غزلیں۔۔. ڈاکٹر رؤف خیر

 

 

ناکام و نامراد تو وہ خود ضرور ہے

اس کی انگوٹھیوں میں زمرد ضرور ہے

 

موصوف کے کلامِ بلاغت نظام میں

سرقہ اگر نہیں ہے، توارد ضرور ہے

 

مانا کمال یہ ہے کہ ہم بے کمال ہیں

لیکن بساطِ شعر میں شد بُد ضرور ہے

 

بے لوث و بے غرض وہ ہمارے ہیں خیر خواہ

یہ ماننے میں ہم کو تردد ضرور ہے

 

اُن کی ہمارے بارے میں رائے تو ہے خراب

ہم بے حسوں کو اتنی تو سد ھ بد ضرور ہے

 

نیند یں حرام ہو گئیں فرعونِ وقت کی

موسیٰ ہوا کہیں تو تولد ضرور ہے

 

انصاف کا شکار ہے باحوصلہ ہے جو

بے حوصلہ شکارِ تشدد ضرور ہے

 

بلقیس کو ملا ہی سلیمان سے دیا

چھوٹا سا اک پرند تو ہد ہد ضرور ہے

 

ہم سائے اس سے خوش ہیں نہ اہلِ و عیال ہی

وہ خیرؔ کار بندِ تہجد ضرور ہے

٭٭٭

 

 

تو نے جسے سمجھ ہی لیا تھا گرا پڑا

چٹان بن کے وہ ترے رستے میں آ پڑا

 

پیکر دہائی دیتا ہے ’’ڈھانچہ‘‘ بنا پڑا

اب تو سوال تیرے تشخص کا آ پڑا

 

انصاف ہے کہ سانپ کے منہ میں چھچوندر

سو بار منصفوں کو یہاں سوچنا پڑا

 

آساں نہیں فراست مومن سے کھیلنا

دیکھے گا تو بھی کس سے تجھے واسطہ پڑا

 

بونوں کو اپنی اپنی لکیروں پہ ناز تھا

آخر بڑی لکیر مجھے کھینچنا پڑا

 

جو پھول شاہ کار کبھی رنگ و بو کا تھا

وہ ہو گیا ہے سوکھ کے کانٹا پڑا پڑا

 

وہ دن گئے فلک سے اترتا تھا مائدہ

اب پانی پینے روز کنواں کھودنا پڑا

 

میرا یقین جانیئے۔ اک جان آ گئی

جیسے ہی انجمن میں قدم آپ کا پڑا

 

طالب تھے لوگ پیاز کے لہسن کے دال کے

دریائے من و سلویٰ سمندر میں جا پڑا

٭٭٭

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے