگار ہیں لیکن کوئی ناقد یہ شناخت قائم کرتا نظر نہیں آ تا۔ ایسا لگتا ہے کہ نقاد کے دل میں ایک خوف سا ہے کہ اگر انہوں نے اس خاتون کو دوسروں سے الگ کیا یا بہتر بتایا تو دوسرے ناراض ہو جائیں گے اسی لئے عافیت اسی میں ہے کہ انہیں ساتھ ساتھ ہی چلنے دو یعنی فہرستی ریوڑسے الگ نہ کر دو۔ اس رویے سے دوسرے افسانہ نگاروں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا لیکن ترنم ریاض کا نقصان ہو جاتا ہے ان کی انفرادیت قائم نہیں ہو پاتی۔‘‘ (گنجفہ بازِ خیال وارث علوی ص ۱۲۱)

اُردو افسانہ نگاری میں جن خواتین نے اپنی فنی ریاضت اور توازنِ اظہار کے ساتھ اپنا مقام بنایا ہے اُن میں ترنم ریاض بہت نمایاں ہے۔ ترنم ریاض کی ولادت ۹ اگست ۱۹۶۳ء کو سرینگر میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کرا نگر سرینگر سے وصول کی۔ ۱۹۸۳ ء میں پروفیسر ریاض پنجابی سے شادی کی۔ ابتدا میں ترنم کو اس حوالے سے پہچانے کی کوشش کی گئی کہ وہ ریاض پنجابی کی بیوی ہیں مگر بہت جلد انہوں نے اپنی انفرادیت کو منوا لیا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے تخلیق کار اور نظریہ ساز شریک سفر کا ساتھ بھی احساس تفاخر کے ساتھ دیا۔ ان کے افسانوں میں معاشرتی شعور کے ساتھ ساتھ نفسیاتی بصیرت اور متصوفانہ رنگ کی جھلک بھی ہے۔ ترنم ریاض ایسے افسانہ نگار ہے، جن کے پاس متنوع زندگی کا گہرا تجربہ، فطرت انسانی کا شعور اور اظہار کی بے پناہ صلاحیت کے ساتھ ساتھ تاریخ، تخیل اور معاصر زندگی سے لپٹی ہوئی پیچیدہ حقیقت کو بیان کرنے کے لئے نئے نئے فنی وسائل اور تکنیک تلاش کرنے میں ان کا ثانی کوئی نہیں ہے۔ ترنم ریاض نے جن دنوں لکھنا شروع کیا اُردو افسانے پر جدے دیت کے اثرات باقی تھے ان سے پہلے افسانہ نگاری عروج کو پہنچی اور ’’انگارے ‘ جیسا افسانہ انقلاب برپا کر چکا تھا۔ ترنم ریاض نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز ۱۹۷۳ ء سے شروع کیا لیکن ان کی پہلی کہانی روزنامہ ’’آفتاب‘‘ میں ۱۹۷۵ ء میں شائع ہوئی۔ کہانی لکھنے کا یہ سلسلہ آج بھی رواں دواں ہے۔ وہ کہانی کہنے اور لکھنے کے گر سے بخوبی واقف تھے۔ ان کے افسانوں میں الفاظ کی بندش اور غضب کی چستی پائی جاتی ہے۔ ہر فنکار کی طرح ترنم کی بھی ایک ذہنی ساخت ہے جس کی بنیاد پر وہ اپنے موضوع کا انتخاب کرتی ہے۔ ترنم ریاض ایک دردمند دل رکھنے والی خاتون ہیں اُن کے افسانوں میں معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں، ظلم و جبر اور استحصال کی عکاسی خوب ملتی ہے۔ ان کے افسانوں کے کردار معاشرے کے وہ افراد ہیں جو ظلم و زیادتی اور نا انصافیوں کے شکار ہیں اور غریب سے غریب تر ہوتے جا رہے ہیں مگر ان کی آہ و فریاد کسی نے نہ سنی۔ ترنم ریاض کے افسانوں کے اب تک چار مجموعے شایع ہو چکے ہیں جو ’’یہ تنگ زمین‘‘ ’’ابابیلیں لوٹ آئیں گی‘‘ ’’یمبرزل‘‘ مرا رخت سفر‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ ترنم ریاض کے لگ بھگ سبھی افسانے انسانی تعلقات، سماجی اور نفسیاتی معنویت کے حامل ہیں۔ اس معنی میں جدے دیت کی تحریک کا وجودی اساس عنصر پورے کا پورا ان کے سر سے کورا گزر گیا۔ ترنم ریاض کا ہر افسانہ گلے تک سماجیات میں ڈوبا ہوا اور اپنے وقت کا آئینہ ہے۔ اس کے باوجود ان کا ہر افسانہ غنائی تاثر ‘حسن بیان‘ بے مثال کردار نگاری اور منفرد اسلوب کا حامل ہے۔ ترنم ریاض کے افسانوی مجموعے ’’ابابیلیں لوٹ آئیں گی‘‘ میں ایک افسانہ ’’شہر‘‘ کا ایک اقتباس پیش ہے:

’’ پلاسٹک کی میز پر چڑھ کو سونو نے نعمت خانے کی الماری کا چھوٹاسا کواڑ وا کیا تو اندر قسم قسم کے بسکٹ، نمکپارے، شکر پارے اور جانے کیا کیا نعمتیں رکھیں تھیں۔ پل بھر کو وہ ننھے سے دل پر کچو کے لگاتا ہوا غم بھول کر مسکرادیا۔ اور نائٹ سوٹ کی لمبی آستین سے سوکھے ہوئے آنسو بھرے رخسار پر ایک اور تازہ بہا ہوا آنسو پونچھ کر اس نے بسکٹ کا ڈبہ ہاتھ میں لے لیا اور اپنے پانچ سالہ وجود کا بوجھ سنبھالتا میز سے نیچے اتر آیا۔ اسے بھوک بھی بہت لگی تھی۔ صبح سے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا، اس کی چھوٹی سی اڑھائی برس کی بہن ثوبیہ بھی صبح سے بھوکی تھی۔ سارا دن وہ مسہری پر لیٹی اپنی ممی کو پکار پکار کر تھک گئی تھی۔ اور بہت زیادہ روتے رہنے کے باعث نڈھال سی ہو کر اس نے اپنا گھنگھریالے بالوں والا ننھا سا سر اپنی امی کے پھیلے ہوئے بازو پر رکھ چھوڑا تھا۔۔۔ ۔ دن بھر شاید وہ سوتی رہی تھی اور کچھ دیر پہلے ہی اُٹھ کر ڈرائنگ روم میں آئی تھی۔ اس شہر میں آئے انھیں صرف ایک ہفتہ ہوا تھا۔‘‘

افسانہ ’’ شہر‘‘ ترنم ریاض کی نمایاں تخلیقات میں سے ایک ہے جس میں زندگی بھر کا علم، تجربہ اور شعور جھلک آیا ہے۔ ترنم ریاض اپنی مختصر زندگی میں مختلف قسم کے حادثات و تجربات سے گزرے جس کی وجہ سے فکر ونظر کے حوالے سے بھی کئی موڑ اور پڑاؤ آئے۔ سونو اور ثوبیہ صرف کشمیری کردار نہیں ہیں بلکہ آفاقی ہیں۔ اسی لیے اس افسانے میں جو بے رحم حقیقت نگاری آ گئی ہے وہ ان کے کم فکشن میں نظر آ تی ہے۔ ترنم ریاض کی سب سے پہلی چیز جو قاری کو متوجہ کرتی ہے وہ ہے ان کی فنکارانہ شخصیت کی سادگی۔ ترنم ریاض نے غربت، جہالت، ضعیف الاعتقادی، جنگ، استحصال اور ہوسِ زر کے خلاف قلم اٹھایا ہے۔ فیض احمد فیض نے خدیجہ مستور کے بارے میں لکھا تھا کہ خدیجہ مصوری کم کرتی ہے اور کشیدہ کاری زیادہ۔ یہ جملہ ترنم ریاض پر بھی صادق آتا ہے اس فرق کے ساتھ کہ وہ کشیدہ کاری کرتے ہوئے مصوری بھی کرتی ہیں اور باطن و ظاہر کے امتزاجی عمل سے اور لسانی روانی اور شگفتگی سے کہیں کہیں غیر متعلقہ توضیح کے باوجود ایک panoramic view خلق کرتی ہیں۔ انہوں نے عورت کے مسائل پر بھی افسانے لکھے جن میں ’’یہ تنگ زمین ‘‘، ’’پورٹریٹ‘‘ ایک لافانی شاہکار ہے۔ پورٹریٹ میں ساس اور بہو کے بیچ اختلافات کو موضوع بنایا ہے۔ اس افسانے میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک بہو ہمیشہ اس تاک میں رہتی ہے کہ اس کی ساس اس کو اپنا ہمراز بنائے اور دوسرے لوگوں کو باتیں نہ بتائیں اور آپس میں ہی دونوں ہم راز رہیں مگر ایسا ہر گز نہیں ہوتا۔ ترنم نے بچوں پر بھی افسانے لکھے ہیں لیکن جب ہم ان افسانوں کا مطالعہ کرتے ہیں وہ محض بچوں پر ہی نہیں بلکہ ’ماں اور بچوں کے رشتے پر ہیں ‘ ان افسانوں میں ’’آئینہ‘‘ ’’آدھے چاند کا عکس‘‘ ’’ٹیڈی بیئر‘‘ اور ’’ایک تھکی ہوئی شام ‘‘ اس نوع کے نمائندہ افسانے ہیں۔ مذکورہ افسانے ترنم ریاض کی تخلیقی اپج کی سچائی اور تہ داری کی بازیابی کی دعوت دیتے ہیں۔ ’’ایک تھکی ہوئی شام‘‘ جو ’’یہ تنگ زمیں‘‘ کے افسانوی مجموعے میں شائع کیا گیا ہے جب اس افسانے کا مطالعہ کرتے ہیں تو ترنم کی تخلیقیت نمائش ہو جاتی ہے۔ اس افسانے میں ایک عورت اپنے بچوں اور شوہر کے ساتھ باغ میں سیر کے لیے آتی ہے۔ خاتون گاڑی سے اتر کر باغ کے دروازے کے سامنے شوہر اور بچوں کا انتظار کر رہی ہے اس دوران اس کی نظر ایک عورت پر پڑتی ہے جو رنگ برنگی گیندیں ایک میلی سی چادر پر رکھے بیچ رہی ہے۔ ایک چھوٹا سا بچہ اپنی کمزور سی تھکی ہوئی ماں کی پشت پر اس طرح بیٹھا تھا کہ خاتون طے نہیں کر پاتی کہ وہ بیٹھا ہے یا اوندھا لیٹا ہے۔ اس کا ہاتھ اپنی ماں کی پیٹھ پر تھا جس کی ریڑھ کی ہڈی گردن سے نیچے تک یوں ابھری ہوئی تھی جیسے کوئی بڑاکن کھجورا ہے۔ اسی دوران ان کے بچے اور شوہر باغ کے دروازے کی طرف آ رہے تھے۔ لیکن غریب ماں اور بیٹے کی حالت دیکھ کر اس کا دل تڑپ اٹھا تھا۔۔۔ ۔ ؟

ترنم ریاض کے بہت سارے افسانے ایسے ہیں جن میں زندگی کے اثرات کارفرما ہیں۔ ان کے افسانوں کو پڑھ کر مجھے یہی احساس ہوا کہ وہ غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔ ترنم جو کچھ دیکھتی اور محسوس کرتی ہیں اپنا زاویہ قائم کرتے ہوئے اس کو بلا کسی تکلف رقم کرتی جاتی ہے۔ افسانے کے تعلق سے ان کا رویہ ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ اس میں پیغام چھپا رہتا ہے وہ صحافتی انداز اور پروپیگنڈہ سے دور ہوتے ہوئے اپنی بات کی ترسیل کا ہنر جانتی ہیں۔ یہی بات ان کے افسانوں میں گہرائی پیدا کر دیتی ہے۔

ترنم ریاض صرف افسانہ نگاری ہی تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے ناول، ترجمہ، تنقید اور شاعری میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ انہوں نے دو ناول لکھے ہیں۔ پہلا ’’مورتی‘‘ ۲۰۰۴ ء میں اور دوسراناول ’’برف آشنا پرندے‘‘ ۲۰۰۹ میں منظر عام پر آیا۔ ناول برف آشنا پرندے کا ایک اہم روشن اور نا قابل فراموش پہلو میں پیش کردہ تاریخی و تہذیبی سرمایہ اور دانشوری کی صدیوں پرانی روایات ہیں جو نہ تو مظاہرہ ہمہ دانی کے لیے پیش کی گئی ہیں، نہ رعب ڈالنے کے لیے بلکہ یہ ناول کے شکل میں جس طرح پیوست ہیں، انہیں ناخن و گوشت کی آمیزش سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ترنم کے ناولوں کے موضوعات اور ان کی اہمیت اپنی جگہ لیکن ان ناولوں میں جو زبان اور اسلوب اظہار انہوں نے برتا ہے وہ پہلی بار ہمارے سامنے بے حد فطری انداز پیش کرتا ہے۔ ترجمہ کے تعلق سے ان کی تین کتابیں ’’سنو کہانی، ترجمہ ہندی سے)، ’’ہاوس بوٹ پر بلی، ترجمہ انگریزی سے) اور ’’گوسائیں باغ کا بھوت، ترجمہ ہندی سے) اہمیت کے حامل ہیں۔ ترنم ریاض کے دو تنقیدی مضامین ’’بیسویں صدی میں خواتین کا اُردو ادب‘‘ اور ’’ چشم نقش قدم ‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ترنم نے اپنے اردگرد کی اشیا کو آنکھ کھول کر دیکھا ہے، مناظر قدرت کا غائر نظر سے مشاہدہ کیا ہے لیکن اس کے بیان کی خارجیت میں جذبے کی داخلیت بھی شامل ہے اور کہیں کہیں یہ داخلیت خود کلامی کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔ قلبی واردات کا بیان اس نے جس انداز سے کیا ہے اور اس میں سادگی و پرکاری نے جس طرح نئے نئے پہلو تراشے ہیں وہ بہ یک وقت اس کے جذبات کی گہرائی اور فنی پختگی کی دلیل ہیں۔ ترنم ریاض کی شاعری انسانی ہمدردیوں سے معمور ہونے کے علاوہ محبت اور امن کا پیغام دیتی ہے۔ ترنم نے اپنی شاعری میں دانش ورانہ تجربات و افکار کو جمالیاتی اور فنی خوبیوں کے ساتھ پیش کیا ہے بقول پروفیسر انور پاشا۔

’’ترنم ریاض کی تحریریں ایک انفرادی شناخت رکھتی ہیں ان کی فکشن ہو یا ان کی شعری تخلیقات عصری معاشرے کے جیتے جاگتے مسائل کی ترجمان ہونے کے ساتھ ساتھ بالخصوص تانیثیت کے حوالے سے قارئین پر ایک مثبت اثر رکھتی ہیں۔‘‘

’’پرانی کتابوں کی خوشبو‘‘ ان کا اکلوتا شعری مجموعہ ہے۔ مجموعے کے فلیپ پر بلراج کومل کی یہ رائے درج ہے:

’’ترنم ریاض کی شعری کائنات مناظر فطرت سے لے کر انسانی مسائل اور انسانی رشتوں کی گوناگوں کیفیات کی فنکارانہ تجیسم سے وابستہ ہے لیکن اس عمل میں نہ تو وہ موضوعات کی میزان سازی کرتی ہیں اور نہ ہی کوئی اشتہاری اعلان نامہ تیار کرتی ہیں ان کی نظمیں اپنے متنوع دائرۂ کار میں انسانی ردِ عمل کی انتہائی نرم و نازک مثال ہیں۔ ‘‘

ان کی نظم کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

 

یہ کس نے بوئی ہیں چنگاریاں تیری زمینوں میں

یہ کس نے آگ سی سلگائی ہے معصوم سینوں میں

کوئی ویران موسم آبسا بارہ مہینوں میں

کہ جیسے ہوں نہ تاثیر یں ہی اب جھکتی جبینوں میں

 

کسی نے باغبان بن کر جلایا مرغ زاروں کو

کسی نے سائبان بن کر اجاڑا ہے بہاروں کو

خزاں نے دیکھ ڈالا گھر ترے سب لالہ زاروں کا

نشاط و چشمہ شاہی، ڈل، ولر کا شالماروں کا

 

غرض ترنم ریاض نے غزل کے امکانات کا وسیع راستہ آنے والے شعرا کے سامنے کھول دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی آواز دور سے پہچانی جاتی ہے۔ یہ ایک شعری کردار کی آواز ہے جو حساس، درد مند اور مخلص شخصیت رکھتی ہے۔

ترنم ریاض کے پاس مامتا کا تخلیقی تجربہ ہے جو ٹوٹے ہوئے گھروں، بکھرے ہوئے رشتوں یا سعادت پسند والدین کی عادتوں کے ملبے پر بیٹھے ہوئے بچوں کے دکھوں کو ریزہ ریزہ چننے کی آرزو سے منسلک ہے۔ ترنم ریاض کے بہت سارے ایسے افسانے بچوں پر لکھے گئے ہیں جن پر جسمانی یا ذہنی تشدد ہوا اور اُن سے اُن کے بچپن کی معصومیت کو چھیننے کی کوشش کی گئی۔

میں درد جاگتی ہوں زخم زخم سوتی ہوں

نہنگ جس کو نگل جائے ایسا موتی ہوں

 

وہ میری فکر کے روزن پہ کیل جڑتا ہے

میں آگہی کے تجس کو خون روتی ہوں

 

جہاں تک ترنم ریاض کے غایت کی بات ہے وہ بے حد کوشاں کیونکہ انہوں نے ہر صنف سخن پر طبع آزمائی کی ہے۔ میں اور میرے دوست جن میں توصیف احمد ڈار اور شازیہ اشرف خاص طور پر ہیں۔ گفتگو کے دوران ترنم ریاض پر بھی بات ہوئی سبھی دوستوں نے اپنی اپنی رائے اظہار کی توصیف اور شازیہ کی بات آج بھی یاد آتا ہے۔ توصیف نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ترنم ریاض دور حاضر کی مستقبل ہو گی، شازیہ نے باتوں باتوں میں کہہ دیا کہ ترنم مکمل دبستان ہے۔ بالآخر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ترنم ریاض کشمیر کے صفِ اول کے افسانہ نگاروں میں شمار کی جا سکتی ہے وہ ادب کے دائرے میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے میرے خیال سے اگر کشمیر کے مناظر کی عکاسی کرنی مقصود ہو گی تو ترنم ریاض کے افسانوں کا جائزہ بے حد معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کی انفرادیت کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ وہ روایت سے یکسر انحراف نہیں کرتے ہیں اور نہ روایت کو بعض شعرا و ادبا کی مانند معاصر فکر کے لیے کسی طرح کا خطرہ یاباعث عیب تصور کرتے ہیں بلکہ روایت کے تازہ اور حیات بخش ہوائی جھونکوں کو اپنی جھولی میں مقید کر کے اسے باد صبا کی مانند ادبی زندگی کو توانائی بخشتی ہیں۔ روایت کے ادبی ورثے کو ملحوظ رکھ کر نئے نئے تجربات کو استعمال میں لانے کے ہنر سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ ان کی منظوم و منشور تحریوں کے مطالعے کے بعد یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ آپ کا مشاہدۂ کائنات کافی وسیع ہے، بالخصوص وادیِ کشمیر کے پس منظر میں تحریر شدہ تخلیقات اس قول کی حتمیت کا بین ثبوت ہیں۔۔

(حاشیہ مئی تا اگست ۲۰۱۸)

٭٭٭

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے