یوں خود کو مٹانا ٹھیک نہیں ۔۔ شبانہ یوسف

 

چہرے سب یادوں کے

خوابوں کے شہزادوں کے

لمحوں کے بے انت خزانے میں

وقت کے آئینہ خانے میں دھول ہوئے

لمحے سب ملنے کے، پھولوں کے کھلنے کے

ہجر سمے میں جیسے ماضی کی کوئی بھول ہوئے

لیکن! یہ سا نسیں میری

زیست سے بوجھل بوجھل

لیکن! یہ آنکھیں میری جیسے چھلکی چھلکی چھاگل

اور ایک صدا یا دوں کے دالانوں میں ہر پل

جسم و جاں کے ایوانوں میں ہر پل

خواب دریچہ کھولے

شاخ نہالِ ہجر پہ بیٹھا ایک اُداس پرندہ

ہجرائی لہجے میں ، رہ رہ کر مجھ سے ایسے بولے

یوں خود کو مٹانا ٹھیک نہیں

یوں خود کو مٹانا ٹھیک نہیں !!!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے