ملکوں ملکوں دیکھا چاند ۔۔۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی

ابن انشا نے چاند پر ایک مشہور نظم لکھ کر اپنی چاند سی سوچ کا خوبصورت شاعرانہ اظہار کیا تھا:

چاند کی خاطر ضد نہیں کرتے، اے میرے اچھے انشاء چاند

چاند کو اُترے دیکھا ہم نے، چاند بھی کیسا؟ پورا چاند

انشاء جی ان چاہنے والی، دیکھنے والی آنکھوں نے

ملکوں ملکوں، شہروں شہروں، کیسا کیسا دیکھا چاند

ہر اک چاند کی اپنی دھج تھی، ہر اک چاند کا اپنا روپ

۔۔ ۔ اب جناب طارق محمود مرزا (سڈنی، آسٹریلیا) کے سفر نامہ ’’ملکوں ملکوں دیکھا چاند‘’ کو پڑھ کر ڈنمارک، سویڈن، ناروے اور قطر کے چاند سے آنکھیں روشن کریں گے کہ ان ممالک کے سفر کے دوران ان کے تجربات و مشاہدات اور خیالات کونسی روشنی بکھیر رہے ہیں۔ یہ ان کا تیسرا سفر نامہ ہے۔ اس سے پہلے ’’خوشبو کا سفر‘‘ اور ’’دنیا رنگ رنگیلی‘‘ پہلے ہی سنگ میل پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہو چکے ہیں۔ آپ کا ادبی سفر جاری ہے۔ آپ پاک لٹریری فاونڈیشن آف آسٹریلیا کے نیو ساوتھ ویلز ونگ کے سرپرست ہیں، جس کے ذریعے کئی پروگرام ہو چکے ہیں۔

اسلوب کی سطح پر دیکھیں تو سفر نامہ ایک بیانیہ صنف ادب ہے۔ اس میں کسی بھی سفر کی روداد کو بیانیہ اسلوب میں اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ پڑھنے والا بیان کنندہ کے تجربات و مشاہدات اور کیفیات و احساسات کی ایک ڈرامائی کیفیت سے گزر جاتا ہے۔ سفر نامہ کے اسلوب کے تعلق سے ڈاکٹر سید عبد اللہ لکھتے ہیں:

’’سفرنامے کی صنف میں تمام اصناف کو اکٹھا کر دیا جاتا ہے۔۔ ۔۔ اس میں داستان کا داستانوی طرز، ناول کی فسانہ طرازی، ڈرامے کی منظرکشی، آپ بیتی کا مزہ اور جگ بیتی کا لطف ہوتا ہے۔ اور پھر سفر کرنے والا جزو تماشا ہو کر اپنے تاثرات کو اس طرح قاری تک پہنچائے کہ اس کی تحریر پُر لطف بھی ہو اور معلومات افزا بھی معلوم ہو۔‘‘

دلنشیں اسلوب، حسن بیان اور مشاہدات و کیفیات کا شگفتہ اظہار سفر نامے کی قرأت میں جادو جگاتا ہے۔ جس کی وجہ سے قاری فکری طور پر محسوس کرتا ہے کہ جیسے وہ ان جگہوں کی سیر خود کر رہا ہو۔ سینٹ آگسٹائن نے سیر و سیاحت کی اہمیت کو فلسفیانہ انداز سے یوں اجاگر کیا تھا:

”The world is a book, and those who do not travel, read only a page.”

(دنیا ایک کتاب ہے، جو سفر نہیں کرتے وہ اس کتاب کا ایک ہی صفحہ پڑھتے ہیں۔)

طارق مرزا کے سفر نامہ ’’ملکوں ملکوں دیکھا چاند‘‘ کا دلنشیں اسلوب، حسن بیان، تجربات و مشاہدات اور مناظر کا شگفتہ اظہار دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے دنیا کی اس کتاب کے کئی صفحات کو دیکھا بلکہ کتابی صورت میں اس طرح سے سجایا ہے کہ جیسے ہم لوگ بھی ان ممالک کی سیاحت سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ یہ اس سفر نامے کی ایک اہم خوبی قرار دی جا سکتی ہے۔

سفر نامہ ’’ملکوں ملکوں دیکھا چاند‘‘ کا بیشتر حصہ اسکینڈے نیویا کے تین ممالک ڈنمارک، سویڈن اور ناروے اور قطر کی سیاحت پر مشتمل ہے۔ اسکینڈے نیویا کے ان تین ممالک کا ذکر مصنف پیش لفظ میں کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

’’اسکینڈے نیویا کا شمار دنیا کے حسین ترین خطوں میں ہوتا ہے اور ان ملکوں میں عوام کو حاصل وسائل حیات مثالی ہیں۔ انہیں دیکھ کر انسان ان حکومتوں کے حسن انتظام کو سراہے بغیر نہیں رہ سکتا۔‘‘ (ص: ۹)

کہا جاتا ہے کہ ’’شنیدہ کَے بود مانند دیدہ‘‘ یعنی سنا ہوا کب دیکھے ہوئے کے برابر ہو سکتا ہے۔ اس لئے اس کتاب میں سنے ہوئے کے ساتھ ساتھ دیکھے ہوئے احوال بھی پیش ہوئے ہیں اور اس احوال کو مختلف خوبصورت عنوانات کے تحت شامل کتاب کیا گیا ہے، جیسے‘خوش و خرم لوگوں کا ملک۔۔ ۔ ڈنمارک‘، ’جزیروں کے دیس میں‘، ’پل جس نے دو ملکوں کو ملا رکھا ہے‘، ’ڈینش قوم کی دلچسپ و خاص باتیں‘۔ ’کوپن ہیگن کی عجیب بستی‘۔ ’ڈنمارک کی پہچان حسین سمندری مخلوق‘، ’مسجد جس میں سکون ہی سکون تھا‘، ’سنگ مرمر کا فریڈرک چرچ۔۔ الفریڈ نوبل کا دیس۔۔ ۔ سویڈن‘، ’نوبل یونیورسٹی میں ایک غیر نوبل شخص‘، ’اسٹاک ہوم کی پر سکوت شام‘، ’نوبل کمیٹی کی جائے تقریب اور سنہرا کمرا‘۔۔۔۔ وغیرہ۔

اسفار کی لطافت اور اہمیت کا احاطہ کرتے ہوئے طارق محمود مرزا لکھتے ہیں کہ ’’عمر کے ساتھ ساتھ انسان کی سوچ سمجھ میں نکھار آتا جاتا ہے۔ تجربے کی روشنی اور شعور کی پختگی کے ساتھ قوت مشاہدہ میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ایسے میں چیزوں کو دیکھنے اور پرکھنے کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ انسان میں مزید وسعت نظر اور عمیق نگاہی آ جاتی ہے جس کی وجہ سے دنیا مزید دلچسپ، حسین اور رنگین محسوس ہوتی ہے۔‘‘ (ص: ۱۹)

مذکورہ اقتباس میں سفر کرنے کے دوران جن چیزوں کے بارے میں بتایا گیا ہے وہ بلا شبہ بڑی اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ جو لوگ محدود دائرے سے باہر نہیں نکلتے ہیں وہ اپنے ہی خول میں رہ کر محدود فکر کے مالک ہوتے ہیں اور اسی محدود فکر کو سب کچھ سمجھ کر کنویں کے مینڈک بن جاتے ہیں۔ پیش نظر سفر نامہ کا مطالعہ یہ خوشگوار تاثر ضرور چھوڑ جاتا ہے کہ واقعی طارق محمود مرزا کا شعور اور تجربہ اسفار کے دوران بڑھ چکا ہے کیونکہ انہوں نے صرف سفری روداد پیش نہیں کی ہے بلکہ ان ممالک کی تہذیب و ثقافت، رہن سہن، قدرتی مناظر، تاریخی حقائق، اخلاقی معیار، معاشی ترقی اور تعلیمی و ادبی سرگرمیوں وغیرہ کا تذکرہ معلومات افزا اسلوب میں کیا ہے۔ یہ سیاحتی سفر فضائی، بحری اور بری سفر پر مشتمل رہا تھا۔ کتاب میں کئی اہم باتوں کا ذکر کیا گیا ہے جس سے کس ملک کی انفرادیت سامنے آتی ہے جیسے سیاح نے گھر یعنی سڈنی سے نکلتے وقت قطر کے سفر کا انتخاب کیا تھا جو کہ پندرہ گھنٹے کے فضائی سفر میں طے ہوا تھا۔ قطر کی راجدھانی دوحہ ہے اور دوحہ کا حماد ائیر پورٹ دنیا کا مشہور ائیر پورٹ مانا جاتا ہے۔ اس ائیر پورٹ کی خصوصیت کے تعلق سے لکھا گیا ہے:

’’حماد ائیر پورٹ دوحہ جدید بین الاقوامی ائیر پورٹ ہے۔ اس کی عمارت زگ زیگ (Zig Zag) شکل اور نشیب و فراز کی وجہ سے منفرد ہے۔ جہاز تھما تو ہم نے دیکھا کہ رن وے پر قطر ائیر لائن اور دوسری فضائی کمپنیوں کے درجنوں جہاز کھڑے تھے۔ جس سے ائیر پورٹ کی مصروفیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ دوحہ ائیر پورٹ کی اس مصروفیت اور بین الاقوامی مسافروں کی قطر میں آمد کی سب سے بڑی وجہ قطر ائیر لائن ہے۔ یہ ائیر لائن اتنی معیاری ہے کہ مسافر اسے ترجیح دیتے ہیں۔ چونکہ مختلف بین الاقوامی روٹ پر سفر کرتے کرتے ہوئے قطر ائیر لائن کے مسافر طیارے قطر نیں قیام کرتے ہیں اس لئے دنیا بھر کے مسافر دوحہ میں رکتے اور سیر و سیاحت کرتے ہیں جس سے ملک کو مزید فائدہ ہوتا ہے۔‘‘ (ص: ۲۵)

کتاب میں منظر نگاری کا ایسا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ جیسے کوئی عربی شاعر فطری مناظر کی خوبصورتی کو شعری پیکر میں ڈھال رہا ہو۔ قطر سے نکل کر جب جہاز ڈنمارک کی فضاؤں میں پہنچ جاتا ہے تو مسافر ڈنمارک کے خوبصورت مناظر کا لفظی نظارہ یوں کروا رہا ہے:

’’ہمارا طیارہ زمین کے قریب محو پرواز تھا۔ صبح کی سنہری کرنوں میں ڈنمارک کی سرسبز و شاداب سرزمین، جگہ جگہ بہتے چشمے، جھیلیں، پگھلتی برفیں، اشجار کے جھنڈ، پھولوں کے رنگین قطعات، مویشیوں کی چراگاہیں اور سرخ ٹائلوں والے دلکش مکانات (سے سجی نظر آ رہی تھی۔) پانی اور سبزہ سارے منظر پر حاوی تھا۔       جھیلوں، ندیوں، نالوں، تالابوں اور نہروں میں بہتا پانی سورج کی کرنوں میں خوب چمک رہا تھا۔ پانی کے ساتھ ساتھ ہر سو سبزے کی بہار تھی۔ وسیع و عریض چراگاہیں، جہاں گھوڑے، گائیں اور بھیڑ بکریاں چر رہی تھیں۔ یہ فارم اتنے بڑے تھے کہ ان کا درمیانی فاصلہ میلوں پر محیط تھا۔ ان سبزہ زاروں کے علاوہ نیلے پانیوں والا دلکش سمندر بھی جیسے محو خواب تھا۔ ادھر کوپن ہیگن شہر کی عمارتیں سر اٹھائے کھڑی تھیں۔ شہر پر ایک چکر لگا کر ہمارا طیارہ شہر سے قدرے باہر ائیر پورٹ پر اترنے لگا۔ زمین پر اترنے سے پہلے پائلٹ نے دانستہ کوپن ہیگن اور اس کے گرد و نواح کے دلکش نظاروں پر نچلی پرواز کی تاکہ مسافر ان مناظر سے        شادمان ہو سکیں۔‘‘ (ص: ۳۰)

ڈینش سے متعلق ایک اہم تاریخی بات بتائی گئی ہے کہ ڈینش دنیا میں سب سے زیادہ خوش طبع قوم ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ڈنمارک زندہ دلی میں اول نمبر پر آتا ہے اور ڈنمارک کے لوگوں کے اس اخلاقی معیار کا ذکر دلچسپ انداز سے کیا گیا ہے کہ:

’’ڈینش ایک لفظ یا محاورہ Jante loven اکثر استعمال کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے سے بہتر نہیں ہے۔ یہ محاورہ ڈینش تمدن کا اہم اصول بن گیا ہے۔ اس قوم نے تہیہ کر لیا ہے کہ ہر شخص کو چاہئے وہ امیر ہو یا غریب، گورا ہو یا کالا کو برابری کی حیثیت حاصل ہے۔‘‘

یہ تعلیم تو ہمیں رسول رحمتﷺ نے دی تھی جیسا کہ آگے مصنف نے بھی اس کا ذکر کیا ہے کہ ’’کسی عجمی پر کسی عربی کو تقویٰ کے سوا کوئی فضلیت نہیں‘‘ لیکن ہم ہر جگہ بس تفخر کی آگ میں جلتے ہوئے خود کو سب سے بڑا سمجھتے رہتے ہیں اور ڈنمارک زندہ دلی اور دیانت داری میں اول نمبر پر آتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنف ڈنمارک کے تصور آزادی کے اس پہلو کو بھی ناپسند کرتا ہے کہ کوئی نیم پاگل مذہبی جذبات سے کھیلتا رہے اور اسے اس کی کھلی چھوٹ ہو۔ ڈنمارک میں کئی احباب کی مہمان نوازی اور علمی و ادبی لیاقت کا ذکر بھی ہوا ہے جن میں نصر ملک صاحب بھی شامل ہیں۔ نصر ملک صاحب کے بارے میں مصنف نے کیا لکھا ہے، انہیں کے الفاظ سے محظوظ ہو جائیں:

’’طاہر عدیل مجھے لے کر نصر ملک کے دولت خانہ پر پہنچے۔ ان کی عمارت کے اردگرد بے شمار اشجار، پودے، پھل دار پیڑ، رنگین پھول اور سبز گھاس کی وجہ سے انتہائی حسین منظر تھا۔ گھنے سرسبز درختوں اور گلہائے رنگین میں گھری اکلوتی عمارت کے سامنے جا کر رکے تھے کہ نصر ملک تشریف لے آئے۔ دونوں میزبان شعر و ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ طاہر عدیل اردو، پنجابی اور انگریزی تینوں زبانوں میں عمدہ شاعری کرتے ہیں۔ جبکہ نصر ملک تو ادب و صحافت کی یونیورسٹی کا درجہ رکھتے ہیں۔‘‘ (ص: ۶۲)

چونکہ نصر ملک صاحب سے میری شناسائی ہے اور میں ان کے علم و تدبر سے واقف ہوں، اس لئے ان کے بارے میں طارق صاحب کا فرمانا بجا ہے۔

سویڈن، نوبیل پرائز اور الفریڈ نوبل سے شاذ ہی کوئی با شعور تعلیم یافتہ فرد ناواقف ہو۔ ڈنمارک کی سیاحت کے بعد طارق محمود مرزا کا دوسرا سیاحتی پڑاؤسویڈن تھا۔ یہاں پر سویڈن میں مقیم معروف دانشور عارف کسانہ صاحب اس کے میزان تھے۔ سویڈن میں گزارے گئے ایام کے تجربات و مشاہدات بھی دلچسپ نظر آتے ہیں خصوصاً وہاں کے وزیر اعظم کے بارے میں یہ جانکاری حیرت انگیز لگتی ہے کیونکہ ہمارے یہاں کا حال ہی کچھ دوسرا ہے:

’’سویڈش وزیر اعظم کے لئے یہ رہائش گاہ ۱۹۸۸ء میں خریدی گئی۔ اس سے قبل وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ نہیں تھی۔ بلکہ وہ اپنے گھر میں رہتے تھے۔ کئی وزرائے اعظم کا اپنا گھر نہیں تھا اور وہ کرائے کے فلیٹ میں رہتے رہے۔‘‘ (۱۵۲)

اور وزیر اعظم کی رہائش گاہ کا جائزہ لیتے ہوئے مصنف اپنے دوست سائیں رحمت سے لطیفہ انداز میں کہتا ہے کہ ’’رحمت صاحب، سویڈش حکومت اور وزیر اعظم بے چارہ مسکین معلوم ہوتا ہے اس سے بڑی اور شاندار عمارتیں تو ہمارے دیہات میں نظر آتی ہیں۔‘‘(۱۵۲)

کتاب کا اگلا حصہ ناروے کی سیاحت پر تحریر ہوا ہے۔ ناروے میں معروف افسانہ نگار فیصل نواز چوہدری بھی رہتے ہیں۔ چند برس قبل انہوں نے اپنا افسانوی مجموعہ ’’آزاد قیدی‘‘ مجھے بذریعہ ڈاک بھیجا تھا۔ جس پر میرا ایک مضمون بھی شائع ہوا تھا۔ طارق محمود صاحب کا سفر نامہ ناروے پڑھتے ہوئے مجھے فیصل نواز صاحب نے ان افسانوں کی کہانیاں ذہن میں آتی رہیں جو ناروے سے متعلق ہیں۔ طارق محمود نے ناروے سے متعلق مفصل جانکاری فراہم کی ہے۔ اس سفر نامے میں ہر ایک ملک کی کسی نہ کسی خصوصیت کا ذکر بھی ہوا ہے جو کہ قارئین کی معلومات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ تیل کی پیداوار میں ناروے کا شمار سر فہرست ممالک میں ہوتا ہے لیکن ماحولیاتی آلودگی سے ملک کو صاف رکھنے کے لئے وہاں پر الیکٹرک اور ہائی برڈ گاڑیوں کا استعمال سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس تعلق سے حکومتی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو عام کرنے کے لئے لکھا گیا ہے:

’’ناروے کی حکومت الیکٹرک کاروں کو ٹیکس سے استثیٰ قرار دینے سمت دیگر اقدامات کے ذریعے سرعت سے پیٹرول انجن کے خاتمہ کی راہ پر گامزن ہے۔ اب تک ناروے میں نصف سے زیادہ گاڑیاں بجلی سے چلتی ہیں۔ اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ان کا ہدف یہ ہے کہ ۲۰۲۵ء تک چلنے والی تمام چھوٹی بڑی گاڑیاں برقی توانائی سے چلیں۔ یوں ناروے اور اس کے پڑوسی ممالک ماحول کی کثافت دور رکھنے اور اسے صاف و شفاف رکھنے کے لئے کوشاں ہیں۔‘‘(ص: ۲۳۲)

کتاب کے مطالعہ کے دوران، ان ممالک کے لوگوں کے رہن سہن، فکر اور سوچ، بلند خیالی، زندگی کو جدید تقاضوں کے مطابق چلانے کے اقدامات اور اپنے اپنے ملکوں کی تہذیب و ثقافت کے تحفظ اور زندگی کو خوشحال بنانے کی لگن دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ ہم لوگ کس دنیا میں رہتے ہیں۔ ابھی تک یہاں کے ممالک کے لوگوں اور ارباب اقتدار نے جینے کا صحیح ڈھنگ بھی نہیں سیکھا ہے۔ بس پتھر کے دور کے لوگوں کی طرح غیر مہذب سوچ کے حامل ہیں۔ یہ ممالک ابھی تک پیاز اور تیل کی سیاست سے باہر نہیں نکل پاتے ہیں اور میڈیا جیسے سانڈوں کو لڑوا رہا ہو۔

سفر نامہ ’’ملکوں ملکوں دیکھا چاند‘‘ چار ملکوں۔۔ ۔ ڈنمارک، سویڈن، ناروے اور قطر کی تاریخی وسیاسی، سماجی و ثقافتی اور ادبی و سیاحتی موضوعات کا ایک ایسا دلکش منظرنامہ سامنے لاتا ہے کہ ان ممالک کی ترقی و خوشحالی اور زندگی جینے کی صلاحیتوں پر رشک آتا ہے۔ سفرنامہ نگار نے بڑے سلیقے سے ہر منظر اور مشاہدے و تجربے کی جیسی تحریری ڈاکومینٹری پیش کی ہے اور ادبی اسلوب نے اس کی چاشنی کا لطف دوبالا کر دیا ہے۔ طارق محمود مرزا کی سفر نامہ نگاری کا احاطہ کرتے ہوئے شامل کتاب مضمون ’’کیسا کیسا دیکھا چاند‘‘ میں ڈاکٹر علی محمد خان لکھتے ہیں:

’’طارق محمود مرزا کا سفر نامہ ’’ملکوں ملکوں دیکھا چاند‘‘ منظر کشی، لفظی مرقع کاری، برمحل موازنہ و مقابلہ، عمدہ زبان و بیان، نادر تشبیہات و استعارات اور دلکش اسلوب بیان کا ایسا دل آویز مرقع ہے جو اُردو سفرناموں میں ممتاز و مشرف مقام و مرتبے کا حق دار ہے۔‘‘ (ص: ۱۸)

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے