پروفیسر سید مشکور حسین یادؔ: ہماری بات حکایت نہیں جو ختم ہوئی ۔۔۔ ڈاکٹر غلام شبیر رانا

مجاہدِ تحریکِ پاکستان، اُردو زبان کے ممتاز ادیب، انشائیہ نگار، مایہ ناز نقاد اور محقق پروفیسر سید مشکور حسین یادؔ کی دائمی مفارقت کی خبر سن کر دلی صدمہ ہوا۔ دس ستمبر 1925کو جبوتی پورہ، ڈب والی حصار (موجودہ ہریانہ ) مشرقی پنجاب(بھارت) سے طلوع ہونے والا علم و ادب کا یہ آفتابِ جہاں تاب علمی و ادبی دنیا کو اپنی ضیا پاشیوں سے بقعۂ نور کرنے کے بعد گیارہ نومبر 2017کو لاہور میں عدم کی بے کراں وادیوں میں غروب ہو گیا۔ سید مشکور حسین یادؔ کا تعلق بر صغیر کے ایک ممتاز علمی و ادبی گھرانے سے تھا۔ ان کے دادا اُردو اور فارسی زبان کے شاعر و ادیب تھے اور ان کے نانا بھی اُردو زبان کے مقبول شاعر اور نثر نگار تھے۔ سید مشکور حسین یاد کی دادی کا شمار اپنے عہد کی ممتاز شاعرات میں ہوتا تھا۔ ان کی دادی نے اُردو میں حمد، نعت، سلام، مرثیہ اور قصیدے لکھ کر بہت خواتین میں بہت مقبولیت حاصل کی۔ اردو شاعری میں انھیں بہت مہارت حاصل تھی اور وہ خواتین کی محافل میں اپنا کلام اور سوز و سلام سناتی تھیں۔ لکھنو کی ذوق سلیم سے متمتع اکثر خواتین ان کی دادی کو پیار اور عقیدت سے ’’ شاعرہ بیگم ‘‘کے نام سے پکارتی تھیں۔ ان کے خاندان کے اکثر افراد نے قیام پاکستان سے پہلے مظفر نگر (اُتر پردیش )میں ہجرت کر لی۔ یہ شہر پانچویں مغل شہنشاہ شہاب الدین محمد خرم شاہ جہان( 1592-1666)کی فوج کے ایک کہنہ مشق اور مہم جُو سپہ سالار سید مظفر علی خان نے 1633میں بسایا۔ برطانوی نو آبادیاتی دور میں سید مشکور حسین یادؔ کے خاندان کے ایک ممتاز فرد میر الفت حسین اس شہر میں ڈی ایس پی(DSP) کے منصب پر فائز تھے، جن کا اس شہر میں بہت اثر و رسوخ تھا۔ میر الفت حسین کی دعوت پر سید مشکور حسین یادؔ کا خاندان مظفر نگر پہنچا اور سید مشکور حسین یادؔ کے والد برطانوی پولیس میں ملازم ہو گئے۔ زمانہ طالب علمی ہی سے سید مشکور حسین یادؔ کو تخلیقِ ادب سے گہری دلچسپی تھی۔ اُردو نثر اور شاعری میں انھوں نے اپنی تخلیقی فعالیت کا لوہا منوایا۔ دوسری عالمی جنگ (1939-1945) کے دوران اپنی خدا داد صلاحیتوں کی بنا پر وہ اس عہد کے مقبول ادبی جریدے ’’پُکار‘‘ کے مدیر منتخب ہوئے۔ ادبی مجلے ’’ پُکار ‘‘ میں تحریکِ پاکستان اور جد و جہد آزادی کے موضوع سید مشکور حسین یادؔ کے متعدد اہم مضامین شائع ہوئے۔ نو آبادیاتی دور میں برطانوی استعمار کے غاصبانہ قبضے اور سامراجی استحصال کے خلاف بر صغیر کے مسلمانوں میں مثبت شعور و آ گہی پروان چڑھانے کے سلسلے میں سید مشکور حسین یادؔ کی مساعی کو بہت پذیرائی ملی۔ اس عرصے میں انھیں جد و جہد آزادی کے صفِ اول کے جن قائدین سے ملاقات کرنے اور ان کے خیالات سے مستفید ہونے کا موقع ملا ان میں قائد اعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان، سردا رعبد الرب نشتر، مولوی فضل الحق، فضل الحسن حسرتؔ موہانی، مولانا ظفر علی خان، ابو الکلام آزادؔ، خواجہ ناظم الدین اور محترمہ فاطمہ جناح شامل ہیں۔ ارضِ پاکستان کی محبت میں سید مشکور حسین یادؔ کے خاندان نے جو فقید المثال قربانیاں دیں ان کی بنا پر تاریخ ہر دور میں ان کے نام کی تعظیم کرے گی۔ جب آزادی کی صبحِ درخشاں طلوع ہوئی تو اِن کے خاندان کو ایک روح فرسا شامِ الم کا سامنا کرنا پڑا۔ تقسیم ہند کے وقت مشرقی پنجاب کے نہتے مسلمان مہاجرین کے خون سے ہولی کھیلنے والے مشتعل بلوائیوں نے ان کے گھر کے پینتیس (35)افراد جن میں ان کے والد، والدہ، نانا، نانی، اہلیہ، بھائی، تین سال کی کم سِن بچی اور قریبی عزیز شامل تھے کی زندگی کی شمع گُل کر دی اور مرحومین کے جسد خاکی کو تلواروں، نیزوں، خنجروں، برچھیوں اور کلہاڑیوں سے کاٹ کر چھید ڈالا۔ ظالم و سفاک حملہ آور بلوائیوں کے تشدد اور قاتلانہ حملے سے سید مشکور حسین یادؔ شدید زخمی اور نیم جان ہو گئے۔ جب نہتے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے درندوں کو اِس بات کا پختہ یقین ہو گیا کہ سید مشکور حسین یادؔ اور ان کے اہلِ خانہ میں سے کوئی بھی فرد زندہ سلامت نہیں بچا تو شقی القلب حملہ آور اپنا اسلحہ لہراتے ہوئے بلا خوف و خطر وہاں سے فرار ہو گئے۔ اپنے فگار جسم، کرچی کرچی دِل اور زخم زخم روح کو سنبھالے سید مشکور حسین یادؔ ارضِ پاکستان کی جانب جانے والے قافلے میں شامل ہو گئے۔ اپنے پورے خاندان میں سے معجزاتی طور زندہ بچ جانے والے اس تنہا نو جوان نے اپنے چشم دید واقعات کا جس خلوص، دردمندی، دیانت اور صداقت سے لفظی مرقع نگاری کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اپنے ہنستے، مسکراتے اور عطر بیز چمن کو جان لیوا سکوت، مہیب سناٹوں اور مسموم ماحول کی بھینٹ چڑھتے دیکھ کران کے دل پر جو قیامت گزری اس کا تصور ہی لرزہ خیز ہے۔ آزادی کے بعد کے بعد سید مشکور حسین یادؔ نے ارضِ پاکستان میں نئے سِرے سے دانہ دانہ جمع کر کے خرمن بنایا، عقد ثانی کے بعد نیا گھر بسایا اور پُورے عزم و استقلال کے ساتھ نو آزاد مملکت خداداد پاکستان میں آزادی کے چراغ فروزاں رکھنے کی مقدور بھر سعی کی۔ اپنے جذبات، احساسات، تجربات اور مشاہدات کی موزوں اور حسین و جمیل لفظی مرقع نگاری میں انھیں کمال حاصل تھا۔ کسی موہوم مقصد کے حصار کے بجائے خلوص اور دردمندی سے لبریز جذبات سے مزین یہ مرقعے تکلم کے منفرد انداز سامنے لاتے ہیں۔ شاعری کے ایسے منفرد پہلو سیلِ زماں کے تھپیڑوں سے سدا محفوظ رہتے ہیں اور یہ میراث نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ سید مشکور حسین یادؔ کی تخلیقی کائنات سدا سر سبز و شاداب دکھائی دیتی ہے۔ ان کی مسحور کن شخصیت کے پر کشش رُوپ زندگی سے کشید کی گئی ان کی شاعری کو ساحری میں بدل دیتے ہیں جو سنگلاخ چٹانوں اور جامد و ساکت پتھروں سے بھی اپنی تاثیر کا لوہا منوا لیتی ہے:

با توں کے نگر سے آ رہے ہیں

ہم اپنے ہی گھر سے آ رہے ہیں

تاروں کے یہ جتنے قافلے ہیں

اِمکانِ سحر سے آ رہے ہیں

عمر گزری سفر کے پہلو میں

خوب سے خوب تر کے پہلو میں

خوش نہ ہو آ نسوؤں کی بارش پر

برق ہے چشمِ تر کے پہلو میں

سانس لیتا ہے ذوقِ لا محدود

خواہشِ بام و در کے پہلو میں

زمانہ بے کراں تھا بے کراں ہم نے نہیں رکھا

تِرے غم سے ورا کوئی جہاں ہم نے نہیں رکھا

ہمارے اشک جو بارانِ ذات اُنڈیلتے ہیں

خِرد کے شیشے میں تازہ صفات انڈیلتے ہیں

ہماری پیاس کا عالم ہے دیدنی گرچہ

ہم اپنی فتح پہ کھُل کر فرات اُنڈیلتے ہیں

ایک اِک اشک شمارو تو ہے بات

یوں ستاروں میں گزارو تو ہے بات

غیر کو خوابنا ہے کیا مشکل

خود کو شیشے میں اُتارو تو ہے بات

اُردو اور فارسی زبان میں ایم۔ اے کرنے کے بعد سید مشکور حسین یادؔ شعبہ تدریس سے وابستہ ہو گئے۔ سید مشکور حسین یادؔ کی وقیع کتاب ’’آزادی کے چراغ ‘‘جو 1970میں شائع ہوئی تاریخ اور اس کے مسلسل عمل سے وابستہ چشم کشا صداقتوں کا مرقع ہے۔ یہ ایک ایسی لرزہ خیز اور دِل جھنجھوڑنے والی خود نوشت ہے جس میں مصنف نے ان کٹھن حالات، دِل خراش سانحات، صبر آزما حادثات اور اعصاب شکن واقعات کو زیب قرطاس کیا ہے جو تقسیم ہند کے وقت انتقال آبادی کے نتیجے میں بھارت سے پاکستان ہجرت کے وقت اُن پر گزرے۔ اس کتاب کو تحریک پاکستان سے وابستہ حقائق کے ایک اہم بنیادی ماخذ اور مستند دستاویز کی حیثیت سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اپنی عملی زندگی میں سید مشکور حسین یادؔ نے بے لوث محبت، خلوص اور درد مندی کو شعار بنایا۔ کسی معاشرے سے انسانیت سے قلبی وابستگی اور والہانہ محبت کے جذبات اگر عنقا ہونے لگیں تو یہ المیہ معاشرتی زندگی کے لیے بہت بُرا شگون ہے جس کے نتیجے مرگِ نا گہانی کے سائے ہر طرف منڈلانے لگتے ہیں۔ رفتگاں کی یادیں پس ماندگان کے لیے سوہانِ روح بن جاتی ہیں ان کی زندگی کا سفر تو اُفتاں و خیزاں کٹ جاتا ہے مگر اس سانحہ کے نتیجے میں ان کا پورا وجود کِرچیوں میں بٹ جاتا ہے۔ الم ناک حالات میں دائمی مفارقت دینے والوں سے وابستہ زندگی کے نشیب و فراز پر محیط یادیں پس ماندگان اور الم نصیب لواحقین کے حافظے میں سما جاتی ہیں۔ ابتدا میں ’’ آزادی کے چراغ ‘‘ لاہور سے شائع ہونے والے مجلے ’’اردو ڈائجسٹ ‘‘میں قسط وار شائع ہوتی رہی جسے قارئین کی طرف سے بہت پذیرائی ملی۔ اس کے بعد جب ’’آزادی کے چراغ ‘‘ کتابی صورت میں سامنے آئی تو اسے تحریک پاکستان کے موضوع پر لکھی گئی اہم کتابوں میں مستند ماخذ اور تقسیم ہند سے متعلق حقائق کا اہم حوالہ قرار دیا گیا۔ سید مشکور حسین یادؔ کی تصنیف ’’آزادی کے چراغ ‘‘پڑھنے کے بعد انصاف کی جستجو میں سر گرداں قاری احتساب ذات کی طرف مائل ہوتا ہے اور خود اپنے خلاف فیصلہ صادر کرنے میں کوئی تامل محسوس نہیں کرتا۔ سید مشکور حسین یادؔ نے اپنی اس وقیع کتاب میں خونِ دِل اور خونِ جگر کی آمیزش سے جو چراغ فروزاں کیے ہیں وہ حریتِ فکر کے مجاہدوں کے لیے تا ابد نشان منزل ثابت ہوں گے۔ اس کتاب سے ایک اقتباس پیش ہے:

’’ میرے سامنے میری معصوم بچی اپنا زخمی حلق لیے آ جاتی ہے ۔۔۔ ۔ ڈیڑھ پونے دو سال کی بچی ۔۔۔ ۔۔ مجھے یوں لگتا ہے وہ مجھ سے سوال کر رہی ہے ’’ کیوں ابا جان آپ نے میرے معصوم خون کی قربانی سے کیا سبق حاصل کیا؟ یقیناً میرا خون رائیگاں نہ گیا ہو گا؟ لیکن ابا جان میرے اس سیدھے سادے سوال پر آپ کی نظریں کیوں جھک گئی ہیں ؟ آپ اپنی ننھی مُنی شہید بیٹی کی طرف سر اُٹھا کر کیوں نہیں دیکھتے ؟ اچھے ابو میں تو اس وقت بھی مسکرا رہی تھی جب ایک ظالم نے میرے ننھے حلقوم پر وار کیا تھا ۔۔۔ ۔۔ میں نے نہایت بہادری سے جان دی تھی۔ آپ کی نظریں کیوں جھکی ہوئی ہیں ؟‘‘

بر صغیر میں رونما ہونے والے سیاسی اور معاشرتی حالات پر گہری نظر رکھنے والے عمرانیات اور علم بشریات کے ماہرین، ادبی نقادوں اور ممتاز مورخین کا خیال ہے کہ پس نو آبادیاتی دور میں آزادی کے موضوع پراس خطے میں جو ادب تخلیق ہوا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی قدر و منزلت اور اہمیت و افادیت میں عام ادب کی نسبت کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ سید مشکور حسین یادؔ کی دیگر مقبول تصانیف میں ’’کشمیر اُداس ہے ‘‘، ’’ دِل کی بپتا ‘‘، ’’دشنام کے آئینے میں ‘‘ یادوں کے چراغ ‘‘ اور ’’ جوہرِ اندیشہ ‘‘گہری معنویت کی حامل ہیں۔ پاکستان سنسر بورڈ کے رکن کی حیثیت سے انھوں پاکستان کی مذہبی، قومی، ملی، ارضی، ثقافتی اور معاشرتی اقدار و روایات کے تحفظ اور بالادستی کے لیے جو انتھک تخلیقی خدمات انجام دیں ان کا ایک عالم معترف ہے۔ پاکستان کے قومی تشخص کے فروغ اور اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت سے انھیں گہری دلچسپی تھی۔ انھوں نے طنزو مزاح کے رجحان ساز ادبی مجلہ ’’زعفران‘‘ اور ’’چشمک ‘‘ کے مدیر کی حیثیت سے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ سید مشکور حسین یادؔ نے اپنی ساٹھ وقیع تصانیف سے اُردو زبان و ادب کی ثروت میں جو اضافہ کیا اس میں کوئی ان کا شریک و سہیم نہیں۔ سید مشکور حسین یادؔ نے گورنمنٹ کالج، لاہور میں پیہم پچیس برس تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس عرصے میں انھوں نے تدریس اردو کو جو ارفع معیار عطا کیا وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی فرض شناسی، علم دوستی، ادب پروری، فروغ علم و ادب کی لگن، اپنے شاگردوں سے قلبی وابستگی اور والہانہ شفقت و محبت اُن کا بہت بڑا اعزاز و امتیاز سمجھا جاتا ہے۔ اپنے طویل عرصۂ ملازمت میں انھوں نے نہ کبھی اتفاقیہ رخصت حاصل کی اور نہ ہی کبھی کسی پیریڈ سے غیر حاضری کی نو بت آ ئی۔ اُن کی تسبیح روز و شب کا دانہ دانہ شمار کرنے سے یہ حقیقت کھُل کر سامنے آتی ہے کہ انھوں نے پابندیِ وقت کا ایسا ارفع معیار پیش کیا جو اوروں سے تقلیداً بھی ممکن نہیں۔ اس سر چشمۂ فیض سے سیراب ہونے والے لاکھوں افراد اس وقت دنیا بھر میں علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ ان کی علمی، ادبی اور قومی خدمات کے اعتراف میں انھیں درجِ ذیل اعزازات سے نوازا گیا:

1۔ صدارتی تمغہ برائے حسن کار کر دگی (1999)

2۔ ستارۂ امتیاز (2012)

پروفیسر سید مشکور حسین یادؔ کی وفات پر پوری دنیا میں ان کے لاکھوں مداح سکتے کے عالم میں ہیں۔ موت سے کسی کو رستگاری نہیں، یہ آرزوؤں، اُمنگوں، عہد و پیمان اور رنج و آلام کے سب سلسلوں کو ختم کر دیتی ہے۔ اس کے بعد رفتگاں کی یادیں ہی باقی رہ جاتی ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ صرصرِ اجل کے بگولے زندگی کی شمع کو بجھا دیتے ہیں مگر عقیدت، محبت، وفا اور قلبی وابستگی کا تعلق اس مسموم ماحول میں بھی محفوظ رہتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے فرشتۂ اجل کے سینے میں بھی درد مند دِل دھڑکتا ہے، وہ جب ہماری بزمِ وفا کے عطر بیز گل ہائے رنگ رنگ توڑتا ہے تو اس سانحہ پر گلزار ہست و بود کے نگہبانوں اور عنبر فشاں گُلوں کے پاسبانوں کی دِل دہلا دینے والی آہ و فغاں سُن کر اُس کی آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہوں گی، رفتگاں کی تربت پر شبنم افشانی اسی گریۂ پیہم کا ثبوت ہے۔ یہ اصولِ فطرت ہے کہ اِس عالمِ آب و گِل کی ہر چیز فنا کی زد میں ہے مگر حرفِ صداقت کی امین تخلیقات کو دوام حاصل ہے۔ سید مشکور حسین یادؔ  نے اپنے ابد آشنا اسلوب کے حوالے سے کہا تھا:

ہماری بات حکایت نہیں جو ختم ہوئی

یہ حرفِ حق ہے عبارت نہیں جو ختم ہوئی

جہاں پہ ہم ہیں وہاں روشنی تو پھیلے گی

ہمارا ہونا ضرورت نہیں جو ختم ہوئی

متاعِ اہلِ نظر کا خزانہ رکھتے ہیں

ہماری قدر ہے، قیمت نہیں جو ختم ہوئی

تاریخِ اسلام اور ادیان عالم کا سید مشکور حسین یادؔ نے وسیع مطالعہ کیا تھا۔ سید مشکور حسین یادؔ نے قرآن حکیم کی کچھ سورتوں کی تفسیر بھی لکھی۔ انھوں نے تاریخ اور مذہب سے وابستہ مشاہیر کی علمی و ادبی خدمات کے موضوع پر بھی اپنے اشہبِ قلم کی خوب جولانیاں دکھائیں۔ عمرانیات، علم بشریات، تاریخ اور فلسفہ سے متعلق مباحث میں بھی سید مشکور حسین یادؔ نے گہری دلچسپی لی مثال کے طور پر عالمی شہرت کے حامل دانش ور ملا صدرہ (صدر الدین محمد شیرازی: 1571-1640) کے فلسفیانہ خیالات پر ان کے تجزیاتی مطالعات اور عالمانہ استدلال پر مبنی توضیحات فکر و نظر کے نئے دریچے وا کرتی ہیں۔ گزشتہ صدی کے ساٹھ کے عشرے میں عالمی کلاسیک پر ان کے وقیع مضامین کی ہر سُو دھوم مچی تھی۔ مذہب، وطن، اہل وطن اور انسانیت کے ساتھ قلبی وابستگی اور والہانہ محبت کرنے والے اپنے عہد کے ایک ممتاز نقاد اور انتھک محقق و تخلیق کار کی حیثیت سے سید مشکور حسین یادؔ نے غالبؔ اور اقبالؔ کے اسلوب پر جو توضیحی و تنقیدی مضامین لکھے ہیں وہ ان کے وسیع مطالعہ اور تنقیدی بصیرت کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کے شعری مجموعے ’’پرستش ‘‘، ’’پرداخت ‘‘، ’’عرضداشت ‘‘ اور ’’نگہداشت ‘‘ قارئین میں بہت مقبول ہوئے۔ پس نو آبادیاتی دور میں گزشتہ صدی کے ساٹھ کے عشرے میں پاکستان میں اردو انشائیہ کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ اُردو نثر میں صنف انشائیہ نگاری کو تخلیقی مقاصد، تنوع اور حسن و دل کشی کے اعتبار سے ہم دوش ثریا کرنے میں سید مشکور حسین یادؔ کی مساعی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اُردو انشائیہ کو قارئین میں عصری آگہی پروان چڑھانے اور فکر و خیال کو مہمیز کرنے کے لیے رو بہ عمل لانے کے سلسلے میں اُن کی خدمات کا ایک عالم معترف ہے۔ اسلوبیاتی اور موضوعاتی تنوع کے اعتبار سے ان کا شمار اردو انشائیہ کے اہم بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے۔ سید مشکور حسین یادؔ کے فکر پرور اور خیال افروز انشائیوں کے مجموعے ’جوہر اندیشہ ‘‘، وقت کا استعارہ ‘‘ ’’متاعِ دیدہ و دِل ‘‘ کا ہر عہد کے انشائیوں میں نشاں ملے گا۔ گزشتہ صدی کی ستر کی دہائی میں سید مشکور حسین یادؔ  کی انشائیہ نگاری کی ہر طرف دھُوم تھی۔ اسی عرصے میں ان کے انشائیوں کا مجموعہ ’’جوہرِ اندیشہ ‘‘ شائع ہوا۔ سید مشکور حسین یادؔ کے انشائیوں کے مجموعے ’’ جوہرِ اندیشہ ‘‘ کا تعارف اردو زبان کے ممتاز ادیب احمد ندیم قاسمی(1916-2006) نے لکھا۔ سید مشکور حسین یادؔؔ نے سیلِ زماں کے تھپیڑوں اور وقت کے زیر و بم کا احوال جس باریک بینی سے اپنے انشائیوں میں پیش کیا ہے وہ ان کی انفرادیت کی دلیل ہے۔ ان کے اسلوب میں ارتقا کا سلسلہ جاری رہا، اس کے بعد ان کے انشائیوں کا مجموعہ ’’وقت کا استعارہ ‘‘ شائع ہوا۔ اس کا پیش لفظ اردو کے مایہ ناز ادیب قمر جمیل(1927-2000) نے لکھا۔ وقت کا استعارہ میں شامل انشائیوں میں سیلِ زماں کے تھپیڑوں، خیر و شر کے مسائل اور اختیار بشر کے موضوع پر جو پیرایۂ اظہار اپنایا گیا ہے وہ انشائیہ نگار کی فلسفیانہ سوچ کے منفرد پہلو سامنے لاتا ہے۔ اُن کے عہد کے ممتاز انشائیہ نگاروں میں احمد جمال پاشا، خواجہ عبدالغفور، فکر تونسوی، مشتاق قمر، نریندر لوتھر، وزیر آغا اور یوسف ناظم کے نام کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ علم و ادب کے یہ آفتاب و ماہتاب اپنے عہد کی تابانیوں کی ایک داستان ہیں۔ سید مشکور حسین یادؔ کی مقبول تصنیف ’’ستارے چہچہاتے ہیں ‘‘ ان کے منفرد اسلوب کی مظہر ہے۔ اردو ادب میں انشائیہ کے فروغ کے سلسلے میں سید مشکور حسین یادؔ نے اپنی تصنیف ’’ممکنات انشائیہ ‘‘میں تاریخی حقائق کو ملحوظ رکھنے کی سعی کی ہے۔ بیس برس پہلے کی بات ہے جب محترمہ ذکیہ بدر (خوشاب) خواجہ دِل محمد پر ایم فل سطح کا تحقیقی مقالہ لکھ رہی تھیں تو انھوں نے سید مشکور حسین یادؔ سے اُردو زبان میں صنف انشائیہ کے ارتقا کے بارے میں استفسار کیا۔ ریسرچ سکالر کے اس سوال کے جواب میں انھوں نے صنف انشائیہ کے آغاز و ارتقا کے سلسلے میں ڈاکٹر محمد دین تاثیر(1902-1950) کے ایک مکتوب کا حوالہ دیا جو انھوں نے اپریل 1957میں مجلہ مخزن کے لیے مولانا حامد علی خان کے نام لکھا تھا۔ یہ مکتوب سال 1978 میں مجلس ترقی ادب، لاہور کے زیر اہتمام شائع ہونے والی کتاب ’’مقالات تاثیر ‘‘کے صفحہ 306پر موجود ہے:

’’ایک ’ Essay ‘لکھا ہے، نذرِ مخزن ہے۔ Essay کو اُردو میں کیا کہنا چاہیے ؟جواب مضمون اہلِ مدرسہ نے خراب کر دیا ہے۔ انشائیہ کیسا رہے گا ؟گرامر کی اصطلاح سی معلوم ہوتی ہے۔ ‘‘

محترمہ ذکیہ بدر نے اس امر کی صراحت کی کہ اُردو کے ممتاز انشائیہ نگار ڈاکٹر وزیر آغا کے انشائیوں کے مجموعہ ’’خیال پارے ‘‘کی اشاعت 1961میں ہوئی۔ حیف صد حیف کہ چند برس قبل اجل کے بے رحم ہاتھوں نے پی ایچ۔ ڈی اُردو کی ریسرچ سکالر محترمہ ذکیہ بدر سے قلم چھین لیا اور علم و ادب سے وابستہ متعدد حقائق خیال و خواب ہو گئے۔ اسلم کولسری(1946-2016) نے سچ کہا تھا:

سوچ سوالی کر جاتے ہیں

صبحیں کالی کر جاتے ہیں

اسلمؔ  چھوڑ کے جانے والے

آنکھیں خالی کر جاتے ہیں

سید مشکور حسین یادؔ کا حلقۂ احباب بہت وسیع تھا۔ ان کے قریبی احباب اور مداحوں میں ارشاد گرامی، محسن احسان، سید ضمیر جعفری، کرنل محمد خان، صبا اکبر آبادی، امیر اختر بھٹی، نثار احمد قریشی، بشیر سیفی، خاطر غزنوی، محمد شیر افضل جعفری، رفعت سلطان، انعام الحق کوثر، سید جعفر طاہر، سجاد بخاری، حسرت کاس گنجوی، سید مظفر علی ظفر، رب نواز مائل، سمیع اللہ قریشی، دانیال طریر، صہبا لکھنوی، صابر کلوروی، صابر آفاقی، محمد فیروز شاہ، رحیم بخش شاہین، جیلانی کامران، عبداللہ حسین، انتظار حسین، میرزا ادیب، فرمان فتح پوری اور اطہر ناسک شامل تھے۔ ان کے ذاتی کتب خانے میں ان مشاہیر ادب کے مکاتیب کا ایک خزانہ محفوظ ہے۔ سال 1977کے بعد پاکستان میں جنرل ضیا الحق کا مارشل لا پُوری شدت و ہیبت کے ساتھ نافذ تھا، اردو کے ممتاز ادیب اور مزاح نگار کرنل محمد خان(1914-1999) نے اپنے ایک مکتوب (محررہ 17۔ اگست 1979، مخزونہ کتب خانہ سید مشکور حسین یادؔ، لاہور )میں سید مشکور حسین یادؔ سے مخاطب ہو کر لکھا:

’’کیا آپ سچ مُچ پنڈی تشریف لائے ؟کیا آپ فی الواقعہ لیاقت روڈ پر پھرے ؟کیا آپ کو پھِر بھی ہمارا دفتر نظر نہ آیا ؟اگر یہ بات ہے تو ہمارا دفتر دس کوڑوں اور سات سال کی نا اہلی کا مستحق ہے۔ یعنی کوئی ان پڑھ بھی لیاقت روڈ کے کسی مقام سے نظر اُٹھائے تو پی ایم ہاؤس سامنے کھڑا نظر آتا ہے مگر آپ نے نگاہ اُٹھائی تو یہ اوجھل ہو گیا !بس یہی معاملہ ناقابل فہم ہے۔ ‘‘

سید مشکور حسین یادؔ کی رحلت سے فروغ علم و ادب اور انسانیت کے وقار اور سر بلندی کی خاطر جد و جہد کا ایک درخشاں باب ختم ہو گیا لفظ کی حرمت اور گل افشانی گفتار کا ایک زریں عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔ سید مشکور حسین یادؔ نے معاشرتی زندگی کی بے اعتدالیوں، نا ہمواریوں، تضادات، بے ہنگم ارتعاشات اور شقاوت آمیز نا انصافیوں کے ہمدردانہ شعور کو اپنی گل افشانی ٔ گفتار کی اساس بنایا ہے۔ وہ اس شائستگی، شگفتگی، خلوص، دردمندی اور ہمدردی سے معاشرتی زندگی کے تضادات کو موضوع بناتے ہیں کی قاری ان کی فنی مہارت اور ہمہ گیر اسلوب کی اثر آفرینی کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ مزاحیہ کردار اور مسخرے غیر ارادی طور پر زندگی کے ان تلخ حقائق کو سامنے لاتے ہیں جو عام آدمی کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ اپنی شگفتہ تحریروں میں سید مشکور حسین یادؔ نے مسخروں اور مزاحیہ کرداروں کی ہئیتِ کذائی کی لفظی مرقع نگاری کرتے ہوئے اپنے مشاہدات، جذبات و احساسات کو جس پر لطف انداز میں پیرایۂ اظہار عطا کیا ہے وہ قاری کے لیے مسرت کی نوید لاتا ہے۔ نادر تشبیہات اور خندہ آور استعارات کے بر محل استعمال سے وہ اپنی شگفتہ تحریروں کو زر نگار بنا دیتے ہیں۔ ان کی مزاحیہ تحریروں میں مسخروں کی مضحکہ خیز حرکات سے حسِ مزاح کو تحریک ملتی ہے۔ سرابوں کے عذابوں کے عادی، موہوم خواب اور حباب کے رسیا ہوش و خرد سے عاری مسخرے لوگوں کے سامنے طرفہ تماشا بن جاتے ہیں۔ خیالی پلاؤ پکانے والے، ہوا میں گرہ لگانے والے اور وادیِ  خیال میں مستانہ وار گھومنے والے بُز اخفش اپنے رویّے سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس قماش کے ابلہ فتنہ خیز کے بجائے مضحکہ خیز ہوتے ہیں۔ سید مشکور حسین یادؔ کی شگفتہ تحریروں میں بعض اوقات طنز کا عنصر بھی شامل ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ استحقاق کے بغیر پذیرائی بھی الفاظ کے فرغلوں میں لپٹی ہوئی جگ ہنسائی کی ایک صورت بن جاتی ہے۔ سید مشکور حسین یادؔ کی ظریفانہ شاعری میں کئی علامات ایسی ہیں جنھیں ایک نفسیاتی کُل کی صورت میں دیکھنا چاہیے۔ مثال کے طور پر نظم ’’گدھوں کی مدح میں ‘‘کا مطالعہ کرتے وقت مرزا محمد رفیع سوداؔ (1713-1781)کا ’’قصیدہ تضحیک روزگار‘‘ قاری کے ذہن میں گھومنے لگتا ہے۔ ان نظموں میں اپنے عہد کے حالات کے بارے میں جو حقائق بیان کیے گئے ہیں ان سے خانۂ لا شعور میں موجزن تخلیقی فعالیت سے آ گہی ملتی ہے اور قاری کے فکر و خیال کو مہمیز کرنے میں مدد ملتی ہے۔

گدھوں کی مدح میں

جیسے ہی بندھی سو نے کی زنجیر گدھوں سے

ہونے لگا ہر شخص بغل گیر گدھوں سے

مت پوچھیے کیا کیف کا عالم ہوا طاری

وابستہ ہو ئی اپنی جو تقدیر گدھوں سے

یہ حُسنِ عقیدت بھی تو ہے دِید کے قابل

ہم لیتے ہیں ہر خواب کی تعبیر گدھوں سے

ہود م سے لٹکنے کی ہمیں خاص اِجازت

بس چاہتے ہیں اتنی سی توقیر گدھوں سے

جس معاشرے میں بے حسی کا یہ حال ہو کہ جاہل بھی اپنی جہالت کا انعام ہتھیا کر دندناتا پھرے وہاں گردشِ ایام کے نتیجے میں رونما ہونے والے سانحات کو کس نام سے تعبیر کیا جائے۔ سید مشکور حسین یادؔ نے اپنی گل افشانیِ گفتار سے فکر و خیال کی دنیا کو نیا آہنگ عطا کیا ہے۔ سید مشکور حسین یادؔ  نے اپنی تخلیقی فعالیت کو رو بہ عمل لاتے ہوئے تہذیبی و ثقافتی اقدار و روایات کے تحفظ کو یقینی بنانے کی مقدور بھر سعی کی۔ اُن کے منفرد اسلوب کا نمایاں پہلو یہ ہیں کہ یہ تعمیری اور اصلاحی اساس پر استوار ہے، قابل فہم اور لائق تقلید ہے۔ اُن کی تصانیف میں تخلیق کار کے قلب و نگاہ کے سب موسموں کے دھنک رنگ سمٹ آئے ہیں اور روح عصر کی ترجمانی قاری کے لیے شادمانی اور حیرت کے نقیب انوکھے تجربے کی آئینہ دار ہے۔

اللہ کریم نے سید مشکور حسین یادؔ  کو جن اوصافِ حمیدہ سے نوازا تھا اُن کے اعجاز سے اُن کی شخصیت میں لائق صد رشک و تحسین نکھار اور استحکام پیدا ہو گیا تھا۔ جذبۂ انسانیت نوازی ان کی شخصیت کا اہم وصف تھا۔ کسی بھی شخص کو پریشانی اور کرب میں مبتلا دیکھ کر وہ تڑپ اُٹھتے تھے اور مرہم بہ دست اس تک پہنچتے اور اُس کے دکھوں کا مداوا کرنے کی مقدور بھر سعی کرتے تھے۔ سندی تحقیق کے لیے تحقیقی مقالہ لکھنے والے محققین کی بے لوث علمی اعانت کر کے وہ دلی سکون محسوس کرتے تھے۔ ان کے ذاتی کتب خانے میں اہم بنیادی مآخذ اور نادر و نایاب کتب کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ ایم۔ اے (اردو)، ایم۔ فل(اردو) اور ڈاکٹریٹ سطح کے متعدد محققین کے لیے وہ خضر راہ بن گئے اور ان کی دست گیری نے ید بیضا کا معجزہ دکھایا جس کے اعجاز سے وہ نشان منزل پا گئے۔ علم و ادب اور فنون لطیفہ کے ایسے یگانۂ روزگار فاضل ملکوں ملکوں ڈھونڈنے سے بھی نہ مِل سکیں گے۔ سید مشکور حسین یادؔ  کی وفات ایک بہت بڑا سانحہ ہے، ان کی وفات سے جو خلا پید ہوا اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔ یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ موت تقویم سے قطعی نا آشنا ہے اور کسی بھی وقت اجل کا بلاوا آ سکتا ہے۔ یہ امر نوشتۂ تقدیر ہے کہ انسان جب دنیا میں پہلی سانس لیتا ہے تو موت کی جانب اس کے سفر کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس سفر کی تکمیل کے بعد انسان بے ثبات کارِ جہاں کے سب قرض اُتار کر عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب کُوچ کر جاتا ہے۔ سید مشکور حسین یادؔ  کی زندگی مذہب کی آفاقی تعلیمات سے وابستگی، حب الوطنی، مقصدیت، خلوص، دردمندی، ایثار، وفا، خدمت اور محبت کے جذبات سے معمور تھی۔ انھوں نے زندگی بھر خونِ دِل سے مشعلِ زیست فروزاں کر کے روشنی کا سفر جاری رکھنے پر اصرار کیا۔ اُن کی وفات کے بعد ان کی وقیع تصانیف فیض کے اسباب کی صورت میں لوح جہاں پر ان کا دوام ثبت کر دیں گی۔ عظیم انسان تو دنیا سے چلے جاتے ہیں مگر ان کی زندگی کے کار ہائے نمایاں تا ابد اُن کے وجود کا اثبات کرتے رہتے ہیں۔ سید مشکور حسین یادؔ کی ہمہ گیر شخصیت کے انمٹ نقوش نہاں خانۂ دِل میں موجود رہیں گے۔ وہ چلے گئے ہیں مگر ادبی محفلوں میں ان کے دبنگ لہجے کی بازگشت سدا سنائی دیتی رہے گی۔ یہ پُر کیف صدا لمحات کے بجائے صدیوں کے سفر کا احاطہ کرے گی۔ ممتاز مرثیہ گو شاعر صبا اکبر آبادی(1908-1991) نے حیات و ممات کے پُر اسرار مسائل کی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہا تھا:

ہوتے ہیں روز دامنِ گیتی میں حادثات

ہر وقت زد میں موت کی ہے کشتیِ حیات

معمورۂ فنا ہے حقیقت میں کائنات

اِک کھیل ہے ہوا کا، یہ ہستیِ بے ثبات

٭٭٭

3 thoughts on “پروفیسر سید مشکور حسین یادؔ: ہماری بات حکایت نہیں جو ختم ہوئی ۔۔۔ ڈاکٹر غلام شبیر رانا

کنول کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے