غزل ۔۔۔ محمد طارق غازی

کبھی ندیا کے تٹ گیا بادل

کبھی بستی سے ہٹ گیا بادل

 

جب دعا سے زبان تر نہ ہوئی

راستے سے پلٹ گیا بادل

 

جس نے پڑھ لی نماز استسقاء

شہر میں اس کے جھٹ گیا بادل

 

قوم کی قوم تھی ثمود مزاج

اس پہ شب میں الٹ گیا بادل

 

دیکھ کر اس زمیں کے نظارے

شرم کے مارے کٹ گیا بادل

 

آسماں پر تنی ہوئی ہے گھٹا

اور فرقوں میں بٹ گیا بادل

 

شوخ بارانی پہلے دکھلائی

شرم سے پھر سمٹ گیا بادل

 

دشت پھیلا رہا ہوا کی مثال

چاند کی طرح گھٹ گیا بادل

 

تم نے کچھ کہہ دیا اسے طارق

بس اچانک ہی چھٹ گیا بادل

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے