غزلیں ۔۔۔ سعید سعدی

 

ہر ایک بات میں تیرا ہی تذکرہ نکلا

ترا خیال مرے دل میں جا بجا نکلا

 

کوئی فصیل بھی تو درمیاں نہ تھی اپنے

مگر وہ فاصلہ صدیوں کا فاصلہ نکلا

 

مرے تمام حوالے بھی اجنبی نکلے

مرے مزاج کا اک تو ہی آشنا نکلا

 

تمام عمر گزاری ہے رہ نوردی میں

جو راستہ بھی ملا ایک دائرہ نکلا

 

ہوئی نہ جیت کسی کی نہ کوئی مات ہوئی

جنون کا وہ خرد سے معاملہ نکلا

 

عجیب لوگ تھے سعدی خدا کی بستی کے

"کوئی خدا کوئی ہمسایۂِ خدا نکلا”

٭٭٭

       

 

 فلک پہ چاند جو روشن ہے یوں سحاب کے ساتھ

 یہ استعارہ ترے رخ کا ہے نقاب کے ساتھ

 

 فصیلِ جاں کے در و بام جو منور ہیں

 کسی کی یاد چمکتی ہے آب و تاب کے ساتھ

 

مرے خلوص کی اس نے ذرا بھی قدر نہ کی

 ملا تھا آج بھی لیکن کچھ اجتناب کے ساتھ

 

دلِ فگار کے جتنے نہاں تھے راز سبھی

 وہ آشکار ہوئے آنکھ کے چناب کے ساتھ

 

خیالِ یار رہا ہجرتوں کے موسم میں

 تمام زیست گزاری ہے اک سراب کے ساتھ

 

نہ روک آج مجھے بے حساب پینے دے

 تمام عمر ہی پی ہے بہت حساب کے ساتھ

 

نہیں قبول مجھے میرِ کارواں ایسا

 جو آشنا نہ کرے مجھ کو انقلاب کے ساتھ

 

تمہاری یاد میں سعدی نے اشک بوئے ہیں

 سو انتظار میں گزرے گی اب عذاب کے ساتھ

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے