دریا کے کنارے ۔۔ احتشام اختر / اعجاز عبید

میں کوئی نقاد نہیں، نہ تنقید کی جغادری زبان سے واقف ہوں، اس لئے پہلے یہ اعتراف کر لوں کہ یہ تنقیدی مضمون نہیں ہے۔ محض تاثراتی  تبصرہ ہے۔ یوں بھی ایک ایسی کتاب پر کچھ لکھنا عجیب سا لگتا ہے جس میں پیش لفظ بھی میرا ہی لکھا ہوا ہو!!

شاعری محض شاعری ہوتی ہے، اسے پاپولر اردو ناولوں کی طرح جاسوسی، معاشرتی، سماجی، رومانی، تاریخی وغیرہ خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے تنقید کے ٹھیکیدار قسم کے حضرات اس بھی ترقی پسند، رومانوی، جدید، ما بعد جدید، یا ’ما بعد ما بعد جدید‘ قسم کی مصنوعی اصطلاحوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ لیکن میرا خیال یہ ہے کہ شاعری یا تو شاعری ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ اصل  یا جینوئن شاعری کی کوئی مقررہ سمت یا جہت نہ ہوتی ہے اور نہ ہونی چاہئے۔ اگر وہ کسی انسان کی شاعری ہے تو ہر انسانی جذبے سے مملو ہونا فطری ہے۔ کبھی انسان کا موڈ رومانی ہوتا ہے، کبھی کسی بات سے اسے تکلیف پہنچتی ہے، کبھی کسی کی غریبی پر ترس کھاتا ہے، کبھی کسی کی لا چاری پر آنسو بہاتا ہے، تو کبھی بے پناہ مسرت سے ہم کنار بھی ہوتا ہے۔ اور اگر اس کی شاعری دل سے نکلی ہوئی، سچے جذبے کی شاعری ہے، تو اس کے ہر قسم کے محسوسات کا اس میں شمول نا گزیر بھی ہے، اور پسندیدہ بھی۔

احتشام اختر ایسا ہی شاعر ہے جسے میں سچا شاعر کہتا ہوں۔ اس کی شاعری کی کئی جہتیں ہیں،  یہ نہیں کہہ سکتا کہ احتشام ہمیشہ سے اتنا ہی جینوئن شاعر رہا ہے، اس کے پہلے مجموعے میں اوڑھی ہوئی فیشن زدہ جدیدیت کی مثالیں بھی مل سکتی ہیں، لیکن اس کا حالیہ مجموعہ ‘دریا کے کنارے‘ میں وہ ایک میچیور  اور جینوئن شاعر کی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔ ایک معصوم بچے کی طرح جو دریا کے کنارے سے سیپیاں، گھونگھے، رنگ برنگے، خوبصورت، اور بد شکل ہر قسم کے پتھر۔۔ سب کچھ اپنی جھولی میں جمع کرتا رہتا ہے۔ اور معصومیت سے یہ اپنے آپ سے پوچھتا بھی رہتا ہے کہ۔۔

کنارے پر گھروندے ریت کے تھے

ندی تھی، کشتیاں تھیں، اب کہاں ہیں

خزانہ تھا کبھی دریا میں اخترؔ

 گہر تھے، سیپیاں تھیں، اب کہاں ہیں

کبھی اس کی شاعری محض رومانی  محسوس ہوتی ہے:

تیری آنکھوں میں یہ پیغام نہاں کیسا ہے

تیری باتوں پہ یہ چاہت کا گماں کیسا ہے

تم وہاں میں یہاں رہ گیا

بیچ دریا رواں رہ گیا

کھلے گا تمہارے لبوں کا یہ غنچہ

ہماری طرف مسکرا کر تو دیکھو

جب بھی آتی ہے وہ میرے گھر پر

میرے گلدان سجا دیتی ہے

تو کبھی محض بیانیہ  انداز میں کسی ایک جذبے کا اظہار۔۔۔

دھوپ کے مظالم سے ہم بہت پریشاں تھے

مل گئی ہمیں راحت آفتاب ڈھلنے سے

وہ کرائے کا مکاں اپنا نہ تھا

ہم جسے اپنا مکاں لکھتے رہے

رہتا نہیں اب کوئی بشر سانپ کے ڈر سے

ویران ہوا جاتا ہے گھر سانپ کے ڈر سے

کبھی سماجی سروکار اس طرح اس کی شاعری میں شامل ہو جاتے ہیں:

اپنی محنت سے غریبوں نے بنائے تھے کبھی

جل رہے ہیں آج وہ سارے مکاں اس شہر میں

ان کو پانے کے لئے ہم نے لہو بیچا یہاں

کس قدر مہنگی ہیں اختر روٹیاں اس شہر میں

زر دار اسے کاٹ کے لے جائے گا اک دن

محنت کی یہاں فصل جو تیار ہوئی ہے

سردی بہت تھی

موٹے اونی کپڑوں میں بھی کانپ رہے تھے سبھی مسافر

کالی رات کے اندھیارے میں

بھاگ رہی تھی ٹرین ہماری

اور اچانک پھر ڈبے میں

چھوٹا سا اک لڑکا آیا

آ کر اس نے جسم سپنے

اتارا بش شرٹ

اور پھر اس نےاس بش شرٹ سے

ڈبے کو یوں صاف کیاجیسے دیتے ہیں جھاڑو

(ٹرین کا سفر۔ نظم)

یہی رنگا رنگی سر ورق پر لکھے شعر سے بھی عیاں ہے

طوفانی صداؤں سے  گھر اپنا سجائیں گے

دریا کے کنارے ہم گھر اپنا بنائیں گے

غرض میں اسے سچی شاعری ہی سمجھتا ہوں اور اس رنگا رنگی کو بڑی خوبی سمجھتا ہوں۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ مروجہ فیشن کے مطابق اس کا سماج سے رشتہ ٹوٹا نہیں ہے، یہ سماجی سروکار اس کی غزلوں میں بھی جا بجا بکھرے ہوئے ہیں، لیکن ’دریا کے کنارے‘ کی نظموں میں بطور خاص۔ اگرچہ محض دس نظمیں مجموعے میں شامل ہیں، لیکن ان میں ’خدشہ‘، ’سرد ہوتی ہوئی آگ کا آخری نوحہ‘،  اور ’رفاقت‘ کے علاوہ ہر نظم میں سماج کی نا برابری کا ذکر ہے۔

مجموعے میں صفحہ ۱۹ سے ۹۸ تک تو غزلیات ہیں، لیکن ان کے علاوہ ایک ایک حمد، نعتیہ قطعہ، منقبت،  ۵۳ ماہئے اور سات دوہے بھی شامل ہیں۔

آخر میں اپنی پسند کے کچھ مختلف اشعار ملاحظہ کر لیں۔

چچا کے گھر میں رونق تو بہت تھی

بہو تھی بیٹیاں تھیں اب کہاں ہیں

شہر کے اندھیرے کو اک چراغ کافی ہے

سو چراغ جلتے ہیں اک چراغ جلنے سے

اگرچہ سوکھ گیا ہے، عزیز ہے پھر بھی

وہ ایک پھول جو رکھا ہوا کتاب میں ہے

ان کی یاد آنے سے ہو گئے ہیں یہ روشن

آنسوؤں کے یہ دیپک ہم کہاں جلاتے ہیں

ہم کو نسبت ہے یاد سے اس  کی

دل بھی ہے درد کے گھرانے سے

اس ایک شخص کا میں منتظر ہوں برسوں سے

جو کہہ گیا تھا، مرا انتظار مت کرنا

زخم بھرنے نہ پائے تھے دل کے ابھی

دشمنِ جاں سے پھر دوستی ہو گئی

خوابوں کے کھلونوں پہ مچلتی نہیں اختر

خواہش کی یہ بچی بھی سمجھ دار ہوئی ہے

گلہ تو مجھ کو بھی کرنا تھا پیاس کا لیکن

جو خود ہی سوکھ گئی اس ندی سے کیا کہتا

خواب یوں آنکھ کے حصار میں ہے

جیسے نغمہ کوئی ستار میں ہے

توڑ ہی ڈالا سچ نے دروازہ

کچی ہوتی ہیں جھوٹ کی کیلیں

پتوار نہیں چھٹی

ٹوٹ گیا ہوں میں

پر آس نہیں ٹوٹی

موتی سا چمکتا ہے

مول نہیں اس کا

پلکوں پہ جو ٹھہرا ہے

اک کچا گھڑا لے کر

پار کیا دریا

بس نام ترا لے کر

(ماہئے)

گیلی مٹی کی طرح من کا ہے آکار

گھڑ لو برتن پیار کے جیسے گھڑے کمہار (دوہا)

سرورق پر  خوبصورت معنی خیز فوٹو گراف، بیک کور پر احتشام اختر کی تازہ تصویر، فلیپ پر شاہد عزیز اور پریم گوپال متل  (جو اس مجموعے کے ناشر بھی ہیں) کی آرا  کے ساتھ اس کتاب کی قیمت دو سو روپئے ہے۔ ملنے کا پتہ:

ماڈرن پبلشنگ ہاؤس، ۹، گولا مارکیٹ، دریا گنج، دہلی ۔ ۱۱۰۰۰۲

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے