سفر عشق, قسط ۔ ۲۔۔۔ طارق محمود مرزا

 

مدینہ آمد

 

مدینہ منورہ کے ایئرپورٹ پر ہمارا جہاز کھڑا تھا۔ تھوڑی دیر میں ہم خاکِ یثرب پر قدم رکھنے والے تھے۔ اس وقت میرے جو جذبات تھے انہیں بیان کرنا مشکل ہے۔ اس شہر کی خاک عاشقانِ رسولﷺ کی آنکھوں کا سرمہ ہے۔ اس کی گلیوں میں نبیﷺ کے قدموں کے نشان ہیں۔ مدینہ میں ہمارے پیارے نبیﷺ نے عمرِ عزیز کے کئی سال گزارے تھے۔ وہ اس شہر کی فضاؤں میں سانس لیتے رہے۔ اس کی خاک کو اپنے قدموں کی زینت بخشتے رہے۔ ان گلیوں میں چلتے پھرتے رہے۔ وہ اپنے عزیز اقارب اور صحابہ کے گھر تشریف لے جاتے تھے۔ مسجد قبا اور مسجد قبلتین میں جاتے تھے۔

اس زمین کے ذرے ذرے میں ان کی پاکیزہ مقدس اور ملکوتی خوشبو رچی ہوئی ہے۔ عاشقان رسولﷺ کو یہاں اُن کا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ ان ہواؤں اور فضاؤں سے نبیﷺ کی خوشبو آتی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ میرے نبیﷺ یہیں کہیں موجود ہوں۔ وہ ہمیں محبت بھری نظروں سے دیکھ رہے ہوں اور ہماری التجائیں اور دعائیں سن رہے ہوں گے۔ مدینہ میں نبی پاکﷺ اپنے ارد گرد محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اس لیے عاشقانِ رسولﷺ کے لیے اس شہر میں بے پناہ کشش ہے۔ اسی لئے تو کہتے ہیں:

در پہ ساقیِ کوثر کے پینے چلیں

مے کشو آؤ آؤ مدینے چلیں

اس سرزمین پر قدم رکھتے ہوئے ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں کوئی بے حرمتی نہ ہو جائے۔ اس خاک کی پاکیزگی پر ہمارے گنہگار قدموں سے کوئی حرف نہ آ جائے۔ میں ذاتی طور پر اس پاک زمین پر قدم رکھتے ہوئے سخت جھجھک محسوس کر رہا تھا۔ میں اپنے آپ کو اور اپنے اعمال کو دیکھتا تھا تو کانپ سا جاتا تھا۔ دوسری طرف خوشی اور شوق بھی تھا۔ ڈر اور خوف بھی تھا اور ملن کی خوشی بھی تھی۔ اور اپنی بے وقعتی کا احساس بھی ہے۔

دربارِ عالیہ کی بلندی بھی محلِ نظر ہے اور اپنی کوتاہ قامتی بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ اس خاک کا تقدس دل و نظر میں سمایا ہوا ہے تو اپنی کم مائیگی اور اپنے گناہ بھی یاد ہیں۔ ملنے کی خوشی اور جدائی کا خوف دونوں دامن گیر ہیں۔ غم اور خوشی آپس میں خلط ملط ہو رہے ہیں۔ جوش اور ولولے کے ساتھ ندامت کے آنسو بھی ہیں۔ رسول پاکﷺ کی رحمت اور عظمت بھی مد نظر ہے اور اپنے گناہوں کی شرمندگی بھی ہے۔

جے ویکھاں میں اپنے عملاں ول تے ککھ نہیں میرے پلّے

جے ویکھاں تیری رحمت ولوں تے بلّے بلّے او بلّے

انہی جذبات واحساسات کے ساتھ ہم سر زمینِ یثرب پر اُترے۔ اور دھڑکتے دِل کے ساتھ ایئرپورٹ کی عمارت کی طرف چل دئیے۔

تھوڑی ہی دیر میں ہم تین ساڑھے تین سو مسافر ایک بڑے سے ہال میں پانچ چھ قطاروں میں کھڑے تھے۔ عملہ اِدھر اُدھر موجود تھا لیکن کاؤنٹر خالی تھے۔ انہوں نے امیگریشن کا عمل شروع نہیں کیا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ عملہ بھی غائب ہو گئے۔ مسافروں میں بوڑھے لوگ بھی تھے جو لمبے سفر کے بعد رات کے اس وقت پہر تھکن کا شکار نظر آ رہے تھے۔۔ قطار میں صرف کھڑے ہونے کی گنجائش تھی وہاں بیٹھا نہیں جا سکتا تھا۔ لیکن کتنی دیر کھڑے رہیں۔ پندرہ منٹ، آدھا گھنٹہ، پون گھنٹہ اور اب ایک گھنٹے سے اُوپر گزر چکا تھا۔ ابھی تک امیگریشن شروع نہیں ہوئی تھی۔ عملہ کاؤنٹر کے پاس موجود تھا۔ وہ ادھر ادھر ٹولیوں کی شکل میں کھڑے گپ شپ لگا رہے تھے۔ ایک دو افراد کمپیوٹر دیکھ رہے تھے۔ لیکن کسی نے مسافروں کو یہ بتانے کی زحمت گوارا نہ کی کہ تاخیر کا سبب کیا ہے؟ ہمیں یوں کیوں کھڑا کر دیا گیا ہے؟ کب یہاں سے جان چھوٹے گی؟۔ امیگریشن کا عمل شروع ہونے میں رکاوٹ کیا ہے؟۔ اگر کوئی فنی خرابی تھی یا کوئی اور وجہ تھی تو بتائی جا سکتی تھی۔ بوڑھے اور کمزور لوگوں کو بیٹھنے کی اجازت دی جا سکتی تھی۔

لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں تھا۔ لوگ دستی سامان اٹھائے کھڑے تھے۔ مسلسل کھڑے ہونے کی اذیت اور لامتناہی انتظار کی اکتاہٹ کے باوجود عازمین حج خاموش تھے۔ کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ کوئی شور شرابہ نہیں ہوا۔ لوگ اللہ کے نام کی گردان کر رہے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں تسبیح تھی۔ کوئی قرآن پڑھ رہا تھا۔ کوئی ویسے ہی خاموش کھڑا تھا اور کوئی سرگوشیوں میں باتیں کر رہا تھا۔ صبر اور برداشت ان کے چہروں پر لکھی ہوئی تھی۔ انہیں علم تھا کہ یہ سفر ہی صبر اور برداشت کا ہے۔ آگے چل کر ایسے بہت سے مقاماتِ آہ و فغاں آئیں گے جنہیں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے در پر حاضری دینے والے صبر، ہمت اور برداشت سے ہی پار کر سکیں گے۔ حصول منزل کے لیے راہ کے کانٹے چننے تھے لیکن اُف نہیں کرنی تھی۔ پاؤں فگار کرنے تھے لیکن زبان سے شکر کے علاوہ کوئی اور کلمہ ادا نہیں کرنا تھا۔

تقریباً ایک گھنٹہ اور بیس منٹ انتظار کے بعد ہمارا نمبر آ گیا۔ میں نے اپنا اور اہلیہ کا پاسپورٹ اور دیگر کاغذات امیگریشن آفیسر کے حوالے کیے۔ خشخشی داڑھی والے اس منحنی سے عربی نے کچھ کہا جو میری سمجھ میں بالکل نہیں آیا۔ میں نے انگریزی میں کہا کہ مجھے افسوس ہے مجھے عربی نہیں آتی ہے۔ وہ پھر بھی عربی میں کچھ بولتا رہا۔ آخر اس نے میری اہلیہ کے کاغذات اس کے حوالے کیے اور جانے کا اشارہ کیا۔ جبکہ میرے کاغذات اس نے اپنے پاس رکھ لیے اور بدستور عربی بولتے ہوئے ایک طرف رکنے کا اشارہ کرنے لگا۔ باقی مسافر ویزہ لگوا کر بیرونی ہال کا رخ کر رہے تھے۔ اہلیہ میرے بغیر نہیں جا سکتی تھیں لہذا ہم دونوں ایک طرف ہو کر کھڑے ہو گئے۔ مجھے بالکل سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ معاملہ کیا ہے اور امیگریشن آفیسر کیا کہہ رہا ہے۔ میں نے اُس سے دریافت کرنے کی کوشش کی تو وہ غرّانے لگا لیکن بتایا کچھ نہیں۔ یا پھر عربی سے نابلد ہونے کی وجہ سے مجھے سمجھ نہیں آیا۔

لیکن یہ تو میرا قصور نہیں ہے۔ سعودی عرب میں پورے سال حج اور عمرے کے لیے دنیا بھر سے لوگ آتے رہتے ہیں۔ ان سب کو عربی آنا ضروری تو نہیں ہے۔ ان لوگوں کے لیے بین الاقوامی ایئر پورٹ پر ایسا عملہ موجود ہونا چاہیے جو انگریزی اور دوسری بین الاقوامی زبانیں بھی سمجھ سکتا ہو یا پھر ترجمان کا بندوبست ہونا چاہیے۔ یوں تو سعودی عرب میں انگریزی عام ہے لیکن ائر پورٹ پر انگریزی سمجھنے والا عملہ کیوں نہیں تعینات کیا جاتا ہے اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔ دنیا بھر میں مسافروں کی سہولت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جاتے ہیں۔ جس میں مختلف زبانوں کے ترجمان کی فراہمی بھی شامل ہے۔ میں نے ہیتھرو ایئر پورٹ پر اُردو بولنے والا عملہ دیکھا ہے۔ جو پاکستان اور ہندوستان سے آنے والے انگریزی سے نابلد مسافروں کی مدد کے لیے رکھا گیا ہے۔ امیگریشن آفیسر اگر برطانوی ہوتا ہے تو ایسے مسافروں کی مدد کے لیے اُردو ترجمان موجود ہوتا ہے۔ سعودیہ میں ایسا کیوں نہیں ہے۔ حالانکہ یہاں ان دنوں دنیا بھر کے لوگ مسلسل آ رہے تھے۔

آسٹریلیا منتقل ہونے سے پہلے میں چند سال سلطنت آف عمان میں بھی رہا تھا۔ ان چند برسوں میں میں نے عربی میں اچھی خاصی شدبد حاصل کر لی تھی۔ اُس زمانے میں عرب ملکوں میں رہنا ہو تو عربی لازمی سیکھنی پڑتی تھی۔ کیونکہ مقامی لوگ عربی کے علاوہ دوسری کوئی زبان نہیں سمجھ سکتے تھے۔ میرے ساتھ کام کرنے والے عمانی اگرچہ کافی پڑھے لکھے اور انگریزی سے واقف تھے۔ لیکن ہمارے بیرے، خانساماں، ڈرائیور، کلینر وغیرہ سے صرف عربی میں ہی گفت و شنید کی جا سکتی تھی۔ لہٰذا ان چند برسوں کے دوران میں تھوڑی بہت عربی سیکھ گیا تھا۔ لیکن بیس پچیس برس گزر جانے کے بعد اب وہ عربی میرے ذہن سے محو ہو چکی تھی۔ آج اتنے عرصے بعد مجھے اپنی بھولی ہوئی عربی یاد کرنا تھی۔ کیونکہ اس دھن کے پکے عربی سے بات کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔ اس لیے میں نے ذہن کے کونوں کھدروں سے بھولے بسرے عربی کے چند جملے نکالے اور انہیں جھاڑ پونچھ کر اس آفیسر کے سامنے پہنچ گیا۔ اس سے عربی میں پوچھا ’’مسئلہ کیا ہے اور مجھے کیوں روک رکھا ہے؟‘‘

اُس نے حیرت سے میری طرف دیکھا کہ ابھی تو یہ عربی سے بے بہرہ ہونے کا اعلان کر رہا تھا اور اب بول رہا ہے۔ ا س نے رک رک کر مجھے سمجھایا ’’تھوڑا انتظار کریں ہمیں کچھ تصدیق کرنا ہے‘‘

میں نے شکریہ ادا کیا اور پھر ستون کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ تقریباً پندرہ منٹ کے بعد اس نے ہمیں بلایا اور میرے پاسپورٹ پر ویزہ لگا کر میرے حوالے کر دیا۔ ہم نے سکھ کا سانس لیا اور تیزی سے باہر کی طرف لپکے جہاں ہمارے ہمسفر کب کے  جا چکے تھے۔

ہم نے برقی پٹے سے اپنا سامان اُٹھایا اور بیرونی دروازے کی طرف بڑھے۔ میرے ہاتھ سے کسی نے ٹرالی لے لی اور اُردو میں کہا ’’میرے ساتھ آئیے۔‘‘

میں نے بے خیالی میں ٹرالی اس کے حوالے کر دی۔ مجھے یہ فکر دامن گیر تھی کہ زیادہ تاخیر کی صورت میں میرے ساتھی اور گروپ کے لوگ ہمیں چھوڑ کر ہوٹل نہ روانہ ہو جائیں۔ رات کے اس پہر ہم کہاں دھکے کھاتے پھریں گے۔ چند ہی قدم کے فاصلے پر بیرونی دروازہ تھا۔ وہاں ٹرالی بردار نے ٹرالی ہمارے حوالے کی اور کہنے لگا ’’جی میری مزدوری‘‘

میں نے کہا ’’میرے پاس مقامی کرنسی نہیں ہے‘‘

کہنے لگا ’’آپ کے پاس جو بھی کرنسی ہے وہی دے دیں‘‘

میں نے بٹوا نکالا۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے کیا دوں۔ بالآخر بیس ڈالر کا نوٹ اسے تھمایا تو وہ خوش ہو گیا اور پلک جھپکتے ہی وہاں سے غائب ہو گیا۔ بعد میں علم ہوا کہ چند منٹ ٹرالی تھامنے کا معاوضہ بیس ڈالر بہت زیادہ تھا۔

گیٹ سے باہر ایک آدمی لبیک کی تختی لیے کھڑا تھا۔ اسے دیکھ کر میری جان میں جان آئی۔ میں نے آگے بڑھ کر اپنا تعارف کرایا تو وہ کہنے لگا ’’شکر ہے آپ آ گئے ہم آپ کا ہی انتظار کر رہے تھے۔ آپ کے ساتھی کب کے آ چکے ہیں۔ آئیں اس طرف بس کھڑی ہے‘‘

بس کی طرف جاتے ہوئے اس نے پوچھا ’’کہیے دوران سفر کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی؟‘‘

میں نے تاخیر سے آنے پر معذرت کرتے ہوئے اسے وجہ بتائی تو وہ کہنے لگا ’’کبھی کبھی کمپیوٹر پر پوری معلومات نہیں پہنچتیں تو وہ فون کر کے ہم سے تصدیق کرتے ہیں۔ ویسے تو لبیک کا نام ہی کافی ہے۔ تاہم جہاں کوئی ضروری معلومات درکار ہوں انہیں ایسی کاروائی کرنا پڑتی ہے‘‘

بس میں ہمارے علاوہ دو اور خاندان موجود تھے۔ ان میں ایک مسٹر اور مسز جاوید تھے جو سڈنی کے شمال میں واقع ایک شہر نیوکاسل سے آئے تھے۔ ان سے ہماری سڈنی میں ملاقات ہو چکی تھی۔ وہ تربیتی کورس میں باقاعدگی سے شرکت کرتے رہے تھے۔

دوسرا نوجوان جوڑا برسبین سے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر علی اور ان کی دلہن پر مشتمل تھا۔ یہ دونوں خاندان بنیادی طور پر لاہور سے تعلق رکھتے تھے۔ آگے چل کر ہمارا بہت سا وقت اکھٹے گزرا۔

ابھی بس چلی نہیں تھی کہ عربی ڈرائیور بخشیش بخشیش کا سبق پڑھنے لگا۔ جاوید صاحب کہنے لگے ’’ان لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ کمپنی سے تنخواہ بھی لیتے ہیں اور مسافروں کو قریب قریب ہراساں کر کے اچھی خاصی رقم بٹور لیتے ہیں‘‘

ہم تینوں نے ابھی تک کرنسی بھی نہیں بدلوائی تھی لہٰذا ہمارے پاس سعودی کرنسی موجود ہی نہ تھی۔ اس طرح اس بد قسمت ڈرائیور کے اصرار کے باوجود سب نے اپنا سامان اتارا اور ہوٹل کی جانب بڑھ گئے۔ وہ کافی دیر تک بخشیش بخشیش پکارتا رہا۔ مجھے افسوس تو بہت ہوا لیکن اپنے ساتھیوں کی وجہ سے چپ ہی رہا۔

رامادا (Ramada) ہوٹل مسجد نبویﷺ کے گر و نواح میں بے شمار ہوٹلوں میں سے ایک ہے۔ یہ پنج ستارہ ہوٹل خاصا بڑا، نہایت آرام دہ اور مسجد کے قریب ہی واقع ہے۔ چیک اِن کے بعد ہم اپنے کمرے میں پہنچے تو اسے ہر لحاظ سے آرام دہ، صاف ستھرا اور تمام سہولتوں سے مزین پایا۔ اس میں دو بیڈز کے علاوہ، ٹی وی، فریج، استری، ٹوسٹر، برقی کیتلی، سائیڈ لیمپ، وارڈ روب، لکھنے کی میز، کھانے کا میز، صوفہ، سائیڈ ٹیبل، نمبروں والا سیف، جائے نماز اور قرآن پاک وغیرہ سبھی کچھ موجود تھا۔ اس کا باتھ روم بھی صاف ستھرا ور تمام سہولتوں سے آراستہ تھا۔

میرے کچھ دوست کہتے ہیں کہ دوران حج ایسی سہولتوں سے کیا لینا دینا۔ حج تو قربانی، برداشت اور صبر کا نام ہے۔ اس میں امیری نہیں فقیری ہونی چاہیے۔ فرش کا بستر اور بازو کا تکیہ ہونا چاہیے۔ جو روکھی سوکھی ملے کھائیں، آب زم زم پئیں اور اللہ اللہ کریں۔ یہاں ہر لمحہ عبادت کے لیے مختص ہونا چاہیے۔ اس میں آرام دہ بستر اور ایسے کمروں کی کیا ضرورت ہے۔ اس طرح وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ فائیو سٹار کی رہائش اس کے کھانے غیر ضروری اور اسراف ہیں۔ یہاں تندور موجود ہیں جہاں قطار میں کھڑے ہو کر ترکاری خریدیں۔ اس کے ساتھ روٹیاں مفت ملتی ہیں۔ یہ کھانا لے کر وہیں کہیں فٹ پاتھ پر یا مسجد کے صحن میں بیٹھ کر کھائیں اور اللہ اللہ کریں۔

میں ان دوستوں کو غلط نہیں سمجھتا۔ وہ درست کہتے ہیں۔ حج واقعی قربانی، صبر اور برداشت کا نام ہے۔ لیکن اس صبر اور برداشت کا مظاہرہ وہاں کریں جہاں اس کی ضرورت ہو۔ مثلاً اگر آپ اچھے ہوٹل کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تو درمیانے یا کم درجے کے ہوٹل میں گزارا کریں۔ اگر آپ کو اپنے ہوٹل کا کھانا مہنگا محسوس ہوتا ہے تو تندور پر ضرور جائیں۔ لیکن اگر اللہ نے آپ کو اپنے فضل سے نواز رکھا ہے تو پھر دوران حج اسے اپنے آرام اور سہولت کے لیے خرچ نہ کرنا کہاں کی عقلمندی اور کیسی قربانی ہے۔ اگر آپ کے پاس آپ کی حلال کی کمائی سے اچھا کھانا کھانے کی استطاعت ہے اس کے باوجود بھوکا رہنا اور خواہ مخواہ فقیری کا روپ دھار کر رکھنا کہاں تک درست ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ آپ کے سامنے کنواں موجود ہے۔ لیکن اپنے صبر اور برداشت کو آزمانے کے لیے پیاسے بیٹھے رہیں۔

یورپ، آسٹریلیا اور امریکہ سے حجاج کے جتنے قافلے آتے ہیں وہ عموماً فائیو سٹار ہوٹلوں میں ٹھہرائے جاتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ طویل عرصے تک معتدل اور ٹھنڈے موسم میں رہنے کے بعد ان کے جسم چوبیس گھنٹے کی مسلسل گرمی، تیز دھوپ اور حبس برداشت کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ وہ چاہیں بھی تو ان کا جسم اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔

یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔ آسٹریلیا میں کافی عرصہ رہنے کے بعد اب جب بھی میں چھٹیوں میں پاکستان جاتا ہوں تو گاڑیوں کے ہارن کا شور برداشت نہیں کر پاتا۔ میرے کان جھنجھنا اٹھتے ہیں اور پھر رات کو بھی بجتے رہتے ہیں۔ یہ وہی پاکستان ہے جہاں میں نے آنکھ کھولی۔ بچپن اور جوانی گزری۔ اس وقت صوتی کثافت، ہوائی کثافت اور موسم کی شدت مجھے کچھ بھی نہیں کہتی تھی۔ کنوئیں بلکہ ندی نالے کا پانی بھی بآسانی ہضم ہو جاتا تھا۔ گھر یا بازار ہر قسم کا کھانا کھا لیتا تھا اور آسانی سے ہضم ہو جا تا تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب وہاں جا کر ہر وقت صاف پانی کی بوتل ساتھ رکھنی پڑتی ہے۔ ورنہ بازاری یا نلکے کا پانی کا ایک گلاس یا چاٹ کی ایک پلیٹ ہسپتال پہچانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جب ہم پاکستانی کینیڈا یا کسی دوسرے ٹھنڈے ملک میں جاتے ہیں تو وہاں کی ٹھنڈ برداشت نہیں ہوتی ہے۔ جبکہ مقامی لوگ مزے سے گھوم پھر رہے ہوتے ہیں۔

پرائیویٹ کمرہ خاصا مہنگا تھا۔ لیکن ہمیں اس سے بہت فائدہ ہوا۔ وہ اس طرح کہ نمازوں کے درمیان اگر ایک گھنٹہ بھی فارغ ملتا تھا تو بغیر کسی مداخلت کے سو سکتے تھے۔ اس ایک گھنٹے میں کسی شور شرابے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ جب چاہیں بتیاں گل کر دیں، جب چاہے جلا لیں۔ نہ کسی کو ہم تکلیف دیتے تھے نہ کوئی ہمارے آرام میں مخل ہوتا تھا۔ آرام کے لیے جو مختصر مختصر وقفے دستیاب ہوتے تھے ہم اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے تھے۔ اس سے کسی حد تک نیند پوری ہو جاتی تھی۔ وہاں نیند کا پورا نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ نیند کی کمی وجہ سے بہت سے عازمین کی طبیعت خراب رہتی تھی۔ نیند کی کمی کے علاوہ دن رات کی عبادت، نمازوں اور مسجد آنے جانے کے مسلسل عمل سے سبھی عازمین سخت تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ نمازوں کے درمیانی وقفے میں اگر آرام نہ کیا جائے تو یہ تھکاوٹ بڑھتی ہی چلی جاتی ہے فلو بخار یا کسی اور بیماری کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ ہمارے ایک دوست ہم سے ایک سال بعد حج کے لیے گئے۔ انہوں نے جو کمرہ لیا وہ مشترکہ تھا۔ اس کمرے میں ہمارے دوست کے علاوہ مزید تین عازمین حج مقیم تھے۔ ملحقہ کمرے میں ان چاروں کی بیگمات فروکش تھیں۔ ہمارے گروپ بلکہ آسٹریلیا سے جانے والے دوسرے گروپوں کے لیے ایسا ہی انتظام ہوتا ہے۔ الگ کمرہ مہنگا ہوتا ہے اور بہت کم لوگ لیتے ہیں۔

ہمارے دوست بتاتے ہیں کہ ان کے ایک روم میٹ بیمار ہوئے تو وہ ان کا فلو سب کو ہو گیا۔ یہ بیماری ہمارے دوست پر اتنی غالب آئی کہ وہ حج کے مناسک بھی ادا نہ کر سکے اور انتہائی کمزوری کی حالت میں آسٹریلیا واپس آئے۔ ان کی صحت پوری طرح بحال ہونے میں کئی مہینے لگ گئے۔ وہ بتاتے ہیں ’’بیماری الگ مسئلہ تھی اور بے آرامی اس سے بھی بڑا مسئلہ تھی۔ ہر وقت کھٹ پٹ ہوتی رہتی تھی۔ کبھی روشنی جل اٹھتی۔ کبھی بجھ جاتی۔ کوئی آ رہا ہوتا اور کوئی جا رہا ہوتا۔ کوئی سو رہا ہوتا اور کوئی باتیں کر رہا ہوتا۔ بیگم بھی دوسرے کمرے میں مقیم تھیں۔ اس لیے تیمار داری کرنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ بیماری کی وجہ سے بھوک ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ اوپر سے اس بیماری کی حالت میں باہر جا کر اور قطار میں کھڑا ہو کر تندور سے کھانا خریدنا پڑتا تھا۔ اگر ہم نے ہوٹل سے ڈنر کا پیکج لیا ہوتا تو روز باہر جا کر کھانا ڈھونڈنے کی مشقت نہ کرنا پڑتی‘‘۔

ہمارا دوست بلکہ آسٹریلیا سے جانے والے اکثر حجاج الگ کمرہ افورڈ کر سکتے ہیں۔ لیکن کسی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرتے۔ جس کا نتیجہ بعض اوقات اس صورت میں نکلتا ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ بہرحال یہ حتمی اور پکا فارمولا نہیں ہے۔ مشترکہ کمروں میں رہائش پذیر تمام لوگوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا ہے۔ اکثر لوگ با آسانی گزار لیتے ہیں۔ الگ یا مشترکہ کمرہ حاجیوں کی مالی اور جسمانی طاقت، قوت برداشت، جذبہ مفاہمت اور ذاتی پسند وناپسند پر منحصر ہے۔ کسی ایک اصول یا مسئلے کا اطلاق سب پر نہیں کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر جیب اجازت دے تو الگ کمرہ بہر صورت زیادہ آرام دہ اور باسہولت ہوتا ہے۔

 

حرم میں پہلی نماز

 

صبح کے تین بجے ہم مسجد نبویﷺ میں داخل ہوئے تو وہاں نور کی فضا تھی۔ نمازی جوق در جوق مختلف دروازوں سے صحن میں داخل ہو رہے تھے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی روشنیاں آنکھوں، دل اور دماغ کو فرحت بخش رہی تھیں۔ ہم مسجد کی پشت اور دائیں جانب کے دروازے سے داخل ہوئے۔ جب صحن میں آگے بڑھے تو دیکھا کہ مسجد کے آخری حصے میں خواتین داخل ہو رہی تھیں۔ وہ اس حصے کے سامنے صحن میں بھی بیٹھی ہوئی تھیں۔ مرد آگے بڑھے چلے جا رہے تھے۔ ہم واپس اسی گیٹ پر آئے اور نماز کے بعد ملنے کی جگہ طے کی۔ اہلیہ خواتین والے حصے کی جانب بڑھ گئیں اور میں مسجد کے اگلے حصے کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ مسجد سے ملحقہ صحن میں بھی صفیں بچھی ہوئی تھیں۔ مختلف دروازوں سے لوگ مسجد کے اندر بھی جار ہے تھے۔

جوں ہی میں مسجد کے اندر داخل ہوا ایک انوکھا نظارا میرا منتظر تھا۔ مسجد کا اندرونی منظر انتہائی حسین، با وقار اور متاثر کن تھا۔ خوبصورت در و دیوار، بلند چھتیں اور اس میں لٹکے ہوئے انتہائی دیدہ زیب فانوس ماحول کو بقعہ نور بنائے ہوئے تھے۔ لگتا تھا کہ مسجد کے طول و عرض میں رنگ و نور کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ اتنی بڑی اور اتنی شاندار مسجد میں نے پہلی دفعہ دیکھی تھی۔ اندر کا درجہ حرارت آرام دہ، خوبصورت قالین، نقشین ستون، ترتیب وار خوبصورت فانوس اور پیارے نبیﷺ کے قرب کا احساس، جسم و جاں بلکہ روح تک کو ضو فشاں کر رہا تھا۔

اس وقت میرے جو احساسات تھے چاہوں بھی تو قلمبند نہیں کر سکتا۔ یہ وصل کے وہ انوکھے لمحات تھے جب انسان خود سے بھی بیگانہ ہو جاتا ہے۔ یہ وہ انتہائے قرب ہے جب نظریں دھندلا جاتی ہیں۔ آقائے مومنینﷺ کے خیال اور اس مسجد کے حسن نے مجھے مبہوت سا کر دیا تھا۔ فن تعمیر کا اس سے بہتر نمونہ میری نظر سے اس سے پہلے نہیں گزرا تھا۔ اس کا ظاہری اور باطنی حسن دونوں لاجواب تھے۔ اسے دیکھنے کے لیے بھی ظاہری آنکھوں کے ساتھ ساتھ دِل کی آنکھوں کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ میں مسحور ہو کر نہ جانے کب تک ایک ہی مقام پر کھڑا رہا۔ میری نظریں اس نظارے سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں۔ کسی نے آرام سے ٹہوکا دیا تو جیسے مجھے ہوش آ گیا۔ ایک جگہ بیٹھنے کے بعد میں نے ارد گرد نظر دوڑائی تو اس انتہائی وسیع و عریض مسجد کے طول و عرض میں لاکھوں لوگ نظر آئے۔ جو نوافل ادا کر رہے تھے۔ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ تسبیح کے ساتھ حمد اور درود شریف پڑھ رہے تھے یا پھر گھٹنوں پر سر رکھ کر سستا رہے تھے۔ چند ایک ستونوں کے ساتھ ٹیک لگا کر با قاعدہ سو رہے تھے۔ ان سب کے لباس الگ، نسلیں جدا اور زبانیں مختلف تھیں۔ لیکن اس وقت ایک ہی دربار میں سوالی بنے بیٹھے تھے۔

میں نے تہجد کی نیت باندھی تو اس خاص الخاص مقام پر نماز کے احساسات بھی خاص اور جدا تھے۔ بعد میں مسجد نبوی اور خانہ کعبہ میں پڑھی جانے والی تمام نمازوں میں احساسات اور جذبات کی یہی کیفیت رہی۔ ایسا خشوع و خضوع اور ارتکاز پہلے کبھی نصیب نہیں ہوا تھا۔ نماز کا ایسا مزا، تسکین اور روحانی مسرت بھی پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ حرمین شریفین میں ادا کی جانے والی ہر نماز کا ذائقہ اور رنگ ہی الگ تھا۔ قیام، رکوع اور سجود سبھی دل سے ادا ہوتے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ باری تعالیٰ سامنے موجود ہے اور غور سے دیکھ رہا ہے۔ یہ احساس اتنا گہرا ہوتا تھا کہ سبحان ربی العظیم، سبحان ربی الاعلیٰ کہتے ہوئے ایک سرور سا آ جاتا تھا۔ یہ سرور، یہ مزا اور یہ ذائقہ جو حرمین شریفین میں نصیب ہوا پھر کہیں اور نصیب نہیں ہوا۔

تہجد کے ادائیگی کے بعد میرے پاس بہت وقت تھا۔ نماز فجر میں ابھی ڈیڑھ گھنٹہ باقی تھا۔ اس دوران میں مسجد کے ظاہری اور باطنی حسن سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ اور دنیا بھر سے آئے ہوئے عازمین حج کو آتے اور جاتے دیکھتا رہا۔ وہیں ستون کے ساتھ ایک ریک پر قرآن مجید کے نسخے موجود تھے۔ تھوڑی دیر قرآن کی تلاوت کی تو اس کا رنگ بھی جدا تھا۔ اس تلاوت کا بھی بہت مزا آیا۔ لگتا تھا کہ نماز، تلاوت اور دوسری عبادتوں کا اصل مزا حرمین شریفین میں ہی ہے۔ نماز کے بعد مسجد کے تمام دروازوں پر ہجوم بڑھ گیا۔ مجھے مطلوبہ گیٹ اور ستون ڈھونڈنے میں تھوڑی دیر لگ گئی جہاں بیگم سے ملنا طے تھا۔ یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ انہوں نے یہ جگہ مجھ سے پہلے ڈھونڈ لی تھی اور میرا انتظار کر رہی تھیں۔

 

کملی والے کے در پر حاضری

 

ہم مقررہ جگہ پر ملے اور پھر دنیا کی عظیم ترین ہستی کے دربار میں حاضری کے لیے روانہ ہو گئے۔ نبی آخر زمانﷺ کا روضہ مبارک مغرب کی سمت مسجد کے سامنے والے حصے میں واقع ہے۔ مسجد نبویﷺ میں نماز ادا کرنے والے اسی سمت رُخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں۔ روضہ رسولﷺ اور اس سے ملحق ریاض الجنۃ اور حضور پاکﷺ کے منبر کا مقام اب مسجد کا حصہ ہیں۔ اور مرکزی عمارت سے منسلک ہیں۔ لہٰذا جب نماز کی جماعت ہوتی ہے تو اس حصے میں موجود نمازی بھی جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔ اس طرح روضہ رسولﷺ بھی مسجد کے اندر ہی واقع ہے۔ روضہ رسولﷺ اور ریاض الجنۃ والا حصہ مرکزی مسجد سے کم چوڑا ہے۔ اس لیے یہ حصہ مسجد سے آگے اُبھرا ہوا نظر آتا ہے۔ روضہ رسولﷺ کی زیارت کے لیے روضہ سے ملحق ایک پتلی سے گلی ہے جس کے اوپر چھت ہے۔ اگر ریاض الجنۃ میں داخلے کا مقررہ وقت نہ ہو تو بھی روضہ رسولﷺ کی زیارت اس گلی سے کی جا سکتی ہے۔ زائرین اس گلی کے ایک سرے سے داخل ہوتے ہیں اور دوسری طرف سے باہر نکلتے ہیں۔ حج کے دنوں میں اتنا ہجوم ہوتا ہے کہ اس میں رُکنے یا دعا مانگنے کا وقت نہیں ملتا ہے۔ تاہم روضہ رسولﷺ انتہائی قریب سے دیکھنے کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے۔ روضہ رسولﷺ سے ملحق حضور پاکﷺ کے یارِ غار اور خلیفہ اوّل حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضور کے دوسرے ساتھی مجاہدِ اسلام خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ کی قبورِ پُر انوار بھی واقع ہیں۔ گویا جنہوں نے حضور کا زندگی بھر ساتھ دیا وہ بعد از وفات بھی اُن سے دور نہ ہوئے۔ واللہ کیا شان اور کیا مقام ہے ان جلیل القدر ہستیوں کا۔

جب میں روضہ رسولﷺ پر نظریں جمائے اس کے قریب جا رہا تھا تو اس وقت میرے دل کی عجیب کیفیت تھی۔ اس سبز گنبد کے بارے میں عاشقان رسولﷺ نے کیا کچھ نہیں لکھا تھا۔ یہ وہی روضہ رسولﷺ تھا جس کے بارے میں ہوش سنبھالتے ہی سننا اور پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ اس روضے کے بارے میں شاعروں اور ادیبوں نے بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔

اس سبز گنبد اور اس کی سنہری جالی کو دیکھنے اور چھونے کی تمنا کب سے میرے دل میں کروٹیں لے رہی تھی۔ جس عظیم ہستی کی وجہ سے اس شہر کی خاک کا ایک ایک ذرہ ہمارے لیے مہتاب تھا یہاں ان کا جسدِ خاکی دفن تھا۔ ان کی قبرِ انور تھی۔ وہ ہمارے سامنے محوِ استراحت تھے۔ ایسے لگتا تھا وہ ہمیں دیکھ رہے ہیں۔ ہماری دعائیں ہماری التجائیں سن رہے ہیں۔

ریاض الجنۃ میں داخلے کے لئے مردوں اور عورتوں کے الگ الگ اوقات مقرر تھے۔ مردوں کو فجر کے بعد داخلے کی اجازت تھی جب کہ خواتین کے لئے عشاء کے بعد کا وقت مقرر تھا۔ جب ہم روضہ رسولﷺ کی طرف جا رہے تھے تو اِس سے ذرا پہلے ایک دروازے کے باہر جم غفیر جمع تھا۔ اس وقت ہمیں علم نہیں تھا کہ یہ کیوں جمع ہیں۔ بعد میں علم ہوا کہ یہ زائرین ریاض الجنۃ میں داخل ہونے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ہماری نظریں اس وقت ایک ہی نظارے پر مرکوز تھیں۔ وہ روضہ رسولﷺ تھا۔

روضے سے ملحق گلی سے گزرنے کے لیے جوتے اتارنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن ہم نے اُتار کر بیگ میں رکھ لیے۔ جیسے جیسے آگے بڑھ رہے تھے ہم ایک نور کے ہالے میں داخل ہو رہے تھے۔ اللہ اللہ وہ کیا ماحول تھا۔ کیا منظر تھا۔ کیا فضا تھی۔ نور ہی نور، محبت ہی محبت، روشنی ہی روشنی، ٹھنڈک ہی ٹھنڈک، جذبوں کی بوچھار، تقدس کے چھینٹے، رقت انگیزی، نم آنکھوں میں ملن کے روشن دیپ اور روضے پر نظر پڑتے ہی آنسوؤں کی برسات۔ جذبوں کی اس برکھا میں سب دعائیں سب التجائیں بھول گئے۔ صرف آنسو تھے جو اِن جذبوں کی زبان بنے ہوئے تھے۔

اس وقت ہماری آنکھیں ڈبڈبائی ہوئی اور دل و دماغ منور و خیرہ تھے۔ کچھ سوجھتا اور دِکھتا نہیں تھا۔ بس ایک تجلی تھی۔ ایک روشنی تھی۔ قرب کا احساس تھا۔ ملن کا خیال تھا۔ اپنے دُکھوں، اپنے گناہوں اور اپنی بے وقعتی کا احساس تھا۔ اس دربار کی عظمت کا احساس تھا اور اپنی پست قامتی کا احساس تھا۔

اسی حالت میں عازمین کے دھکوں اور شُرطوں کی ڈانٹ پھٹکار کے درمیان ہم نے روضہ اقدس کا اپنی آنکھوں سے طواف کیا۔ چھونے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن ہماری آنکھوں اور ہمارے دل نے ان جالیوں کو، ان محرابوں کو، ان دروازوں کو خوب چوما۔ اتنا چوما کہ میرے دل کی کالک بھی دھلنے لگی۔ ایسے لگا کہ اندر اور باہر دونوں طرف سے دھُلنے لگا ہوں۔ ایک روشنی دل و دماغ میں سرایت کرتی محسوس ہو رہی تھی۔ روضہ اقدس پر نظریں جمائے آگے بڑھے تو حضور پاکﷺ کے سب سے قریبی صحابہ بلکہ رفقاء حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کی قبروں کی بھی زیارت کی اور سلام پیش کیا۔

روضہ رسولﷺ کی زیارت میری زندگی کا بہت اہم واقعہ ہے۔ اس زیارت کے لیے کب سے میری آنکھیں ترس رہی تھیں۔ یہ وہ مقام تھا جہاں پہنچنے کی ایک عرصے سے جستجو تھی۔ یہ میرے شوق کی انتہا تھی۔ میرے عشق کا نقطہ وصال تھا۔ ہوش سنبھالنے سے لے کر اب تک جس برگزیدہ ترین ہستی کے بارے میں سنتا، پڑھتا اور سوچتا آ رہا تھا۔ جس کے عشق نے میرے دل و دماغ میں گھر کیا ہوا تھا آج وہ میرے سامنے تھی۔ حالانکہ وہاں صرف ان کی قبر تھی۔ لیکن مجھے یوں لگ رہا تھا کہ وہ میرے سامنے مجسم موجود ہیں۔ ہمیں دیکھ رہے ہیں

ہماری بے قراری، ہماری عقیدت اور ہمارے شوق کو محسوس کر رہے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں محبت اور لبوں پر مسکراہٹ ہے۔

یہ ایک ایسا احساس تھا جس کا بیان ممکن نہیں ہے۔ جذبوں کو لفظوں کا جامہ پہنانا بہت مشکل ہے۔ ان جذبوں اور اس احساس کو صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ آج کا یہ منظر میری زندگی کے تمام مناظر پر حاوی ہو گیا۔ دل اور دماغ پر یہ منظر چھا کر رہ گیا۔ قرب کا احساس آنکھوں سے دل اور پھر رگ و پے میں سما گیا۔ ز بان گنگ تھی۔ بس آنکھیں دیکھتی تھیں۔ دل دھڑکتا تھا اور اشک بہتے جا رہے تھے۔

گلی کی دوسری جانب نکلے تو یوں لگا کہ ہمیں جنت سے زمین پر پٹخ دیا گیا ہو۔ ایک انتہائی خوش رنگ گلشن سے نکل کر صحرا میں پہنچ گئے ہوں۔ اندر کا منظر ابھی تک نگاہوں میں گھوم رہا تھا۔ ہمارے قدم جیسے اٹھنے سے انکاری تھے۔ دل کرتا تھا کہ وہیں کھڑے کھڑے آنکھیں بند کریں اور پھر وہیں پہنچ جائیں جہاں اپنا دل اور دماغ چھوڑ آئے تھے۔ ہماری آنکھیں اب تک اشک بار تھیں۔ انہی اشک بار آنکھوں اور بوجھل قدموں کے ساتھ ہم ہوٹل کی طرف چل دیے۔

 

 مدینے کے بازار

 

جب ہم گیٹ سے باہر نکلے تو دیکھا کہ گیٹ کے بالکل سامنے بہت سی ریڑھیاں کھڑی تھیں۔ ان ریڑھیوں کی وجہ سے راستہ تقریباً بند تھا۔ ان ریڑھیوں کے بیچ میں سے بڑی مشکل سے لوگ راستہ بنا رہے تھے۔ یہ ریڑھیاں یوں کھڑی کرنا یقیناً غیر قانونی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جیسے ہی پولیس کی گاڑی آتی تھی یہ ریڑھیاں پلک جھپکتے میں وہاں سے غائب ہو جاتی تھیں۔ جیسے ہی پولیس واپس جاتی یہ چلتی پھرتی دُکانیں پھر وہیں آ موجود ہوتیں۔ ان ریڑھیوں کا شمار ممکن نہیں تھا۔ ان میں خواتین ریڑھی بردار زیادہ تھیں۔ سر تا پا کالے برقعے میں ملبوس چالیس پینتالیس ڈگری گرمی میں اور سخت دھوپ میں وہ وہاں نہ جانے کیسے کھڑی رہتی تھیں۔ چلچلاتی دھوپ، حبس اور اس برقعے کے اندر ان کا کیا حال ہوتا ہو گا، یہ سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ کسی نے بتایا کہ سعودی مرد بڑی بڑی گاڑیوں میں آتے ہیں اور ان خواتین کو اس کام کے لیے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ جب کام ختم ہو جاتا ہے تو آ کر انہیں لے جاتے ہیں۔ کیونکہ سعودی خواتین خود گاڑی نہیں چلا سکتیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ وہ مرد خود یہ کام کیوں نہیں کرتے۔ شاید یہ کام کرنا ان کے لیے کسرِ شان تھا۔ وجہ کچھ بھی ہو سعودی خواتین ایام حج میں خصوصاً اور بقیہ سال عموماً خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے گرد و نواح میں کاروبار میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ خواتین عربی کے علاوہ دیگر کوئی زبان نہیں سمجھتی ہیں۔ تاہم ان میں سے کچھ نے دوسرے دُکانداروں کی طرح اُردو کے ہند سے یاد کیے ہوئے ہیں اور انہیں دہراتی رہتی ہیں۔ مثلاً دس ریال، پانچ ریال، آٹھ ریال وغیرہ۔

ہوٹل واپس جاتے ہوئے میں نے دیکھا کہ سڑک پر ریڑھی بردار خواتین کے علاوہ پرائیویٹ ٹیکسیوں کی بھرمار تھی۔ یہ عام کاریں تھیں جسے عربی ڈرائیور ٹیکسی یا کرائے کی کار کے طور پر استعمال کر کے خوب کما تے تھے۔ اصل ٹیکسیاں جس پر ٹیکسی لکھا ہوتا ہے وہ بہت کم نظر آتی تھیں۔ سڑک پر گاڑیاں اور پیدل لوگ ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فٹ پاتھ پر ریڑھیوں کا قبضہ تھا۔ دونوں اطراف میں دُکانیں اور بڑے بڑے ہوٹل تھے۔ یہ دُکانیں انہی ہوٹلوں کے نچلے فلور پر واقع تھیں۔ یوں لگتا تھا کہ اس پورے علاقے میں ہوٹل ہی ہوٹل ہیں۔ یوں تو پورا سال ان ہوٹلوں کو مکین دستیاب رہتے ہیں لیکن ان دنوں تو شاید ہی کوئی کمرہ خالی ہو گا۔ حج کے علاوہ رمضان المبارک میں بھی زائرین کا اتنا ہی رش ہوتا ہے۔ اس وقت بھی تمام ہوٹل بھر جاتے ہیں۔ مجھے یہ باتیں میرے ہوٹل کے منیجر نے بتائی تھیں۔ میرے ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ حج کے بعد ہجوم کم ہو جاتا ہے لیکن ختم نہیں ہوتا ہے۔ زائرین کی آمد و رفت سارا سال جاری رہتی ہے۔ ایک ڈیڑھ ماہ بعد زائرین کی تعداد بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ رمضان المبارک میں تو حج کی طرح ہجوم ہوتا ہے۔ رمضان المبارک کے بعد یہ تھوڑا سا کم ہوتا ہے۔ اس کے بعد حاجیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہوٹل، دُکانیں اور دوسرے کاروبار سارا سال مصروف رہتے ہیں۔

مکہ اور مدینہ میں سیاحت سے متعلق کاروبار اتنے زیادہ مصروف رہتے ہیں کہ دنیا میں کہیں ایسی مثال نہیں ملتی۔ یہاں دُکانوں اور ریستورانوں میں ہر وقت گاہک بھرے نظر آتے ہیں۔ یہ دُکانیں چاہے عام اشیائے ضرورت کی ہوں، چاہے اشیائے خورد و نوش کی ہوں، چاہے چمکتے دھمکتے سونے کے زیورات کی ہوں، چاہے تحائف کی ہوں، ہر وقت گاہکوں سے بھری نظر آتی ہیں۔ دُکان دار اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ ان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ حتیٰ کہ کرنسی تبدیل کرنے والی دکانیں بھی اس قدر مصروف ہوتی ہیں جیسے گرم سموسے یا جلیبیاں بیچ رہے ہوں۔ کرنسی تبدیل کرنے والے کاؤنٹر تک رسائی کے لیے قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ بیرونی کرنسی کے بدلے میں جو کچھ ملتا ہے لوگ صبر و شکر کر کے جیب میں ڈالتے ہیں اور اپنی اپنی راہ لیتے ہیں۔ کرنسی کے متبادل نرخ معلوم کرنے اور کاؤنٹر پر پیسے گننے کا موقع نہیں ملتا ہے۔

یہی حال دوسری تمام دکانوں کا ہے۔ تمام دکانیں اشیائے ضرورت سے بھری ہوتی ہیں۔ گاہکوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ ریال دھڑا دھڑ جمع ہو رہے ہوتے ہیں۔ دنیا بھر کی کرنسی لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں سعودی عرب میں جمع ہوتی رہتی ہے اور یہ سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے۔ زائرین مقامی لوگوں کی تلخ و ترش باتوں کو بھی ہنسی خوشی برداشت کر لیتے ہیں اور اس سرزمین پر آمد کا سلسلہ کبھی کم نہیں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے باسیوں کو کتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔

ہم جمعرات کی رات مدینہ منورہ میں پہنچے تھے۔ آج جمعۃُ المبارک تھا۔ اگلے جمعہ کی شام تک ہمارا یہاں قیام تھا۔ ان آٹھ دنوں میں ہمیں مسجد نبویﷺ میں تینتالیس نمازیں ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ تہجد اور دوسری نفلی نمازیں الگ تھیں۔ مسجد نبویﷺ میں چالیس نمازیں ادا کرنا حج کا حصہ بالکل نہیں ہے۔ نہ ہی کسی اور وقت چالیس نمازوں کی پابندی ہے۔ لیکن اللہ کے اس گھر میں ان نمازوں کی فضیلت بہرحال بر حق ہے۔ مختلف احادیث میں حضور پاکﷺ کا فرمان ہے کہ مسجد نبویﷺ میں ادا کی جانے والی نماز کا ثواب دوسری مساجد میں ادا کی جانے والی نماز سے ہزار گنا زیادہ ہے۔ جب کہ حرم شریف کی نماز کا مسجد نبوی کی نماز سے بھی سو گنا زیادہ اجر ہے۔ گویا حرم شریف اور مسجد نبویؑمیں ادا کی جانے والی ہر نماز کا اجر و ثواب بے شمار اور بے حساب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرزندانِ توحید ان دو عظیم مساجد میں پورا سال حاضری دیتے اور عبادات میں مشغول رہتے ہیں۔

 

مسجدِ نبویؐ اور آغازِ اسلام

 

مسجد نبویؐ اللہ کے پسندیدہ ترین گھروں میں سے ایک ہے۔ مسجد نبوی اسلامی سلطنت کی پہلی باقاعدہ عمارت، اسلام کی ابتدائی درس گاہ، نبی پاکﷺ سے جائے ملاقات، مقامِ مشاور ت اور مجلسِ شوریٰ منعقد کرنے کی جگہ تھی۔ گویا یہ نوزائیدہ اسلامی سلطنت کا مرکزی مقام، مرکزی دفتر، تعلیم و تربیت اور تبلیغ کا مرکز اور عبادت گاہ تھی۔ نبی پاکﷺ کی رہائش گاہ اس سے ملحق واقع تھی۔ یہیں اللہ کے رسولﷺ دوسرے ممالک کے وفود سے ملاقات کرتے تھے۔ دین کی تبلیغ اور صحابہؓ کی تربیت کرتے تھے اور مسلمانوں کو شریعت کے احکام سکھاتے تھے۔ صحابہ کرامؓ سے مشورے کے بعد یہاں بڑے بڑے فیصلے ہوتے تھے۔ گویا یہ اسلام کی پہلی پارلیمنٹ تھی۔

جب کفارِ مکہ نے مدینہ منورہ پر بہت بڑے لاؤ لشکر کے ساتھ زبردست طریقے سے چڑھائی کی تو اسلام کی یہ نوزائیدہ مملکت کھلی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ حضرت محمدﷺ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ جن کے نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ فارس سے تشریف لائے تھے۔ انہوں نے اپنے تجربے کی روشنی میں مدینہ میں داخل ہونے والے راستے میں خندق کھودنے کا مشورہ دیا۔ مدینہ منورہ قدرتی طور پر تین اطراف سے پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے۔ ان تین اطراف سے دشمن کے حملے کا خطرہ نہیں تھا۔ حضرت سلمان فارسیؓ ایران میں ایسی کئی جنگوں میں شرکت کر چکے تھے جہاں خندقوں کا استعمال ہوا تھا۔ جبکہ عربوں میں اس سے پہلے اس کا رواج بالکل نہیں تھا۔

یہی وجہ ہے جب کفارِ مکہ نے اپنے سامنے خندقیں کھدی دیکھیں تو گھبرا گئے۔ انہیں ان خندقوں کو پھلانگنے کا کوئی طریقہ سمجھ نہ آیا۔ لہٰذا وہ کئی دن تک خندقوں کے دوسری طرف پڑے سوچتے رہے۔ آخر تائید غیبی آ پہنچی اور طوفان باد و باراں سے کفار کے خیمے اکھڑ گئے۔ اُن کے جانور  بدک کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان نقصانات کی تاب نہ لا کر اور خندقوں کا جواب نہ پا کر وہ ناکام و نامراد لوٹ گئے۔

یوں رسول اللہﷺ نے بھی اپنی فہم و فراست، اپنی قائدانہ صلاحیتوں، اپنی دلیری، جمہوریت پسندی اور صحابہ کرام کی بہادری اور جوانمردی سے یہ جنگ جیت لی۔ اللہ کی نصرت سے اسلام فتح سے ہمکنار اور اور باطل شکست خوردہ اور اپنے ناپاک ارادوں میں ناکام ہوا۔

مدینے کی فضائیں آج بھی بہت سہانی ہیں۔ یہاں پھلوں کے بے شمار باغات ہیں یہاں کے لوگ نرم اور دھیمے مزاج کے مالک ہیں۔ اس شہر کی فضا میں نبی پاکﷺ کی خوشبو رچی ہوئی ہے۔ اس شہر اور اس کے باسیوں نے ہمارے نبی کا اس وقت ساتھ دیا تھا جب کفار مکہ ان کی جان کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ اگر اس وقت اہلِ مدینہ حضور پا کﷺ اور مسلمانانِ مکہ کی مدد نہ کرتے، انہیں اس شہر میں پناہ نہ دیتے تو نعوذ باللہ اسلام کے نام لیوا ہی باقی نہ رہتے اور اسلام کو پھلنے پھولنے کاہی موقع نہ ملتا۔ لہٰذا اہل مدینہ کا تمام ملتِ اسلامیہ پر یہ احسان ہے کہ انہوں نے ہمارے نبیﷺ کو پناہ دی۔ انہیں عزت دی اور اسلام کا پیغام پھیلانے کا موقع فراہم کیا۔

شریعت اسلامیہ کو عملی شکل دینے کے لیے جس اسلامی ریاست کی ضرورت تھی وہ بھی مدینہ نے ہی پوری کی۔ چند برسوں میں ہی اسلام کا یہ پیغام نہ صرف صحرائے عرب بلکہ افریقہ، ایشیاء اور یورپ تک پھیل گیا۔ یہ اسلام کی حقانیت اور پیغمبرِ اسلام کی کرشمہ ساز شخصیت کا کمال تھا کہ تئیس برس کی مختصر مدت میں ایک اُمیؐ کا پیغام اور اس کی شریعت جو در اصل اللہ کی شریعت تھی دنیا کے بڑے بڑے ممالک اور کئی براعظموں میں پہنچ چکی تھی۔ اس پیغام کی سچائی نے دنیا کے طول و عرض میں لوگوں کے دلوں پر دستک دی تھی۔ حضورﷺ کی زندگی میں ہی اسلام کے ماننے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی تھی۔ اس دور کے ذرائع رسل ورسائل اور سفر کے وسائل کو مد نظر رکھا جائے تو یہ کامیابیاں حیرت انگیز بلکہ ناقابل یقین ہیں۔ اس میں اللہ کی مدد کے ساتھ ساتھ نبی پاکﷺ کی فہم و فراست کا بھی بہت اہم کردار ہے۔

روشنی کا یہ سفر آج تک جاری ہے۔ لاکھ رُکاوٹوں، مخالفتوں اور دشمنیوں کے باوجود اللہ کے نبی کا یہ پیغام سینوں کو منور کر رہا ہے۔ ان ملکوں میں بھی جہاں کی حکومتیں اسلام کی دشمن تھیں وہاں کے لوگوں کو بھی اسلام مسخر کر رہا ہے۔ تاتاریوں کی مثال سب کے سامنے ہے جو اسلام کو تاراج کرنے نکلے تھے انہوں نے مسلمانوں پر ظلم بھی بہت ڈھائے تھے۔ بالآخر اس پورے خاندان اور ان کی تمام حکومتوں کو اسلام نے مسخر کر لیا۔ وہ ملک جہاں تاتاریوں کی حکومت تھی آج اسلام کے قلعے ہیں اور تاتاری نسل اسلام سے بہرہ مند ہو چکی ہے۔

پیغمبر اسلامﷺ کی ان غیر معمولی کامیابیوں میں جہاں اللہ کی تائید و نصرت شامل تھی وہاں ان کی قائدانہ صلاحیتیں، حکمت و دانائی، صلح جوئی، صحابہ کرام سے مشاور ت اور عزم صمیم نے بھی اپنا کردار ادا کیا تھا۔ چند ہی سالوں میں مدینے کی ریاست امن کا گہوارہ بن گئی۔ حتیٰ کہ یہاں یہودی اور غیر مسلم بھی محفوظ و ممنون تھے۔ اسلام سے پہلے عرب قبائل جنگ و جدل کے اتنے خوگر تھے کہ معمولی معمولی تنازعات کو بنیاد بنا کر صدیوں تک ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رہتے تھے۔ ہزاروں افراد لقمہ اجل بن جاتے لیکن دشمنیاں پھر بھی باقی رہتی تھیں۔

رسول اللہﷺ نے اپنی ریاست میں ان تمام قبائلی جنگوں کو روک دیا۔ وہی قبائل جو پہلے بلاوجہ ایک دوسرے سے دست و گریبان رہتے تھے اب مل کر لشکرِ اسلام کا حصہ بنے اور اللہ کی راہ میں جہاد کے راستے پر چل پڑے۔ اس راستے میں انہوں نے ایسے ایسے کارنامے انجام دیے کہ رہتی دنیا تک یہ کارنامے یاد رکھے جائیں گے۔ اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو کر وہ جذبۂ اخوت سے مالا مال ہو گئے اور ایک دوسرے پر جانیں نچھاور کرنے لگے۔ یہ اللہ کی رحمت، اسلام کی برکت اور حضور نبی پاکﷺ کی تربیت تھی کہ سخت مزاج قبائلی عرب سدھر کر حلقہ یاراں میں ریشم کی طرح نرم اور رزم حق و باطل میں فولاد بن جاتے تھے۔ ان کے شب و روز اللہ اور اس کے نبیﷺ کی خوشنودی حاصل کرنے میں بسر ہوتے تھے۔ ان کی باہمی دشمنیاں دوستیوں میں بدل چکی تھیں۔ جہالت کا اندھیرا علم و حکمت کی روشنی سے مٹنے لگا۔ سخت مزاجی نرمی اور حلاوت میں تبدیل ہو گئی اور دشمنی دوستی بلکہ جانثاری میں بدل گئی تھی۔ مختلف غزوات میں صحابہ کرامؓ نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر دوسرے صحابہؓ کی جس طرح جان بچائی، یہ اسلامی تعلیمات اور نبیﷺ کی قیادت کا اثر تھا۔

صحابہ کرامؓ جب باہم اکھٹے ہوتے تھے تو اخوت ومساوات کا پیکر نظر آتے تھے۔ وہ آپس میں شیر و شکر ہو جاتے تھے۔ ایک دوسرے کے بغیر ان کا نوالہ حلق سے نیچے نہیں اترتا تھا۔ خود بھوکا رہ کر دوسرے کا پیٹ بھرنے کی کوشش کرتے۔ خود پیدل چلتے اور دوسروں کو سواری پیش کرتے۔ بغیر بتائے اور بغیر جتلائے ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ اتنی نرم دلی کے باوجود جب وہ کفار کے سامنے سینہ سپر ہوتے تھے تو پھر فولاد نظر آتے تھے۔ اس وقت ان کا جینا مرنا اللہ اور ان کے نبیﷺ کے لیے ہوتا تھا۔ موت ان کے لیے حیات اور کامیابی کی معراج ہوتی تھی۔ صحابہ کرامؓ جہاد کے لیے گھر سے نکلتے ہی جذبہ شہادت سے سرشار ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر طوفان کا مقابلہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کرتے تھے۔ وہ حضورﷺ کے ایک اشارے پر جان نچھاور کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ملتے تھے۔ حضورﷺ سے وفا داری کا یہ عملی جذبہ، شجاعت کا یہ جذبہ اور اخوت اور قربانی کی یہ مثالیں مسلمانوں کی کامیابی اور کامرانی کی راہ ہموار کرتی گئیں۔ اسی وجہ سے صدیوں تک مسلمانوں کا عروج رہا۔ انہوں نے دنیا پر اپنی حکمرانی کا سکہ جما کر رکھا۔ قرونِ اولیٰ کے ان مسلمانوں کی وجہ سے ہی آج اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب اور اس کے ماننے والے دنیا کے ہر خطے میں موجود ہیں۔ اللہ کے سپاہی اور اس کے نبیﷺ کے پروانے اپنے دلوں میں وہ جذبہ لیے پھرتے ہیں جو گود سے لے کر گور تک ان کے سینے منور وتاباں رکھتا ہے۔ یہ حضورﷺ سے عشق ہے جو دلوں میں شمع کی مانند روشن ہے۔ یہ عشق ہوش سنبھالتے ہی ہر کلمہ گو کے دل میں فروزاں ہو جاتا ہے اور مر تے تک اس کی روشنی قائم و دائم رہتی ہے۔ ایک مسلمان چاہے کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو نبیﷺ کی محبت سے اس کا دل خالی نہیں ہوتا ہے۔ گنہگار سے گنہگار مسلمان بھی نبیﷺ کی حرمت پر جان نثار کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔

مسلمان تو پھر مسلمان ہیں میرے نبی کو ماننے والوں میں غیر مسلم بھی شامل ہیں۔ غیر مسلموں نے سیرت نبیﷺ پر کتابیں اور نعتیں لکھی ہیں۔ ان کی محبت اور احترام اپنوں اور غیروں سب میں پا یا جاتا ہے۔ ایک غیر مسلم معاشرے کا شہری ہونے کی حیثیت سے میں خود اس بات کا گواہ ہوں۔ میں نے غیر مسلموں کی زبان سے جب بھی پیغمبراسلامﷺ کا نام سنا ہے اس میں عزت اور احترام شامل ہوتا ہے۔ جو جتنا پڑھا لکھا ہوتا ہے وہ اتنا ہی ہمارے نبیﷺ کا معترف اور معتقد ہوتا ہے۔

 

مسجد کے باہر

 

مسجد نبوی کے چہار جانب بلند وبالا ہوٹل چھائے ہوئے ہیں۔ ان میں پانچ ستارے سے لے کر چارپائی ہوٹل تک موجود ہیں۔ تاہم مسجد کے قرب و جوار میں کئی ستاروں والے بڑے بڑے ہوٹلوں کا قبضہ ہے۔ درمیانے اور چھوٹے ہوٹل قدرے فاصلے پر ہیں۔ ہمارا ہوٹل مسجد کے عقبی حصے کے دائیں کنارے کی طرف واقع تھا۔ مسجد کے گیٹ سے نکل کر تقریباً آٹھ دس منٹ کی مسافت پر یہ ہوٹل ایک ہائی وے کے کنارے پر بنایا گیا تھا۔ دس منٹ کی یہ مسافت عموماً آدھے گھنٹے میں تبدیل ہو جاتی تھی۔ کیونکہ نماز سے پہلے اور خصوصاً  نماز کے بعد سڑک اور فٹ پاتھ بالکل بھر جاتی تھی۔ ریڑھیاں، گاڑیاں اور بھکاری رکاوٹ بن جاتے تھے۔ ریڑھیوں و الے فٹ پاتھ تقریباً بند کر دیتے تھے۔ جبکہ سڑک پر گاڑیاں ہوتی تھیں۔ حالانکہ نمازوں کے اوقات میں یہاں گاڑیوں کا داخلہ ممنوع تھا اس کے باوجود یہ آمد و رفت جاری رہتی تھی۔

بعض اوقات گیٹ سے باہر ایک جمگھٹا سا لگ جاتا تھا جس میں سے نکلنا مشکل ہوتا تھا۔ تاہم وہاں بے حد رونق رہتی تھی۔ مسجد سے باہر نکلتے ہی دونوں جانب سجی اور بھری ہوئی دکانیں، ہر دُکان میں گاہکوں کا ہجوم، سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر سامان سے لدی ریڑھیاں، مختلف اشیاء کی دھڑا دھڑ فروخت، سیاہ برقعے میں ملبوس سعودی خواتین دُکاندار اور پولیس کے آتے ہی ان کی بھاگ دوڑ۔ یہ سب روزمرّہ کا معمول تھا۔ یہ خواتین اتنی تیز دھوپ اور گرمی میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی ریڑھی پر بٹھا کر رکھتی تھیں۔ وہ بچوں کو بھی سنبھالتیں اور دُکانداری بھی کرتی تھیں۔ ان ریڑھیوں میں پھل، جائے نمازیں، تسبیحیں، جوتے، قندورے (عربی لباس)، بڑے بڑے عربی رومال، کھجوریں، قرآن پاک کے نسخے، بچوں کے کپڑے، مصنوعی زیورات، مسواکیں، زنانہ سکارف، برقعے، برتن اور ایسی ہی دوسری چیزیں بِک رہی ہوتی تھیں۔

ہر ریڑھی کے پاس اور ہر دُکان میں زائرین خریداری میں مصروف نظر آتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ زائرین کے یہاں دو ہی مشغلے ہیں۔ ایک اللہ کے گھر میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنا اور دوسرا جی بھر کر شاپنگ کرنا۔ اسی لیے جب وہ مکہ سے مدینہ یا مدینہ سے مکہ اور پھر وطن واپس لوٹتے ہیں تو سامان سے لدے پھندے نظر آتے ہیں۔ سب سے زیادہ منظم زائرین ترکی کے ہوتے ہیں۔ ان کا قافلہ ہر جگہ منظم، منفرد اور جدا نظر آ تا ہے۔

برصغیر کے زائرین کی شاپنگ کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری و ساری رہتا ہے جب تک کہ حاجیوں کے پاس وقت اور رقم باقی ہوتی ہے۔ پاکستانی زائرین سب سے زیادہ کھجوریں اور جائے نمازیں خریدتے ہیں۔ یہ اشیاء وہ عزیز اقربا اور دوست احباب کو دیتے ہیں۔ گھر والوں کے لیے زیورات اور کپڑوں کی شاپنگ حسب توفیق اور حسب استطاعت چلتی رہتی ہے۔

ایک پاکستانی حاجی نے مجھے بتایا اس نے پچاس کلو سے زائد صرف کھجوریں خریدی ہیں۔ اس کی کل شاپنگ پانچ لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی تھی اور وہ ابھی سیر نہیں ہوا تھا۔ ابھی مزید شاپنگ کرنا چاہتا تھا۔

مسجد نبوی کے اطراف میں سونے کے زیورات کی بے شمار دکانیں ہیں۔ یہ دکانیں سونے کی چمک دمک سے جگمگا رہی ہوتی ہیں۔ ان دُکانوں میں بھی گاہک اتنی تعداد میں موجود ہوتے ہیں جس طرح دوسری تمام اشیائے ضرورت کی دکانوں پر ہوتے ہیں۔ نہ جانے وہ اتنا سونا کیوں اور کس لیے خریدتے ہیں اور اس خریداری کے لئے اتنی رقم کہاں سے کر کر آتے ہیں۔

جہاں تک جائے نمازوں کے تحفے کا تعلق تھا کچھ حجاج کا کہنا تھا کہ چین، بنگلہ دیش اور ترکی کی بنی ہوئی ایسی جائے نمازیں پاکستان میں وافر تعداد میں دستیاب ہیں۔ سعودی عرب سے اتنا وزن اٹھا کر لے جانے کی کیا ضرورت ہے۔ وہیں سے خرید کر تحفہ دیا جا سکتا ہے۔ لیکن رواج اور مذہبی عقیدت آڑے آ جاتی ہے۔ ایک دفعہ جو شے مکہ اور مدینہ میں آ جائے وہ مقدس اور با برکت سمجھی جاتی ہے۔ اگر کسی دوست یا عزیز کو علم ہو جائے کہ حاجی صاحب اسے جو جائے نماز تحفتاً دے رہے ہیں وہ مکہ مدینہ سے نہیں لائی گئی بلکہ مقامی بازار سے خریدی گئی ہے تو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زائرین اپنی استطاعت سے بڑھ کر تحفے خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ہمارا ہوٹل رامادا (Ramada) مدینہ منورہ کے بڑے اور مشہور ہوٹلوں میں سے ایک ہے . لبیک والوں کے تمام زائرین اسی ہوٹل میں ٹھہرتے ہیں۔ یہاں رہنے سہنے کے علاوہ کھانے پینے کا بھی بہت اچھا انتظام ہے۔ لیکن ایک مسئلہ ہمیں دن میں بار بار پیش آتا تھا وہ لفٹ کے لیے انتظار کا تھا۔ حالانکہ دو بڑی لفٹیں ہر وقت اوپر نیچے آتی جاتی رہتی تھیں۔ تاہم یہ سہولت ہوٹل کے مہمانوں کے تناسب سے کم لگتی تھی۔ خصوصاً  نماز کے لیے جاتے ہوئے لفٹ کا انتظار بہت گراں گزرتا تھا۔ یہ لفٹیں ہر فلور پر رک کر لوگوں کو اتارتی اور چڑھاتی تھیں۔ اس میں بہت وقت صرف ہو جاتا تھا۔ جب لفٹ آ کر رکتی تو اکثر بھری ہوئی ہوتی تھی۔ لہٰذا اس کے اگلے چکر کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اگر نماز کا وقت قریب ہو تو یہ انتظار بہت کٹھن ہوتا۔

شکر ہے کہ ہماری کوئی نماز اس وجہ سے متاثر نہیں ہوئی۔ ہمیں ان لفٹوں پر زیادہ بھروسہ نہیں تھا۔ لہٰذا آخر وقت تک انتظار کرنے کے بجائے وقت سے پہلے تیار ہو کر نیچے اُتر آتے تھے۔ نمازوں کے علاوہ صبح و شام کے اوقات میں فرسٹ فلور پر ریستوران میں جانے کے لیے بھی بسا اوقات بہت انتظار کرنا پڑ جاتا تھا۔ یہ بھی مصروف وقت ہوتا تھا۔ اس مسئلے کی وجہ سے کچھ عازمینِ حج سخت خفا نظر آتے تھے۔ کئی دفعہ ایک دوسرے سے تو تو میں میں بھی ہو جاتی۔ پھر خوفِ خدا غالب آ جاتا اور وہ باہم شیر و شکر ہو جاتے۔ ان حالت میں بھی اکثریت صبر کا مظاہرہ کرتی تھی۔ زیادہ تر عازمین اس وقت دوسروں سے خفا ہوتے جب ان کے سامنے لفٹ آ کر کھلتی لیکن انہیں جگہ دینے کے لیے کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلتا تھا۔ در اصل اس وقت لفٹ میں جگہ ہی نہیں ہوتی تھی۔ جب کہ کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہوتی کہ ہمیں جگہ نہیں دی جا رہی ہے۔ بعض خواتین و حضرات زبردستی گھسنے کی کوشش کرتے۔ اگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوتے تو دوسروں پر خفا ہوتے اور پیر پٹختے ہوئے باہر نکل جاتے۔ اچھی بات یہ تھی کہ یہ خفگی چند لمحوں کی ہوتی تھی۔ مسجد نبویﷺ کا نظارہ دیکھتے ہی وہ تمام رنجشیں فراموش کر دیتے تھے۔

انسان کو نازک جذبات کا حامل بنایا گیا ہے اور اس کے اندر بہت سی کمزوریاں بھی رکھی گئی ہیں۔ غلطیوں اور کمزوریوں سے پاک صرف اللہ کی ذات ہے۔ انسان اپنی تمام کمزوریوں سمیت آزمائش کے لیے زمین پر اتارا گیا ہے۔ ان کمزوریوں پر قابو پانے اور صراط مستقیم پر چلنے کی مسلسل کوشش ہی آدمی کو انسان بناتی ہے۔ قدم قدم پر آزمائش درپیش آتی ہے۔ کچھ لوگ ان آزمائشوں کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور نفس کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ کچھ خندہ پیشانی سے ان کا مقابلہ کرتے ہیں اور ان سے سرخرو ہو کر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ اس آزمائش سے نکلنے کے لیے منفی اور غلط راستہ اپنا لیتے ہیں۔ درست طریقہ یہ ہے کہ صحیح اور درست راستہ اپناؤ اور اس پر ڈٹ جاؤ۔ ہر آزمائش کو اللہ کی طرف سے امتحان سمجھو۔ اگر اس میں کامیابی ہو تو اللہ کا شکر ادا کرو۔ اگر ناکامی ہو تو بھی صبر اور ہمت کا دامن نہ چھوڑو۔

حدیث رسولﷺ ہے کہ پہلوان وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے۔ بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔

اس طرح خوشی، غم، مصیبت، بیماری، مشکلات، کامیابی اور امیری پر انسان کو آپے سے باہر نہیں ہونا چاہیے۔ اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر معتدل رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہی کامیابی اور فلاح کا راستہ ہے۔

ہمارے ہوٹل کے ویٹر زیادہ تر بنگالی تھے جو اُردو سمجھتے اور بولتے تھے۔ ہوٹل کے یہ ویٹر اور اس طرح کے سیکڑوں ہزاروں دوسرے ملازمین جو حرم شریف، میدان عرفات اور دوسری جگہوں پر زائرین اور حجاج کی خدمت کرتے ہیں وہ بخشش TIP پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ حرمین شریفین میں صفائی ستھرائی پر مامور خدام کی اس بخشش کی وجہ سے بہت اچھی آمدنی ہوتی ہے۔ کیونکہ حرم شریف اور مسجد نبوی میں تمام نمازی دل کھول کر صدقہ دیتے ہیں۔ کئی نمازی ہر نماز کے بعد یہ صدقہ دیتے ہیں۔ کیونکہ حرمین شریفین میں دوسری عبادات کی طرح صدقے کا اجر بھی بہت زیادہ ہے۔ زائرین اور حجاج یہ صدقہ اس لیے بھی دیتے ہیں کہ ان کی نمازوں اور دیگر عبادات میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہو تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس صدقے کے ذریعے یہ کمی پوری ہو جائے۔

ان خدام کی تنخواہ کتنی ہے اس کا تو علم نہیں ہے۔ لیکن بقول ان خدام کے یہ تنخواہ بہت زیادہ نہیں ہے۔ اس لیے بھی لوگ دل کھول کر انہیں صدقہ اور خیرات دیتے رہتے ہیں۔ اس اضافی آمدنی کی وجہ سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے گرد و نواح میں واقع بڑے ہوٹلوں میں ملازمت حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن ایک دفعہ جسے یہ ملازمت مل جائے تو پھر سمجھو اس کے وارے نیارے ہو گئے۔ اس تنخواہ کے ساتھ بخشش اور تحائف بھی زائرین ان ملازمین کی نذر کر کے جاتے ہیں۔ یہ صدقہ اور خیرات بہت اچھی بات ہے۔

تاہم کچھ ملازمین اس بخشش اور تحفوں کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ کو اپنے کمرے کی روزانہ صفائی درکار ہے، روزانہ نئے تولیے، صابن، شمیپو، چائے، دودھ، چینی، بستر کی چادریں اور تکیہ کے غلاف درکار ہیں تو پھر ہوٹل کے بیروں کو بخشش سے نوازتے رہیں۔ یہ کام بغیر کسی رکاوٹ کے ہوتے رہیں گے۔ دوسری صورت میں دس دفعہ بلانے پر بھی نہیں آئیں گے۔ ملازمین کو ٹپ اور تحفوں کی عادت پڑ جائے تو اس کے بغیر کام نہیں کر تے یا پھر نیم دلی اور بے زاری سے کرتے ہیں۔ جوں ہی انہیں ٹپ (بخشش) ملتی ہے ان کے جسم میں کرنٹ دوڑ جاتا ہے اور چہرے پر رونق آ جاتی ہے۔ وہ انتہائی خوش اخلاق اور خدمت گزار نظر آ نے لگتے ہیں۔

اِسے کہتے ہیں پیسہ پھینک تماشا دیکھ۔ پیسے اور تماشے کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور بہت پرانا ہے۔ ویسے تو یہ دنیا ہی ایک تماشا ہے۔ یہ تماشا پیسے کی وجہ سے ہے یا پھر پیسے سے کھیلا جاتا ہے۔ کہیں پیسے کے پیچھے بھاگنے والوں کا تماشا ہے۔ کہیں پیسہ سمیٹنے کا تماشا ہے۔ کہیں پیسہ چھپانے کا تماشا ہے۔ کہیں پیسہ بنانے کا تماشا ہے۔ کہیں پیسہ چھیننے کا تماشا ہے۔ کہیں پیسہ چھن جانے کا تماشا ہے۔ کہیں پیسے کے لیے تماشا بننے کا تماشا ہے۔ کہیں پیسے سے تماشا رچانے کا تماشا ہے۔ کہیں تماشائی بن کر پیسہ لٹانے کا تماشا ہے۔ کہیں تماشا بن کر پیسہ لوٹنے کا تماشا ہے۔ کہیں پیسوں کے لیے جان لینے کا تماشا ہے۔ کہیں پیسوں کے لئے جان گنوانے کا تماشا ہے۔ کہیں پیسوں کی کمی کا تماشا ہے۔ کہیں پیسوں کی زیادتی کا تماشا ہے۔ کیسے کیسے تماشے دکھاتا ہے یہ پیسہ۔ ہائے پیسہ وائے پیسہ

 

حجازِ مقدس کے ہوٹل

 

حجازِ مقدس میں پنج ستارہ، چار ستارہ اور دوسرے بڑے ہوٹل دنیا کے دوسرے ملکوں کے ہوٹلوں سے مختلف ہیں۔ دُنیا بھر میں ان بڑے ہوٹلوں میں مہمانوں کے آرام کے ساتھ ساتھ ان کے ناز نخروں اور ان کے عیش و آرام کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ یورپی ممالک اور دوسرے بین الاقوامی ہوٹلوں میں چاکلیٹ،، بسکٹ، چپس اور سافٹ ڈرنک کے علاوہ شرابیں بھی رکھی ہوتی ہیں۔ ان اشیاء کے استعمال پر ان کا بھی بل ادا کرنا پڑتا ہے۔ وہ الگ بات کہ بہت سے لوگ ان چیزوں کو چھوئے بغیر وہاں کئی کئی دن رہ لیتے ہیں۔ یورپی ممالک میں رہنے والے مسلمان ان سے بچنے کے طریقے جانتے ہیں۔ ہمارے لوگوں کو اکثر ایسی پارٹیوں میں شرکت کرنا پڑتی ہے جہاں شراب پانی کی طرح پی جاتی ہے۔ لیکن آفرین ہے ان لوگوں پر جو محفل کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ لیکن اپنا دامن آلودہ کیے بغیر گھر بھی لوٹ کر آتے ہیں۔

بات سجدوں کی نہیں خلوصِ دِل کی ہوتی ہے اقبالؔ

ہر میخانے میں شرابی، ہر مسجد میں نمازی نہیں ہوتا

ایسے ہوٹلوں میں کئی دن ٹھہرنے کے بعد جب مسلمان چیک آؤٹ کرا رہے ہوتے ہیں تو ان کے کمرے میں سجی سجائی بار اسی حالت میں دیکھ کر عملہ بھی حیران رہ جاتا ہے۔ وہ بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ یہ لوگ کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ کہ جام بھی ہے مینا بھی ہے اور تنہائی بھی ہے۔ لیکن جو ہاتھ اللہ کی بارگاہ میں اُٹھ جائیں ان ہاتھوں میں جام و ساغر کیسے آ سکتا ہے۔ اسی طرح مشرقی ایشیا سے لے کر یورپ، امریکہ اور دوسرے ممالک کے ہوٹلوں میں مساج کرنے والی خواتین کے نمبر لکھے ہوتے ہیں۔ بلکہ مہمانوں کو فون کر کے اس طرح کی سروس کی آفر کی جاتی ہے۔ دنیا بھر کے ہوٹلوں میں بار، کسینیو، مساج روم اور عیاشی کے دوسرے سامان موجود ہوتے ہیں۔

لیکن حرمین شریفین کے تمام ہوٹل ان ہوٹلوں سے الگ، منفرد اور ممتاز ہیں۔ ان ہوٹلوں میں ڈبل بیڈ نہیں بلکہ سنگل بیڈ ہوتے ہیں۔ غسل خانے میں وضو کرنے کی جگہ بنی ہوتی ہے۔ طہارت کے لیے مسلم پائپ نصب ہوتا ہے۔ شرابوں کے بجائے چائے بنانے کا سامان ہوتا ہے۔ قیمتی اشیاء کو محفوظ کرنے کے لیے سیف بنا ہوتا ہے۔ مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کے لیے دستیاب سروس کے فون نمبر درج ہوتے ہیں۔ سائیڈ ٹیبل پر قرآن مجید رکھا ہوتا ہے۔ کمرے کے کونے میں جائے نماز بچھی ہوتی ہے۔ ٹی وی پر خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کی لائیو ریکارڈنگ یا تلاوتِ قرآن چلتی رہتی ہے۔ نماز کے اوقات درج ہوتے ہیں۔ ہر ہوٹل میں با جماعت نماز ادا کرنے کا اہتمام ہوتا ہے۔ جہاں پانچ وقت با جماعت نماز ادا کی جاتی ہے۔

ان مقدس شہروں میں غیر ذبیحہ اور حرام کھانے کا گزر ہی نہیں ہے۔ آپ کسی بھی دُکان یا ریستوران سے کچھ بھی خرید کر بے فکر ہو کر کھا پی سکتے ہیں۔ یہاں سو فیصد مسلمان ہوتے ہیں لہٰذا آپ بغیر جھجک کے کسی سے بھی سلام دعا کر سکتے ہیں۔ خواتین برقعے میں ملبوس ہوتی ہیں اور ان کا بے پناہ احترام کیا جاتا ہے۔ وہ بے خوف خطر جہاں چاہے آ جا سکتی ہیں۔ یہاں ایک مکمل برادرانہ اور باہمی محبت و احترام والا ماحول ملتا ہے۔ یہ سب کچھ میرے لیے انوکھا، خوشگوار اور اطمینان بخش تھا۔

 

حرمین شریفین میں وقت کا صحیح استعمال

 

ہمارا ناشتہ اور رات کا کھانا ہمارے پیکج کا حصہ تھا۔ لیکن ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ یہ کھانا کیسا اور کس معیار کا ہو گا۔ ہم نے محض سہولت کی خاطر یہ اضافی رقم ادا کر دی تھی۔ در اصل حرمین شریفین میں قیام کے دوران عبادات اور زیارتوں کے بعد کسی اور کام کے لیے وقت ہی نہیں ملتا ہے۔ چھ نمازوں کی ادائیگی اور مسجد میں آنے جانے کے اوقات کے بعد سونا تک نصیب نہیں ہوتا ہے۔ بے حد تھکن ہو جاتی ہے۔ اکثر زائرین اس سخت شیڈول کی وجہ سے بیمار پڑ جاتے ہیں۔ دوران حج غیر ضروری سرگرمیوں کے لئے نہ وقت بچتا ہے اور نہ ایسی سرگرمیاں اختیار کرنی چاہیے ہیں۔ ان اضافی سرگرمیوں میں شاپنگ، دوستوں کے ساتھ گپ شپ، مقاماتِ مقدسہ کی زیارت اور کھانے پینے کے بندوبست میں بہت زیادہ بھاگ دوڑ شامل ہیں۔ یہاں میں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ مقاماتِ مقدسہ کی زیارت غیر ضروری کیسے ہو سکتی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ ان مقامات کی زیارت باعثِ اجر و ثواب اور وجہ راحتِ قلب ہوتی ہے۔ یہ کسی بھی لحاظ سے غلط یا غیر شرعی نہیں ہے۔ بلکہ مقامات مقدسہ کی زیارت ہر صاحبِ ایمان اور عاشق رسولﷺ کے دل کی چاہ ہوتی ہے۔ لیکن عازمین کو یہ ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ان کے لیے حج اور اس کے تمام ارکان کی ادائیگی سب سے زیادہ ضروری اور اہم ہے۔ دوسرسے نمبر پر خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں نمازیں اور دیگر عبادات ہیں۔ ان کا اتنا زیادہ اجر و ثواب ہے کہ وہاں رہ کر یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ کوئی نماز قضا یا ان دو مساجد سے باہر نہ ادا ہونے پائے۔ تیسرے نمبر پر عمرہ اور طوافِ خانہ کعبہ ہے۔ اگر مکہ میں قیام ہو تو زیادہ سے زیادہ مرتبہ طواف کرنے کی سعادت حاصل کرنی چاہیے۔ اس کا بھی بے حد اجر و ثواب ہے۔

چوتھے نمبر پر خانہ کعبہ میں موجود رہنا اور اللہ سے دعائیں مانگتے رہنا بہترین عمل ہے۔ دعا مانگنے کے لیے اس سے بہتر جگہ اور کوئی نہیں ہے۔ اتنا اجر اور اتنا ثواب اور کہاں ملے گا۔

سب سے بڑی اور اہم بات یہ ہے کہ جب نظروں کے سامنے خانہ کعبہ ہو اور گنبدِ خضراء ہو تو پھر نگاہ کسی اور طرف اُٹھ بھی کیسے سکتی ہے۔

مکہ مکرمہ کے ارد گرد تاریخی اور مقدس مقامات کا شمار نہیں ہے۔ لیکن ان میں اللہ کے گھر سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے۔ وہی مطمحِ نظر، وہی قبلہ، وہی کعبہ، وہی مسجد، وہی منبر، وہی ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک، وہی ہمارے دل کا قرار، وہی مقامِ قیام و سجود، وہی جائے گفت و شنید، وہی مقام ابراہیم، وہی جنت سے لایا حجر اسود، وہی فرشتوں کی آمد کی جگہ، وہی مظہرِ نورِ کبریا جلوہ نما ہوتا ہے۔ اُسے دیکھتے رہیں اور اس کے نور کو سمیٹتے رہیں۔

اسی طرح مدینہ منورہ میں بھی مسجد نبوی کے علاوہ مقدس اور تاریخی مقامات کی کمی نہیں ہے۔ ہر مسلمان کے دل میں یہ خواہش کلبلا رہی ہوتی ہے کہ ان تمام جگہوں کی زیارت کی سعادت حاصل ہو۔ لیکن ایسا نہ ہو کہ اس زیارت کی وجہ سے مسجد نبوی کی نماز سے محروم نہ رہ جائیں۔ اللہ کے محبوب نبیﷺ کی اس محبوب جگہ سے دور جا کر اس کے قرب سے دور نہ ہو جائیں۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے حضور حاضر رہنا ہے اور ایک ایک لمحہ عبادت میں صرف کرنا ہے۔ اپنے دماغ کو ادھر ادھر بھٹکنے نہیں دینا ہے۔ اپنی توجہ ایک ہی جانب مرکوز رکھنی ہے۔ صرف اس کی طرف جو سب کچھ دے سکتا ہے۔ سبز گنبد اور اس کے والی سے دُور جائیں بھی جائیں کہاں کہ وہی تو ملجا ہے وہی تو ماوا ہے۔ کملی والےﷺ کے آستانے سے بڑھ کر کون سی جگہ زیارت کے قابل ہو سکتی ہے۔

ہم نے وقت کی قلت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہوٹل کے کھانے کو ترجیح دی تھی۔ قدرے مہنگا ہونے کے باوجود اس سے بہت فائدہ ہوا۔ ایک تو کھانوں میں بہت ورائٹی تھی۔ درجنوں ڈشیں موجود ہوتی تھیں۔ ان میں عربی، افریقی، ہندوستانی اور یورپی سبھی قسم کے کھانے موجود ہوتے تھے۔ کھانے کے ساتھ ہر قسم کے مشروبات، جوس، سلاد، دہی، چٹنی، اچار، چائے اور کافی سبھی کچھ ہوتا تھا۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ کھانا حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار ہوتا تھا۔ اور صاف ستھرے ماحول میں پیش (Serve) کیا جاتا تھا۔ وقت پر کھانا تیار ملتا تھا اور کہیں دُور جانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی تھی۔

اتنے زیادہ کھانوں کی کسی کو ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ نہ اتنے کھانے کوئی کھا سکتا تھا۔ تھکے ہارے اور عمر رسیدہ عازمین کتنا کچھ کھا لیتے ہوں گے۔ کئی دفعہ تو ہم سرے سے کھانا کھانے جاتے ہی نہیں تھے۔ آبِ زمزم اور چائے سے ہی گزارا ہو جاتا تھا۔ یا پھر ایک آدھ سیب یا کیلا ہی کافی ہوتا تھا۔ یہ سہولت بہرحال موجود تھی۔ صبح آٹھ نو بجے ناشتہ کرنے کے بعد عشاء کی نماز کے بعد ڈنر ہوتا تھا۔ دوپہر میں اول تو بھوک نہیں لگتی تھی۔ اگر محسوس ہو تو کمرے میں موجود ہلکی پھلکی چیزوں کو کھا کر گزارا ہو جاتا تھا۔

بہت سے عازمین باہر سے کھانا خرید کر کھاتے تھے۔ اُن تندور ہوٹلوں میں بیٹھنے کی جگہ نہیں ہوتی ہے۔ لوگ قطار میں کھڑے ہو کر سالن اور روٹیاں خریدتے ہیں۔ کبھی باہر فٹ پاتھ پر، کبھی ہوٹل کے کمرے میں اور کبھی صحنِ حرم میں بیٹھ کر کھا رہے ہوتے ہیں۔ حرمین شریفین کے گرد و نواح میں ہر جگہ ہجوم ہوتا ہے۔ ہر دُکان اور ریستوران لوگوں سے بھرا ہوتا ہے۔ سکون سے بیٹھنے کی جگہ آسانی سے نہیں ملتی۔ اسی طرح کھانے خریدنے کے لیے رش اور دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سب سے بڑھ کر کھانے کے معیار اور صفائی ستھرائی کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔ کھانے کے معیار کی بات نہ بھی کی جائے تو تینوں اوقات میں ہوٹل سے نکل کر ان ریستورانوں کے آگے قطار میں کھڑے ہو کر کھانا خریدنے میں کتنا وقت صرف ہوتا ہو گا۔ جبکہ وقت ہی وہاں سب سے قیمتی اور سب سے نایاب سرمایہ ہوتا ہے۔ یہ وقت اللہ اور اس کے حبیب کے حضورﷺ حاضری، عبادت اور نمازوں میں صرف کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم جہاں کوئی اور چارہ نہ ہو وہاں کھانے کے بغیر بھی گزارہ نہیں ہے۔ زندگی کے ہر معاملے میں میانہ روی اور اعتدال کی ضرورت ہے۔ دوران حج بہت سے عازمینِ حج اس وجہ سے بیمار پڑ جاتے ہیں کہ وہ عبادات میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ اپنی نیند اور خوراک کا خیال نہیں رکھ پاتے۔ آہستہ آہستہ تھکاوٹ، نیند کی کمی اور بھوک ان کی قوتِ مدافعت پر اثر انداز ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے زائرین پہلے کمزوری اور تھکن کا شکار ہوتے ہیں اور پھر بیمار ہو جاتے ہیں۔ یہ بیماری بعض اوقات اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ حرمین شریفین میں نمازیں ادا کرنے، حتیٰ کہ مناسکِ حج ادا کرنے کے بھی قابل نہیں رہتے ہیں۔ عام بیماری سے تو شاید ہی کوئی بہت خوش قسمت حاجی بچ پاتا ہو۔ کوئی نہ کوئی بیماری تقریباً ہر حاجی کے حصے میں آ ہی جاتی ہے۔ وہ خواتین و حضرات خوش قسمت ہوتے ہیں جو ان بیماریوں کے حملوں سے جلد چھٹکارا پا لیتے ہیں۔ اور اس بیماری کی وجہ سے ان کے ارکانِ حج متاثر نہیں ہوتے ہیں۔

اس سے زیادہ بد قسمتی کیا ہو گی کہ انسان ساری زندگی کی منصوبہ بندی کے بعد زندگی میں صرف ایک بار حج کے لیے جائے اور وہاں پہنچ کر بیماری یا کسی اور وجہ سے حج ادا نہ کر سکے۔ عبادتوں، نمازوں اور حج کو شرفِ قبولیت حاصل ہوتا ہے یا نہیں، اس کا حال صرف اللہ کو معلوم ہے۔ لیکن کوئی بھی عبادت پوری صحت اور صفائی کے ساتھ انجام دینے کا اپنا مزا اور اطمینان ہے۔

صبح تین بجے نماز تہجد سے لے کر رات نو بجے نماز عشاء کی ادائیگی تک ہم تھک کر چور ہو چکے تھے۔ عشاء کے بعد رات نو بجے کھانے کے کمرے میں جانے کی بالکل ہمت نہیں تھی۔ جی چاہتا تھا کہ سیدھا کمرے میں جائیں اور بستر پر جا گریں۔ لیکن کھانا بھی ضروری تھا۔ لہٰذا کھانے پینے اور آنے جانے میں مزید ایک گھنٹہ صرف ہو گیا۔

بمشکل تین چار گھنٹے سو پائے ہوں گے کہ الارم بج اٹھا۔ اللہ کے نبیﷺ کے دربار میں حاضری کا وقت آ گیا تھا۔ ماتھے پر کوئی بل ڈالے بغیر، کوئی شکوہ شکایت کیے بغیر ہم اٹھ کر تیار ہوئے اور سوئے حرم روانہ ہو گئے۔ باہر سڑک پر وہی کل والا خاموش سیلاب رواں دواں تھا۔ ہر گلی، ہر سڑک اور ہر عمارت سے جیسے نمازی اُبل اُبل کر باہر آ رہے تھے اور ایک ہی رُخ بہنے والے اس سیلاب کا حصہ بنتے جا رہے تھے۔ ان کی جبینیں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے کے لیے بے تاب تھیں۔ یہ عاشقانِ رسولﷺ کا قافلہ تھا۔ اُن کی آنکھیں آقائے دو جہاںﷺ کے روضے کی مشتاق تھیں۔ رات کے اس پہر اتنا بڑا اور اتنا خاموش مجمع میں نے پہلی دفعہ دیکھا تھا۔

حرمین شریفین میں نماز تہجد کی باقاعدہ اذان دی جاتی ہے اور با جماعت نماز ہوتی ہے۔ گویا اللہ کے ان دو مقدس گھروں میں دن میں چھ مرتبہ اذان اور چھ مرتبہ با جماعت نماز ادا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً ہر فرض نماز کے بعد کسی نہ کسی جنازے کی نماز بھی شامل ہو جاتی ہے۔ ایک عام زائر نے زندگی بھر میں اتنے جنازے نہیں پڑھے ہوتے جتنے حرمین شریفین کے چند ہفتے کے قیام کے دوران پڑھ لیتا ہے۔

تہجد کے بعد وقفہ اور پھر نماز فجر ہوتی ہے۔ سورج طلوع ہو کر جب قدرے بلند ہوتا ہے تو اس کے بعد نماز اشراق ادا کی جاتی ہے۔ بہت سے نمازی یہ نماز ادا کر کے گھر لوٹتے ہیں۔ نماز فجر کے بعد مردوں کو ریاض الجنۃ میں داخلے اور دو رکعت نفل ادا کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ ریاض الجنۃ رسول پاکﷺ کے روضہ اقدس سے ملحق وہ جگہ ہے جہاں آنحضورﷺ کا منبر اور اس کے سامنے کا حصہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حضور پاکﷺ نماز ادا کرتے تھے۔ اسلام کی تعلیم وتربیت، دینی اور شرعی مسائل کی وضاحت اور نوزائیدہ اسلامی مملکت کے اہم فیصلے یہاں صادر فرمایا کرتے تھے۔ یہ جگہ اسلام کی ابتدائی درسگاہ اور مرکزی مقام تھا۔ یہیں حضورﷺ کا حجرہ مبارک بھی تھا۔ حضور پاکﷺ کے فرمان کے مطابق ریاض الجنۃ (جیسا کہ اس کے نام سے بھی ظاہر ہے) جنت کا ایک باغ ہے۔ اس مقدس ترین مقام پر دو رکعت نوافل ادا کرنے والے پر دوزخ کی آگ حرام کر دی جاتی ہے۔ اُس کے لیے بہشت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ یہ عاشقانِ رسولﷺ کے لیے قربِ رسولﷺ حاصل کرنے کی بہترین جگہ ہے۔ کیونکہ یہ نبی پاکﷺ کے روضے سے ملحق اور اُن کے منبر کے سامنے واقع ہے۔ یہ جگہ نبیﷺ کی خوشبو سے رچی ہوئی ہے۔ یہاں صرف مقدر والے ہی پہنچ پاتے ہیں۔ گناہگاروں کو یہ مقام اپنے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا۔

میں بھی ان گناہگاروں میں شامل تھا۔ جسے نبیﷺ کی خوشبو سے معمور اس باغِ بہشت کے دروازے سے ہی دھتکار دیا گیا۔ پہلے دن تو ہمیں علم ہی نہیں تھا کہ ریاض الجنۃ میں جانے کے لیے مردوں اور خواتین کے لیے کون کون سے اوقات مقرر ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ نماز فجر کے بعد مرد اور نمازِ عشاء کے بعد خواتین اندر جا سکتی ہیں۔ میں اگلی صبح کا بے چینی سے انتظار کرنے لگا۔ مسجد نبویؐ کی زیارت، اس میں نمازیں ادا کرنے کی سعادت، روضہ رسولﷺ کا دیدار اور اس سے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو فرحت اور پہچانے کے بعد میرے شوقِ جستجو کی اگلی منزل جنت کا ایک باغ یعنی ریاض الجنۃ تھی۔

قیامِ مدینہ کے دوران میں ہم اکثر نمازِ عصر کے لیے مسجد جاتے اور عشاء پڑھ کر ہی واپس آتے تھے کیونکہ بار بار کا آنا جانا تھکا دیتا تھا۔ اس معمول میں لبیک والوں نے مداخلت کر دی۔ انہوں نے سخت اور تھکا دینے والے شب و روز میں مداخلت کرتے ہوئے نمازِ عصر کے بعد ہوٹل کے تہہ خانے میں تربیتی نشستوں کا اہتمام شروع کر دیا۔ اب ہم مغرب کے لیے مسجد جاتے اور عشاء پڑھ کر واپس آتے۔ پہلے دو تین دن کے بعد اہلیہ عشاء کے بعد گھر واپس آنے کے بجائے ریاض الجنۃ میں چلی جاتیں۔ میں اکیلا کھانے کے کمرے میں جاتا۔ خود کھاتا اور اہلیہ کے لیے لا کر کمرے میں رکھ دیتا۔ وہ نوافل ادا کر کے آتیں تو کبھی ٹھنڈا کھانا کھا کر صبر  شکر کر لیتیں اور کبھی تھکن سے مغلوب ہو کر کچھ کھائے بغیر سو جاتیں۔

 

ریاض الجنۃ میں داخلے کی کوشش ناکام

 

نماز فجر کے بعد میں نے مسجد کے اگلے حصے کا رُخ کیا۔ جہاں دنیا کے عظیم ترین انسان کی آخری آرام گاہ اور برکتوں اور رحمتوں سے بھرا ریاض الجنۃ ہے۔ آنحضورﷺ کے روضے کی زیارت کے لیے واقع راہداری سے پہلے ریاض الجنۃ کا دروازہ ہے۔ اس دروازے کے باہر دور تک ایک جم غفیر جمع تھا۔ سینکڑوں لوگ دروازے کے باہر بیٹھے ہوئے تھے۔ باقی ان کے ارد گرد جم گھٹا لگا کر کھڑے تھے۔ پولیس کے سپاہی دروازے کے پاس پہرہ دے رہے تھے۔ ہر شخص کی نظر دروازے پر جمی ہوئی اور آنکھوں میں شوق اور عقیدت کی شمع روشن تھی۔ وہاں کوئی قطار کوئی راہنما اور سیدھا راستہ نہیں تھا۔ میں جس جانب سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرتا دھکیل کر پیچھے دیا جاتا۔ کوئی یہ بتانے کے لیے تیار نہیں تھا کہ اندر جانے کا درست راستہ اور صحیح طریقہ کیا ہے۔ کوئی کچھ کہنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ سب نظریں اس دروازے پر مرکوز تھیں۔

ایسے میں میری طرف کون دیکھتا۔ جس کے سامنے رنگ و نور کا سیلاب ہو، وہ میرے گناہوں کی سیاہی سے اٹے چہرے کی طرف کیوں دیکھے گا۔ کس کی نظر روشنیوں سے ہٹ کر تاریکی پر ٹکے گی۔ کون میرے اشکوں پر توجہ دے گا۔ مجھ جیسے گناہگار سے کسے ہمدردی ہو سکتی ہے۔

لہٰذا مجھے دھکے لگتے رہے۔ ایک طرف سے دھکا لگتا تو دوسری جانب چلا جاتا۔ وہاں سے دھتکارا جاتا تو تیسری جانب گرنے لگتا۔ ان دھکوں اور دھتکار میں میں اس در کے قریب ہونے کے بجائے دور ہوتا چلا گیا۔ بالآخر بے نیل و مرام سر جھکائے ہوٹل کی طرف چل دیا۔

اس وقت جو میری حالت تھی وہ میں ہی جانتا ہوں۔ میں چاروں طرف سے مایوسی کے اندھیروں میں گھِر چکا تھا۔

روشنی کی صرف ایک کرن باقی تھی۔ وہ یہ کہ میرے شوق کی شمع بدستور روشن تھی۔ میرے اندر کی آگ، میری لگن اور میرا عشق اپنی جگہ پر قائم تھا۔ مدینے کی پر نور فضاؤں کی تجلیاں اسی طرح روح پر چھائی ہوئی تھیں۔ ان ہواؤں کی خوشبو اور ان فضاؤں کی روشنیوں میں ہر دم اپنے ارد گرد محسوس کرتا تھا۔ میرے گناہوں کی وجہ سے حضورﷺ کی محبتوں کا در میرے لیے بند تھے۔ لیکن میرا دل ان کی محبت، ان کی عظمت اور ان کے عشق کی روشنی سے اسی طرح فروزاں تھا۔ مسجد نبوی کے اندر، اس کے منوّر صحن میں بلکہ مدینہ کی اجلی فضاؤں میں نبیﷺ کی تجلیاں میری آنکھوں کو خیرہ کرتی رہتی تھیں۔ اس لیے میرے دل میں امید کی شمع ابھی بجھی نہیں تھی۔ جہاں مجھے اپنے گناہوں کا احساس تھا وہاں رحمۃ اللعالمینﷺ کی بے پناہ اور بے انداز رحمتوں کا بھی علم تھا۔ میں کتنا ہی گنہگار اور سیاہ کار تھا، اُمتی تو اُن کا تھا، جنہیں دو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ مجھے اس وقت کا انتظار تھا جب میری التجا ان کے در پر دستک دے دیتی اور میرے لیے ان کی رحمت کے دروازے کھول دئے جاتے۔

ناشتے کے بعد میں اپنے ہوٹل کے عقب میں واقع ہائی وے کے دوسری جانب نکل گیا۔ وہاں نسبتاً چھوٹے ہوٹل، ریستوران، دکانیں لانڈری، چھوٹے چھوٹے بے ترتیب مکان، تنگ گلیاں اور مقامی لوگوں سے زیادہ پاکستانی اور بنگالی نظر آئے۔ یہ تمام دُکانیں اور کاروبار بھی یہی لوگ چلاتے نظر آئے۔ وہ الگ بات ہے کہ سعودیہ کے قانون کے مطابق ان دُکانوں کا مالک کوئی مقامی شخص ہی ہو سکتا ہے۔

ہمیں ایک پاکستانی بیکری نظر آئی۔ باہر کی نسبت اندر سے کافی کشادہ اور صاف ستھری تھی۔ اس میں تازہ مٹھائیاں، ، ملک شیک، لسی، قلفی، ملتانی حلوے، چاٹ، پکوڑے، سموسے اور ایسی ہی دوسری مزے دار اور چٹپٹی اشیائے خورد و نوش سجی ہوئی تھیں۔ انہیں دیکھ کر منہ میں پانی بھر آیا۔ کیونکہ آسٹریلیا میں اب تک ایسی دکانیں ندارد ہیں۔ بس صاحب! اس کے بعد ہر روز ہمارا دوپہر کا کھانا سمجھ لیں، ریفریشمنٹ سمجھ لیں یا پھر دوسرا ناشتہ سمجھ لیں، یہیں ہوتا تھا۔ کسی دن چاٹ، کسی دن دہی بھلے، کسی دن سموسے اور چائے کبھی لسی، کبھی ملک شیک، کبھی قلفی اور کبھی فالودہ۔ ہماری ہر صبح کو شیریں بناتا رہا۔ وہاں سے کچھ مٹھائیاں اور سوہن حلوہ خرید کر ہم نے اپنے کمرے میں بھی رکھ لیا۔ اب صفائی کرنے والے بنگالی ملازم کو ٹپ کے ساتھ ساتھ یہ مٹھائیاں بھی دیتے تھے۔ وہ بھی شکریے کے ساتھ پورا ڈبہ ہی اٹھا کر چل دیتا۔

ان دُکانوں میں ایک دھوبی کی دکان بھی تھی جس کے نرخ مزاجِ یار کی طرح ہر روز بدلتے رہتے تھے۔ جیسے جیسے زائرین میں اضافہ ہوتا جاتا تھا ویسے ویسے اس کے نرخوں میں بھی اضافہ ہوتا جاتا تھا۔ لیکن کیا کیجئے حرمین شریفین میں قیام کے دوران کوئی بھی لباس دوسرے دن پہننے کے قابل نہیں رہتا تھا۔ پسینے اور گرد و غبار سے بدن اور لباس میلا چیکٹ ہو جاتا تھا۔ اس لیے دن میں کئی دفعہ نہانا پڑتا تھا۔ جہاں تک لباس کا تعلق ہے۔ وہاں صرف شلوار قمیض ہی استعمال ہوتی تھی۔ میں جو چار پانچ جوڑے لایا تھا وہ کم پڑ رہے تھے۔ کیونکہ روزانہ بلکہ بعض اوقات دن میں دو مرتبہ بھی لباس تبدیل کرنا پڑتا تھا۔

 

آبِ زم زم

 

اتنا پسینہ مجھے زندگی میں نہیں آیا ہو گا جتنا ایامِ حج میں بہایا۔ اسی طرح جتنا پانی ہم نے ان دنوں پیا اتنا شاید آسٹریلیا میں پورے سال میں بھی نہیں پیتے ہوں گے۔ مکہ مکرمہ کے علا وہ مدینہ منورہ میں بھی ہم زیادہ تر آب زمزم ہی پیتے تھے۔ جتنی دیر مسجد نبویﷺ میں گزارتے تھے بہت ٹھنڈا اور عام درجہ حرارت والا دونوں طرح کا آبِ زمزم وافر دستیاب رہتا تھا۔ مسجد کے اندر اور باہر صحن میں جگہ جگہ پر یہ آبِ رحمت و  صحت موجود ہے۔ اس کے ساتھ ڈسپوز ایبل گلاس رکھے ہوتے ہیں۔ زائرین ہر دفعہ نیا گلاس استعمال کرے پاس رکھی ہوئی بن میں پھینک دیتے ہیں۔ یہ بن تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد خالی کیے جاتے ہیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے قیام کے دوران میں حرمین شریفین میں آبِ زمزم کی کبھی کمی نہیں دیکھی۔ بہت سارے لوگ یہ پانی ضائع بھی کرتے ہیں۔ وہ اس سے ہاتھ منہ دھونے لگ جاتے ہیں۔ کئی ایک کو میں نے باقاعدہ اس سے وُضو کرتے دیکھا۔ بعض لوگ گرمی کا زور کم کرنے کے لیے اپنے اوپر زم زم اُنڈیل رہے ہوتے ہیں۔ مکہ مکرمہ سے لا کر مدینہ میں اس بڑی مقدار میں آب زمزم ہمہ وقت دستیاب رکھنا بے شک حکومت کا ایک قابلِ ستائش کارنامہ ہے۔ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں مقیم زائرین نہ صرف یہ پانی حرم شریف کے اندر پیتے ہیں بلکہ بڑی بڑی بوتلوں میں بھر کر گھر بھی لے جاتے ہیں۔

مسجد نبویﷺ کے احاطے کے ایک کونے میں بہت بڑے ٹینک موجود ہیں۔ وہاں ہر وقت لوگ پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔ یہ ٹینک اس گیٹ کے بالکل قریب تھا جو ہمارے آنے جانے کا راستہ تھا۔ ہم لوگ بھی چند چھوٹی چھوٹی بوتلیں بھر کر ساتھ لے جاتے تھے۔ یوں یہ پانی ہوٹل میں بھی کام آتا رہتا تھا۔ حرمین شریفین کے قیام کے دوران ہم صرف آبِ زمزم ہی پیتے رہے۔ آب زمزم بھی اللہ کی قدرت کا ایک خوبصورت مظہر ہے۔ ہزاروں برس پرانے اس چشمے میں پانی کی آمد کا سلسلہ ہمیشہ جاری و ساری رہتا ہے۔ دنیا بھر میں تمام کنوئیں ایک مخصوص مدت کے بعد خشک ہو جاتے ہیں۔ یا ان میں پانی کم ہو جاتا ہے۔ لیکن وادی مکہ جیسی خشک اور بے آب و گیاہ پہاڑی علاقے میں واقع اس کنوئیں پر اللہ کی ایسی رحمت ہے کہ اس کے ٹھنڈے میٹھے اور انتہائی صحت افزا پانی میں کبھی کمی نہیں ہوتی ہے۔

میرا ایک دوست محمد اعجاز جدہ میں مقیم ہے۔ وہ جب بھی مکہ مکرمہ جاتے ہیں تو بڑی بڑی پلاسٹک کی بوتلوں میں آبِ زمزم بھر کر ساتھ لے جاتے ہیں۔ وہ جدہ میں رہ کر بھی آبِ زمزم ہی استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح لاکھوں زائرین اور مقامی لوگ نہ صرف یہ پانی بے تحاشا استعمال کرتے ہیں بلکہ دنیا بھر میں لے کر جاتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ہے یہ ضائع بھی ہوتا ہے۔ لیکن اس میں کبھی کمی نہیں ہوتی۔ یہ پانی، اس کی افراط اور اس کی برکات بے شک اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہیں۔

آب زمزم جنت کے چشموں میں سے ایک ہے۔ یہ سب سے پہلا انعام ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی دعا کے بعد ان کو عطا فرمایا۔ یہ مبارک کنواں اس شہر کی آبادی کا سبب بنا۔ آبِ زمزم روئے زمین پرسب سے عمدہ، سب سے افضل اور سب سے برکت والا پانی ہے۔ یہ چشمہ زمین کے سب سے مقدس اور محترم حصے پر واقع ہے۔ اس پانی سے سرور کائناتﷺ کا قلبِ اطہر ایک سے زیادہ مرتبہ دھویا گیا۔ اس پانی کی صفت یہ ہے کہ یہ بھوکے کے لیے کھانا اور پیاسے کے لیے پانی ہے۔ یہ پانی سردرد اور بینائی کے لیے اکسیرکا کام کرتا ہے۔ اسے جس نیت سے پیا جائے وہی کام انجام دیتا ہے۔ یہ نیک لوگوں کا مشروب ہے۔ احباب و اقرباء کے لیے بہترین تحفہ ہے۔ ضیافت کے لیے عمدہ ہے۔ جسم اور دماغ کو توانائی بخشتا ہے۔ یہ چشمہ پانچ ہزار سال سے بھی پرانا ہے۔ لیکن اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ہے۔

میں اور میری فیملی جب بھی چھٹیوں میں پاکستان جاتے ہیں تو انتہائی احتیاط کے باوجود اور اچھی کمپنی کا بوتلوں میں بند پانی پینے کے بعد بھی اکثر پیٹ کی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ میری زندگی کا بڑا حصہ یہی پانی پیتے گزرا ہے۔ در اصل آسٹریلیا میں خالص پانی پینے سے ہمارے جسم میں جراثیموں کے خلاف قوت مزاحمت ختم ہو چکی ہے۔ لہٰذا جراثیم زدہ پانی کا ایک گھونٹ ہی ہمیں ہسپتال پہچانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ یہ جراثیم زدہ پانی کراچی سے لے کر پشاور تک ہر جگہ ملتا ہے۔ جسے لوگ صحت مند پانی سمجھ کر پیتے رہتے ہیں۔ لیکن سعودیہ میں ہم آب زمزم اس طرح پیتے رہے جیسے اپنا اندر صاف کر رہے ہوں یا پیٹ کا ڈرم بھر رہے ہوں۔ حالانکہ یہ کبھی بھرتا نہیں تھا۔ جتنا زیادہ پیتے تھے اتنی ہی جلدی یہ خالی ہو جاتا تھا۔ ہم نے ایک گھنٹے میں چھ چھ بوتلیں بھی پی لیں۔ خصوصاً َمنیٰ، عرفات جمرات میں جب پیدل چلتے تھے تو ہر دس منٹ بعد پانی کی ایک بوتل پی جاتے تھے۔

 

سعودی عرب میں صفائی کا انتظام

 

پانی کی یہ خالی بوتلیں مکہ، مدینہ منیٰ، عرفات، عزیزیہ اور جمرات میں ہر جگہ ایسے بکھری ہوتی ہیں جیسے ان کا فرش بچھا ہوا ہو۔ میں نے اپنی استعمال شدہ بوتلیں بیگ میں رکھنے کی کوشش کی تاکہ انہیں ڈسٹ بن میں پھینک سکوں۔ بیگ بھر جاتا تھا لیکن ڈسٹ بن نہیں ملتا تھا۔ ہمیں آسٹریلیا کی عادتیں پڑی ہوئی تھیں جہاں اس طرح کوئی کچرا زمین پر نہیں پھینکتا ہے۔

مجھے یاد ہے بہت عرصہ پہلے سڈنی کے سٹی سنٹر کے ایک فٹ پاتھ پر میں نے سگریٹ پھینکا اور پاؤں سے مسل دیا۔ میرے پیچھے آنے والے سوٹ میں ملبوس ایک شخص نے وہ ٹکڑا اٹھایا اور چند قدم کے فاصلے پر واقع ڈسٹ بن میں جا کر پھینک دیا۔ اس نے مجھ سے کچھ کہنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ لیکن اس کا کچھ نہ کہنا بھی بہت کچھ کہہ گیا تھا۔ اس کے بعد میں نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کہ سگریٹ تو درکنار اس کی راکھ بھی کبھی یوں لاپرواہی سے نہ پھینکوں۔

مسجد نبویﷺ اور خانہ کعبہ میں صفائی ستھرائی کا اعلیٰ انتظام موجود ہے۔ کچرا پھینکنے کے لیے بن جگہ جگہ موجود ہیں۔ جنہیں ہر تھوڑی دیر بعد خالی بھی کیا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ سینکڑوں خدام ہر وقت وہاں موجود رہتے ہیں۔ وہ مسجد کے اندر اور اس کے صحن میں پڑا کاغذ کا ایک ٹکڑا بھی فوراً اُٹھا لیتے ہیں۔ ان خدام کو زائرین نہایت دریا دلی سے نوازتے رہتے ہیں۔ وہ بھی ہر نماز کے بعد راستے میں کھڑے ملتے ہیں اور دورانِ طواف بار بار آپ کے سامنے آتے ہیں۔ مجھے یقین ہے ان خدام پر اللہ کا خصوصی فضل ہے۔ ایک تو انہیں انتہائی مقدس ترین جگہ پر صفائی کا موقع ملا اور دوسرا یہ کہ دنیا وی دولت کی بھی ان کو کوئی کمی نہیں ہے۔ تیسرے یہ کہ انہیں حرمین شریفین میں نماز ادا کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ جو انتہائی اجر و ثواب کا کام ہے۔ چوتھے یہ کہ انہیں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی قربت نصیب ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہے۔ لہٰذا یہ خدام ہر لحاظ سے خوش قسمت ہیں۔

اس طرح حرمین شریفین تو ہر وقت صاف ستھرے اور چمکتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن جوں ہی ان مساجد سے باہر نکلیں تو منظر بدل جاتا ہے۔ ایک تو خانہ کعبہ اور مسجد نبویﷺ کے صحن تیز دھوپ اور سخت گرمی میں بھی ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ ان فرشوں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ ان پر گرمی کا اثر نہیں ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں مسجد نبویﷺ کے صحن میں ایستادہ دیو قامت چھتریوں سے پانی کا باریک فوارہ بھی ماحول کو یخ بستہ رکھتا ہے۔ لیکن جونہی ان دو عظیم مساجد کے صحن سے باہر نکلیں تو نہ صرف زمین تپتی ہوئی ملتی ہے بلکہ آسمان بھی آگ برسا رہا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بے ترتیبی اور بد نظمی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر نماز سے پہلے اور بعد میں اس بد نظمی کا سامنا کرتے ہوئے مسجد جانا اور آنا پڑتا ہے۔ فٹ پاتھ اور سڑکیں کچرے خصوصاً  مشروبات کی خالی بوتلوں سے بھری ہوتی ہیں۔ ہر قدم پر کوئی نہ کوئی بوتل آپ کے پاؤں کے نیچے آ کر ٹوٹ رہی ہوتی ہے۔ ان بوتلوں پر سے پھسلنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ کیونکہ نمازی چپل پہنے ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان سے پاؤں پر چوٹ بھی آتی ہے اور تکلیف بھی ہوتی ہے۔ سڑکوں، فٹ پاتھوں اور دوسرے خالی مقامات پر جیسے ان خالی بوتلوں کا فرش سا بچھا ہوتا ہے۔ صفائی کرنے والی گاڑیاں آتی ہیں۔ بڑے بڑے برشوں سے ان بوتلوں کو سمیٹتی اور صاف کرتی ہیں۔ لیکن چند منٹوں بعد ہی سڑکیں وہی پرانا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔

خانہ کعبہ سے سے باب عبد العزیز کے راستے ہمارا ہوٹل الشہداء چھ سات منٹ کی مسافت پر واقع ہے۔ لیکن ہجوم، سٹرک پر کچرے کی بہتات، ریڑھیوں کی بھرمار اور حاجیوں کی سر راہ بیٹھی ہوئی ٹولیوں کی وجہ سے یہ فاصلہ کبھی بھی آدھے گھنٹے سے کم میں طے نہیں ہوتا تھا۔ خانہ کعبہ کے اطراف میں فٹ پاتھوں پر کچرا پھینکنے کے بن مجھے کہیں نظر نہیں آئے۔ گویا سٹرک اور فٹ پاتھ پر کچرا پھینکنے کی یہ پالیسی حکومتی پالیسی تھی۔ ورنہ اس کا کوئی متبادل نظام موجود ہوتا۔ مدینہ کی سٹرکوں اور منیٰ اور عرفات میں بھی یہی کچھ نظر آیا۔ منیٰ میں کیمپوں کے درمیانی سڑکیں کچرا گاہ بنی نظر آتی تھیں۔ وہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بڑے بڑے کچرا گھر تو بنے ہوئے تھے۔ لیکن سڑک یا فٹ پاتھ پر بن یا کچرا پھینکنے والے خالی بیگ موجود نہیں تھے۔ سعودی حکومت جہاں دیگر بہت سے انتظامات کرتی ہے۔ وہاں سڑکوں اور فٹ پاتھوں کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے کوئی لائحہ عمل کیوں اختیار نہیں کرتی یہ بات مجھے سمجھ نہیں آ ئی۔ اگر بن نہیں رکھے جا سکتے تو خالی بیگ ایک ڈنڈے کے ساتھ جگہ جگہ لٹکائے جا سکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص زمین پر کچرا نہ پھینکنا چاہے تو اس کے لیے کوئی متبادل بندوبست تو ہو نا چاہیے۔

 

معجزے حرم کے

 

قیام مدینہ کے دوران مسلسل چپل کے استعمال اور کارپٹ پر ننگے پاؤں چلنے کی وجہ سے پاؤں پر کئی زخم آئے۔ میرے پاؤں کے تلوے پہلے سخت اور کھردرے ہوئے اور پھر ان میں کریک پیدا ہو گئے۔ جن سے خون رسنے لگا اور درد رہنے لگا۔ میں ایک کیمسٹ شاپ میں گیا۔ اسے اپنا مسئلہ بتایا تو اس نے کہا کہ یہ زائرین کے ساتھ پیش آنے والی ایک عام سی بیماری ہے۔ اس نے ایک کریم دی جس سے یہ کریک جلد ہی مندمل ہو گئے۔

اس کے علاوہ پاؤں ٹانگوں گردن اور بازوں پر کئی جگہ سے جلد سرخ اور حساس ہو گئی۔ ان جگہوں پر خارش سی محسوس ہوتی تھی۔ معلوم ہوا یہ مسئلہ بھی وہاں عام ہے۔ ایک دوسری کریم نے یہ مسئلہ بھی حل کر دیا۔ اس کریم کے استعمال سے جلد کا وہ حصہ ٹھیک ہو جاتا۔ لیکن کچھ وقت کے بعد اس کا حملہ جسم کے کسی دوسرے حصے پر ہو جاتا تھا۔ یہ سلسلہ آخر تک جاری رہا۔ اس دوران یہ کریم کافی کام آئی۔ بعض حاجیوں کی جلد بہت زیادہ خراب نظر آئی۔ شکر ہے ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوا اور یہ مرض قابو سے باہر نہیں ہوا۔

مسلسل محنت، پیدل چلنے کھڑے رہنے اور نیند کی کمی کی وجہ سے ہمارے اعضاء شدید تھکن کا شکار ہوتے جا رہے تھے۔ اس تھکاوٹ اور گلے کی خرابی کی وجہ سے بخار کا بھی حملہ ہوا۔ یہ بخارمجھ پر ہلکا اور میری اہلیہ پر شدت سے اثرانداز ہوا۔ لیکن اس سے ہمارے شب و روز کے معمول میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ ہم پہلے کی طرح دن میں چھ مرتبہ اللہ کے حضور حاضری دیتے رہے۔ عصر کے بعد تربیتی کلاس بھی اٹینڈ کرتے رہے۔

جب اہلیہ کو بہت تیز بخار نے آ لیا تو میں معلم سے ملا۔ میں نے دریافت کیا کہ اس بیماری کی حالت میں اگر وہ نماز کمرے میں ادا کر لیں تو اس کا اجر کیا ہو گا۔ معلم نے بتایا ’’اگرچہ مسجد نبوی میں ادا کی جانے والی نمازوں کا اجر کہیں اور پڑھی جانے والی نماز سے ہزار گنا زیادہ ہے۔ لیکن یہ نمازیں حج کا حصہ ہر گز نہیں ہیں۔ اگر کسی کی طبیعت خراب ہو تو وہ کمرے میں نماز پڑھ سکتا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ جہاں تک اجر کا تعلق ہے کمرے میں ادا کی جانے والی نماز کا اجر مسجد نبوی کی نماز کے برابر نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ اجر مسجد کے اندر نماز ادا کرنے سے ہی ملتا ہے‘‘

میں نے جب یہ باتیں اہلیہ کو بتائیں تو انہوں نے کہا ’’میں یہ نمازیں مسجد میں ہی ادا کروں گی چاہے کچھ بھی ہو جائے‘‘

’’اس سے آپ کی طبیعت مزید خراب بھی ہو سکتی ہے‘‘ میں نے اندیشہ ظاہر کیا۔

’’اللہ مالک ہے۔ جس کے لیے مسجد جاؤں گی وہی مدد کرے گا‘‘

ظہر کے وقت میں انہیں تھام کر آہستہ آہستہ مسجد نبویﷺ لے گیا۔ اس وقت تک انہیں خاصا تیز بخار تھا۔ نماز کے بعد ہم مخصوص جگہ پر ملے تو انہوں نے بتایا ’’میری طبیعت اب کافی بہتر ہے۔ میں عشاء تک یہیں رہوں گی۔ آپ چاہئیں تو واپس ہوٹل چلے جائیں‘‘

میں نے ان کی کلائی تھامی تو بخار اُتر چکا تھا۔ یہ حیران کن بات تھی۔ مسجد نبویﷺ میں نماز ادا کرنے کے بعد ان کا بخار بالکل ٹھیک ہو گیا تھا۔ یہاں اللہ کے پیارے نبیﷺ کی آخری آرام گاہ تھی۔ یہ اللہ کے پسندیدہ ترین گھروں میں سے ایک ہے۔ یہاں ریاض الجنۃ ہے۔ یہاں منبر رسولﷺ ہے۔ یہاں ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کی آرام گاہیں ہیں۔ یہاں فرشتے اُترتے رہتے ہیں۔ یہاں ہر سورحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ ان فضاؤں اور ہواؤں میں بیماری کا یوں پل بھر میں چلے جانا باعثِ حیرت بھی نہیں تھا۔

حج کے بعد اور آج تک میں یہی سوچتا ہوں کہ اللہ کتنا رحیم اور کتنا کریم ہے۔ اس نے ہمیں آسٹریلیا جیسے ملک سے لے جا کر انتہائی گرم مقام، اتنے بڑے ہجوم، گرد و غبار اور بے شمار بیماریوں اور جراثیموں کے باوجود محفوظ و مامون رکھا۔ یہ اس کی مہربانیوں کی انتہا ہے۔ حرمین شریفین میں بہت سے نمازی کھانسی، فلو، بخار، گلے کی تکلیف، جلد کی بیماریوں اور دوسرے کئی عوارض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ دورانِ نماز جب وہ سانس لیتے ہیں یا کھانستے ہیں تو ان کی بیماری کے جراثیم دوسرے لوگوں تک بھی پہنچتے ہیں۔ حج کے دوران ان جراثیموں سے بچنا نا ممکن ہے۔ لیکن اگر اللہ اپنی رحمت سے آپ کے اندر اتنی طاقت اور ہمت پیدا کر دے کہ آپ ان بیماریوں سے بچے رہیں۔ یا ان بیماریوں کو برداشت کر لیں اور آپ کا حج متاثر نہ ہو تو میں سمجھتا ہوں یہ اس کا خصوصی کرم ہے۔

ہم بھی ان خوش قسمت لوگوں میں شامل تھے جن پر اللہ تعالیٰ نے یہ کرم کیا۔ حج کی سعادت بمع اس کے تمام ارکان بخوبی ادا کرنے کے قابل بنایا۔ ورنہ میں نے خود بہت سے حاجیوں کو اتنا بیمار دیکھا کہ وہ نماز اور حج کے کئی ارکان ادا کرنے سے قاصر ہو گئے۔ بعض کو ہسپتال داخل کرانا پڑا اور کتنے ہی لوگ دوران حج اللہ کو پیارے ہو گئے۔

مجھے سب سے زیادہ فکر یہ تھی کہ ہمارے گھٹنے آرتھرائٹس کا شکار تھے۔ وہ بہت زیادہ مشقت برداشت کرنے کے قابل نہیں تھے۔ دوسری فکر اپنے معدے کی تھی جو آسٹریلیا سے باہر نکلتے ہی آپے سے باہر ہو جاتا تھا۔ لیکن حجاز مقدس میں نہ تو میرا معدہ بگڑا اور نہ ہی گھٹنے کی تکلیف ناقابلِ برداشت ہوئی۔ بلکہ اس مشق سے ہمارے گھٹنے پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئے۔ یہ سب حج کی برکت اور اللہ کی رحمت کی وجہ سے ہوا ہے۔

 

آخر اِذن مل گیا

 

آج مسجد نبویﷺ میں میری چوتھی نماز فجر تھی۔ پہلے دن تو ہم نے ریاض الجنۃ میں داخلے ہونے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اگلے دو دن میں مسلسل وہاں جاتا رہا۔ نماز کے بعد کافی دیر اس لیے انتظار کرنا پڑتا ہے کہ سورج طلوع ہونے کے بعد ایک خاص وقت تک کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی۔ یہ وقت نماز کے لیے مکروہ ہوتا ہے۔ اس لیے ریاض الجنۃ کے اندر موجود لوگ وہیں بیٹھے رہتے ہیں اور باہر والے ان کے نکلنے کے انتظار میں باہر بیٹھے رہتے ہیں۔ جب اندر موجود لوگ دوسرے دروازے سے باہر نکلتے ہیں تو شرطے باہر کے لوگوں کو آہستہ آہستہ اندر بھیجتے ہیں۔ میں نے دونوں دن اندر داخل ہونے کی بہت کوشش کی۔ ایک گروپ نکلتا اور دوسرا داخل ہوتا رہا لیکن میں بہشتی دروازے کے قریب بھی نہ پھٹک سکا۔ بلکہ ہر دفعہ دھکے کھا کر مزید دُور ہو گیا۔ حتیٰ کہ اندر جانے کی ہمت ہی جواب دے گئی۔

میں دھکے دینے اور دھکے کھانے کا کبھی بھی عادی نہیں رہا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ جتنا وقت بھی درکار ہو میں قطار میں کھڑا رہوں گا۔ جب میری باری آئے تو مجھے اندر جانے کی اجازت دی جائے۔ لیکن وہاں کوئی قطار تھی ہی نہیں۔ کوئی ترتیب نہیں تھی۔ لوگ دروازے کے باہر گھیرا ڈال کر کھڑے ہو جاتے۔ یہ گھیرا بڑا ہوتا جاتا۔ دور تک پھیلتا چلا جاتا۔ جب دروازہ کھلتا اور شرطے اندر آنے کے لیے اشارہ کرتے تو چاروں طرف سے ایک سیلاب سا اُمڈ کر دروازے کی جانب بڑھتا۔ شرطے اس سیلاب کو روکتے اور ایک ایک کر کے اندر چھوڑتے۔ وہ بھی چاہتے تھے کہ لوگ ترتیب سے آئیں۔ لیکن دروازے کے پاس اتنا ہجوم اور اتنی دھکم پیل ہوتی کہ الامان۔ لوگ اندر کی جانب زور لگا تے اور شرطے انہیں باہر دھکیلتے ہیں۔ اِسی دھکم پیل میں آہستہ آہستہ لوگ اندر جاتے رہتے ہیں۔ میں ہر روز ان لوگوں میں شامل ہوتا۔ طویل انتظار کے بعد دروازہ کھلتا تو آگے بڑھنا شروع کرتا۔ کبھی دروازے کے پاس پہنچ کر اور کبھی اس سے پہلے ہی دھکیل کر مجھے دور کر دیا جاتا۔ میں کوشش جاری رکھتا لیکن اس دروازے کے اندر کبھی داخل نہ ہو پاتا۔ حتیٰ کہ اندر گنجائش ختم ہو جاتی اور دروازہ بند کر دیا جاتا۔ یہ دروازہ اس وقت تک بند رہتا جب تک اندر موجود لوگ نوافل ادا نہیں کر لیتے۔ اسی طرح وقفہ وقفہ سے دروازہ بند ہوتا اور کھلتا رہتا۔ حتیٰ کہ مردوں کے لیے مخصوص وقت کا خاتمہ ہو جاتا۔ جو لوگ اندر داخل ہونے سے رہ جاتے وہ مایوس لوٹ جاتے۔ میرے ساتھ بھی پچھلے دو دن یہی ہوا تھا۔ دونوں دن گھنٹوں انتظار کرنے اور دھکے کھانے کے باوجود اندر جانے کی اِذن نہیں ملا تھا۔ مجھے دھکے کھانے پر بھی اعتراض نہیں تھا اگر ان کے بعد اندر جانے کی کوئی سبیل نظر آتی۔ افسوس تو یہ ہے کہ دھکے مجھے اس دروازے سے دور رکھنے کے لیے دیے گئے۔ دروازے کے اندر جانے کے لیے کسی نے دھکا نہیں دیا۔

آج چوتھی صبح تھی۔ میں اسی شوق اور اُمید کے ساتھ ریاض الجنۃ کے باہر بیٹھے ہوئے لوگوں میں شامل ہو گیا۔ کافی دیر انتظار کے بعد دروازہ کھلا جس پر سب کی نظریں جمی ہوئی تھیں۔ دروازہ کھلتے ہی بھگدڑ سی مچ گئی۔ لوگ اندھا دھند دروازے کی طرف بڑھے۔ میں بھی ان میں شامل تھا۔ لیکن آج پھر وہی ہوا جو پچھلے دو دن سے ہو رہا تھا۔ لوگ اندر داخل ہو گئے اور میں دُور کھڑا رہ گیا۔ میرا فاصلہ دروازے سے گھٹنے کے بجائے بڑھ گیا تھا۔ جب میرے پاؤں زمین پر لگے تو ایسا لگا کہ مجھے پٹخ کر دور پہنچا دیا گیا ہے۔ میں جان گیا کہ اِذن نہیں ہے۔ میں اس در کے اندر جا ہی نہیں سکتا۔ اس قابل تھا ہی نہیں کہ اندر جا سکوں۔

میرا شوق اور اور میرا عشق نا اُمیدی کے بھنور میں ڈوبنے لگے۔ اس شوق کو شرفِ قبولیت نہیں ملا تھا۔ مجھے دھتکار دیا گیا تھا۔ میری اُمید یں مایوسی میں بدل گئیں۔ ہر سو تاریکی سی دکھائی دینے لگی۔ یہ سفر ہی مجھے ناکام لگنے لگا۔ مجھے اللہ کے گھر جانے کی جتنی خوشی تھی، اللہ کے نبیﷺ کے آستانے پر حاضری کا اتنا ہی شوق تھا۔ اظہارِ محبت کے علاوہ اللہ کے کرم تک رسائی کے لیے اس کے حبیبﷺ کا وسیلہ بھی درکار تھا۔ رحمت الّلعالمینﷺ کی رحمتوں میں سے اپنا حصہ درکار تھا۔

لیکن میرے ہاتھ تو کچھ بھی نہیں آیا تھا۔ یہ کوئی عام سی محرومی نہیں تھی۔ یہ آقائے دو جہاںﷺ کے حضور شرف باریابی سے محرومی تھی۔ اس باریابی سے روک دیے جانے کی مایوسی تھی۔ احساسِ گناہ اور پچھتاوا تھا۔ یہ پچھتاوا اور یہ احساسِ گناہ جیسے میرے اندر چیخ رہے تھے۔ میرا دل بلکہ بال بال رو رہا تھا میری آنکھوں نے اتنی برکھا برسائی کہ میرا دامن بھیگنے لگا۔ میرا چہرہ آنسو سے تر تھا۔ آنکھیں دھندلانے لگیں۔ مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جسم و جاں بھی جواب دینے لگے۔ قریب تھا کہ میں وہیں ڈھیر ہو جاتا کہ وہ ہو گیا جس کی کوئی امید نہیں تھی۔ یہ کیوں اور کیسے ہوا، اس کا مجھے آج تک علم نہیں ہے۔

وہ در جس کے سامنے میں پچھلے تین دن سے کھڑا تھا، اچانک کھلا۔ اگلے ہی لمحے مجھے جیسے اٹھا کر ریاض الجنۃ کے وسط میں پہنچا دیا گیا ہو۔ مجھے احساس بھی نہیں ہوا اور میں وہاں پہنچ گیا جہاں پہنچنا چند لمحے پہلے تک نا ممکن لگ رہا تھا۔ یہ مقام چند لمحے پہلے مجھ سے جیسے ہزاروں کوس دور تھا۔ لیکن اب میں وہاں پہنچ چکا تھا۔ میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔ روضہ رسولﷺ مجھے سے چند فٹ کے فاصلے پر تھا۔ منبر رسولﷺ میرے بالکل سامنے تھا۔ مجھے یہ منظر جنت کا ہی منظر لگا۔ میں جنت کے باغ میں پہنچ گیا تھا۔

واہ میرے مولا! تو جتنا بے نیاز ہے۔ اتنا ہی اپنے بندوں کی فریاد سنتا ہے۔ اپنے بندوں کی پکار ہر وقت سنتا ہے۔ ان کے دل کے درد کو بھی سمجھتا ہے۔ یہ تو ہم ہی ہیں جو بھول جاتے ہیں کہ تو رحیم ہے، کریم ہے، غفار ہے، رحمان ہے۔ تو نے میری پکار سنی۔ میرے آنسوؤں کی لاج رکھ لی۔ اے اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ میرے لہو کا ایک ایک قطرہ اور میرے جسم کا ایک ایک بال تیرا شکر ادا کرتا ہے۔

مجھے اپنی مایوسی پر شرم محسوس ہونے لگی۔ اللہ اور اس کے پیارے نبیﷺ کی رحمت سے مجھے مایوس نہیں ہونا چاہیے تھا۔ آخر ہم آزمائش کے لیے تو دنیا میں اتارے گئے ہیں۔ ہم اس امتحان میں بھی پورے نہیں اترتے۔ اس کی نافرمانی کرتے ہیں۔ ہم گناہوں سے آلودہ ہیں۔ اس کے باوجود بھی وہ اپنی رحمتوں سے ہمیں نوازتا رہتا ہے۔ یہ اس کی مہربانی ہے۔ اس کی بڑائی ہے۔ اس کا عفو و درگزر ہے۔ جس کی وجہ سے ہم اپنے سیاہ اعمال کے باوجود اس کی رحمتوں سے مالا مال ہیں۔ پھر بھی ہم مایوسی اور نا امیدی کا اظہار کریں تو ہم جیسا ناشکرا کون ہو گا۔

ہم اس کے کرم اور مہربانیوں کو بھول جاتے ہیں۔ اسی لئے مایوسی کی بات کرتے ہیں۔ ہم زندگی کا ایک ایک لمحہ اس کا شکر ادا کرنے میں صرف کریں تو بھی کافی نہیں ہے۔ اس کی نعمتیں ان گنت ہیں۔ اس کے احسان بے شمار ہیں۔ اس کے جود و کرم کی کوئی حد نہیں۔ تم اس کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے (القرآن)

اے اللہ میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔ اے اللہ تو ہی ہے جو ہمیں اپنا شکر گزار اور تابعدار بنا سکتا ہے۔ ہمارے جسموں، ہماری جانوں، ہماری زبانوں، ہمارے ذہنوں اور ہمارے دلوں کو اپنا مطیع اور فرمانبردار بنا سکتا ہے۔ اگر ایسا کر دے تو یہ تیرا احسان ہو گا۔ تیرا کرم ہو گا۔ یا اللہ ہمیں اس قابل بنا کہ ہماری زبانیں ہر وقت تیری حمد و ثناء کریں۔ تیرا شکر ادا کریں۔ حتّی کہ جب جان نکل رہی ہو تو زبان پر تیرا ہی کلمہ رواں ہو۔ (آمین)

ریاض الجنۃ منبرِ رسولﷺ اور حضرت عائشہؓ کے حجرے کے درمیان والی جگہ ہے۔ روضہ رسولﷺ کا ایک رُخ ریاض الجنۃ کی طرف ہے۔ حضورﷺ کا روضہ وہاں سے اتنا قریب ہے کہ میرا دل چاہتا تھا کہ اسے چھو لوں۔ اسے اپنی آنکھوں میں سمو لوں۔ اپنے دل میں سمیٹ لوں۔ میری نظریں وہاں سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں۔ مجھے ارد گرد کا بھی ہوش نہیں تھا۔ اندر سخت دھکم پیل ہو رہی تھی۔ شرطے ڈانٹ ڈانٹ کر لوگوں کو وہاں سے اٹھا رہے تھے تاکہ دوسروں کو اندر آنے کا موقع مل سکے۔ لوگ بڑی عقیدت کے ساتھ نوافل پڑھ رہے تھے۔ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ جگہ اتنی کم تھی کہ رکوع و سجود کے لیے فٹ بال بننا پڑتا تھا۔

شرطوں کی پکار سن کر جیسے مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے فوراً دو رکعت اشراق کی نیت باندھ لی۔ نماز کے دوران دھکے لگتے رہے۔ جگہ بدلتی رہی۔ سجدہ کرنا انتہائی مشکل ہو گیا۔ لیکن پھر بھی ہو گیا۔ یہ ایسا سجدہ تھا جس کا مزا، جس کی تاثیر اور جس کا ذائقہ آج تک میرے دل و دماغ میں محفوظ ہے۔ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ اللہ اور اس کے حبیبﷺ سامنے کھڑے مجھے دیکھ رہے ہیں۔ ان کی رحمتیں میرے اوپر بارش کی طرح برس رہی ہیں۔ میرا دل جیسے دھُل رہا ہے۔ میرے دل سے ایک کالک اُتر رہی ہو۔ اس کی جگہ ایک روشنی سی میرے اندر سمائی جائی رہی ہو۔ ایک خوشبو میری جان اور میرے روح کو معطر کر رہی ہو۔ میں ان روشنیوں اور ان خوشبوؤں میں جیسے نہا رہا ہوں۔ میرا جسم و جاں اور میرے دل کا ایک ایک ذرہ اس روشنی سے فیض یاب ہو رہا تھا۔ مجھے اپنا آپ ہلکا ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ ایسے لگتا تھا میں ہواؤں میں اُڑ رہا ہوں۔ فضاؤں میں تیر رہا ہوں۔ روشنیوں میں نہا رہا ہوں اور خوشبوؤں سے معطّر ہوں۔

میرا سجدہ طویل ہو گیا۔ یہ روایتی سجدہ نہیں تھا۔ یہ رٹا رٹایا سبحان ربی الاعلیٰ نہیں تھا۔ یہ میرے دل کی پکار تھی۔ یہ پکار وہاں جا رہی تھی جس کے لیے یہ کلمے کہے جاتے ہیں۔ لفظ میرے دل سے ادا ہو رہے تھے اور سیدھے آسمانوں کو چھو رہے تھے۔ جی ہاں! مجھے بالکل ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا۔ میرا یقین، میرا ایمان اور میرا آپ گواہی دے رہا تھے کہ یہ صدا آسمانوں کو چھو رہی ہے۔ عرشِ عالی تک پہنچ رہی ہے۔ سننے والا سن رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ تم ایک بار توبہ کرو گے تو میں سو بار معاف کروں گا۔ تم گناہ گار ہو لیکن میری رحمت کی کوئی حد نہیں ہے۔ حتّی کہ تم جیسے گناہ گاروں کے لیے بھی میری رحمت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ بس ایک بار مجھے دل سے پکار کر تو دیکھو۔ تم میری کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

میری دُعا قبول ہوئی یا نہیں اس کا تو مجھے علم نہیں لیکن میری پکار ضرور سنی گئی۔ کیونکہ میری روح پر لدا منوں بوجھ اتر گیا تھا۔ میں خود کو بالکل ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔ میں نبی پاکﷺ کو اپنے بہت قریب محسوس کر رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا وہ میرے بالکل سامنے کھڑے مجھے ہی دیکھ رہے ہیں۔ میری تڑپ، میری بے قراری اور میرے شوق کو مشفق نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ مجھے ہر جانب یہ نگاہیں محسوس ہو رہی تھیں۔ ان نظروں کی ٹھنڈک کو میں اپنے جسم و جاں پر محسوس کر رہا تھا۔ یہ شفقت، یہ ٹھنڈک اور یہ مسکراہٹ آج بھی میرے ساتھ ہے۔ اور دعا ہے کہ روزِ قیامت تک میرے ساتھ رے۔

شرطوں نے جب ہمیں دوسرے دروازے سے باہر بھیجا تو یوں لگا کہ میں جنت سے زمین پر آ گیا ہوں۔ حالانکہ باہر بہت رونق تھی لیکن میری نگاہوں کے سامنے اندر کا منظر گھوم رہا تھا۔ میرے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ آنکھیں چمک رہی تھیں اور دل بلیوں اچھل رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے آ رہا ہوں۔ بڑی سے بڑی ڈگری اور بڑی سے بڑی کامیابی سے جو خوشی اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ وہی خوشی اس وقت مجھے ہو رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے نوبل پرائز جیت لیا ہے۔ ایسی خوشی، ایسی مسرت اور ایسا اطمینان مجھے پہلے کبھی نصیب نہیں ہوا تھا۔ میرا انگ انگ اس مسرت اور شادمانی سے جیسے ناچ رہا تھا۔ میری اہلیہ نے دیکھا تو حیران رہ گئیں۔ اُنہوں نے کوئی سوال نہیں کیا بلکہ براہ راست مبارک باد دی۔ پھر حسبِ عادت شکرانے کے نفل پڑھنے کے لیے جائے نماز بچھانے لگیں۔

خواتین کے لیے ریاض الجنۃ میں داخلے کا وقت نماز عشاء کے بعد تھا۔ اسی رات میری اہلیہ نے بھی آسانی سے وہاں تک رسائی حاصل کر لی۔ اس کے بعد جتنے دن ہم مدینہ منورہ میں رہے ہم متواتر ریاض الجنۃ میں جاتے رہے۔ اب جیسے راستہ ہموار ہو گیا تھا۔ اللہ کے فضل سے وہ دروازہ ہمارے لیے کھل گیا تھا۔ اب بھی رش ہوتا تھا۔ اب بھی دھکم پیل ہوتی تھی۔ اب بھی شرطوں کی ڈانٹ ڈپٹ ہوتی تھی۔ لیکن اب یہ سب برا نہیں لگتا تھا۔ اس دن کے بعد میں جب بھی اس در پر حاضر ہوتا تھا تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ کوئی غیبی ہاتھ آگے بڑھتا ہے اور تھام کر اندر لے جاتا ہے۔

میں جب بھی وہاں جاتا تھا بس دو رکعت نفل ادا کرتا تھا۔ اس سے زیادہ کی میں نے کوشش نہیں کی۔ حالانکہ اس کا اجر و ثواب بے شمار ہے۔ کیا کرتا دل کو سنبھالتا یا جگر کو تھامتا۔ روضے پر نظر پڑتی تو ہٹتی نہیں تھی۔ اس روضے کے مکین سے بات کرتا یا اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتا۔ اللہ تو ہر جگہ موجود ہے۔ ثواب اور اجر کمانے کے بھی مواقع ملتے رہیں گے۔ لیکن نظروں کو یہ نظارہ پھر شاید ملے یا نہ ملے۔ اس لیے میں آنکھوں اور دل کو ایک ہی منظر پر مرکوز کر لیتا۔ پھر وہ شفیق آنکھیں ہر جانب مسکرانے لگتیں۔ اوپر، نیچے، دائیں، بائیں جہاں تک نظر جاتی، وہ مسکراتی ہوئی شفیق آنکھیں جیسے ٹھنڈی پھوار برساتی، میرے جسم و جاں بلکہ روح تک کو معطر کرنے لگتیں۔ مجھے اپنا وجود بھی مہکتا محسوس ہوتا۔

شروع میں یہ منظر صرف ریاض الجنۃ میں دکھائی دیتا تھا۔ بعد میں مسجد نبوی اور خانہ کعبہ میں میرے ساتھ ساتھ رہا۔ اب ہمارازیادہ وقت مسجد میں ہی گزرنے لگا۔ عصر سے عشاء تک ہوٹل واپس جانا بالکل چھوٹ گیا۔ فجر کے بعد ریاض الجنۃ، کبھی کبھی جنت البقیع اور مسجد نبویﷺ اور اس کے ارد گرد علاقے میں گھومتا رہتا۔ کبھی ہوٹل کے عقب میں ہائی وے کے دوسرے طرف دُکانوں کی طرف نکل جاتا۔ اس طرح دن میں آرام کرنے کا سلسلہ بالکل ختم ہو گیا۔ بس اللہ، اس کے نبیﷺ اور اللہ کے گھر کی طرف دھیان لگا رہتا تھا۔

 

ضرورتِ اعتدال

 

ہم دونوں کی بھوک اور نیند کم ہوتی جا رہی تھی۔ پہلے دوپہر کا کھانا چھوٹا۔ پھر شام میں کبھی کھاتے اور کبھی بغیر کچھ کھائے تھک ہار کر سو جاتے۔ تاہم میں سارا دن چائے پیتا رہتا رہتا تھا۔ کمرے میں پہنچتے ہی چائے بننا شروع ہو جاتی اور ہر گھنٹے یہ سلسلہ چلتا رہتا۔ جتنی دیر مسجد میں گزرتی اس میں بھی ہر گھنٹے ڈیڑھ کے بعد باہر جاتا۔ چائے کا ایک کپ اور سگریٹ پی کر ہی واپس آتا۔ چائے اور پیناڈول کی گولیوں نے ہمیں چلنے پھرنے کے قابل بنایا ہوا تھا۔ ورنہ ہم دونوں کے گلے میں درد اور جسم میں حرارت اور شدید تھکاوٹ رہتی تھی۔ چائے اور شہد کے مسلسل استعمال نے گلے کو مزید خراب ہونے سے بچایا ہوا تھا۔

اس کے ساتھ آسٹریلیا سے لائی ہوئی تمام دوائیں جیسے Amoxil (اینٹی بائیوٹک) بھی استعمال کر رہے تھے۔ یہ سلسلہ پورے دوران حج چلتا رہا۔ دوائیں ہم خوراک کی طرح استعمال کر رہے تھے۔ یہ دوائیں کام بھی بہت آ رہی تھیں۔ ورنہ دورانِ حج مختلف بیماریوں کے جراثیم اس طرح حملہ اور ہوتے رہتے ہیں جیسے امریکہ کمزور ملکوں پر چڑھائی کرتا رہتا ہے۔ ہماری ہندو ڈاکٹر کی دی ہوئی دوائیں ان شیطانی جراثیموں کو بھگانے میں معاون ثابت ہو رہی تھیں۔ اور ہمیں اللہ کے حضور خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہونے کا موقع فراہم کر رہی تھیں۔ ڈاکٹر شیلا کی لکھی ہوئی تمام دوائیں ہم خرید لائے تھے۔ میں آج تک اس ڈاکٹر کا ممنون ہوں۔ اب وہ ہمارے علاقے میں پریکٹس نہیں کرتی بلکہ دوسرے علاقے میں چلی گئی ہے۔ میں پھر بھی علاج معالجے کے لیے اسی کے پاس جاتا ہوں۔

دیگر عازمین بھی نیند، خوراک کی کمی اور مسلسل محنت و مشقت کی وجہ سے شدید تھکن کا شکار نظر آتے تھے۔ کئی ایک مسجد نبویﷺ میں نماز ادا کرنے سے بھی قاصر نظر آتے تھے۔۔ در اصل حرمین شریفین میں قیام کے دوران زائرین کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کا زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزرے۔ تہجد سمیت چھ نماز وں، نوافل اور دیگر عبادات میں بہت وقت صرف ہوتا ہے۔ جو وقت بچتا ہے وہ کھانے پینے کے بندوبست میں لگے رہتے ہیں یا پھر عزیز واقارب کے لیے شاپنگ کرتے رہتے ہیں۔ ان مصروفیات کے بعد آرام کے لیے ان کے پاس چند ہی گھنٹے بچتے ہیں۔ اٹھارہ بیس گھنٹوں کی محنت مشقت کے بعد تین چار گھنٹے آرام کے لیے نا کافی ہوتے ہیں۔ یہی روٹین کئی دن تک رہے تو جسم شدید تھکن کا شکار ہو جاتا ہے۔ قوتِ مدافعت میں کمی کی وجہ سے بخار یا کوئی اور مرض حملہ اور ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں عازمینِ حج مسجد میں جا کر فرض نمازیں ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہتے ہیں۔

زائرین اور خصوصاً  عازمینِ حج کو اعتدال برتنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ علالت کی وجہ سے ان کا حج متاثر ہو سکتا ہے۔ کیونکہ حج کے تین چار دن بہت بھاری ہوتے ہیں۔ یہ سفر میں رہنے کے دن ہوتے ہیں۔ بے آرامی کے دن ہوتے ہیں۔ اگر ان دنوں طبیعت خراب ہو جائے تو حج کا مزہ کر کرا ہو سکتا ہے۔ ارکان حج کی ادائیگی متاثر ہو سکتی ہے۔ خود پر اور اپنے ساتھیوں پر بھی مشکل آ سکتی ہے۔ لہٰذا عبادت ہو یا شاپنگ ہر کام میں میانہ روی کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں بہت سے عازمین دوران حج اپنی خوراک کا بھی خیال نہیں رکھتے۔ وہ عبادتوں میں اس قدر مصروف ہو جاتے ہیں کہ کئی کئی وقت فاقوں میں گزار دیتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ وہ اللہ کی خوشنودی اور اجر و ثواب کے لیے کرتے ہیں۔ لیکن اس دوران میں ان کی صحت کس قدر متاثر ہو رہی ہے وہ اس کا خیال نہیں کرتے ہیں۔ بعض عازمینِ حج سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھوکے رہتے ہیں جس کے اثرات بعد میں ظاہر ہوتے ہیں۔

میرے چھوٹے بھائی خالد محمود مرزا نے دو مرتبہ حج کیا ہے۔ دونوں مرتبہ وہ پاکستان سے حج کے لیے گئے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہیں خود اپنے کھانے کا بندوبست کرنا ہوتا تھا۔ لیکن ان کے ساتھی زیادہ وقت مسجد میں گزارتے اور صرف سونے کے لیے ہی کمرے میں آتے تھے۔ لہٰذا اکثر کھانا نہیں بنتا تھا۔ کبھی کبھی چوبیس گھنٹے کھائے بغیر گزر جاتے تھے۔ وہ جب اپنے ساتھیوں کو اس طرف متوجہ کرتے تو وہ کہتے کہ ہم یہاں کھانا کھانے نہیں بلکہ عبادت و ریاضت کے لیے آئے ہیں۔ اس کی وجہ سے بھائی کی صحت خراب رہنے لگی۔ ناچار انہیں ایک اور گروپ کے ساتھ کھانے پینے کا بندوبست کرنا پڑا۔ ان کا انتظام قدرے مہنگا لیکن تسلی بخش تھا۔ جس کی وجہ سے اس کی صحت بحال ہوئی اور وہ زیادہ تسلی سے نمازوں اور عبادتوں میں مشغول ہو گئے۔

اس کے علاوہ حاجیوں پر تحفے خریدنے اور شاپنگ کرنے کا بہت دباؤ ہوتا ہے۔ وہ پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتے لیکن عزیز اقارب کے لیے مہنگے سے مہنگے تحفے خریدنے میں لگے رہتے ہیں۔ اپنا پیٹ کاٹ کر دوسروں کو قیمتی تحفے دینا۔ خود روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرنا اور اہل خانہ اور عزیز و اقارب پر ساری کمائی لٹا دینا۔ ایسا میں نے پہلی دفعہ نہیں دیکھا تھا۔ دیارِ غیر میں رہنے والے اکثر پاکستانیوں کا یہی المیہ ہے۔ میں نے عمان کے قیام کے دوران میں بارہا ایسا دیکھا تھا۔ میرے محکمے میں کام کرنے والے زیادہ تر پاکستانی ادھیڑ عمر اور پاکستان کے سرکاری اداروں سے سبک دوش ہوئے تھے۔ اُنہیں جتنی تنخواہ ملتی تھی پوری کی پوری وطن بجھوا دیتے تھے۔ اپنے لئے وہ دس ریال بھی نہیں رکھتے تھے۔ وہ میس کا کھانا کھاتے اور سرکاری رہائش گاہ میں جا کر سو رہتے تھے۔ کیمپ سے باہر کی دُنیا، بازار یا کسی دُکان کی پورا سال شکل بھی نہیں دیکھتے تھے۔ ان کے کمرے میں چائے کی کیتلی تک نہیں ہوتی تھی نہ ہی کھانے کی کوئی چیز ہوتی تھی۔ ہم میس میں جو کھانا کھاتے تھے اس کا یہ بہت معقول سا بل ادا کرنا پڑتا تھا۔ کیونکہ اس میں حکومت اپنا حصہ ڈالتی تھی۔ علاوہ ازیں میس کے عملے کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات بھی حکومت ہی ادا کرتی تھی۔ سستا ہونے کے باوجود ہمارے کئی ساتھی تین کے بجائے صرف دو وقت کا کھانا کھاتے تھے۔

وہ پورا سال یوں ہی قیدیوں کی طرح گزار دیتے۔ لیکن جب ان کی چھٹیاں قریب آتی تھیں تو جیسے بھونچال سا آ جاتا تھا۔ ان کا ہر ویک اینڈ بازار میں گزرتا۔ تھیلے بھر بھر کر لا رہے ہوتے۔ سوٹ کیس پیک ہو رہے ہوتے۔ ان کے ہاتھ میں عزیز و اقارب کی فرمائشوں کی فہرست ہوتی تھی۔ اور وہ سب کے لیے کچھ نہ کچھ خرید رہے ہوتے تھے۔

مجھے ان لوگوں پر ترس آتا تھا کیونکہ ان کے اپنے پاس اپنے پہننے کے لیے مناسب کپڑے تک نہیں ہوتے تھے۔ صبح ناشتہ کرتے تھے تو رات کے کھانے تک ایک کھیل بھی اُڑ کر اُن کے منہ میں نہیں جاتی تھی۔ کیونکہ پیسہ بچانے کے لئے دوپہر کا کھانا انہوں نے دانستہ چھوڑ رکھا ہوتا تھا۔ کمرے میں بھی کھانے کی کوئی چیز لے کر نہیں رکھتے تھے۔ وہ اپنے کپڑے خود دھوتے تھے۔ اپنے اوپر ایک پیسہ بھی خرچ کرنے سے وہ گریز کرتے تھے۔

دوسری طرف جن لوگوں کے لیے وہ یہ سب کچھ کر رہے ہوتے تھے انہیں اس کی پرواہ تک نہیں ہوتی تھی۔ جب میں چھٹیوں پر جا رہا تھا تو میرے ایک ساتھی نے میرے ہاتھ کچھ تحفے اپنے گھر بھجوائے۔ میں جب ان کے گھر گیا اور اہلِ خانہ کے رنگ ڈھنگ دیکھے تو حیران رہ گیا۔ میں وہاں تقریباً ایک گھنٹہ رکا۔ اس دوران ان کے بیٹے نے دو سوٹ بدلے۔ گھر کے کھانے کو برا بھلا کہا اور باہر سے کھانا منگوا کر کھایا۔ موٹر سائیکل کے بار بار خراب ہونے کا گلہ کیا۔ مہنگی گھڑی کی فرمائش کی اور بڑی سکرین والے ٹی وی کا مطالبہ کیا۔ بقیہ لوگوں کی بھی اپنی اپنی فرمائشیں تھیں۔ کسی نے مجھ سے یہ پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ جس سے اتنی فرمائشیں کر رہے ہیں وہ خود کس حالت میں ہے۔

یہ چھبیس ستائیس سال پہلے کی بات ہے۔ اس سے متاثر ہو کر میں نے یہ نظم لکھی تھی۔ جو اب تک میری ڈائری میں موجود ہے۔

دُوردیس میں ایک اجنبی

تپتے صحرا میں آبلہ پا

زیست کی تلخیوں سے نبرد آزما

اپنوں کی آسائش کی خاطر

برسوں سرگرداں رہا

برسوں بعد جب اس کے

شب و روز کی مشقت سے

تنہائیوں کے کرب سے

جسم و جاں شکستہ ریز ہوتے گئے

تو ایسے میں درد سے چور بدن

دید کا ترسا من

دل کہ مشتاقِ ارض وطن

تصور محبوب آنکھوں میں سجائے

دل میں وصل کے دیپ چلائے

وہ راہی منزل شوق

منزل سے ہمکنار ہوا

محبوب نے اٹھلاتے ہوئے

ناز و انداز دکھلاتے ہوئے

کہا اے جان من

کاش ایک برس اور نہ آتے

میرے گہنے پورے ہو جاتے

 

جنت البقیع

 

قیام مدینہ کے دوران میں میرا دو مرتبہ جنت البقیع جانا ہوا۔ جنت البقیع کے معنی جنت کا باغ ہیں۔ یہ مدینہ کا سب سے پرانا قبرستان ہے۔ جو مسجد نبویﷺ سے مشرق کی سمت واقع ہے۔ مسجد سے اس کی مسافت پانچ منٹ سے بھی کم ہے۔ صبح اشراق کے بعد اسے زیارت کے لیے کھولا جاتا ہے۔ اس قبرستان میں بہت سے نامور صحابی اور صحابیات اور اہلِ بیت مدفون ہیں۔ ان میں حضرت ابراہیم بن حضرت محمدﷺ، بی بی فاطمہ الزہرا، حضرت خدیجہ الکبریٰؓ اور حضرت عثمانؓ سمیت اہلِ بیت اور صحابۂ کرام محوِ آرام ہیں۔ عثمانیوں کے دور میں یہاں بہت سی پختہ قبریں اور مقبرے بنے ہوئے تھے۔ لیکن نجدی حضرات نے جب شریف حسین کو شکست دے کر یہاں قبضہ کیا تو انہوں نے بہت سی قبریں مسمار کر دیں۔ تاہم اب بھی کچھ پختہ قبریں وہاں باقی ہیں۔ رسول پاکﷺ نے فرمایا تھا کہ جو شخص مدینہ میں مرے اور بقیع میں دفن ہو وہ میری شفاعت سے بہرہ ور ہو گا۔ یہاں خواتین کا داخلہ ممنوع ہے۔ لہٰذا میں اکیلا ہی گیا۔ سیڑھیاں چڑھ کر قبرستان کی سطح کے برابر پہنچا تو وہاں بہت سے لوگ اکھٹے تھے۔ وہ ماتم کناں تھے۔ تاہم ان کی آواز زیادہ بلند نہیں ہوتی تھی۔ کیونکہ سامنے ہی سیکورٹی والے کھڑے تھے۔ یہ سیکورٹی والے رونے پیٹنے اور ماتم کرنے سے منع کر رہے تھے۔ ان سیکورٹی والوں میں اردو بولنے والے بھی تھے۔ ان میں سے ایک مجھے سمجھانے آ گیا ’’دیکھیں اس طرح قبروں پر رونا پیٹنا بہت بڑی بدعت ہے۔ اس سے مرحوم کو تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ الٹا آپ گناہ گار ہوں گے۔ کیونکہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے حکم سے اگر کسی کی موت واقع ہوتی ہے تو انسان رو پیٹ کر اللہ کے حکم کو چیلنج کر رہا ہوتا ہے۔ اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ آخرت میں انسان اپنے اعمال ہی ساتھ لے کر جا سکتا ہے۔ اس کو کوئی ثواب اور صدقہ نہیں پہنچایا جا سکتا۔ یہ بھی گناہ ہے کہ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔‘‘

وہ صاحب کچھ اور بھی کہہ رہے تھے لیکن میں ٹہلتا ہوا آگے نکل گیا۔ سامنے دو تازہ قبریں کھودی جا رہی تھیں۔ تیسری میں کسی کو دفنایا جا رہا تھا۔ یہ قبرستان اسلام کی آمد سے بھی پہلے کا ہے۔ اتنے سو سال کے بعد اس میں مردے دفنانے کی گنجائش اس لیے نکل آتی ہے کہ چند سالوں بعد پرانی قبروں کو برابر کر دیا جاتا ہے۔ وہاں نئی قبریں بنانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اس قبرستان کی ایک ایک قبر میں کئی کئی لوگ دفن ہیں۔

میں نے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ حضرت بی بی فاطمہؓ اور حضرت عثمانؓ کی قبریں کون سی ہیں۔ مگر وہاں کوئی بھی بتانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ شاید انہیں بھی اس کا علم نہیں تھا۔ میں نے دل ہی دل میں چند سورتیں پڑھ کر دعائے فاتحہ پڑھی اور واپس لوٹ آیا۔

 

مدینہ کی زیارتیں

 

لبیک والے ہمیں ایک دن چند زیارتوں پر لے گئے۔ صبح کے ناشتے اور نماز ظہر کے درمیانی وقفے پر محیط اس دورے میں ہم غزوہ احد کے مقام، مسجد قبا، مسجدقبلتین اور غزوہ خندق والی جگہ پر گئے۔ کئی بسوں پر مشتمل ہمارا قافلہ مدینہ منورہ کی مختلف سڑکوں پر سفر کرتا ہوا غزوۂ احُد کے مقام پر جا رکا۔ وہاں جا کر اندازا ہوا کہ اُحد کا مقام مدینہ منورہ سے بہت قریب واقع ہے۔ نبی پاکﷺ نے دفاعی نقطہ نظر سے اس مقام کا انتخاب کیا تھا۔ قریش مکہ نے مدینہ پر چڑھائی کی تھی جس کا نوخیز اسلامی سلطنت دفاع کر رہی تھی۔

اس وقت تک مسلمانوں کی حالت اس قابل نہیں ہوئی تھی کہ وہ جارحانہ کاروائیاں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی پاکﷺ کو جہاں اور بہت سی صلاحیتوں اور صفات سے نوازا تھا وہاں ان کو ایک بہترین سپہ سالار بھی بنایا تھا۔ اگر تمام غزوات کا بغور جائزہ لیا جائے اور اس وقت کے حالات، مسلمانوں کی جنگی صلاحیت اور کفار کی طاقت کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تو ہوشیار سے ہوشیار جرنیل بھی حضور پاکﷺ کی سپہ سالاری کا معترف ہو جائے گا۔

سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں نے اسی جنگ یعنی احد میں اٹھایا تھا۔ غزوہ احد کا یہ مقام آج اپنی اصل شکل میں نہیں ہے۔ اس کے باوجود اگرمسلمانوں کی قلیل تعداد اور ان کی بے سروسامانی کا تصور میں کیا جائے تو یہ جگہ دفاع کے لیے بہترین تھی۔ سامنے اُحد کا پہاڑ تھا۔ دائیں بائیں بھی پہاڑیاں واقع تھیں۔ لہٰذا مسلمان بے فکر ہو سامنے سے آنے والے دشمنوں کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ مسلمان نسبتاً بلند جگہ پر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ جب کہ دشمن قدرے نشیب میں تھا۔ مسلمانوں کے عقب میں بھی پہاڑی تھی۔ اگرچہ وہ مدینہ کی طرف تھی اور اس طرف سے حملے کا خطرہ نہیں تھا۔ لیکن حضور نبی کریمﷺ نے ستر تیر اندازوں کو احتیاطاً اس پہاڑی پر تعینات کر دیا تھا۔ اگر یہ لوگ اپنی جگہ سے نہ ہٹتے تو دشمن منہ کی کھا کر واپس چلے جاتے۔ لیکن کچھ صحابہؓ کی غلطی کی وجہ سے پانسہ پلٹ گیا۔ دشمن دُو بدو جنگ میں شکست کھا کر بھاگ رہے تھے کہ انہیں اس وقت نئی زندگی مل گئی جب خالد بن ولید نے ایک بہت لمبا چکر کاٹ کر عقبی پہاڑی سے نمودار ہو کر مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ اس وقت تک صحابہؓ نے دشمنوں کو بھاگتا دیکھ کر پہاڑی پر سے اپنی جگہ چھوڑ دی تھی۔ یہ فاش غلطی مسلمانوں کے نقصان کا باعث بنی اور ستر صحابہؓ شہید ہو گئے۔ مسلمان بے خبری میں مارے گئے تھے۔ وہ اپنے سامنے دشمنوں کو شکست خوردہ اور بھاگتا دیکھ رہے تھے اور اس اچانک افتاد کے لیے تیار نہیں تھے۔ خالد بن ولید کو عقب سے حملہ کرتے دیکھ کر بھاگتے ہوئے کفار بھی رک گئے اور انہوں نے بھی مسلمانوں پر حملے شروع کر دیے۔ مسلمان بھی جان توڑ کر لڑے لیکن ان میں وہ ترتیب اور نظم نہیں تھا جو ایسی جنگ کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ وہ اِدھر اُدھر بکھر کر انفرادی جنگ لڑ رہے تھے۔ کفار کا بھی بہت ساجانی اور مالی نقصان ہوا۔ وہ مسلمانوں کو ختم کرنے کے ارادے سے آئے تھے لیکن ناکام اور نامراد لوٹے۔

اس غزوہ میں حضور پاکﷺ کے چچا حضرت حمزہؓ بھی شہید ہوئے۔ خود حضور پاکﷺ بھی زخمی ہوئے اور ان کے دو دندان مبارک شہید ہو گئے۔ جب یہ خبر حضرت اویس قرنیؒ تک پہنچی تو انہوں نے اپنے سارے دانت نکلوا دیے۔ کیونکہ انہیں علم نہیں تھا کہ حضورﷺ کے کون سے دانت شہید ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے تمام دانت نکلوا کر حضورﷺ سے اپنی محبت اور اپنے عشق کا ثبوت دیا۔ اگر مسلمان رسول پاکﷺ کی منصوبہ بندی اور ہدایت پر عمل کرتے تو انہیں کبھی اتنا نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔

جنگ احد کے شہداء کی قبروں کے گرد بلند دیواروں پر مشتمل چاردیواری بنی ہوئی ہے۔ وہاں پولیس کے سپاہی تعینات ہیں جو زائرین کو دیوار کے قریب آنے اور فاتحہ پڑھنے سے روکتے ہیں۔ ادھر احد کی وہ پہاڑی جس کے عقب سے آ کر خالد بن ولید کے دستے نے حملہ کیا تھا اب ایک چھوٹا سا ٹیلا بن کر رہ گئی ہے۔ یہ اب اتنا چھوٹا ٹیلا ہے کہ نوجوان دوڑ کر اوپر چڑھتے اور دوڑ کر نیچے اترتے ہیں۔ اسی بھاگ دوڑ میں جو بچی کھچی پہاڑی ہے وہ بھی مٹی اور پتھر گرنے سے ملیامیٹ ہو رہی ہے۔ جتنے لوگ اس کے اوپر چڑھتے ہیں اتنا ہی اس کی بلندی کم ہو رہی ہے۔ اگر یہی حال رہا تو کچھ عرصے میں وہ بالکل زمین کے برابر ہو جائے گی۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ لوگ سامنے کھڑے ہو کر زیارت کرنے کے بجائے اس کے اوپر کیوں چڑھتے ہیں۔ اسے محفوظ رکھنے کے لیے اس کے ارد گرد باڑ لگائی جا سکتی ہے۔ یہ ایک تاریخی پہاڑی ہے جو کچھ عرصے میں ختم ہو جائے گی۔

سعودی حکومت مقدس زیارتوں کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ ان کا اگر بس چلے تو خانہ کعبہ کے اوپر بھی کوئی ہوٹل تعمیر کر دیں۔ عین ممکن ہے مستقبل میں غارِ حرا کو بھی کسی ہوٹل میں تبدیل کرد یا جائے۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ حرمین شریفین اپنی جگہ پر قائم ہیں۔ یہ شاید ان کی کمائی کے ذرائع ہیں اس لیے انہیں نہیں چھیڑ رہے۔ ورنہ نہ جانے ان کا بھی کیا حشر کرتے۔ آج یہ عالم ہے کہ خانہ کعبہ کے بالکل سامنے پہنچیں تو وہ نظر آتا ہے۔ وہ چاروں طرف سے بلند وبالا ہوٹلوں میں بالکل چھپ گیا ہے۔ یہ ہوٹل اتنے بڑے، اتنے شاندار اور اتنے بلند و بالا ہیں کہ خانہ خدا ان کے بیچ میں نقطہ سا دکھائی دیتا ہے۔ ان بڑے بڑے ہوٹلوں سے سعودی شاہی خاندان اور ان کے منظور نظر لوگ جھولیاں بھر بھر کر کما رہے ہیں۔ اب درمیانے اور چھوٹے پیکج والے زائرین اور عازمین کے لیے خانہ کعبہ کے قرب و جوار میں کوئی ہوٹل نہیں بچا ہے۔ وہ ہر نماز کے لیے میلوں چل کر حرم شریف تک پہنچتے ہیں یا پھر وہیں رکے رہتے ہیں اور تمام نمازیں پڑھ کر رات سونے کے لیے اپنے ہوٹل واپس جاتے ہیں۔ دوسری طرف خانہ کعبہ سے ملحق اتنے بڑے بڑے اور انتہائی مہنگے مہنگے ہوٹل ہیں جن کے اندر رہ کر خانہ کعبہ کی نماز میں با جماعت شامل ہوا جا سکتا ہے۔ یعنی ہوٹل سے نکلے بغیر جماعت کے ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ نہ سفر کی ضرورت۔ نہ رش کا سامنا۔ نہ گرمی سے واسطہ۔ اور نہ کسی اور تردد یا پریشانی کا خطرہ۔ اسِے کہتے ہیں وی آئی پی حج۔

اب تو سعودیہ نے حج اور عمرے کی فیس، ہوٹلوں میں ٹھہرنے کا ٹیکس، سفر کا ٹیکس اور دیگر اخراجات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ادھر دنیا بھر کی ٹریول ایجنسیاں جو حج اور عمرے کا اہتمام کرتی ہیں ان میں مقابلے کا رجحان ہے۔ بڑے بڑے ہوٹلوں میں قیام، اچھے سے اچھا کھانا فراہم کرنے کی یقین دہانی، حرم سے انتہائی قریب قیام کی گارنٹی اور ایسی ہی دوسری وی آئی پی سہولتوں کا جیسے مقابلہ ہوتا ہے۔ یہ ایجنسیاں ہر حال میں دوسروں سے بازی لے جانا چاہتی ہیں۔ حرم سے قریب رہائش کی خواہش ہر زائر کی ہوتی ہے لیکن اتنے بڑے بڑے ہوٹلوں میں ان وی آئی پی سہولتوں کی مانگ تو کوئی بھی نہیں کرتا۔ نہ ہی انہیں ہر کھانے میں درجنوں ڈشیں درکار ہوتی ہیں۔ حج اور عمرے پر جانے والے لوگ چھٹیوں پر نہیں جا رہے ہوتے۔ وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور فرض ادا کرنے جاتے ہیں۔ یہ ٹریول ایجنسیاں اور سعودی حکومت انہیں وی آئی پی بنا کر دونوں ہاتھوں سے لوٹتی ہیں۔

خود ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ مکہ اور مدینہ میں ہمارے ہوٹل کیسے ہوں گے اور ہمیں کھانا کیسا ملے گا۔ وہاں جا کر میں نے دیکھا کہ بہت سے حجاج کو یہ سہولتیں حاصل نہیں ہیں جو ہمیں حاصل ہیں۔ انہیں دیکھ کر احساسِ ندامت ہوتا تھا۔ جیسا کہ میں نے لکھا ہے کہ ہمارا ناشتہ اور شام کا کھانا بھی ہمارے پیکیج میں شامل تھا۔ ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کو دونوں وقت حفظانِ صحت کے اصولوں کے تحت تیار کیا گیا تازہ کھانا ملے گا۔ جس سے آپ کی صحت خراب ہونے کا اندیشہ نہیں ہو گا اور وقت بھی ضائع نہیں ہو گا۔ وہاں جا کر ہم نے دیکھا کہ دونوں اوقات کے کھانوں میں اتنی بے شمار ڈشیں بنی ہوتی تھیں کہ ان سب کو چکھنا بھی نا ممکن تھا۔ ظاہر ہے یہ کھانا ضائع ہوتا ہو گا۔ الشہداء ہوٹل کا ریستوران کھانوں کی نمائش گاہ بنا ہوتا تھا۔ اتنے زیادہ کھانے رکھے ہوتے تھے کہ انہیں دیکھ کر ہی دل بھر جاتا تھا۔ یہ سراسر افراط تھی۔ بلا ضرورت افراط۔ جو ٹریول ایجنسیوں اور بڑے بڑے ہوٹلوں کی مسابقت کی وجہ سے بغیر ضرورت اور بغیر مانگے عمل میں لائی جاتی ہے۔

میں نہیں سمجھتا کہ حاجی صاحبان کو ان لگژری ہوٹلوں اور اتنے کھانوں کی پرواہ ہوتی ہو گی۔ اکثریت ان سہولتوں سے صرفِ نظر کر کے اور اپنی خواہشات سے بالا تر ہو کر صرف اللہ اور اس کے رسولﷺ کی خوشنودی کی خاطر عبادات میں مصروف رہتی ہے۔ ان کے شب و روز نمازوں، طواف، نوافل اور قرآن کی تلاوت میں گزرتے ہیں۔ وہ ہلکا پھلکا کھانا کھا تے ہیں اور کبھی وہ بھی نہیں کھاتے اور اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ بہت کم لوگ ہوں گے جنہیں یہ افراط و تفریط پسند ہو گی۔

میرے خیال میں مکہ مدینہ میں یہ بڑے بڑے ہوٹل اور ان میں وی آئی پی کلچر نہیں ہونا چاہیے۔ زائرین کو بنیادی سہولتیں فراہم کر کے عبادات کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت فراہم کرنا چاہیے۔ تمام حاجیوں کو یہ مواقع یکساں میسر ہونے چاہیں۔ یہ نہیں کہ کچھ تو حرم شریف سے ملحق اپنے کمروں میں کھڑے ہو کر خانہ کعبہ کی نماز میں شامل ہو جائیں اور کچھ سڑک پر چلچلاتی دھوپ میں کھڑے ہو کر یہ فریضہ انجام دیں۔ میرے خیال میں سعودی حکومت کو غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے حاجیوں کی آسائش اور سہولت کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ اگر دکانداروں، ٹیکسی ڈرائیوروں اور ہوٹل مالکان کو ناجائز منافع خوری سے روک کر جائز منافع اور جائز معاوضہ پر خدمات مہیا کرنے کا اہتمام کر لیا جائے تو یہ بھی زائرین کی خدمت اور مدد ہو گی۔ اگر امیر لوگوں سے اتنے بڑے بڑے ہوٹلوں کے ذریعے اتنا کمایا جاتا ہے تو غریب حاجیوں کو قدرے دور سے حرم آنے کے لیے مفت ٹرانسپورٹ فراہم کر دی جائے تو یہ ان کے حق میں بڑی نیکی ہو گی۔

غزوہ اُحد کے مقام سے واپسی پر ہم غزوہ خندق والی جگہ سے گزرے جہاں اب متعدد مسجدیں بنی ہوئی ہیں۔ اردگرد آبادی ہے۔ اس لیے وہاں رُکنے اور دیکھنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ وہاں سے تھوڑے ہی فاصلے پر اسلام کی سب سے پہلی مسجد یعنی مسجد قبا واقع ہے۔ ہم یہاں رُکے اور دو رکعت نفل ادا کیے۔ جب رسول پاکﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لائے تو اسلام کی اس پہلی مسجد کی بنیاد انہوں نے اپنے ہاتھوں سے رکھی تھی۔ یہ مسلمانوں کی پہلی باقاعدہ عبادت گاہ تھی۔ بعد میں یہی مقام مسجد نبوی کو حاصل ہوا اور وہ مرکزی حیثیت اختیار کر گئی۔ مسجد قبا سے حضور نبی کریمﷺ کو بہت محبت تھی۔ وہ کبھی کبھار پیدل چل کر یہاں آتے تھے اور یہاں نماز ادا کرتے تھے۔

اسی طرح کبھی کبھار وہ مسجد قبلتین بھی پیدل چلے جاتے تھے۔ ہماری اگلی منزل وہی تھی۔ اس وقت سڑک پر ٹریفک بہت بڑھ گیا تھا۔ اس کی وجہ سے بس بہت آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی۔ لہٰذا جب ہم قبلتین پہنچے تو اتنا وقت نہیں بچا تھا کہ وہاں رک کر نفل ادا کرتے۔ ہم نے سامنے کھڑے ہو کر مسجد کی زیارت کی، دُعا مانگی اور واپس بسوں میں سوار ہو گئے۔ در اصل انتظامیہ کو اور ہمیں بھی واپسی کی یوں جلدی تھی کہ کہیں ہماری ظہر کی نماز مسجد نبوی میں ادا ہونے سے نہ رہ جائے۔

زیارت جتنی بھی اہم ہو مسجد نبوی اور خانہ کعبہ میں با جماعت نماز کو ہر چیز پر ترجیح حاصل ہے۔ اتنا اجر و ثواب کہیں اور نہیں ملتا ہے۔ مسجد قبلتین بھی حضور پاکﷺ کے دور میں بنی تھی۔ یہی وہ مسجد ہے جہاں عین نماز کے دوران قبلہ تبدیل کرنے کا حکم آیا تھا۔ حضور نبی پاکﷺ نے نماز کے دوران اپنا رخ بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف کر لیا تھا۔ شروع میں یہ مسجد بیت المقدس کے رخ پر تعمیر کی گئی تھی۔ بعد میں اس کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کیا گیا۔ لیکن بیت المقدس کے رخ پر بنا اس کا محراب ویسے ہی چھوڑ دیا گیا۔ اس لیے اسے مسجد قبلتین یعنی دو قبلوں والی مسجد کہا جاتا ہے۔

واپسی کے سفر میں سڑکیں زیادہ مصروف ملیں۔ ہماری بس جیسے رینگتی رینگتی، دھیرے دھیرے ہوٹل کی طرف گامزن تھی۔ ہوٹل سے کچھ فاصلے پر ٹریفک بالکل ہی رکی ہوئی تھی۔ کچھ بزرگ عازمینِ حج اور معذوروں کے علاوہ اکثر لوگ بس سے اتر گئے اور پیدل ہی ہوٹل کی طرف چل پڑے۔ عین دوپہر کا وقت تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ سورج سروں پر آگ برسا رہا ہے۔ سخت گرمی اور حبس محسوس ہو رہا تھا۔ ادھر سڑک اور فٹ پاتھ بھرے ہوئے تھے جس کی وجہ سے چلنے میں دقت ہو رہی تھی۔ ایسی حالت میں ہانپتے کانپتے ہم بمشکل ہوٹل پہنچے۔

اندر داخل ہوئے تو سانس میں سانس آئی۔ در اصل ایئر کنڈیشنگ کی وجہ سے ہوٹل کے اندر اور باہر کے درجہ حرارت میں بہت زیادہ فرق تھا۔ باہر اگر پینتالیس ڈگری کی جلد جلا دینے والی گرمی ہوتی تھی تو ہوٹل کا دروازہ کھولتے ہی بائیس ڈگری کے انتہائی آرام دہ درجہ حرارت کا سامنا ہوتا تھا۔ ہم دن میں جتنی مرتبہ بھی ہوٹل سے باہر نکلتے تھے گرمی سے جان نکلتی محسوس ہوتی تھی۔ مگر ہوٹل یا پھر مسجد میں داخل ہونے کے بعد ٹھنڈ ہی ٹھنڈ، سکون ہی سکون ملتا تھا۔ ایئر کنڈیشنر کی صحیح قدر ایسے گرم مقام پر ہی ہوتی ہے۔ سعودیہ میں ایئر کنڈیشنر صرف بڑے ہوٹلوں تک محدود نہیں ہیں۔ بلکہ آج کل تقریباً ہر عمارت ہی ایئر کنڈیشنڈ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے بغیر وہاں گزارا ہی نہیں ہے۔ یہ بھی شکر ہے کہ وہاں بجلی نہیں جاتی اور ایئر کنڈیشنر چوبیس گھنٹے مصروف عمل رہتے ہیں۔

خیربجلی جا نے اور لوڈشیڈنگ کے لیے ہمارا وطن پاکستان پوری دنیا میں مشہور ہے۔ دنیا بھر میں ایسا ظلم کہیں بھی نہیں ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں حکومتیں مستقبل کی منصوبہ بندی کر کے چلتی ہیں۔ وہ وقت سے پہلے ہر چیز کا انتظام کر لیتی ہیں۔

ایسا نہیں ہوتا کہ لوگوں کو سالہاسال تکلیف اور پریشانی میں مبتلا رکھنے کے بعد اس کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہوں۔ حکومت میں ایسے ادارے موجود ہوتے ہیں جن کی ڈیوٹی یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر مسئلے کی پیشگی منصوبہ سازی کریں اور وقت پڑنے پر کسی شے کی کمی نہ ہو۔ اگر صاحبانِ اقتدار میں اتنی منصوبہ بندی اور ر صلاحیت نہ ہو کہ وہ عوامی ضروریات کا بر وقت خیال رکھ سکیں تو انہیں حکومت کرنے کا حق نہیں دیا جاتا۔ کسی بھی جمہوری ملک میں کوئی حکومت عوام کی ضروریات کا خیال رکھنے میں ناکام رہے تو ایسی حکومت اور اس کے فرمانرواؤں کو ایسی پستی میں پھینک دیا جاتا ہے جہاں سے اٹھ کر وہ دوبارہ عوام کا سامنا نہیں کر سکتے۔ ایسی حکومت اور ایسے حکمران کو زیادہ دیر تک اپنے سر پر مسلط رہنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔

 

انتظامی مسائل

 

تمام لوگ جلدی جلدی تیار ہوئے اور نماز ظہر کی ادئے گی کے لیے مسجد روانہ ہو گئے۔ نماز ظہر کے بعد ہم مسجد میں ہی رکے رہے اور عصر پڑھ کر ہی واپس آئے۔ مسجد کے آگے کرائے کے لئے گاڑیاں دستیاب ہوتی ہیں۔ در اصل یہ نجی کاریں ہوتی ہیں جو حج اور دوسرے مصروف دنوں میں ٹیکسی کی جگہ استعمال ہو رہی ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ انہیں کرائے پر لیتے ہیں اور مختلف زیارتوں پر لے جاتے ہیں۔ میں نے ایک دو مرتبہ ان سے مختلف جگہوں کا کرایہ معلوم کیا تو ڈرائیوروں نے مختلف کرائے بتائے۔ مثلاً ایک نے مسجد قبلتین کا کرایہ سو ریال بتایا۔ دوسرے نے اسّی اور تیسرے نے پچاس ریال مانگے۔ اس کا مطلب یہ تھا وہاں کوئی مقر رہ کرایہ نہیں تھا بلکہ وقت اور حالات کے پیشِ نظر گھٹتا بڑھتا رہتا تھا۔

زائرین مجبوراً یہ گاڑیاں کرائے پر لیتے ہیں۔ ورنہ ہر شخص کو علم ہے کہ مکہ اور مدینہ میں ٹیکسی ڈرائیوروں اور کرائے کی گاڑیوں کے نرخ مقرر نہیں ہیں۔ ڈرائیور من مانا کرایہ لیتے ہیں۔ ایسی پرائیویٹ کاروں پر کوئی باقاعدہ نشانی نہیں ہوتی جس سے معلوم ہو کہ کہ یہ کرائے کی کار ہے۔ نہ ہی ڈرائیور نے یونیفارم پہنا ہوتا ہے۔ نہ ہی ان ڈرائیوروں کو عربی کے علاوہ دوسری کوئی زبان آتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ منہ مانگا کرایہ لیتے ہیں۔ مسافروں سے بدتمیزی سے پیش آتے ہیں۔ جہاں جی چاہتا ہے انہیں دھکا دے کر گاڑی سے اتار دیتے ہیں۔ ان ڈرائیوروں کو نہ تو قانون کا خوف ہوتا ہے اور نہ ہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔ جہاں کسی کو زیادہ مجبور دیکھتے ہیں وہاں دس گنا زیادہ کرایہ بھی لے لیتے ہیں۔ مجھے علم نہیں کہ ان کی سرزنش کے لیے کوئی ادارہ وہاں موجود ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو وہ یقیناً اپنا فرض ادا نہیں کر رہا ہے۔ ورنہ یہ ٹیکسی ڈرائیور اور پرائیویٹ کار ڈرائیور یوں من مانی نہ کرتے۔

حج کی روداد بیان کرتے ہوئے انتظامات کی خامیوں پر روشنی ڈالنے اور تنقید کرنے کا مقصد اپنے دُکھ کا اظہار ہے۔ ہم سب حجاز مقدس کی حرمت کے قائل ہیں۔ یہ اسلام کا مرکز ہیں۔ یہاں اللہ کا گھر ہے۔ یہاں ہمارے نبیﷺ پیدا ہوئے۔ یہیں دفن ہوئے۔ اس زمین کا ذرہ ذرہ ہمیں اپنی جان سے پیارا ہے۔ یہ بد نظمی سعودی حکومت اور انتظامیہ کی غفلت اور کوتاہی کی نشاندہی کرتی ہیں جس سے اس سرزمین کا تقدس مجروح ہوتا ہے۔ اسے دیکھ کر بحیثیت مسلمان ہمیں دلی تکلیف ہوتی ہے۔ ورنہ آج کے دور میں ان انتظامات کو اس سے بہت بہتر بنانا نا ممکن نہیں ہے۔ اس میں خود سعودی عرب کے لوگوں اور ان کی حکومت کی نیک نامی ہو گی۔ اور لاکھوں لوگ انہیں دعائیں دیں گے۔

اس سلسلے میں میں ایک مثال دینا چاہوں گا۔ 2000  میں جب سڈنی میں اولمپک کھیلوں کا انعقاد ہوا تو شہر کو تقریباً نئے سرے سے بنایا اور سجایا گیا۔ اولمپک پارک ہوم بش میں ایک نیا شہر بسایا گیا۔ ان کھیلوں کے چھ کروڑ سات لاکھ ٹکٹ فروخت ہوئے۔ پوری دنیا سے کئی ملین لوگ ان کھیلوں کو دیکھنے اور آسٹریلیا کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے آئے۔ کئی ہفتوں پر مشتمل ان کھیلوں کے دوران میں کسی ایک شخص نے بھی شکایت نہیں کی کہ اسے یہاں کسی قسم کی پریشانی یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہوم بش کے لیے نیا ٹرین ٹریک بنایا گیا۔ جہاں روزانہ دو سے چار لاکھ لوگ جاتے تھے۔ شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ، عوامی خدمات کے ادارے اور اشیائے ضرورت پر مشتمل دُکانیں یکساں نرخ پر اشیاء اور خدمات مہیا کرتی رہیں۔ ان کھیلوں میں سفر کرنے والے غیرملکی مہمان دیر سویر جب بھی کہیں جانا چاہتے یا انہیں کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو کوئی نہ کوئی رضاکار ان کی خدمت کے لیے موجود ہوتا تھا۔ ان کھیلوں کے دوران کسی مہمان کو خراش تک نہیں آئی۔ لوگ ہمیشہ مطمئن اور خوش باش نظر آئے۔ لہٰذا جب اولمپک کھیلیں ختم ہوئیں تو سڈنی کی انتظامیہ اور یہاں کے عوام کی میزبانی اور حسنِ انتظام کو بے حد سراہا گیا۔ سڈنی کے لوگوں نے ان کھیلوں سے بہت فائدہ بھی اٹھایا اور پوری دنیا میں ایک اچھا اور مثبت پیغام بھی پہنچایا۔

سڈنی میں اتنا بڑا ایونٹ 2000 میں ہوا اور دو ہفتوں میں ختم ہو گیا۔ لیکن اپنے پیچھے ایک نیا شہر چھوڑ گیا۔ اسے اولمپک سٹی کہتے ہیں۔

جب کہ سعودی عرب میں حج ہر سال ہوتا ہے اور سارا سال لوگ وہاں آتے رہتے ہیں۔ ان حالات میں وہاں کی انتظامیہ کا تجربہ بھی وسیع ہونا چاہیے اور مستقبل کی منصوبہ بندی بھی بہت اچھے طریقے سے ہونی چاہیے۔ آسٹریلیا اگر ایک دفعہ اولمپک کرا کر دنیا بھر میں ایک مثبت پیغام بھیج سکتا ہے تو سعودی عرب کو یہ موقع ہر سال ملتا ہے۔ اس سے وہ بہت زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مہمانوں کو اپنی اچھی اور مؤثر میزبانی کے ذریعے اپنا معترف، گرویدہ اور سفیر بنا کردنیا بھر میں واپس بھیج سکتے ہیں۔ اس سے ہمیں بھی خوشی ہو گی کہ ایک مسلمان ملک کو دنیا بھر میں پُر ستائش نظروں سے دیکھا اور سراہا جائے گا۔

مسجد نبویﷺ کے گرد و نواح میں شاپنگ کرنے کے لیے چاہے، وہ ونڈو شاپنگ ہی کیوں نہ ہو، بہت کچھ موجود ہے۔ اس کے علاوہ بھی وہاں بہت رونق اور چہل پہل ہے۔ ہر شخص کی دلچسپی کا سامان موجود ہے۔ بڑے اور چھوٹے ہوٹل، رنگا رنگ دکانیں، عارضی بازار، منی ایکسچینجر، ملبوسات، چمکتے دمکتے زیورات، بسیں، ٹیکسیاں، ریڑھیاں، ٹریول ایجنسیاں غرضیکہ کہ سب کچھ موجود ہے۔ چھوٹے بڑے ریستوران، ٹیک اوے شاپ اور اتوار بازار کی طرز پر عارضی دُکانوں کے بازار بھی موجود ہیں۔

ان دُکانوں میں گاہکوں کی کوئی کمی نہیں۔ جس دُکان ریستوران میں قدم رکھو، جس ہوٹل کے آگے سے گزرو، لوگ ہی لوگ نظر آتے ہیں۔ پورے عالم اسلام سے آئے ہوئے، رنگ برنگے ملبوسات پہنے، مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف رنگ ونسل کے لوگوں کی ٹولیوں کی ٹولیاں جا بجا نظر آتی ہیں۔ مسجد کے صحن کے اندر بھی نمازوں کے وقفے کے دوران میں یہ ٹولیاں جگہ جگہ بیٹھی نظر آتی ہیں۔ کچھ باتوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ کچھ تبلیغ و تربیت کر رہے ہوتے ہیں۔ کچھ بیٹھے اور لیٹے ہوتے ہیں۔ کچھ خورد و نوش میں مصروف ہوتے ہیں۔ کچھ باقاعدہ خراٹے لے رہے ہوتے ہیں۔ مختلف زبانوں اور مختلف لہجوں کی آوازیں کانوں کو بھلی لگ رہی ہوتی ہیں۔ سب ایک ہی نبیﷺ کے پروانے ہیں۔ تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے۔

 

کچھ ملاقاتیں کچھ یادیں

 

مسجد سے جس سمت میں باہر نکلو، ہر طرف زائرین چلتے پھرتے، کھاتے پیتے اور شاپنگ کرتے نظر آتے تھے۔ میں روزانہ کئی مرتبہ مختلف سمتوں میں نکل جاتا تھا۔ اگر نہ بھی جانا چاہتا تو چائے اور سگریٹ کی طلب زبردستی لے جاتی تھی۔ جس طرف بھی جاتا اور جوپہلی چیز ڈھونڈنے کی کوشش کرتا وہ چائے خانہ ہوتی تھی۔ چاہے وہ ریستوران ہو، دکان ہو یا ٹھیلا ہو، بس چائے ملنی چاہیے۔ بہرحال چائے کی تلاش میں یا یوں کہیے کہ بہتر سے بہتر چائے کی تلاش میں میں نے یہ پورا علاقہ چھان مارا۔ ویسے بھی یہ فالتو وقت گھومنے پھرنے اور بھانت بھانت کے لوگوں سے ملنے کی وجہ سے اچھا گزر جاتا تھا۔ اس دوران میری بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں دنیا کے مختلف ملکوں سے آئے ہوئے لوگ بھی تھے۔ اور میرے وطن پاکستان کے باسی بھی تھے۔ آخری مرتبہ پاکستان گئے ہوئے مجھے پورے پانچ برس ہو چکے تھے۔ اس لیے وہاں کی یادیں اور باتیں اچھی لگتی تھیں۔

ایک دن تین سندھی دیہاتیوں سے ملاقات ہوئی۔ وہ ٹوٹی پھوٹی اردو بول سکتے تھے۔ وہ نہ تو پڑھے لکھے تھے اور نہ ہی سندھ میں اپنے گاؤں سے باہر گئے تھے۔ وہ تینوں جامشورو کے علاقے میں واقع اپنے گاؤں میں کھیت مزدور کا کام کرتے تھے۔ سعودیہ میں آ کر بھی انہیں یہی کام ملا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا ’’آپ کتنے عرصے سے یہاں ہیں؟‘‘

ایک نے کہا ’’دوسال ہو گئے ہیں۔ ہم مدینے سے کافی دور ایک چھوٹے سے گاؤں میں کھجوروں کے باغ میں کام کرتے ہیں۔‘‘

’’کتنی تنخواہ ملتی ہے؟‘‘ میں نے وہ سوال کیا جو عام حالات میں اور عام لوگوں میں بالکل نہیں کرتا۔

’’جی ہم پانچ سو ریال سے ہزار ریال تک کما لیتے ہیں‘‘

میں نے حساب لگایا اور ان سے تصدیق چاہی ’’یہ تو تقریباً دس ہزار سے بیس ہزار روپے کے درمیان بنتے ہیں۔ کیا یہی آپ کی کل آمدنی ہے۔‘‘

پہلے نے کہا ’’جی تقریباً اتنی ہی ہے۔ اس میں سے بھی کچھ کھانے پینے پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ کبھی کبھار جب سیزن نہیں ہوتا تو یہ بھی نہیں ملتے۔‘‘

’’تو آپ کے گھر والے کیسے گزارا کرتے ہوں گے؟‘‘ میں نے حیرانی سے پوچھا ’’آپ نے یہاں آنے کے لیے بھی کچھ خرچ کیا ہو گا۔ کم از کم ٹکٹ اور پاسپورٹ کے لیے پیسے تو دیے ہوں گے‘‘

’’جی آپ درست کہہ رہے ہیں۔ ہم اسّی ہزار روپے فی کس دے کر یہاں آئے ہیں۔ جو تھوڑا بہت کماتے ہیں وہ گھر بھیج دیتے ہیں۔ خود کبھی کبھار کنگال بھی ہو جاتے ہیں۔ بس یہی فائدہ ہے کہ دو سال بعد ہمیں حج کی اجازت مل گئی ہے۔‘‘

تیسرا بولا ’’ہمیں یہاں آنے کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہوا ہے کہ ہم حج کر لیں گے‘‘

’’آپ کا مالک کیسا ہے اور اس کا آپ لوگوں سے سلوک کیسا ہے؟‘‘ میں نے سوال جاری رکھے

’’جی اچھا ہے۔ اس نے ہمیں حج کی اجازت دی ہے۔ بس جب اس کی آمدنی کم ہوتی ہے تو ہمیں تنخواہ نہیں دیتا ہے۔ ہم اس کے باغ میں بنے کھجوروں کے چھپر میں رہتے ہیں۔ مہینے میں ایک مرتبہ قریبی قصبے میں جا کر سودا سلف خرید لاتے ہیں۔ خود ہی پکاتے کھاتے ہیں۔ بس جی گزارا ہو رہا ہے‘‘

ان کی صحت اچھی نہیں تھی۔ یوں لگتا تھا کہ انہیں پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا ہے۔ لیکن ایسے صابر لوگ گلہ شکوہ بھی نہیں کرتے ہیں۔ وہ ہر حال میں گزارا کر لیتے ہیں۔ زبان سے اف تک نہیں کرتے۔ میں نے ان کے لیے چائے کے ساتھ سینڈوچ بھی لئے اور اپنا انٹرویو جاری رکھا ’’آپ کا پاسپورٹ آپ کے پاس ہے کیا؟‘‘

جواب آیا ’’جی نہیں! یہ مالک کے پاس رہتا ہے۔ جب ہم چھٹیوں پرجائیں گے تو پھر ملے گا‘‘

’’کب جائیں گے چھٹیوں پر؟ آپ کو گھر والے تو یاد آتے ہوں گے؟‘‘

میں نے دیکھا کہ میرے مخاطب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے کاندھے پر دھرے بڑے سے رو مال سے انہیں صاف کیا اور آہستہ سے کہا ’’بس دعا کریں۔ جب اللہ چاہے گا واپس چلے جائیں گے۔ آپ یاد کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ہم تو چوبیس گھنٹے انہی کی باتیں کرتے ہیں۔ ہمارا تو دل چاہتا ہے کہ آج ہی ان کے پاس چلے جائیں۔ لیکن ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ ابھی تک بڑی مشکل سے وہ رقم لوٹائی ہے جو یہاں آنے کے لیے زمیندار سے قرض لی تھی۔ ہمارے یا ہمارے گھر والوں کے پاس تو کچھ بھی نہیں بچا۔ جس طرح خالی ہاتھ آئے تھے اسی طرح اب بھی خالی ہاتھ ہیں۔ وہاں بھی مجبور تھے یہاں بھی مجبوری ہے۔ وہاں زمیندار تھا یہاں کفیل ہے۔ وہاں بھی سارا دن محنت کرتے اور بمشکل دو وقت کی روٹی نصیب ہوتی تھی یہاں بھی یہی ہو رہا ہے۔ ہمارے حالات ویسے کے ویسے ہیں‘‘

میں نے دیکھا کہ تینوں نے کھانا چھوڑ دیا تھا۔ وہ آنکھوں سے اُبلنے والے آنسوؤں کو صاف کر رہے تھے۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں نے ان کے دکھوں کو تازہ کر دیا ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ غربت بھی ایک بلا کی مانند ہے۔ جس سے چمٹ جاتی ہے اس کی جان نہیں چھوڑتی ہے۔ حتّیٰ کہ موت ہی اس سے نجات دلاتی ہے۔

ایک چائے کی دکان پر گوجرانوالہ کے ایک پہلوان سے ملاقات ہو گئی۔ وہ بار بار ایک ہی بات دُہرا رہے تھے۔ ’’ہم عام حاجیوں کے ساتھ نہیں آئے۔ بلکہ وی آئی پی پیکج لے کر آئے ہیں۔ ہم عام ہوٹل میں نہیں ٹھہرے بلکہ مہنگے ہوٹل میں مقیم ہیں۔‘‘

یہ بات انہوں نے دو منٹ میں تین دفعہ دہرائی تو میں نے دریافت کیا ’’آپ کا ذریعہ معاش کیا ہے؟‘‘

’’ہم کاروبار کرتے ہیں۔ گوجرانوالہ میں ہماری آئس کریم کی دُکان بہت مشہور ہے۔ نواز شریف نے بھی ہماری آئس کریم کھائی ہے‘‘

’’آپ کتنے لوگ حج کے لیے آئے ہیں؟‘‘ میں نے دریافت کیا۔

’’جی میں، میری بیوی، میرا بھائی، اس کی بیوی اور ہماری ایک بہن آئی ہے۔ ہم عام حاجیوں کے ساتھ نہیں بلکہ وی آئی پی پیکج لے کر آئے ہیں اور بہت مہنگے ہوٹل میں ٹھہرے ہیں‘‘

’’آئس کریم کے علاوہ اور کیا بزنس ہے آپ کا؟‘‘ میں نے جرح جاری رکھی۔

پہلوان جی نے بتایا ’’آئس کریم کا بزنس اتنا بڑا ہے کہ کچھ اور کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ہمارے پاس بڑے بڑے لوگ آتے ہیں آئس کریم کھانے کے لیے۔ نواز شریف نے بھی ہماری آئس کریم کھائی ہے‘‘

’’حجازِ مقدس آ کر اور مسجد نبوی دیکھ کر کیسا لگا آپ کو؟ میں نے ان کی توجہ دوسری طرف مبذول کرانے کے لیے پوچھا

’’جی ہم سوچ رہے ہیں کہ یہاں آئس کریم کا کاروبار شروع کر دیں تو بہت چلے گا۔ ویسے تو ہمارے پاس پہلے ہی پیسے کی کمی نہیں ہے۔ اسی لیے ہم عام حاجیوں کے ساتھ نہیں آئے بلکہ وی آئی پی پیکج لے کر آئے ہیں۔ آپ پاکستان آئیں تو ہماری دکان پر ضرور آئیں۔ بڑے بڑے لوگ آتے ہیں نواز شریف نے بھی ہماری آئس کریم کھائی ہے‘‘

میں نے پھر وہی سوال دہرایا ’’یہاں آ کر آپ کو کیسا لگ رہا ہے؟‘‘

’’اچھا ہی جی! لیکن گوجرانوالہ تو گوجرانوالہ ہے۔ ایسا شہر کہیں اور نہیں ملے گا۔ پھر ہماری دکان وہاں بہت مشہور ہے۔ بڑے بڑے لوگ۔۔ ۔۔ ۔‘‘

’’اچھا یہ بتائیں پاکستان کے حالات کیسے ہیں؟‘‘ میں نے ان کو آئس کریم کی دکان سے نکالنے کے لیے پوچھا

’’جی بہت اچھے ہیں۔ لگتا ہے آپ سعودیہ میں رہتے ہیں۔ جب ہی پاکستان کے حالات پوچھ رہے ہیں۔ بس پیسہ ہونا چاہیے۔ حالات کا کیا ہے۔ ہمارے پاس تو پیسہ اتنا ہے کہ دکان میں ہر وقت اے سی چلتا رہتا ہے۔ کیونکہ بڑے بڑے لوگ آتے ہیں۔ لاہور سے بھی آتے ہیں۔ نواز شریف نے بھی ہماری آئس کریم کھائی ہے‘‘

میں نے پہلوان سے اجازت چاہی ’’اجازت دیں۔ عشاء کا وقت ہوا چاہتا ہے‘‘

’’جی اللہ بیلی! میں تو پہلے کمرے میں جا کر ٹھنڈا ٹھار ہوں گا۔ پھر نماز پر جاؤں گا۔ ہمارے کمرے میں ہر وقت اے سی چلتا رہتا ہے اور کمرہ ٹھنڈا ٹھار رہتا ہے۔ یہ مہنگا ہوٹل ہے۔ کیونکہ ہم عام حاجیوں کے ساتھ نہیں آئے بلکہ وی آئی پی پیکج لے کر آئے ہیں‘‘

’’خدا حافظ‘‘ میں نے چلتے ہوئے کہا

’’ہماری دُکان پر ضرور آنا۔ بڑے بڑے لوگ آتے ہیں۔ نواز شریف نے بھی۔۔ ۔۔‘‘

جب تک میں کافی دور تک نہیں چلا گیا پہلوان کی آواز آتی رہی۔ آہستہ آہستہ میں اس کی دسترس سے دور ہوتا گیا۔

ایک صبح نماز فجر کے بعد میں حسب معمول روضہ رسولﷺ کی طرف چل پڑا۔ وہاں پہنچ کر سلام و درود پڑھا۔ سبز گنبد کی طرف نظر اٹھائی تو شفقت بھری آنکھیں نظر آئیں۔ یہ شفیق آنکھیں زمین سے آسمان تک نظر آ رہی تھیں۔ میں جیسے رنگ ونور میں نہا گیا۔ اپنے آپ کو ہواؤں میں اڑتا محسوس کرنے لگا۔ یہ منظر مجھے پتنگ کی طرح فضاؤں میں پہنچا دیتا تھا۔ یہ ناقابلِ فراموش نظارہ میرے دل و دماغ کو خیرہ کر دیتا تھا۔ پھر مجھے کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ چاروں جانب، تا حد نظر، پاتال سے آسمان کی حدوں تک آنکھیں ہی آنکھیں نظر آتی تھیں۔ ان آنکھوں کو دیکھنے کے لیے میرا پورا جسم آنکھیں بن جاتا تھا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حس جیسے کام ہی نہیں کرتی تھی۔ زبان گنگ ہو جاتی تھی وہ جیسے بھولنا بھول گئی ہو۔ کوئی صدا یاد نہیں رہتی تھی۔

میں نے پلکوں سے درِ یار پر دستک دی ہے

میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں

میں ریاض الجنۃ میں جانا چاہتا تھا۔ لیکن اس منظر نے جیسے مجھے جکڑ لیا تھا۔ میں کافی دیر تک اس حالت میں کھڑا رہا۔ نہ جانے کتنا وقت گزر گیا تھا۔ اچانک جیسے مجھے ہوش آ گیا۔ میں روضہ رسولﷺ اور ریاض الجنۃ کے سامنے کھڑا تھا۔ ایک سفید ریش بزرگ کو اپنے سامنے بیٹھے پایا۔ وہ سر اٹھا کر مجھے ہی دیکھ رہے تھے۔ اُن کی نظریں میرے اُوپر  جمی ہوئی تھیں۔ میں نے سوچا کہ شاید انہیں کسی مدد کی ضرورت ہے۔ میں اُنہیں اٹھانے کے لیے جھکا تو انہوں نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ میرے چہرے سے انہوں نے نظریں نہیں ہٹائیں۔ میں نے ہولے سے پوچھا ’’کیا آپ کو مدد کی ضرورت ہے؟‘‘

جب میں نے دیکھا کہ وہ اٹھنا ہی نہیں چاہتے تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کہا ’’بابا میرے لیے دُعا کرنا‘‘

’’آپ بھی‘‘ بابا نے کہا

میں کچھ نہ سمجھتے ہوئے وہاں سے چل دیا۔ کافی دیر تک بابا کی نظریں مجھے اپنی پیٹھ پر گڑی محسوس ہوتی رہیں۔

اس بابا کی نظروں میں معلوم نہیں کیا تھا کہ آج تک میں انہیں بھلا نہیں پایا۔ وہ مقام ہی ایسا تھا۔ نہ جانے وہاں کتنے لوگ اپنے دامن میں لعل و گہر لے کر پھر رہے ہوں گے۔ یہ انوکھی اور ناقابلِ فہم دنیا تھی۔

حرمین شریفین میں مجھے اپنے اندر ایک بہت بڑی کمی محسوس ہوئی۔ اپنے اندر یہ کمی مجھے کچھ لوگوں کو دُعا مانگتے دیکھ کر محسوس ہوئی۔ جب وہ دعا مانگ رہے ہوتے تھے تو ان میں اتنی عاجزی، اتنی انکساری، اتنا خشوع و خضوع اور اتنی گہرائی ہوتی تھی کہ مجھے ان پر رشک آتا تھا۔ میری دعاؤں میں ارتکاز اور گہرائی نہیں تھی۔ مجھے دعا مانگنے کا سلیقہ ہی نہیں تھا۔ بس ایک رٹا رٹایا سبق تھا جو دن میں بار بار پڑھ دیتا تھا۔ حالانکہ اس عربی دُعا کا ترجمہ بھی مجھے آتا تھا۔ سب سے بری بات یہ تھی کہ جس سے مانگتا تھا اس کو ہی نہیں سمجھتا تھا۔ اس کی قدرت کو، اس کی فیاضی کو، اس کی رحمت کو، مد نظر رکھ کر اس طرح سے نہیں مانگتا تھاجس طرح مانگنے کا حق ہے۔

کئی دفعہ میں سوچتا، یا اللہ یہ انکسار یہ عاجزی یہ درد کہاں سے لاؤں۔ کچھ لوگ دعا مانگتے تو اپنے آپ کو مجسم دُعا بنا لیتے تھے۔

اس پورے سفرِ حج میں میں نے کوئی دُعا ایسی نہیں مانگی جس سے مجھے خود بھی اطمینان ہوا ہو۔

لیکن! میں جس سے ملنے گیا تھا اس سے باتیں ضرور ہوئیں۔

دل کھول کر ہوئیں۔

آمنے سامنے ہوئیں۔

جی بھر کر ہوئیں۔

میں نے اپنا دل کھول کر دکھا دیا۔

اپنے دل کی کیفیت ظاہر کر دی۔

مجھے پورا اطمینان ہو گیا کہ میرا پیغام پہنچ گیا ہے۔

اِن میں کوئی دعا نہیں تھی۔ کوئی مانگ نہیں تھی۔ کوئی مطالبہ نہیں تھا۔ کوئی غرض نہیں تھی۔

بس جذبے تھے۔ جذبوں کی تحریر تھی۔ میرے دل کا پیغام تھا۔

میں مطمئن اور خوش تھا کہ میرا سفر ضائع نہیں ہوا۔

دُعاؤں کا کیا ہے۔ وہ تو کبھی بھی مانگ سکتا ہوں۔ پیغام پہچانا ضروری تھا۔

دل کا حال سنانا ضروری تھا۔ وہ پہنچ گیا۔

اب کچھ اور نہیں چاہیے تھا۔

میرے لیے اتنا ہی کافی تھا۔

اب میں اپنے کمرے میں صرف رات کے وقت ہی جاتا تھا۔ رات کے کھانے پر دوسرے ساتھیوں سے بھی ملاقات ہو جاتی تھی۔ ہمارے گروپ کے زیادہ تر لوگ آسٹریلیا سے آئے تھے۔ تاہم ان میں سے کچھ نیوزی لینڈ اور فیجی سے بھی تعلق رکھتے تھے۔ فیجی کے ہی کے ایک دو لوگ انتظامیہ کی بھی مدد کرتے تھے۔ ویسے تو لبیک کی انتظامیہ لبنانی نژاد عربوں پر مشتمل تھی۔ لیکن انہوں نے کچھ دوسرے لوگ بھی اپنی مدد کے لئے رکھے ہوئے تھے۔

ہمارے گروپ میں ایک خاتون بیٹے کے ساتھ حج ادا کرنے آئی تھی۔ یہ بنیادی طور پر فیجی کی ہندوستانی نژاد تھی اور آسٹریلیاکے شہر ملبورن میں رہتی تھی۔ فاطمہ نامی اس خاتون کی کہانی کافی دلچسپ تھی۔ وہ فیجی کے ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئی۔ جیسا کہ جوانی میں بہت سے لوگ اپنے مذہب سے بیگانہ ہو جاتے ہیں، وہ بھی انہیں میں شامل تھی۔ جوانی کی رنگ رلیوں میں وہ اپنے مذہب، اپنے ملک اور اپنے والدین کو چھوڑ کر آسٹریلیا کی بھول بھلیوں میں گم ہو گئی۔ اس دوران اس نے کئی بوائے فرینڈ بدلے، کئی شہر بدلے اور کئی رنگ بدلے، لیکن اس کی بے چین روح ہل من مزید کہتی رہی۔ وہ ہوس کی آگ بجھانے کے لیے رات دن ایک کیے رہی۔ اسے اطمینان پھر بھی نہیں ہو رہا تھا۔ اپنے مذہب کو وہ آزما چکی تھی۔ اس میں بھی اسے سکون نہیں ملا تھا۔ لہٰذا وہ اپنا آپ لے کر در بدر پھرتی رہی۔

آخر اس کی ملاقات ایک پاکستانی نوجوان سے ہوئی جو اُسے اچھا لگنے لگا۔ لیکن ایک مسئلہ پیش آ گیا۔ وہ یہ کہ اس پاکستانی نوجوان نے اس کا کھلونا بننے سے انکار کر دیا۔ اس حسینہ کو اپنے حسن پر بہت ناز تھا۔ مگر پہلی دفعہ کسی نے اس کے حسن کے ہتھیار کو ناکام بنا دیا تھا۔ اس نوجوان نے شرط رکھ دی کہ ہمارے درمیان تعلق جب ہی پیدا ہو سکتا ہے جب تم مسلمان ہو کر میرے ساتھ باقاعدہ نکاح کر لو ورنہ میں تمہارے قریب بھی نہیں آؤں گا۔

مونا نامی اس پلے گرل کا پہلی دفعہ کسی باقاعدہ مرد سے سامنا ہوا تھا۔ ورنہ اس سے پہلے اس سے جتنے بھی لوگ ملے تھے نہ وہ سنجیدہ تھے نہ یہ وفادار تھی۔ لہٰذا رات گئی اور بات گئی والا معاملہ ہوتا تھا۔

مونا نے اس پاکستانی نوجوان محمد علی پر اپنے ہتھیار آزمانے میں کوئی کسر روا نہیں رکھی لیکن اس کی ایک نہ چلی۔ بالآخر وہ ہار مان گئی۔ باقاعدہ بنیادی اسلامی تعلیم حاصل کر کے اس نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گئی۔ اس کا اسلامی نام فاطمہ علی رکھا گیا۔

محمد علی سے نکاح کے بعد اس کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہو ا۔ جو پہلے سے بالکل مختلف تھا۔ اس میں مکمل گھریلو زندگی تھی۔ خاوند کا پیار اور اعتماد تھا۔ ٹھہراؤ تھا۔ سکون تھا۔ سب سے بڑھ کر اطمینانِ قلب تھا۔

فاطمہ کو یہ زندگی راس آ گئی۔ اس کے اندر اسلام سے محبت کا چراغ روشن ہو گیا۔ جس نے اس کے اندر کے تمام اندھیروں کو دور کر کے اس کی جگہ ایک خوبصورت روشنی بھر دی۔ اٹھارہ سال کی رفاقت کے بعد فاطمہ کی زندگی میں اس وقت بھونچال آیا جب محمد علی کا ایک حادثے میں انتقال ہو گیا۔ ان کا ایک بیٹا تھا۔ محمد علی کے جانے کے بعد فاطمہ نے نہ صرف گھر اور بیٹے کی ذمہ داری سنبھالی بلکہ محمد علی کا کاروبار بھی کامیابی سے چلایا۔

اللہ کے سہارے اور ایمان کی طاقت نے اسے کمزور نہیں ہونے دیا۔ وہ اِسلام کی سچائی، حقانیت اور اس کی برکتوں سے فیض یاب ہوتی رہی۔ اب اللہ کا بلاوا آیا تو اس کے در پر حاضری دینے کے لیے بیٹے کے ساتھ چلی آئی۔ فاطمہ نے اپنے گھر میں درس قرآن اور اسلامی تعلیم کا مدرسہ بنایا ہوا ہے جہاں درجنوں بچے اسلامی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اسے اسلامی سوسائٹی میں عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

٭٭٭

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے