مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔

پچھلی بار کی طرح اس دفعہ بھی کچھ نہیں کہنا ہے۔۔۔ یا ۔۔۔ بہت کچھ کہنا ہے لیکن ۔۔۔۔۔

بس یہ ہندی کی کہانی رسم الخط کی تبدیلی اور برائے نام ترجمے کے ساتھ پیش ہے۔

 

مایوس پرندے ۔۔۔ بھومیکا دوِویدی

____________________

 

دنگا اپنے پورے شباب پر تھا۔ سرکاری دفتر، عمارتیں، گاڑیاں دھڑا دھڑ جل رہی تھیں۔ دکانوں پر تالے پڑ گئے تھے۔ بازاروں میں سناٹا پسرا پڑا تھا۔ سڑکوں پر جلی ہوئی سرکاری بسوں کے ٹائر ٹہل رہے تھے اور کار موٹروں کے پرخچے منڈلا رہے تھے۔ بھلے ہی کرفیو کا اعلان ہو چکا تھا، پھر بھی پولس کا گشت، لاشوں کے سڑتے گوشت اور چیل کووؤں کے باعث سڑکیں ویران نہیں کہی جا سکتی تھیں۔ اس علاقے میں بسی ہوئی عوام کی جانیں حلق میں اٹکی ہوئی تھیں، خاص کر بیچ بازار اور چوک علاقے میں رہنے والوں کی حالت بدترین تھی۔ لوگوں نے اپنے گھر کی کھڑکی دروازے اس قدر بند کر رکھے تھے، گویا مکانوں میں کوئی رہائشی بچا ہی نہ ہو۔

ظہرُل خدا بخش انصاری بہت لاچار سا کبھی آسمان کو تاکتا، کبھی اپنے چھوٹے سے آنگن میں اس پار سے اس پار تیز قدموں سے چہل قدمی کرتا، کبھی رک کر چلم کے دو تین کش کھینچتا۔ اس کی بیکلی کا بیان مشکل تھا۔ اس کا تقریباً سوا سال کا نواسا لگاتار روئے جا رہا تھا۔ وہ ننھی سی جان دونوں بوڑھا بوڑھی کے جی کو ہلکان کیے تھا۔ آنگن کے کنارے کچی زمین پر بیٹھی زہرہ اسے گود میں لئے، ہاتھ کا بنا پنکھا جھلے جا رہی تھی اور کسی بھی طرح اس روتے بچہ کو چپ کرانے کی کوشش بھی کر رہی تھی۔ ’’میری بات مانو تو پیچھے کی سڑک والے پجاری کے پاس رکھ آؤ اسے۔ وہ لوگ ابھی ابھی نکلے ہیں اس گلی سے، پھر لوٹ کے آنے میں کچھ وقت تو لگ ہی جائے گا۔ تب تک تم پجاری کے یہاں سے ہو آؤ گے۔ کم سے کم کچھ دن تو اسے وہیں چھپا رہنے دیتے ہیں۔۔  دیکھو ان کم بختوں کا کوئی بھروسہ نہیں، وہ اس نادان کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔۔۔ سن رہے ہو نا۔۔۔‘‘ زہرہ کی آواز بے انتہا گھبرائی ہوئی تھی۔

’’ہم۔۔۔ سن رہا ہوں۔۔۔‘‘ ظہرُل ایک جگہ تھم گیا۔ اس کی بیچین ٹہل ذرا رک گئی، ’’کہتی تو تم ٹھیک ہو، پجاری کے اپنے بھی دو تین بچے ہیں۔ وہیں مندر کے چوبارے میں کھیلتے رہتے ہیں۔ ان کے کنبے میں یہ محفوظ تو رہے گا۔ لیکن۔۔۔ لیکن پجاری مانے گا، اس بات پر اعتبار نہیں مجھے۔۔۔‘‘

’’مانے گا کیوں نہیں۔۔۔ ضرور مان جائے گا۔ اسنے پچھلی بار بھی ہماری پوری مدد کی تھی۔۔۔ اور پھر دیکھو، کچھ ہی دن کی تو بات ہے۔۔۔ دنگا ختم ہو یا نہ ہو، ان کمینے پولس والوں کا دورہ ضرور کم ہو جائے گا ۔۔۔ پھر ہم اپنے لال کو واپس لے آئیں گے۔۔۔ جو مال اسباب تھا گھر پے، سب تو چھان کر لے گئے تھے مردود۔۔۔ اب تو یہی ایک گھر کا چراغ بچا ہے ہمارے پاس۔۔۔ اس کی حفاظت نہ کر سکے تو ہم لوگوں کے جینے کا کوئی مطلب ہی نہیں۔۔۔ میری بات مانو، فوراً نکل جاؤ تم۔۔۔ محمود یہاں ہوتا تو زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔ لیکن محمود کو بھی اسی دم جانا تھا۔۔۔ میری سمجھ سے اس نازک وقت کم از کم اس معصوم کو یہاں سے ہٹا دینا ہی بہتر ہے۔ تم وقت خراب مت کرو۔ جلدی جاؤ، ورنہ وہ کمینے کسی بھی گھڑی آ دھمکیں گے۔۔۔ خدا نہ کرے کہ وہ پلٹ کے آئیں، لیکن اگر وہ آ ہی گئے تو میں انہیں تب تک الجھائے رکھوں گی، جب تک کہ تم لوٹ نہیں آتے۔۔۔‘‘

’’ٹھیک ہے، تمہاری بات مان کر چلا تو جاتا ہوں، پجاری نہ مانا تو الٹے پاؤں لوٹ کے آ ہی جاؤں گا۔۔۔ خیر، لاؤ دے دو اسے مجھے۔ وہ بڑے والے تولیے میں لپیٹ کر کے دے دو۔۔۔‘‘

دونوں میاں بیوی کی تھوڑی دیر بات کی رضا مندی کے بعد ظہرُل اپنے ننھے پوتے کو گود میں اٹھائے، پیچھے والے دروازے سے سکری گلی کی طرف نکل گیا۔

اس کے نکلے ہوئے ابھی منٹ بھی پورا نہیں بیتا تھا، کہ زہرہ نے دروازے پر کنڈی کھٹکھٹانے کے ساتھ ساتھ آتی ہوئی تیز مردانہ آوازیں سنیں۔۔۔ ’’دھڑ دھڑ دھڑ۔۔۔ دھڑ دھڑ دھڑ۔۔۔ ارے منحوسوں کہاں مر گئے ہو، دروازہ کھولو۔۔۔ دھڑ دھڑ دھڑ۔۔۔‘‘

زہرہ سر کا دوپٹہ ٹھیک کرتی، خدا سے سلامتی کی دعا مانگتی ہوئی، جلدی جلدی دروازے تک پہنچی۔ اس کے کنڈی کھولتے ہی پولس کی وردی پہنے تین حولدار، ایک ڈرائیور اور ایک داروغہ، کل پانچ مرد گھر کے اندر دھڑدھڑاتے ہوئے داخل ہو گئے۔ ان میں سے ایک غراتے ہوئے بولا،

’’دروازہ کھولنے میں اتنی دیر کیوں کی۔۔۔‘‘

’’سیویاں چھان رہی ہو گی بیٹھ کر۔۔۔ ہمیں کھلانے کے لئے۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔‘‘  دوسرے نے کھلی اڑائی۔۔۔ اس کی بات سن کر سبھی ہنسنے لگے۔

زہرہ خاموش کھڑی، اپنا دوپٹہ کس کے پکڑے، ان ظاہر ٹھہاکوں کو سنتی رہی۔ زہرہ ان منحوسوں کے ناپاک ارادے خوب جانتی تھی۔ یہ ان کا کوئی پہلا پھیرا تو تھا نہیں۔ صرف اسی گھر میں کیوں، آس پاس کے تقریباً سبھی گھروں میں یہ انسان کا بھیس دھارے بھیڑیے باری باری سے چکر لگاتے تھے۔ اول تو دنگوں کی مارا کاٹی کی وجہ سے اور اوپر سے ان سبھی سرکاری وردی والے ڈاکوؤں کے ظلموں کی وجہ سے پورے کے پورے دنگے سے متاثر علاقوں کے لوگ اپنے گھروں کو بند کر کے، قیمتی چیزیں سمیٹ کر کہیں نہ کہیں محفوظ ٹھکانوں کو  جا چکے تھے۔ آس پاس کے مکانوں میں صرف ظہرُل اور زہرہ ہی تھے، جو بیٹے کی غیر موجودگی اور بہو کی بیماری کے باعث رک گئے تھے، اور ان گِدھوں کے شکار بن رہے تھے، ورنہ تو، جھگڑا بڑھنے کا اندیشہ ظہرُل کو پہلے ہی ہو چکا تھا، اور وہ کوئی نہ کوئی خاندان والوں کے پاس اب تک چلا بھی گیا ہوتا۔

اب کی بار کمینوں کا سرتاج داروغہ، اکیلی عورت زہرہ سے بولا، ’’بولتی کیوں نہیں۔۔۔ زبان پر تالے جڑے ہیں کیا۔۔۔ جواب دے، کہاں ہے بیٹا تمہارا۔۔۔ شہر میں فساد کراتا ہے، اور گھس جاتا ہے اماں کے پلو میں۔۔۔ نکال کر لا اسے۔۔۔ کہاں چھپا کے رکھا ہے۔۔۔ اور وہ بڈھا، شوہر کہاں ہے تمہارا۔۔۔ دکھ نہیں رہا۔۔۔ پچھلی بار تو یہیں بیٹھا تھا سانڈ جیسا۔۔۔ اب کہاں مر گیا۔۔۔‘‘

’’جی۔۔۔ صاب، وہ۔۔۔ ن۔۔ ن۔۔۔ نماز پڑھنے۔۔۔ گئے ہیں۔۔۔‘‘  زہرہ نے ہکلاتے ہوئے ظہرُل کو بچانے کی کوشش کی۔ اس پر داروغہ پھر چیخ پڑا۔

’’نماز پڑھے گیا ہے۔۔۔ لیکن پورے علاقے میں کرفیو لگا ہے، وہ حرامزادہ کیا یہ نہیں جانتا۔۔۔ یہ تو سراسر سرکاری حکم کی نافرمانی ہے۔۔۔ آنے دو سالے کو، ابھی اندر کرتا ہوں۔۔۔ لڑکا ہے کہ شہر بھر کا غنڈا بنا پھرتا ہے اور مائی باپ اللہ کا نام لے رہے ہیں۔۔۔ بہت خوب۔۔۔ آخری بار تمہارے لڑکے کو دنگائیوں کے ساتھ دیکھا گیا ہے، تم لوگ لاکھ اللہ کا نام لو، اس سے کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔ سمجھیں۔۔۔ بس ایک بار تمہارا لڑکا ہتھے چڑھ جائے ہمارے، پھر دیکھنا کیا گت بناتے ہیں اس کی۔۔۔ ایک ایک جرم قبولوا کے رہیں گے۔۔۔‘‘

’’صاحب اسنے کچھ نہیں کیا، یقین کیجیے میری بات پر، وہ تو لڑائی جھگڑا ہونے کے پہلے ہی شہر سے باہر حاجی بابا کے مزار پر چادر چڑھانے چلا گیا تھا۔۔۔ اس کی عورت بھی بہت بیمار تھی، اسے تو ان فسادوں کا کوئی علم بھی نہیں۔۔۔‘‘

اس پر حولدار زور سے چیخا،

’’چپ۔۔۔ بہت زبان چلتی ہے تیری۔۔۔ صاحب کے منہ لگتی ہے۔۔۔‘‘

زہرہ سہم گئی، چپ ہو کر داروغہ کو دیکھنے لگی، داروغہ بھی اسے گھورنے لگا، پھر ادھر ادھر جھانک کر بولا،

‘‘بہو نہیں دکھائی دے رہی تمہاری، تم کہہ رہی ہو، بیمار ہے۔۔۔ تو پھر مر گئی کیا۔۔۔‘‘

‘‘اللہ نہ کرے صاحب، وہ مائکے چلی گئی۔۔۔ ’’ زہرہ کی جان حلق میں اٹکی تھی۔

تھوڑا رک کر داروغہ پھر بولا،

‘‘ہاں۔۔۔ تو تم نے بتایا نہیں۔۔۔ دروازہ کھولنے میں اتنی دیر کیوں ہوئی تمہیں۔۔۔ ضرور اپنے لڑکے کو چھپا رہی ہو گی، پیچھے کے دروازے سے بھگا رہی ہو گی۔۔۔ کیوں۔۔۔ بول۔۔۔ جواب دے میری بات کا۔۔۔‘‘

‘‘جی وہ۔۔ جی میں ذرا اونچا سنتی ہوں۔۔۔ دیر سے آوازیں آئیں مجھے۔۔۔’’ زہرہ نے بہت دھیمی آواز میں جواب دیا۔

کمینوں کی اس ٹولی کا سردار، ظاہرانہ طور پر داروغہ ہی تھا، اسنے زہرہ کو غلیظ نظروں سے دیکھا اور اس کا دوپٹہ اس کی پکڑ سے، ایک جھٹکے سے چھینتے ہوئے بولا، ‘‘اچھا۔۔۔ تو اونچا سنتی ہو تم۔۔۔ لیکن اتنی عمر تو نہیں لگتی تمہاری۔۔۔ بھری جوانی میں اونچا سننے لگی ہو، یہ تو اچھی بات نہیں۔۔۔ کیوں۔۔۔‘‘

‘‘کیا غضب کر رہے ہیں صاحب۔۔ میں ناتی پوتے والی ہوں۔۔۔ کچھ تو لحاظ کیجے۔۔۔ آپ کے گھر میں زنانہ ہوں گی، اماں ہوں گی۔۔۔ بہن بیٹیاں ہوں گی۔۔۔ صاحب کچھ تو خیال کیجے۔۔۔۔ صاحب۔۔۔ رحم کیجے۔۔۔‘‘ زہرہ کے آنکھوں سے جھر جھر آنسو گرنے لگے۔

‘‘خیال رکھنے ہی تو آئے ہیں تمہارا۔۔۔ اور یہ نو ٹنکی بند کر اپنی۔۔۔ مجھے چراتی ہے سالی۔۔ یہ جو تم لوگ اپنے بچوں کی ذرا ذرا سی عمر میں بیاہ کر دیتے ہو، اسی سے ناتی پوتے والی بن کے بیٹھ گئی ہو، سمجھی کہ نہیں۔۔۔ بڑی آئی ناتی پوتے والی۔۔۔ مجھے بہن بیٹی بتا رہی ہیں۔۔۔ اپنی بہو کو مائکے بھگا کے بیٹھی ہے۔۔۔ حرامزادی سالی۔۔۔‘‘ اور اس نے بے شمار ماں بہن کی گالیوں کی جھڑی لگا دی۔

زہرہ خاموشی سے اپنے ہاتھوں سے اپنی چھاتی ڈھکے، سبکتی ہوئی بولی،‘‘صاحب میں کوئی جوان چھوکری نہیں ہوں۔۔۔۔ مجھے بخش دیجے۔۔۔ یہ تھوڑی دیر میں آ جائیں گے۔۔۔ آپ ان سے بات کر لیجیے گا۔۔۔‘‘

‘‘اری او دنگائیوں کی مہتاری، زیادہ زبان مت چلا۔۔۔ سمجھی کہ نہیں۔۔۔ لے لاٹھی دیکھ رہی ہے، دو بدن پر پڑے گی تو سارا بڑھاپا نکل جائے گا تیرا، سمجھی۔۔۔ اب چپ ہو جا حرامزادی۔۔۔‘‘ یہ کہتے کہتے داروغہ کا ایک چیلا، اپنی خوشامد دکھانے بیچ میں کود پڑا۔

داروغہ پھر غرایا،‘‘ادھر آ۔۔ آ ادھر۔۔۔‘‘ اس نے زہرہ کی کلائی دبوچی ہی تھی، کہ گھر کے باہر سڑک پر سائرن بجنے کی تیز آوازیں آنے لگیں۔

‘‘کوئی منتری آیا ہے دورے پر۔۔۔ یہ ہوٹر کی ہی آوازیں لگتی ہیں۔۔‘‘ حولدار ہڑبڑاہٹ میں، اپنی ٹوپی ٹھیک کرتے ہوئے، زور سے بولا۔

‘‘ہم۔۔۔ تم ٹھیک کہتے ہو۔۔۔‘‘ کہتے کہتے داروغہ کے ہاتھ سے زہرہ کی کلائی چھوٹ گئی۔ اس نے چپ چاپ ہاتھ میں لئے ہوئے زہرہ کے دوپٹے کو بھی وہیں آنگن میں پھینک دیا۔ جسے زہرہ نے بنا ایک پل بھی گنوائے، اٹھایا اور اپنے بدن سے لپیٹ لیا۔

جس تیور اور رو سے وہ داروغہ گھر میں داخل ہوا تھا، ٹھیک اسی رفتار سے دھڑدھڑاتے ہوئے، اپنی بھاری بھاری جوتوں کی چیخ  پکار لئے، آنگن سے نکل کر باہر دروازے تک پہنچ گیا۔ اپنی ہیٹ اور چھڑی سنبھالتے ہوئے سڑک سے ہوتے ہوئے باہر چوراہے پر آ گیا۔ اس کے سبھی ساتھی بھی اس کا اس کی رفتار سے اس کا تعاقب کرتے گئے۔

ظہرُل ننھے سے بچے کو جتن سے سمیٹے، مندر کی سیڑھیوں سے کچھ دور، نالے کے پار، ایک بیحد سکری گلی کی آڑ میں چھپا تھا۔ دم سادھے ہوئے، آتے جاتے پولس کے سپایہوں کے سامنے سے گزر جانے کا انتظار کر رہا تھا۔ بارہ بیس سیڑھی پھلانگ کر، مندر تھا، اور مندر کے ٹھیک پیچھے پجاری مع اپنے خاندان کے رہا کرتا تھا۔ ظہرُل کو وہاں پہنچنے میں مشکل سے دو منٹ لگے، لیکن پولس والے مندر کے نیچے سیڑھیوں پر جمے ہوئے تھے۔۔۔ کچھ وقت بیتا، تو کئی سارے سپاہی ٹہلتے ہوئے کافی دور سڑک پر نکل گئے۔ صرف دو سپاہی بچے ہوئے تھے، جو آپس میں ٹھٹھول کرنے میں مشغول تھے۔۔۔ کچھ دیر بعد ایک سپاہی اٹھ کر نزدیک بنے سرکاری بیت الخلا پہنچا، اور اس کے جاتے ہی دوسرا بھی اپنی بٹالین کی سمت مڑ گیا۔ ظہرُل کو یہی صحیح موقع ملا، اس نے بچہ والی تولیے سے خود کو اور گود لئے بچہ کو ڈھک لیا، اور قریب قریب دوڑ لگاتے ہوئے سیڑھیاں پھاندتا ہوا، پجاری کے کمرے تک پہنچ گیا۔ پجاری اسے دیکھ کر پریشان ہو گیا، فوراً اندر کمرے میں لے جا کر بولا،

‘‘یہ کیا غضب کرتے ہو ظہرُل بھیا۔۔۔ ایسے دنگا فساد والے ماحول میں کاہے ہانپتے پھاندتے چلے آ رہے ہو۔۔۔ ہوا کیا۔۔۔ کا ہے آنا پڑ گیا ادھر تم کو۔۔۔‘‘

‘‘کیا بتاؤں شاستری بھائی، مصیبت کا مارا ہوں۔۔۔ اس ننھی سی جان کو حیوانوں سے بچانے پھر رہا ہوں۔۔۔ نہ جانے کہاں سے پولس محکمے کو یہ وہم بیٹھ گیا ہے کہ اس معصوم کے ابو، یعنی محمود اس مذہبی دنگے میں شریک ہے، وہ کتوں کی طرح ہم لوگوں کی جان کو سونگھتی پھر رہی ہیں۔۔۔ بیس دن بیت گئے، محمود کا بھی کچھ اتا پتہ نہیں چل سکا۔۔۔ دنگا شروع ہونے سے پہلے حاجی بابا کی مزار کا کہہ کر نکلا تھا۔ دوست یار بھی تھے ساتھ اس کے، ادھر عشرت کی حالت بھی بہت نازک ہے، اسی وجہ سے اسے مائکے بھیجنا پڑا۔۔۔ اب یہ پولس والے ہیں کہ قہر ڈھائے پڑے ہیں۔۔۔ دن دوپہری، رات بے رات کبھی بھی دریافت کا بہانہ لے کر گھر کی چوکھٹ پر آ دھمکتے ہیں۔ اتنی غلیظ نگاہوں سے زنانے کو دیکھتے ہیں کہ اب میں تمہیں کیا بتاؤں۔۔۔ شہر میں دنگا کیا چھڑا، ان کی تو جیسے چاندی ہو گئی۔۔۔ کوئی دہلیز نہیں باقی، جہاں لوٹ کھسوٹ نہ کیا ہو۔۔۔ اوپر سے دکھاتے ہیں مردود کی دنگائیوں کی کھوج رہے ہیں۔۔۔ اصلیت کیا ہے ان نمک حراموں کی، یہ تو صرف ہم جیسے لوگ ہی بتا سکتے ہیں۔۔۔ عورت اپنی آبرو کے لئے لڑ رہی ہے، مزدور اپنے کام کو اور بچہ اپنی جان کو رو رہے ہیں۔۔۔ پورے قصبے میں یہی بدحالی چھائی ہیں۔۔۔ اللہ رحم کرے۔۔۔ رماکانت بھائی، ایسی سخت گھڑی میں میں تم سے مدد مانگنے آیا ہوں۔۔۔ مجھے اس نادان کی بیحد فکر ہیں۔۔۔ تم اسے اپنے در پر چھپا لو۔۔۔ خدا بنائے رکھے، تمہارے چھوٹے چھوٹے بچوں کے بیچ میرا جگر کا ٹکڑا بھی پنہ پا جائے گا۔۔۔ بھائی میرے، اللہ تمہیں آباد رکھے، اس معصوم فرشتے کی جان بچا لو۔۔۔ بڑا حوصلہ کر کے تمہارے در پر آیا ہوں۔۔۔ رحم کرو اس نادان پر بھائی۔۔۔‘‘

‘‘ظہرُل بھئیا جیسے تمہارا بچہ ویسے میرا۔ کوئی بھید نہیں رکھتا، ایشور کے دروازے پر بیٹھا ہوں، جھوٹ نہیں کہوں گا۔۔۔ مجھے کوئی بیر نہیں کسی سے، لیکن بھیا قسم کھا کر کہتا ہوں، مجھے لگ رہا تھا، یہ فساد ابھی اور لمبا کھنچے گا۔۔۔ نہ سرکار جھک رہی ہے، نہ فسادی باز آ رہے ہیں، یہاں گولی، وہاں دھماکے، ادھر لاشیں، ادھر ماتم۔۔۔ کیا کہوں، میرا تو جی پھٹا جا رہا ہے یہ سب دیکھ کر۔۔۔ ظہرُل بھیا، اب آگے کا تو پربھو ہی مالک ہے۔ اسی ناطے تمہاری بھابھی کو بچوں سمیت مہینہ بھر پہلے ہی پیہر چھوڑ آیا ہوں۔۔۔ ورنہ میرے بچوں کے سنگ یہ ننھی جان بھی لک چھپ کے رہ جاتی، مجھے تو ایشور کے گھر سے پنیہ ملتا۔۔۔ لیکن میں کیا کروں اب۔۔۔ اکیلے یہاں بیٹھے بیٹھے، ایک ایک گھڑی رام کا نام لے کر بتا رہا ہوں۔۔۔۔ اس بچہ کو اکیلے کیسے سنبھال سکوں گا۔۔۔‘‘

‘‘رما بھائی، بڑی امید لے کر تمہارے در پر آیا تھا۔۔۔ میری تو جان حلق میں پھنسی ہے، کہاں لے جاؤں، کدھر چھپاؤں اس بچہ کو میں۔۔۔ محمود کو کیا منھ دکھاؤں گا، خدا نہ کرے اسے کچھ ہو گیا تو۔۔۔ میں تو جیتے جی مر جاؤں گا۔۔۔ کوئی نام لیوا بھی نہ رہ جائے گا شاستری بھائی۔۔۔ یہی ایک امانت بچی ہے ہمارے گھر خاندان کی۔۔۔ خدا رحم کرے اس معصوم پر۔۔۔‘‘

‘‘ظہرُل بھیا بھگوان سب کا بھلا کرے۔۔۔ میں وِوش (مجبور) ہوں، اور اس سمے تو خود ہی بھگوان بھروسے جی رہا ہوں۔۔۔ میں کیا کہوں، نا کہنا پڑ رہا اس ابھاگے وقت پر۔۔۔ پربھو واپس شانتی بحال کر دے۔۔۔ مجھے معاف کر دو ظہرُل بھیا۔۔۔‘‘

ظہرُل آگے کچھ نہ بولا، مایوس ہو کر باہر آ گیا۔ اس نے اپنا چہرہ، بچہ والی تولیہ سے دوبارہ ڈھک لیا۔ وہ اپنے گھر چھپتا چھپاتا لوٹ رہا تھا، تبھی اسے صدیقی صاحب کے مالی وسیم کا خیال ہو آیا۔ جب کوئی بڑی آفت انسان کے سر پر گدھ کی طرح منڈلانے لگتی ہے، تو اسے ہر نزدیک اور دور دراز کے ’اپنے‘ یا ’اپنے‘ جیسے دکھنے والے فوراً یاد آنے لگتے ہیں، یہ مسئلہ دیگر ہے کہ ان یاد آنے والوں میں در اصل، ’اپنے‘ ہوتے کتنے ہیں۔ ظہرُل کو بھی ایسے آڑے وقت پر وسیم یاد آ گیا۔

ظہرُل نے یاد کیا، زہرہ نے وسیم کی گھر والی کے کچھ کپڑے بھی سلے تھے۔ اور بات چیت سے بھی وہ آدمی بھلا جان پڑتا تھا۔ اس کی رہائش بھی صدیقی صاحب کی حویلی کے اندر تھی، اسلیے وہ ان دنگے فسادوں سے بھی محفوظ تھا۔ شاید اس کٹھن گھڑی میں اس سے کچھ مدد مل جاتی۔۔۔ اسی خیال کے ساتھ، وہ اپنے گھر والی گلی سے تھوڑا آگے نکل گیا، جہاں سے صدیقی صاحب کی حویلی شروع ہوتی تھی۔ وہ حویلی کے پچھلے پھاٹک سے ہی اندر جانا چاہتا تھا، کیونکہ ظہرُل اس خبر سے بھی انجان نہیں تھا، کہ پولس والوں کا ایسے ٹیڑھے وقت پر صدیقی صاحب کے گھر آنا جانا خوب ہوتا ہے۔۔۔ بھلے وہ یہاں صدیقی صاحب کو موجودہ شہر کے حالات سے واقف کرانے ہی جاتے ہوں۔۔۔ ویسے بھی صدیقی صاحب جیسے رسوخ والوں کی حفاظت کرنا ہی تو ان سرکاری ملازموں کا پہلا فرض بنتا ہے۔ بھلے ہی وہ تنخواہ اور سہولتیں سرکار سے لیتے ہوں، لیکن چاکری تو ان جیسے صدیقی صاحبوں کی ہی بجاتے ہیں۔

انہیں خیالوں کو لئے، اسنے اپنی ننھی جان کو کلیجہ سے لگا کر، پھڑپھڑاتے ہوئے حویلی کی طرف رخ کیا۔ لیکن ظہرُل کو حویلی پہنچ کر پھر سے مایوسی ہی ملی، پتہ چلا کہ وسیم اپنی گھر والی کے ساتھ حج پر گیا ہے۔ ویزا دیر سے ملا، اس لیے وہ اپنے جاننے والوں کو خبر نہ دے سکا تھا۔ ویسے بھی اس کی روانگی سے پہلے ہی فساد کا آغاز ہو چکا تھا۔ اس ناطے بھی وسیم نے خاموشی سے کچھ وقت کے لئے شہر سے دور رہنا بہتر سمجھا اور مکہ کی اور روانہ ہو گیا۔ ظہرُل کی ایک اور آخری امید بھی گڑھے میں چلی گئی۔

ظہرُل اپنے ننھے سے پوتے کو سنبھالے، بہت تھکے ہوئے مایوس قدموں اور مری ہوئی حسرتوں کے ساتھ گھر لوٹ آیا۔ اگر اس مشکل گھڑی میں ظہرُل کے دل میں کچھ بھی جیتا تھا، تو وہ صرف اس بچہ کی سانسوں کے ساتھ ہی جی رہا تھا۔ اسنے گھر کے بھیتر قدم رکھا، تو زہرہ بے صبری سے اس کا انتظار کرتی ملی۔

‘‘آ گئے تم، بھلا ہوا۔ یہ بد ذات پولیس والے تمہارے جاتے ہی دھمک پڑے تھے۔ سچ مانو یہ بیحد غلیظ لوگ ہیں۔۔۔‘‘

وہ بچہ جو اب تک ظہرل کی بغل میں دبکا تھا، زہرہ کو دیکھ کر پھر مچلنے لگا، اور ظہرُل کی جکڑ سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے لگا۔ زہرہ اسے پیار سے گود میں لیتے ہوئے بولی،‘‘آ جا میرا لال، میرا لاڈلا۔۔۔ سنو کیا پجاری نے نہیں رکھا اسے۔۔۔ لیکن کیوں۔۔۔‘‘

‘‘پجاری نے اپنے پورے خاندان کو مارے ڈر کے، اپنی سسرال بھیج دیا ہے۔۔۔ اکیلا پڑا ہے مندر میں۔۔۔ کیسے رکھ سکتا تھا اسے، مجھے تو لگتا ہے، اس کی تو خود ہی جان پر بنی ہوئی ہے۔۔۔ اسی لیے میں واپس آ گیا۔۔۔ مجھے بڑی فکر ہو رہی ہے۔۔۔‘‘

اتنے میں ہی باہر کہیں گولیوں کی آوازیں پھر آنے لگیں۔ چیخنا چلانا بھی ہلکا پھلکا ہو رہا تھا۔ لگتا تھا کہ جیسے کوئی مشتبہ شخص پولیس والوں کی نظر میں پھر سے آ گیا ہے، جسے دیکھتے ہی پولیس والوں کی فائرنگ پھر رواں ہو چلی۔

‘‘یا خدا، یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔ اس شہر کے سکون کو کس کی نظر لگ گئی۔۔۔ یا اللہ اب تیرا ہی سہارا ہے۔۔۔ کچھ تو رحمتیں برسا، یا میرے مولیٰ۔۔۔‘‘

زہرہ یہ سب سن کر بس اپنے خدا کو ہی زور زور سے پکارنے لگی۔ دونوں میاں بیوی پہلے سے ہی اتنے خوفزدہ تھے، گولیوں کی تڑا تڑ آتی آوازوں نے انہیں اور پریشان کر دیا۔ وہ اتنے بدحواس تھے، کہ نہ ظہرُل، صدیقی صاحب کی حویلی اور وسیم کے حج کا بتا سکا، اور نہ اس کی بیوی زہرہ پولیس والوں کی بد سلوکیاں اور بیہودگیاں ہی ظہرُل کے سامنے گنا سکی۔ اپنے اپنے دکھوں تکلیفوں سے علاحدہ دونوں کو بس ایک یہی فکر کھائے جا رہی تھی، کہ کسی طرح گھر کے اس اکلوتے چراغ کو بچا لیں، جسے کیا پتہ کبھی بھی پولیس والے آ کر ان سے چھین ہی لیں اور نہ جانے اس نادان کے ساتھ کیا بد سلوکی کریں، انہیں محمود کی بھی بے انتہا فکر تھی، لیکن اپنے پوتے کے بعد ہی تھی۔ یہ فطری ہی ہے کہ جو تکلیف اپنے سامنے ہوتی ہے انسان سب سے پہلے اسی کا علاج کرتا ہے۔ پکا ہوا پھوڑا حکیم کو دکھانے جایا جاتا ہے، اس کی مرہم پٹی بھی حکیم فوراً کرتا ہے، لیکن پرانے سر درد کے بارے میں ہمیشہ بعد میں سوچ بچار کیا جاتا ہے۔

ظہرُل کی بیوی گھبرائی ہوئی بولی۔ ‘‘میری بات مانو، تو چلو، ہم لوگ بھی چلتے ہیں۔ عشرت کے گھر ہی چلے چلتے ہیں۔ دیکھو، منگیر اباد یہاں سے دور بھی نہیں ہے، مجھے یاد ہے، محمود کی منگنی کرانے میں ہی تو گئی تھی۔۔۔ دریا پار کرتے ہی گاؤں ہے عشرت کا۔۔۔ شہر کی اس نامراد بربادی سے محفوظ بھی ضرور ہے۔۔۔ وہاں کم کے کم ہمارے پوتے کی جان تو بچ ہی جائے گی۔ ہم اسے وہاں چھوڑ کے لوٹ آئیں گے، اور اگر تم کہو تو ہم بھی وہیں رہ جائیں گے۔ بڈھا بڈھی کہیں کونے میں پڑے رہیں گے۔ ہم سے کسی کو کوئی دقت پیش نہیں آنے والی۔ چلو، ظہرُل میاں، نکل چلتے ہیں۔۔۔‘‘

‘‘ارے ایسے کیسے نکل چلتے ہیں۔۔۔ باہر تباہی مچی ہے۔۔۔ میں کس طرح اس کو بچا کر خود چھپتا چھپاتا گھر کی دہلیز تک آ سکا ہوں، یہ میرا خدا ہی جانتا ہیں۔۔۔ مندر کی چار سیڑھی چڑھنے میں مجھے آج ہی قیامت نظر آ گئی تھی۔۔۔ وہ تو کرم ہوا اللہ کا، کہ رماکانت سے مل کر بھی سہی سلامت لوٹ سکا ہوں۔۔۔ ابھی باہر جانا مناسب نہیں زہرہ، حالات بہت نازک ہیں۔۔۔۔ ہر طرف پولس اپنی بڑی بڑی ٹولی لئے ہر طرف ناچ رہی ہے۔۔۔ میری بات کو سمجھو، یہ وقت باہر نکلنے کا نہیں۔۔۔‘‘

‘‘ٹھیک ہے ابھی نہیں جاتے۔۔۔ جب دنگا ختم ہو جائے گا، پر سکون ماحول بن جائے گا، محمود لوٹ کے آ جائے گا، کیا تب جائیں گے وہاں۔۔۔ کیا پتھر پڑ گئے ہیں تمہاری عقل پر۔۔۔‘‘ زہرہ کے تیور تیز ہو گئے۔

ظہرُل نے اسے لاکھ سمجھانے کی کوششیں کیں، لیکن کوئی بات اسے سمجھ نہ آئی۔ اسنے تو جیسے ضد باندھ لی تھی اس در کو چھوڑ دینے کی۔ اسنے ظہرُل کو پولیس والوں کی نیچ کارستانیاں بھی بتائی۔ ظہرُل سب سنتا رہا۔ ظہرُل اسی لمحے اپنی بیوی کا دامن چھونے والوں کو موت کی نیند سلا دینا چاہتا تھا، لیکن موقع کی نزاکت جان سمجھ کر، اپنے ننھے معصوم پوتے کو دیکھ کر اور محمود کی غیر موجودگی کے چلتے اپنے خون کے ابال کو تھامے رہا۔

آخرکار دونوں میاں بیوی میں یہ طے ہوا کہ رات کے اندھیرے میں وہ دونوں اپنے پوتے کو اس کی ماں کے پاس لے جائیں گے۔ اگر تو عشرت کے گھر والوں کو کوئی بھی تکلیف شبہہ اڑچن محسوس نہیں ہوئی اور اس کے گھر گاؤں میں رہنے کی صورت بن گئی تب تو وہیں ٹھہر جائیں گے، ورنہ تو اپنے اس ویران گھر میں واپس آ جائیں گے۔ دونوں چپ چاپ دم سادھے، رات ڈھلنے کا انتظار کرنے لگے۔ اللہ کی مہربانی رہی، کہ اس رات کے انتظار کے کٹھن دور میں کوئی موت کے فرشتے جیسا پولس والا بیچ میں نہیں آ ٹپکا۔

شام ہو ہی گئی تھی، اتنی دیر میں زہرہ نے، گھر میں بچے ہوئے اناج مسالے کو ملا جلا کر کھانے کی کچھ چیزیں بنا لیں، جس سے سمدھی کے گھر خالی ہاتھ نہ پہنچیں۔ ظہرُل بھی اپنے کام کاج کی چیزیں، اور بچہ کے کپڑے لتے، سمیٹتا رہا، اور ایک تھیلے میں بھرتا رہا۔

رات کی سیاہی گہری ہونے لگی تو ظہرُل، بچہ اور سامان کے ایک تھیلے سمیت زہرہ کو گلی کے پیچھے کھڑا کر کے، اندر آ گیا۔ اسنے کالا کمبل لپیٹ کر گھر کے سامنے والا دروازہ بند کیا اور اس پر تالا لٹکا دیا۔ سمٹتا سکڑتا وہ بھی، سارے پولس سپاہی افسروں سے بچتا ہوا، پیچھے زہرہ کے پاس آ گیا۔ دونوں نے کالے کمبل کے سائے میں خود کو لپیٹ کر، دھیرے دھیرے ندی کے کنارے کی سمت بڑھنا شروع کیا، دونوں نے چلنے سے پہلے رتی سی افیم دودھ میں گھول کر بچہ کو پلا دی تھی، تاکہ وہ گہری نیند میں سو جائے، اور اس کے ہنسنے رونے کا سلسلہ نہ رہ جائے اور اس کی آواز کسی کو کسی بھی حال میں سنائی ہی نہ دے۔

دونوں میاں بیوی چوری چھپے، ڈرتے سہمتے ندی کے کنارے تک پہنچ گئے، جہاں سے عام طور پر لوگ ندی پار جایا کرتے تھے۔ انہیں وہاں ناؤ والے کو اس پار جانے کے لئے تیار بھی کرنا تھا۔ خیر، دونوں نے ابھی چین کی سانس پوری لی بھی نہیں تھی کہ انہوں نے دیکھا تین پولس کے سپاہی اندھیرے میں بیٹھ کر بیڑی سگریٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ یہاں اندھیرے میں بیٹھ کر شراب بھی چڑھائے تھے۔ بھلا پورے پورے دن اس مردہ قصبے کی گشت بھی کوئی کم زحمت کا کام تھا۔ ملنا ملانا دمڑی نہیں لیکن چوکسی دن رات کی۔ جب تک ستر پچاس کنبے باقی تھے شہر میں، تب تک، کچھ نہیں تو ادھر ادھر سے بدن کی سینک کا انتظام تو ہو ہی جاتی تھی، لیکن سارے کے سارے بھاگ گئے ایک ایک کر کے۔ اب جو رائی رتی بچے ہیں، سارے کے سارے اچھی طرح نچوڑے  جا چکے ہیں، اب ان سے کوئی الا بھلا نہیں ہونے والا۔ ان حالات میں، بھلے ‘فرسٹریشن’ تو ہو ہی جائے گا۔ چلو ڈیوٹی سے دو گھڑی جان چھڑا کر کچھ ہنس بول لینا بھی تو ضروری ہے نا۔ انسانیت نام کی بھی ایک چڑیا ہوتی تو ہے اور انسانی ضرورت بھی کسی شے کا نام ہوتا ہے۔

ظہرُل اور زہرہ وہاں ان لوگوں کو دیکھ کر ٹھٹک گئے، اور پیڑ کے موٹے تنے کے پرے چھپ گئے، تینوں پولس والے بیٹھے چہل کر رہے تھے۔ ادھر ادھر کی واہیات باتیں کر رہے تھے، اور گندے گندے چٹکلے سنا کر ایک دوسرے کا خوب دل بہلا رہے تھے۔ ظہرُل نے انہیں اپنی مستی میں مشغول دیکھا تو خاموشی سے، وہیں بندھی ناؤ سے خود ہی ندی پار کرنے کا طے کر لیا اور وہ ناؤ کا رسا دھیرے دھیرے کھولنے کی کوششوں میں لگ گیا۔ اسنے کافی مشقت کے بعد تھوڑا سا رسا کھولا ہی تھا، کہ وہاں پڑے سوکھے پتے اس کی حرکتوں کی وجہ سے کھڑکھڑانے لگے۔ وہ رک گیا۔ دوبارہ اس نے اور آہستہ سے کھولنا شروع کیا، لیکن پتے پھر بھی آواز کرنے لگے۔ ایسا کئی بار ہونے پر، انہیں گڑبڑ جیسی محسوس ہوئی اور ان میں سے ایک سپاہی ان آوازوں کی حقیقت جاننے چپ چاپ اٹھ کر آیا اور اس نے دونوں کو صاف صاف دیکھ لیا، وہ فوراً ہی دہاڑ اٹھا،‘‘کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔ کمینو! چین سے دو گھڑی سستانے مت دینا ہمیں۔۔۔‘‘

اتنا کہتے کہتے اسنے ظہرُل کو زور دار دھکا دیا، اور ظہرُل چھٹک کے دور جا گرا۔ اس کا بوڑھا جسم اچھی خاصی چوٹ کھا گیا۔ ظہرُل کی چیخ سن کر باقی کے دو سپاہی بھی وہیں آ دھمکے اور زہرہ سے زبردستی کرنے لگے۔ انہوں نے زہرہ کے ہاتھ سے اس کا تھیلا لے کر ندی کی دھار میں پھینک دیا۔ وہاں ہونے والے واقعات سے شور بڑھنے لگا۔ ظہرُل کہنی، ٹانگوں اور پیٹھ میں لگی چوٹوں کے درد کی وجہ سے چیخ پکار مچائے تھا، اور زہرہ کے ہاتھ سے وہ لوگ اس کی سینہ سے لگائی ہیی گٹھری چھین رہے تھے، وہ الگ زوروں سے چلا رہی تھی۔

‘‘صاحب کیا کر رہے ہیں، ہمارا سامان ہے، چھوڑئے اسے۔۔۔ ہم کوئی بدمعاش لوگ نہیں ہیں، جانے دیجے ہمیں۔۔۔ وہ بوڑھا شوہر ہے میرا۔۔۔ ہم لوگوں کو آپ کے کام کاج سے کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔ جانے دیجے ہمیں، رحم کیجیے ہم پر۔۔۔’’ زہرہ گڑگڑایے جا رہی تھی اور پورا زور لگا کر بچہ کو ڈھیلی ہوتی اپنی پکڑ سے بچانے میں لگی ہوئی تھی۔

پولس کے سپاہی تھے کہ کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھے، ان کے آرام کے لمحوں میں خلش پڑنے کی وجہ سے وہ بہت بھڑکے ہوئے تھے۔ انہیں پورا ہوش تھا ہی نہیں کہ وہ کر کیا رہے ہیں۔ دارو میں دھت، فحش گالیوں کی برسات کے ساتھ بڑھیا کے ہاتھ سے وہ گٹھری چھینے لے رہے تھے، جس میں اس نے اپنا لاڈلا بچہ چھپا رکھا تھا۔ ‘‘کیا چھپا کے لئے جا رہی ہے حرامزادی۔ ادھر لا۔۔۔ شہر میں آگ لگی ہوئی ہے، اور یہ دونوں مال متاع لئے فرار ہونے کی تیاری میں نکلے ہیں۔۔۔ منحوس کہیں کے۔۔۔ دکھا کیا چھپائے ہے اس گٹھری میں۔۔۔ کیا لے کر جا رہے تھے کمینو!، ندی کے پار۔۔۔ لا ادھر دے۔۔۔‘‘

کہتے سنتے آخرکار بڑھیا کی ہمت جواب دے گئی اور انہوں نے اس کی گٹھری اس کے ہاتھ سے چھین کر سیدھی ندی میں پھینک دی۔ ظہرُل نے ساری چوٹ اور درد بھول کر، جلدی سے اپنی ساری طاقت بٹور لی اور وہ بدحواس ہو کر ندی میں کود پڑا۔

اس نے ادھر ادھر بری طرح سے بے چین ہو کر ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دئیے۔ اس کی بوڑھی آنکھیں، اس کا بے چین دل جگر اور اس کا بے بس ہوا جسم ہر ممکن کوشش کے بعد بھی اس کے پوتے کو نہیں کھوج پا رہے تھے۔ بچہ ویسے ہی افیم کی نیم بیہوشی میں تھا، اس کی طرف سے بھی کوئی رونا چلانا کچھ ہوا نہیں، وہ ندی کے تیز بہاؤ میں نہ جانے کہاں گم ہو گیا۔

ظہرُل بہت دیر تک ندی کی ٹھنڈی لہروں سے الجھتا رہا، ندی کے بہاؤ سے جوجھتا رہا، اپنی بد قسمتی سے پوری رفتار اور طاقت سے لڑتا رہا، آخرکار بیدم ہو کر کنارے آ کر گر پڑا۔ زہرہ الگ رو رو کے طوفان مچائے تھی، کبھی اللہ کو، کبھی پولیس والوں کی بے رحمیوں کو، کبھی محمود کی غیر موجودگی کو، تو کبھی عشرت کی بیماری کو، کبھی خود اپنے آپ کو، دل بھر کے کوستی رہی، گریہ کرتی رہی، چیختی پکارتی رہی۔ اس کا رونا بھی بہت دیر تک ندی کنارے گونجتا رہا۔ آخرکار سبکتے تڑپتے وہ بھی بے دم ہو گئی۔

پولس والوں کا تو کچھ نہیں بگڑنا تھا، ان کا رتی بھر کچھ نہ گیا، ان کا کچھ بھی نقصان نہیں ہوا۔ وہ اپنے کام میں دوبارہ جا لگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ا ۔ع۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے