ٹی شرٹ۔۔۔ ڈاکٹر صادقہ نواب سحرؔ

 

سالانہ جلسہ اس سال’’شری رنگ بھون‘‘ میں رکھا گیا تھا کیونکہ کالج کا آڈیٹوریم چار ہزار طلبا کے لئے ناکافی تھا۔ شام چار بجے تقریباً آدھا درجن سجی سجائی، ساڑیوں میں ملبوس لڑکیاں پوجا کی تھالی میں ننھا سا دیا لئے کھڑی تھیں۔انہیں مہمانانِ خصوصی کے آتے ہی ان کی آرتی اتار کر، تھالی میں رکھی ہلدی اور کم کم لگانا تھا۔ آئے ہوئے مہمان کچھ روپے تھالی میں رکھ دیتے۔ فوٹو گرافر کو کھٹا کھٹ تصویریں نکالنی تھیں۔وہیں نادرہ نے لڑکیوں کے پیچھے اس عجیب لکھاوٹ والی ٹی شرٹ کو دیکھا۔

’’تمہیں پتہ ہے یہاں کیا لکھا ہے؟‘‘

’’ہاں ‘‘ ٹی شرٹ میں سے وہ بے شرمی سے بولا۔

’’کیا لکھا ہے بتاؤ تو!‘‘

’’آج کل تو ٹی وی پر ایڈ ورٹائز کرتے ہیں ‘‘ وہ جواب بچا گیا، بوکھلا کر بولا ’’یہ تو اچھی بات ہے نا؟۔۔۔۔۔ ایک طرح سے میں سرکار کی مدد ہی کر رہا ہوں۔ ‘‘

’’ٹی وی کی بات اور ہے۔ ‘‘

’’آپ کو یہاں موجود لڑکیاں دکھائی نہیں دیتیں ؟‘‘ وہ ذرا سا چڑ گیا تھا، ‘‘ کیسے کیسے کپڑے پہنتی ہیں ! بتاؤں ؟‘‘

ہاں بتاؤ تو! مجھے تو کوئی قابل اعتراض حالت میں نظر نہیں آتی۔ ‘‘

’’بتاؤں !۔۔۔۔۔ ابھی بلا کر بتا سکتا ہوں۔ ‘‘ وہ جوش میں آ گیا۔

’’بالکل بتاؤ‘‘۔ نادرہ نے ہال میں چاروں طرف نظر دوڑائی۔

’’جانے دیجئے بیکار میں برا مان جائیں گی۔ دوست ہیں۔‘‘ وہ اپنے جوش کو قابو میں کرتے ہوئے بولا ’’مگر ہاں ! ایسی ٹی شرٹ صرف میں ہی نہیں پہنے ہوں۔ اور بھی ہیں۔۔۔۔۔ ہمارے پورے گروپ نے پہن رکھی ہے۔

۔۔۔۔۔ ان سے تو آپ کچھ کہتی نہیں۔‘‘

’’مجھے تو کوئی نظر نہیں آ رہا۔ ‘‘

’’ویسے میں اِس کالج کا نہیں ہوں۔ ممبئی یونیورسٹی میں مینیجمنٹ کا اسٹوڈنٹ ہوں۔ ‘‘

’’ابھی ہمارا علاقہ پولوٹ نہیں ہوا ہے۔ ‘‘

’’کیا بات کرتی ہیں ؟ کتنے لڑکے لڑکیاں ، کیا کیا کرتے ہیں ، آپ کو پتہ نہیں کیا؟‘‘

’’جو چھپ کر کرتے ہیں ، ان پر ہمارا بس نہیں۔ان کو کیسے روکیں ؟۔۔۔۔۔ پھر تم تو کھلے عام کر رہے ہو۔ یعنی برائی کو عام کر رہے ہو۔۔ آج کل تو۔۔۔۔ ‘‘ نادرہ زیادہ بحث کرنا نہیں چاہتی تھی، بات ادھوری چھوڑ کر وہاں سے ہٹ گئی اور اسٹاف کے لئے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔ بی اے کے دوسرے سال کی لڑکیاں لاونی اچھی کر رہی تھیں۔خوبصورت مہاراشٹری نوواری کاشٹا ساڑی میں وہ غضب ڈھا رہی تھیں۔

’’ڈھولکی چا تالا وَر، گھنگھرانچا بولا وَر

می ناچتے، می ڈولتے،

عشقاچہ دربارات‘‘

نادرہ نے محسوس کیا کہ سچ مچ ڈھولکی کی تال پر گھنگھروؤں کے بول عشق کے دربار میں گونج اٹھے ہوں۔

رقص ختم ہوتے ہی ہال تالیوں سے گونج اٹھا کہ اِتنے میں وائبر یٹر پر رکھا ہوا فون تھر تھرانے لگا۔ شور و غل سے نکل کر فون اٹھانے کے لئے نادرہ نیچے آئی تو دیکھا وہ سیڑھیوں کے پاس کھڑا تھا۔

’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ اسے اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھ کر نا درہ کا جی پھر سلگ اٹھا

’’جوزف ڈی میلو‘‘

’’تمہاری ماں نے دیکھی ہے یہ شرٹ؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

’’کچھ بولی نہیں ؟‘‘

’’کیوں بولیں گی‘‘۔

’’پڑھنا آتا ہے انہیں ؟‘‘

’’کیا میڈم! آپ تو الزام لگائے جا رہی ہیں۔‘‘

اس نے شکایتی لہجے میں کہا۔

’’اس میں الزام کی کیا بات ہے؟ بہت سے ماں باپ پڑھے لکھے نہیں ہوتے۔ ‘‘، نادرہ پلٹی اور موبائیل فون لگانے لگی۔ تو پیچھے سے اس نے آواز دی۔

’’آپ کے بیٹے کا نام روشن ہے نا؟‘‘

واقعے کے اس موڑ کے لئے وہ تیار نہیں تھی۔ آخر روشن کیوں آ گیا یہاں !، نادرہ نے سوچا۔

’’ہاں۔‘‘

’’وہ میرا دوست ہے۔ ‘‘ وہ یک لخت نرم پڑ گئی۔

’’چھٹیوں میں روشن میرے بھائی کی کلاس میں گٹار سیکھنے جاتا تھا۔ ‘‘

نادرہ نے سوچا، ’ اس سے پہلے کہ جوزف یا اس کا میوزک ٹیچر بھائی توڑ مروڑ کر اپنے انداز میں یہ واقعہ روشن کو بتائے،۔۔ میں ہی اسے بتا دوں۔ کوئی غلط فہمی ہمارے رشتے میں نہ پیدا ہو جائے۔ ‘

’’آج گیدرنگ میں ایک لڑکا عجیب سی ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھا‘‘۔

’’ہیو اے سیف سیکس نا!۔۔۔۔ آپ نے اسے بھاشن تو نہیں دے دیا؟‘‘، روشن نے چھوٹتے ہی پوچھا۔

’’ہاں ٹوکا تو، تبھی تو اس نے اپنا نام بتایا۔۔۔۔ جوزف ڈی میلو!‘‘ روشن کی آنکھیں پھٹ سی گئیں۔

’’آپ کو کیا ضرورت تھی، اسے ٹوکنے کی؟‘‘ ایک سکنڈ کا وقفہ لے کر اس نے ماں سے سوال کیا۔ پھر جواب بھی جیسے خود اسی نے دیا ’’آج کل تو ٹی وی پر اشتہار دکھاتے ہیں !‘‘

’’تم بھی وہی کہہ رہے ہو، جو وہ کہہ رہا تھا۔ ‘‘ نادرہ کو بیٹے سے اس جملے کی توقع نہیں تھی۔

’’ٹھیک تو ہے۔۔۔۔ ‘‘

’’کیا ٹھیک تو ہے؟‘‘

’’اب میرے دوست میری ہنسی اڑائیں گے۔ آپ نے یہ ٹھیک نہیں کیا۔ ‘‘ وہ اپنی رو میں کہتا گیا۔

ہال سے کچن کی طرف جاتے ہوئے نادرہ نے احساس کیا۔ ’اب میرے طلبا‘‘ صرف میرے طلبا نہیں رہ گئے۔ بیٹے کی عمر کے ہو گئے ہیں۔۔۔میں نے غلطی تو نہیں کی جوزف کو ٹوک کر؟‘، وہ خود سے سوال کرتے ہوئے ہال اور کچن کی درمیانی سرونگ ونڈو سے ہال میں کھڑے ہوئے بیٹے کا منہ تکنے لگی۔

’’آپ کو کیا کرنا ہے ان کے پہناوے سے؟….آپ کا جاب تو صرف پڑھانا ہے۔ میں بھی یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں۔ ہمارے پروفیسر کچھ نہیں بولتے!‘‘

’’میں تو سمجھی تھی۔ تم تو کم سے کم ایسے نہیں ٹوکو گے۔ تم تو ایسے کپڑے نہیں پہنتے نا؟‘‘

’’پہن تو سکتا ہوں ، مگر پہنتا اس لئے نہیں کہ میرے گھر والوں کو پسند نہیں ہو گا…

چھوٹا شہر ہونے کی وجہ سے آپ کے اسٹوڈنٹس کو ایکسپوژر نہیں ملتا۔ وہی حال آپ کا بھی ہے۔ آپ نہیں جانتیں۔نئے زمانے کے اسٹوڈنٹس کیسے ہوتے ہیں۔…… اور ہمارے پروفیسر!….. بولتے تو کیا! ارے وہ تو لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر سگریٹ بھی پیتے ہیں ، ڈرنکس بھی لیتے ہیں۔‘‘ وہ منہ پھیر کر کھڑا ہو گیا۔

نادرہ دھیرے سے ہال میں لوٹ آئی۔ بیٹے کے بہت قریب آ گئی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی، ’’ ٹھیک ہے بیٹا…‘‘

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے