مجتبیٰ حسین کا فن : چند باتیں ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

 

مجتبیٰ حسین نے جب مجھ سے اپنی نو آمدہ کتاب ’’مجتبیٰ حسین کی بہترین تحریریں ‘‘ (جلد اول و دوم۔ مرتبہ حسن چشتی) پر ’’سیاست‘‘ یا ’’سب رس‘‘ کے لئے تبصرہ کرنے کو کہا تو (ہر چند میں نثر لکھنے سے ذرا گھبراتا ہوں ) میں فوراً آمادہ ہو گیا، اس لئے کہ مانا پچھلے کئی برسوں سے دہلی میں اُن کی رہائش کے سبب اب ہمارے مراسم محض کبھی کبھار مل بیٹھنے کے رہ گئے ہیں مگر کافی پرانے ہیں مرحوم اور نیٹ ہوٹل کے دنوں میں جب شاذؔ تمکنت کے ساتھ میں اور عوض سعید منکر نکیر کی طرح اُن کے دائیں بائیں ہوتے تھے تو اُس ہوٹل کی میزوں پر جن دو لوگوں کو ہماری نگاہیں تلاش کرتی تھیں وہ خورشید احمد جامی اور مجتبیٰ حسین تھے۔ یادش بخیر ! یہ ان دنوں کی بات ہے جب مجتبیٰ حسین نے ابھی باقاعدہ لکھنا شروع نہیں کیا تھا۔ اورینٹ میں سبھی اُن کی آمد کے منتظر رہتے تھے۔ اُس وقت بھی اُن کی باتوں میں وہی بانکپن، شیفتگی اور دل آرائی تھی جو اب اُن کی تحریروں میں اک پھول کا مضمون سو رنگ سے باندھتی ہے۔ شخصیت کی وہی دلپذیری، گمرَہی اور گم کر دگی جو آج ہے کل بھی تھی۔ ’’اُن کے چلن تو بگڑے ہوئے ابتداء کے ہیں ‘‘۔ مجھ سے غلطی یہ ہوئی کہ میں نے سوچا مجتبیٰ پر کچھ لکھنا اگر آسان نہیں تو ایسا مشکل بھی نہ ہو گا کیوں کہ اول تو میں مجتبیٰ کو پڑھتا رہا ہوں اُن سے ملتا رہا ہوں اور اُن کی تحریروں کے کچھ ’محاسِن ‘ کچھ خوبیاں بھی میرے ذہن میں ہیں۔ لیکن میں نے اپنے لئے دیوار یہ بنائی کہ مجتبیٰ پر لکھنے کے لیئے اُنہیں باقاعدہ پڑھنا چاہا۔ اب میں نے اُنہیں پڑھا تو پڑھتا ہی چلا گیا۔ ایک دفتر کھل گیا۔ دفتر بھی کہاں Pandora’s Box کہیے Can of Worms کہیے۔ اس میں بھی قصور مجتبیٰ کا نہیں میرا ہی ہے۔ اُنہوں نے تو انسان کے اَزلی دُکھ اور لمحاتی مَسرتوں، مزاح کی کرنوں، خوش رنگ مچھلیوں کو کانچ کے ایک خوشنما گھر، ایک کیَن میں بند کر رکھا تھا۔ میں نے ہی اسے کھولنے کی کوشش کی، تو قصور میرا ہی ہوا۔

طنز و مزاح نگاری، اصناف ادب میں شاید سب سے مشکل صنف ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ ایک مزاح نگار کی تحریر یا کامیاب ہوتی ہے یا ناکام، شاعری یا افسانے کی طرح کوئی درمیانی صورت ممکن نہیں اس لیئے اس صنف میں جو لوگ بہت کامیاب رہے ہیں۔ جنہوں نے اسے ٹوٹ کر چاہنے کے باوجود اس معشوقِ جفا پیشہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ کم کم ہی رکھا ہے۔ جیسے رشید احمد صدیقی، پطرس، جنہوں نے بہت عمدہ لیکن نسبتاً کم لکھ ہے۔ تو جو چند مستثنیات ہیں بہت زیادہ اور بہت اچھا لکھنے والوں کی، اُن میں بھی مجتبیٰ حسین سرِ فہرست ہیں۔ انہوں نے کالم نگاری سے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا۔ صحافت کے تقاضوں اور اپنے بڑے بھائی محبوب حسین جگر کے حکم کی تعمیل میں۔ لیکن جیسا کہ مشتاق احمد یوسفی نے اپنے بارے میں لکھا ہے ’’پیشہ سمجھے تھے جسے ہو گئی وہ ذات اپنی‘‘ مجتبیٰ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ روزنامہ ’’سیاست‘‘ کے لئے وہ برسوں روزانہ کالم لکھتے رہے۔ اب بھی ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔ کالم نگاری کو عام طور پر صحافتی زُمرے میں رکھا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے چند مشہور اور بہت اچھے ادیبوں نے اسے ایک ادبی وقار عطا کر دیا۔ جیسے فکرتونسوی ( ’’پیاز کے چھلکے ‘‘ روزنامہ ’’ملاپ‘‘ میں ) م۔ احمد ندیم قاسمی ( ’’عنقا‘‘، روزنامہ ’’اِمروز‘‘)، ابراہیم جلیس ( ’’وغیرہ وغیرہ‘‘ روزنامہ ’’جنگ‘‘)، شاہد صدیقی ( ’’شیشہ و تیشہ‘‘۔ روزنامہ ’’سیاست‘‘)۔ انتظار حسین، مشفق خواجہ اور بھی نام ہیں جو بحیثیت ادیب پہلے ہی مشہور ہو چکے تھے۔ بعد میں کالم نگار ہوئے۔ مجتبیٰ حسین کے ہاں یہ عمل معکوس ہے۔ اُنہوں نے پہلے کالم نگاری کا قلعہ سر کیا۔ پھر طنز و مزاح کی دوسری سلطنتوں کی سرحدوں پر اپنے لشکر کھڑے کر دیئے۔ انہوں نے اب تک سیکڑوں مضامین، خاکے انشایئے۔ سفر نامے اور کالم لکھے ہیں۔ جنہیں میں علاحدہ علاحدہ خانوں میں رکھ کر بات کرنا نہیں چاہتا، کیوں کہ یوں بات بہت پھیل جائے گی اور یوں بھی میری رائے میں اُن کے فن کے یہ سارے مظاہر اپنی صفات میں ایک دوسرے سے اس طرح پیوست ہیں کہ ایک اکائی میں ڈھل گئے ہیں۔ مجھے یہاں بس اتنا کہنا ہے کہ مجتبیٰ نے بھی منٹو کی (کہانیوں کی) طرح کچھ ایسے مضامین لکھے ہیں جیسے ’’مرزا کی یاد میں ‘‘، ’’مرزا دعوت علی بیگ‘‘ وغیرہ جن کا موضوع وہ عام لوگ ہیں جو ہمارے شب و روز میں شریک ہیں۔ یہ مضامین بھی میرے خیال میں خاکوں ہی کے ذیل میں آتے ہیں۔

مجتبیٰ حسین، جیسا میں نے پہلے لکھا بڑے بسیار نویس ہیں۔ وہ کیسے اتنا لکھ لیتے ہیں حیرت ہوتی ہے۔ اُن کے قاری کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہت لکھتے ہیں اور بہت خوب لکھتے ہیں۔ اب آخر انہیں کوئی کب تک پڑھے اور کیوں کر پڑھے۔ اُن کے قاری کو وہی مشکلات پیش آتی ہیں جو غالب کو معاملاتِ وصل میں در پیش تھیں کہ ’’گر نہ ہو تو کہاں جائیں ہو تو کیوں کر ہو‘‘ مجتبیٰ حسین کے ذہن کی مٹی بہت زر خیز ہے اور ایسے ایسے گُل کھلاتی ہے کہ آنکھ حیران رہ جاتی ہے۔ مشتاق احمد یوسفی نے مجتبیٰ حسین کی جن تین خوبیوں کا ذکر کیا ہے کہ قلم برداشتہ لکھتے ہیں۔ اُن کے ہاں تکرار کا عمل نہیں ہے اور اُن کی تحریروں میں تر و تازگی ہوتی ہے تو میری رائے میں ان تینوں خوبیوں کا راز اُن کے ذہن کی زر خیزی اور طباعی میں مضمر ہے۔

مجتبیٰ حسین کا ایک خاص وصف یہ ہے کہ وہ ایک بہت ہی عام اور بہت ہی معمولی آدمی ہیں اور یہ معمولیت کوئی معمولی چیز نہیں۔ فراقؔ جیسا شاعر اس پر ناز کرتا ہے۔ یہ معمولیت کیسے وجود میں آتی ہے۔ کب پیدا ہوتی ہے۔ فراقؔ ہی سے سُنیے: ’’۔۔ ۔ اور یہ معمولی پن کیا ہے ؟ جب شاعر کا زندگی سے اور دوسرے لوگوں سے، مظاہر فطرت سے فاصلہ کم سے کم ہو۔ دوسروں سے فاصلہ کیا حضور خود اپنے سے فاصلہ معلوم ہوتا ہے۔ میری شاعری ان فاصلوں کو درمیان سے ہٹا دینے کا نام ہے ‘‘ ( ’’باتیں ‘‘ فراق /ظ انصاری، رسالہ ’جامعہ‘ اکتوبر، دسمبر ۱۹۹۶ء ص: ۴۰)۔ مجتبیٰ بھی اپنے انداز میں ان فاصلوں کو درمیان سے ہٹانے کا کام کرتے رہتے ہیں۔ ایک اور بات جو مجتبیٰ حسین میں ہمیں ملتی ہے۔  (منٹو اور میراجی کی طرح) وہ ان کی سادگی اور ہندوستانیت ہے۔ یہ سادگی کسی ذہنی فرو ماندگی یا فرو مائگی کی پروردہ نہیں بلکہ روح کی لطافت اور پاکیزگی سے وجود میں آتی ہے، مجتبیٰ حسین کی ہندوستانیت میں اپنے ملک کی تہذیب، ثقافت، مشرقی نظریات اور وجدان کا جو حُسن ہے وہ مزاح کے ریشمی پردوں کے پیچھے اور دلفریب ہو جاتا ہے۔ اُن کے کئی مضامین اور خاکوں میں یہ جمالِ دلنشیں چشم و قلب کی راحت بن گیا ہے۔ لیکن جہاں وہ اپنے ملک کے تہذیب و تمدن اس کی علمی اور روحانی عظمت کے قصیدہ خواں ہیں اور اخلاقی اور سماجی قدروں کے زوال کے نوحہ خواں بھی، وہیں وہ آتے ہوئے وقت کی آہٹ کو ایک فلسفیانہ بے نیازی سے سنّنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ دیکھیے وہ اپنے شہر کے بدلتے ہوئے منظر کا نقشہ کسی طرح کھینچتے ہیں:

’’پہلے مینار نے کہا ’’وہ گھوڑے، وہ ہاتھی، وہ پالکیاں، وہ اُمراء اور شرفاء نہ جانے کہاں گئے وہ لوگ‘‘۔ تیسرے مینار نے کہا ’’یوں لگتا ہے جیسے یہ سب وقت کے تینسی ڈریس شو میں حصہ لینے آئے تھے اور چلے گئے ‘‘ ( ’’چار مینار اور چار سو برس‘‘)

ان کے اندر چھپا ہوا یہ انسان دوست، وطن پرست، معمولی آدمی، اختر الایمان کے ’ ایک لڑکا‘ کی طرح اُن کا پیچھا کرتا رہتا ہے۔ لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ مجتبیٰ حسین کو یہ پتہ ہی نہیں کہ اُن سے ہٹ کر ان کا کوئی ایسا وجود بھی ہے جو اُن کا تعاقب کر سکتا ہے۔ یہ عام آدمی اُن سے کہتا ہے کہ مرزا دعوت علی بیگ کو تحقیر آمیز نظروں سے نہ دیکھیں بلکہ اُن کے ساتھ ہمدردی کا رویہ اپنائیں۔ وہ منتری بنتے ہیں تو اُنہیں تیسرے درجے کے اَن ریز روڈ ڈبّے میں سفر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ یونیسکو جاتے ہیں تو اُن سے کہتا ہے پہلے اپنی بیوی کو خط لکھیں۔ جاپان ہویا ازبکستان، وہ اُنہیں ہر وقت اُن کے ہندوستانی ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ اگر کہیں کہیں اُن کی یہ ہندوستانیت اپنے مرکز میں سمٹ کر حیدرآبادیت میں ڈھل جاتی ہے تو اس میں بھی قصور ہماری عینک ہی کا ہوا کیوں کہ حیدرآباد ہندوستان سے الگ موجودہ گجرات (یعنی مابعد فروری ۲۰۰۲ء گجرات) تو نہیں۔ یہ تو ماضی میں بھی ہندوستان کی علامت اور حصہ رہا تھا اور اب بھی ہے۔ مجتبیٰ حسین کی ہندوستانیت کا ایک اور مظہر اُن کی زبان ہے۔ جو اپنی بلاغت کے باوجود بہت سادہ رواں اور سلیس ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجتبیٰ دوسری ہندوستانی زبانوں میں بھی مقبول ہیں۔ اگر وہ زیادہ فارسی آمیز زبان لکھتے تو شاید دوسری زبانوں میں اتنے مقبول نہ ہوتے اور غیر ملکی زبانوں میں ان کی تحریروں کا ترجمہ بھی مشکل ہوتا۔

مجتبیٰ حسین کے فن کی ایک عمومی خوبی یہ ہے کہ وہ عام سنجیدہ مظاہر میں ایک مَضحک پہلو ایک distorted image دیکھ لیتے ہیں۔ میں نے اسے ایک عمومی خوبی اس لیے کہا کہ یہ خوبی ہر اچھے مزاح نگار میں ہوتی ہے۔ جیسے میں یہ کہوں کہ تنڈولکر کی خوبی یہ ہے کہ وہ رن بناتا ہے تو ہر اچھا بیٹس میں رَن بناتا ہے۔ یہ خوبی تنڈولکر سے مخصوص تب ہو گی جب میں کہوں کہ وہ straight drive بہت اچھی لگاتا ہے تو مجتبیٰ حسین کو جب کسی کردار یا واقعہ میں کوئی مضحک پہلو دکھائی دیتا ہے تو اُن کا طائر خیال اُسے اپنی چونچ یا پنجوں کی گِرفت میں لے کر کبھی زمین سے بہت قریب اور کبھی بہت دور آسمانوں میں اڑنے لگتا ہے۔ پھر یہ طائر پر شکستہ اور یہ distorted image ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں اور زرد آسمان کی وسعتوں کو پُر کرنے کی کوششوں، نیلی جھیل، کالے بادل اور بنجر زمین کے مابین فاصلوں کو سمیٹنے اور ناہمواریوں کو ہموار کرنے کی سعیِ لاحاصل میں ان کی تحریروں کی سطروں کے بیچ کہیں تھک کر سو جاتے ہیں، شاید اسی لئے مشفق خواجہ کے خیال میں مجتبیٰ حسین بنیادی طور پر افسانہ گو ہیں۔ کہیں کہیں یہ افسانہ گوئی سیاسی، طنز میں ڈھل جاتی ہے۔ یہ انداز دیکھئے:

’’مشرقی دروازے سے ہوا کا کوئی جھونکا جب زور سے داخل ہوتا تھا تو ہوا کے لئے جگہ فراہم کرنے کی غرض سے مغربی دروازے پر کھڑا ہوا مسافر ڈِبّے سے باہر لہرانے لگتا۔ اسی اثناء میں ایک مسافر کے پاؤں پر صندوق گر گیا تو اس چوٹ کا کرب سارے مسافروں کے جسم میں دوڑنے لگا۔ منتری جی نے تھوڑی دیر کے لیے سوچا کہ اگر ساری قوم اس طرح متحد ہو جائے تو ملک کیا سے کیا ہو جائے گا‘‘۔

( ’’ریل منتری مسافر بن گئے ‘‘)

کہیں یہ افسانہ طرازی خالص مزاح کے روپ میں جلوہ گر ہوتی ہے جیسے قدیر زماں کے خاکے میں برطانیہ کے وزیر اعظم سے قدیر زماں کی انتہائی سنجیدہ گفتگو یا پی۔ سی اروڑہ کی شاذ تمکنت کو ایک بڑے ہوٹل میں دعوت، عملی زندگی میں بھی وہ اپنے دوستوں سے ایسا مذاق کرتے رہتے ہیں۔ ایک بار آواز بدل کر مجھے فون کیا۔ میں اُن کی آواز نہیں پہچان سکا۔ بولے ’’کیا میں مغنی صاحب سے بات کر سکتا ہوں ‘‘ میں نے کہا ’’جی۔ کہیے ‘‘ (میرا اصلی نام عبدالمغنی ہے ) پوچھا ’’کیا آپ مغنی تبسم ہیں ‘‘ میں نے کہا ’’نہیں ‘‘ پھر پوچھا ’’کیا واقعی مغنی تبسم نہیں ہیں ‘‘ میں نے کہا ’’جی نہیں ‘‘ اسی طرح کے سوالات کرتے رہے پھر بولے ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ مغنی ہوں اور مغنی تبسم نہ ہوں۔ ضُرور کوئی گڑبڑ ہے ‘‘ میں نے کہا ’’دیکھیے میں کہہ چکا میں مغنی تبسم نہیں ہوں ‘‘ بولے ’’اب تو مجھے بھی کچھ کچھ شک ہو رہا ہے ‘‘۔ پھر میرا نام پوچھ کر کہا ’’یہ تو تین نام ہوئے مصحف، پھر اقبال، اور اوپر سے توصیفی جو بالکل غیر ضروری ہے ‘‘ میں زچ آ گیا، میں نے کہا ’’میرا وجود ہی غیر ضروری ہے۔ آپ یہ بتایئے آپ کون ہیں ؟ آپ کو مغنی تبسم سے کچھ کام ہے مجھ سے کچھ کہنا ہے یا صرف میرے نام پر اعتراض ہے ‘‘ بچوں کی طرح ہنسنے لگے۔ بولے ’’میں مجتبیٰ حسین بول رہا ہوں ‘‘۔

مجتبیٰ حسین کے فن میں واقعہ کو افسانہ بنانے اور افسانے کا وقوعے کی طرف لوٹنے کا عمل اس طرح بار بار گھومتا، رکتا، جلتا اور بجھتا ہے جیسے اُجالوں اور اندھیروں کا کوئی کھیل ہو۔ لیکن وہ صرف افسانہ گوئی کی فرضی اُڑانیں ہی نہیں بھرتے۔ کبھی گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ ٹھٹول کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں:

’’ہم نے بیوی سے تنہائی میں کہا کہ وہ خدا کے لیے ہم پر کتّے کے سامنے برسنا بند کر دیں کیوں کہ اس سے کتّے کے اخلاق پر بُرا اثر پڑ رہا ہے …‘‘ (کتّو، انسانوں سے خبردار رہو‘‘)

کبھی فیضؔ یا مخدومؔ کے پاس بیٹھے ادب آمیز شوخی کے ساتھ کچھ کہتے کچھ سنتے، کبھی تکلف دوستوں کے درمیان قہقہے لگاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو کبھی زمین پر بیٹھے پاؤں کے ناخن سے مٹی کریدتے ہوئے کوئی نہایت بلیغ بات کہہ جاتے ہیں۔

’’تعزیتی جلسے کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس میں مرحوم کے سوائے ہر کوئی موجود ہوتا ہے یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے۔ جس شخص کے لئے یہ سارا اہتمام ہوتا ہے۔ وہی ’’مقامِ واردات‘‘ سے غائب رہتا ہے ‘‘ ( ’’تعزیتی جلسے ‘‘)

اُن کے موضوعات بے حد متنوع ہیں۔ دور حاضر کے سیاسی اور سماجی مسائل، متوسط طبقہ کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور غم، بدلتا ہوا تہذیبی منظر نامہ، اردو کی زَبوں حالی، تعلیم یافتہ لوگوں کی بے روزگاری، فسادات اور مشاعروں سے لے کر یونیسکو اور تکیوں کے غلاف تک وہ ہر موضوع پر نہ صرف اپنے شگفتہ انداز میں لکھ سکتے ہیں بلکہ جا بجا ایسے فکر انگیز جملے درمیان میں لاتے ہیں جس سے دل و دماغ ایک فرحت بخش سکون سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اُن کے ہاں ایک گہرا تجسُس ہے جیسے کوئی بچہ اندھیرے میں ٹارچ ہاتھ میں لئے گھوم رہا ہو۔ وہ کہیں کسی کونے میں دبکی ہوئی سچائی کے چہرے پر روشنی ڈالتا ہے، کہیں کسی سوتے ہوئے جذبے کو چھیڑتا ہے تو وہ آنکھیں مل کر اُٹھ بیٹھتا ہے، کہیں کوئی فسادی کسی لڑکی کی آبرو لوٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ ٹھٹک جاتا ہے، بہت سی مثالیں ہیں۔

اُن کی تحریر کی کشش اس کی برجستگی میں ہے، اگر مجتبیٰ حسین سے آپ کی صحبتیں رہی ہیں۔ تو انہیں پڑھتے ہوئے آپ کو یہی محسوس ہو گا کہ وہ آپ سے باتیں کر رہے ہیں۔ اور باتیں بھی کیسی ؟ مُہذب، برجستہ اور بے تکلف، ذاتی تعصب اور عناد سے پاک، ایک بے لوث برہمی یا شگفتگی۔ یہ طرز اظہار جب اُن کی غیر معمولی حس مزاح سے روشن ہوتا ہے تو ایسی مسرت میں ڈھل جاتا ہے جس میں بصیرت بھی شامل ہو، اُن کا مشاہدہ اس قدر تیز اور فکر کی زقند ایسی ہے کہ اگر کسی شخص کی گردن پر ایک تل اُن کے حافظے سے چپک جائے۔ تو وہ گردن کا نقشہ کھینچ لیتے ہیں۔ اور چونکہ یہ گردن بغیر چہرے کے بڑی بے تُکی لگتی ہے، اس لیے وہ اس شخص کا چہرہ بھی اپنے رو بہ رو پاتے ہیں۔ پھر انہیں لگتا ہے کہ وہ چہرہ متحرک ہے۔ تب انہیں اس شخص کی دو ٹانگیں دکھائی دیتی ہیں، اور یوں اُس شخص کا سارا سراپا اُن کے آ گے آ جاتا ہے۔ کبھی کبھی وہ پھر اسی تل کی طرف لوٹ آتے ہیں اور ذہنی اور جذباتی طور پر اسی تل سے چپکے رہتے ہیں۔ اس کی مثال بنّے بھائی کی مسکراہٹ ہے جو معشوق کی گردن یا اوپری ہونٹ پر تل کی طرح اُن کے دل و دماغ سے چپک گئی ہے۔

’’مجھے تو بعض اوقات پوری ترقی پسند تحریک کے پیچھے بَنّے بھائی کی مسکراہٹ کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے ‘‘۔ ( ’’سجاد ظہیر‘‘)

مجتبیٰ حسین کے خاکوں میں فکر جذبے اور مشاہدے کی آمیزش نئے نئے روپ دھارتی ہے۔ خاکوں میں وہ اپنی ذات کو وہیں درمیان میں لاتے ہیں جب ایسی صورت ناگزیر ہو جہاں خود اُن کے آئینۂ عکس کے بغیر اُن کے کردار کے نقوش، خوبیاں یا کمیاں اپنے واضح خد و خال نہ بناتے ہوں، خاکوں کے علاوہ اُن کے کالم، مضامین، سفر نامے بھی بے لگام انا کے اظہار، ذاتی عناد و تعصب اور ہر طرح کی معاصرانہ چشمک سے پاک ہیں۔ اُن کے طرز اظہار میں کہیں علم یا مطالعے کی نمائش نہیں۔ اُن کے بیشتر نقادوں کا یہ خیال بالکل صحیح ہے کہ وہ کہیں فلسفی بننے کی کوشش نہیں کرتے، کسی غیر ضروری بحث میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے، یوں بھی اکبر الٰہ آبادی جس طرزِ فکر کو ’’فالتو عقل‘‘ کا نام دیتے ہیں، مجتبیٰ کی تحریروں میں اُس کی کوئی جگہ نہیں۔

طنز کے بغیر اعلیٰ مزاح کا تصور ہی ادھورا ہے۔ یہ دونوں عناصر، بہت بلندی سے کھینچی ہوئی تصویروں کی طرح جب ایک دوسرے کو Overlapکرتے ہیں تب ہی تیسری بُعد اُبھرتی ہے اور مزاح نگار کی نگاہ کی زد میں کئی مناظر آنے لگتے ہیں۔ سمندر، جنگل، پہاڑ، کھیت کھلیان، بستیاں، ویرانے۔ بنیادی طور پر اچھا مزاح نگار نہ صرف ایک با شعور اور حساس شخصیت کا مالک ہوتا ہے بلکہ اس کی مثال اس سُنار کی سی ہے جو کسی طلائی زیور کو دیکھتے ہی اس میں ملاوٹ کا اندازہ کر لیتا ہے۔ اب اس کے ہونٹوں پر جو مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے۔ اُس میں طنز بھی شامل ہوتا ہے۔ اس لیے مجتبیٰ حسین کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ صرف مزاح نگار ہیں اُن کے ساتھ نا انصافی ہے۔ وہ بنیادی طور پر طنز نگار ہیں اور مزاح کا پیرایہ اختیار کرتے ہیں۔۔ ۔، سرور صاحب مجتبیٰ کی بذلہ سنجی اور witمیں ذہن کی کار فرمائی دیکھتے ہیں۔ اُن کے خیال کی تائید میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر مجتبیٰ کے پاس ایسی wit نہ ہوتی تو وہ اتنے کامیاب طنز نگار بھی نہ ہوتے۔ اُن کی تحریروں میں سیاسی اور سماجی طنز کے نمونے جا بجا ملتے ہیں۔ میں یہاں صرف چند مثالیں پیش کروں گا:

’’وہ بولا ’’بندہ نواز اس علاقے میں اتنے اسپتال ہیں کہ یہاں مریض اسپتال کی تلاش نہیں کرتے۔ بلکہ اسپتال خود مریضوں کی تلاش کرتے ہیں ‘‘ یہ کہہ کر اُن صاحب نے استیٹھسکوپ کو پھر سے اپنی جیب میں رکھ لیا اور سامنے والی گلی میں چلے گئے۔ میں بڑی دیر تک اس چلتے پھرتے اسپتال کو گلی کے اندھیرے میں غائب ہوتے ہوئے دیکھتا رہا…‘‘

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’پربھو بولے ’’میری مدد لے کر کیا کرو گے ؟ کسی فینانسر کو پکڑو۔ اب دنیا کے سارے کام مجھ سے نہیں فینانسر سے چلتے ہیں۔ تم جو چاہو سو کرو۔ میں تو اب اس دھرتی کے کاروبار میں نان الائنڈ رہنا چاہتا ہوں ‘‘۔ ( ’’ابھینیتا نیتا بن گئے ‘‘)

ایک اور مضمون ہے ’’ہمارے گھر میں چھاپہ۔۔ ۔ ‘‘ اس میں لکھتے ہیں:

’’جب یہ پتہ چلا کہ ہمارے گھر سچ مچ چھاپہ مارنے والے آئے ہیں تو ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا، ہم نے بیگم سے کہا ’’میں نہ کہتا تھا کہ ایک دن ہمارا شمار بھی بڑے آدمیوں میں ہو گا۔۔ ۔ ‘‘

سلیمان اریب کے آخری دنوں کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

’’۔۔ ۔ ۶/ ستمبر کی رات کو میں اپنی کتاب دینے کے لئے اریب کے پاس گیا اب اُن کی زندگی میں صرف چند گھنٹے باقی رہ گئے تھے۔۔ ۔ مجھے اشارہ کیا کہ میں کتاب کو کھولوں۔ میں نے کتاب کا پہلا ورق پلٹا۔۔ ۔ میں نے زور سے کہا ’’اریب صاحب یہ میری کتاب کا ’’پس و پیش لفظ‘‘ ہے۔ سب لوگ ’’پیش لفظ‘‘ لکھتے ہیں مگر میں نے ’’پس و پیش لفظ‘‘ لکھا ہے۔ یہ سنتے ہی اریب کے کمزور نحیف اور خشک ہونٹوں پر مسکراہٹ بڑی دور تک پھیل گئی۔۔ ‘‘ میں نے اریب کو غالباً اس دنیا کی آخری مسکراہٹ دی تھی اور یہ آخری مسکراہٹ ابھی تک میری آنکھوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اریب کے ہونٹوں سے یہ آخری مسکراہٹ چھین لوں اور اریب سے کہوں ’’اریب صاحب میری دی ہوئی مسکراہٹ مجھے واپس کر دیجئے ورنہ مجھ سے بُرا کوئی نہ ہو گا۔ یہ کیا بات ہوئی میں آپ کو مسکراہٹ عطا کروں اور آپ میرے سینے میں خنجر اتار دیں میں سچ مچ اریب سے یہ آخری مسکراہٹ چھین لینا چاہتا ہوں۔ کیوں کہ اریب کی زندگی کی غالباً یہ پہلی اور آخری مسکراہٹ تھی جس میں اریب کی زندگی کا سارا درد اور سارا کرب سمٹ آیا تھا۔ مجھے یوں معلوم ہوتا تھا جیسے اریب کے ہونٹوں سے ان کی آنکھیں ٹپاٹپ ٹپکنے لگی ہیں اور زندگی قطرہ قطرہ بن کر خشک ہونے لگی ہے ‘‘۔

مجتبیٰ حسین کی تحریروں میں ایسی کئی مثالیں ہیں۔ جہاں ان کی سرشاری اور خَندہ روئی کے ساتھ یاس اور حزن کے رنگ گھل مل گئے ہیں۔ کہیں وہ اپنے دکھ کا برملا اظہار کرتے ہیں جیسے سلیمان اریب کے اس خاکے میں۔ کہیں ایک گہرے شدید غم کو چھپانے کی ناکام کوشش میں سرگرم عمل دکھائی دیتے ہیں جیسے شاذ تمکنت کے خاکے میں وہ شاذ کی موت سے زیادہ قطب مینار کے بارے میں فکر مند نظر آتے ہیں۔ قطب مینار جو بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا تھا جب پھر نظر آنے لگتا ہے تو وہ بظاہر مطمئن دکھائی دیتے ہیں، لیکن در اصل اُنہیں بڑی حیرت ہے، دکھ ہے کہ Richter اسکیل پر اتنا شدید زلزلہ آیا اور یہ قطب مینار ابھی تک اپنی جگہ کھڑا ہے۔ آخر یہ کس پتھر کا بنا ہے ؟ دکھ کے یہ برملا اور در پردہ اظہار۔۔۔  اُن کی تحریروں میں ایسے مقامات کئی بار آئے ہیں۔ لیکن اُن کا دکھ یک رخی Unidimensional نہیں ہے۔ اُن کے ہاں ذاتی دکھوں کے زخم ہی نہیں وہ نشتر بھی ہے جو سماجی نا انصافی، سیاسی خود غرضی، جبر و تقدیر، زندگی کی سفّاکی، انسانی درندگی اور ہر نوع کی نا انصافی کا پردہ چاک کرتا ہے۔

خود مجتبیٰ حسین کا کہنا ہے کہ جب وہ صرف نو، برس کے تھے تو فسادات میں بلوائیوں نے اُن کی آنکھوں کے سامنے اُن کے ماموں کو قتل کر دیا تھا۔ اُن کے گھر کے وطنیت پرست ماحول اُن کے افراد خاندان کی ترقی پسند تحریک سے وابستگی اور سب سے بڑھ کر یہ خود مجتبیٰ حسین کی کشادہ جبینی تھی جس نے اُنہیں نہ صرف اس المیے کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا بلکہ ایک ایسی درد مندی عطا کی جس نے اُن کے ذاتی غم بلکہ ساری قوم بلکہ اس سے بھی ماوراء ساری انسانیت کا درد اُن کی روح میں سمودیا۔ اُنہوں نے زندگی سے کٹ کر اپنی ذات اور تنہائی میں محصور ہونے کی بجائے زندگی کے مظاہر میں اپنے دکھ کا پر تو دیکھ لیا۔ اور اُن کے مزاح میں وہ بے غرضانہ کیفیت آ گئی جو غالبؔ سے مخصوص ہے۔ غالبؔ کے بارے میں وزیر آغا لکھتے ہیں ’’یہاں مزاح ایک شدید یا سیت اور احساسِ محرومی سے تحریک لیتا ہے اور ایک ایسی صورت حال کو وجود میں لاتا ہے جہاں آنسو اور تبسم ایک دوسرے سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔ یہ فن کی معراج ہے ‘‘۔ موجودہ مزاح نگاروں میں آنسو اور تبسم کا یہ امتزاج اپنی انتہائی مؤثر شکل میں مجھے دو مزاح نگاروں میں دکھائی دیتا ہے، سب سے پہلے مشتاق احمد یوسفی اور پھر مجتبیٰ حسین۔۔ ۔،

________

(روزنامہ ’’سیاست‘‘ حیدرآباد، ’’شگوفہ‘‘ حیدرآباد

’’مجتبیٰ حسین۔ فن اور شخصیت‘‘ مرتب: ڈاکٹر محمد کاظم)

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے