پتھروں کا پیمان ۔۔۔ سارا شگفتہ

میرے سامنے اینٹ کے باطن میں دیوار
من میں میرے اپنا ہی ایک بے رنگ بُت
ٹھک ٹھک کر کے بھاگے
میرے گھر میں چور بھی دیکھو سیدھی راہ نہ پائے
رات کے جُوتے صبح چُرائے
صبح کے جوتے شام
ہم نے مُڑ کر آنکھ سنواری ، اَبد سے ازل تک
کھُلے دروازے کس نے کھٹکھٹائے !
خلائیں تو پرندوں سے پُر ہیں
غروبِ آنکھ کیسا سمندر
قیام کے عمدہ مکان اُلٹا
لحد پوش سُورج دِکھایا کس نے
اب ہماری باری آئی تو منتر پرائے :
دُکھ سُکھ دو فرشتے جنہوں نے جیون کھوج لگائے
اُس پیڑ تک جو پہلے پہنچے وہی راجہ کہلائے
ہاتھ نے شاخ سے کہا
کتنی شاخیں تیری کتنی شاخیں میری :
پیدا ہوئے لوگ رونے سے انجانے ڈر سے مر بھی گئے
چراغ بُجھا کر سحر دیکھتے ہیں
جو پانیوں سے مذاق کرتا ہے ساحل اُس سے مذاق کرتے ہیں :
سجدہ زمین پر عنایت عرش پر
مچھلی دریا میں کانٹا ساحل پر۔۔۔
تار تار وقت کو سینا پڑتا
ذہانت تو تاریخ لے اُڑی
باندھ دیا ہے میں نے سوا رُوپیہ دھرتی کے بازو پر
میں اپنے دونوں ہاتھ چھُپا کر تم سے ملوں گی
مُردہ پتھروں سے لہو لہان ہوئے تو کیا ہوئے
خاموشی انسان کو جنم دیتی ہے
انسان لکڑ ہارا بن جاتا ہے
بندہ پروری پنجرے سے ہاتھ ملاتی
سُورج میں خم آ جاتا ، ستارے آدھے رہ جاتے
وہ نئے ورق دے جاتے
میں لکھتے لکھتے سیاہی میں ڈوب جاتی۔۔۔
جنگل جانے والے !
دو پتے توڑ لانا ، یا تھوڑا سا حال خرید لانا
پہاڑوں کے دامن میں بہتے دریا
جانوروں کی پیاس بُجھا چُکے ہیں۔۔۔
چڑیا اور دریا کی گفتگو کنارے تک کیوں لے آئے ہو
کنارے پہ کیا ڈُوبنے والے نہیں کھڑے تھے
وہ آواز کو جلا دیتے
اور خاک میں پتھر بھر دئے جاتے ذرا سے پانی کے ساتھ
کیوں نہ ہم ایک دوسرے کو گزارتے چلے جائیں
پہنچ کر مجھے راہ دکھا دینا
پُرانی دیواریں دل لئے پُکارتی ہیں
ارادہ پتلیوں کی حیرت میں پیوست ہوتا ہے
کُٹیا میں روشن چراغ
تختوں کی قبریں بن سکتا ہے
لیکن اسے تیرے گھر کا بھی تو خیال ہے
شہروں کے خاتمے بھی کچھ ابتدا کرتے ہیں
چراغ مٹی میں نہیں جلتا
سُناتی ہوں ایک کٹاؤ !!
ایک مُردہ تھا ایک زندہ تھا
پہلے کی آنکھیں سمندر گنتیں ایک کشتی پسند نہ آتی
دوسرے کی آنکھ پلکوں سے
گندگی میں بھولی آیتیں اونچی جگہ رکھ دیتیں
سیکنڈ دو راہوں پہ چلتا
محفوظ چال سے وہ کسی کی طرف جا رہا ہوتا
تلواروں کے لباس سلوانے کی رسم کب سے ہے
کیا میرا مخاطب اتنا گھٹیا ہے !
انسان ٹھاٹیں مارتا توبہ کرنے لگا
جھوٹی راتیں اور گزرے دریا
لیکن سامنے دیکھنے کی عادت نہیں جاتی
دیوار کے پار آنگن بدنام ہوئے
کسی نے بیٹی کہا کسی نے جسم سنوارا
تیز و تند کپڑے پہن
وہ ٹہنیوں کے ٹوٹنے کی آوازوں سے
سفر پہ روانہ ہو جاتے
مُنہ اندھیرے سوچنا شروع کرتے
بوکھلائے بوکھلائے تیور ہمیں بھُگتنا پڑتے
زخمی چراغ بُجھا دئے گئے
سوگوار گناہ ننگی پوریں دِکھاتا۔۔۔
لہو دار ! تیرا فرض تھا مکان کا کرایہ دیتا
دیواروں کا خیال کرتا
کیل ٹھونک ڈالی تُو نے کیلنڈر کے لئے
مہنگے جھوٹ کبھی سچ کے ہتھے چڑھے
پہیلی بنے تارے رات بھر بوجھتی کسے
نئے کپڑے مبارکباد ہوئے جاتے ہیں۔۔۔
چاند کو دیکھ کر دُعائیں مانگ رہے تھے
تم نے کیا رات کو یتیم سمجھ رکھا ہے
اُجالے چراغوں کو پناہ نہیں دیتے
ایک دل دو آنکھیں ، ایک انسان دو فرشتے
لمحے بھر کا وعدہ گھر سے اُونچا ہوا
سورج نکلے گا تو پھر پرندے لوٹیں گے
جواری رنگ چُرائے دھُوپ
رات کے کونے مٹی کے کون سے گھروں میں بسے
انجانے ہاتھ مجھے ٹٹولیں۔۔۔
کٹورے ہاتھ بھر بھر دُعا مٹی سے اُونچے
رات کو تھپڑ مارو ، بے پردہ دھرتی ، ننگے سمندر !
کھنڈر اُجڑی پناہ گاہیں ہیں
یہاں انسان بھی رہ سکتا ہے جانور بھی۔۔۔
یہ عمارت پتھروں کے پیمان سے بنی ہے
شفق بھُوکی شیرنی ، سمندر بھُوکا شیر
سنگم پہ کس کی لحد ، شمع کو ڈھارس دینے والا خاک ہوا
پرکھ تو پتھر سمیٹ لائے۔۔۔
ہوائیں کبھی مٹی نہ ہوں گی
ہوائیں انسان سے لے کر کائی تک حکم صادر کرتی ہیں
ہوائیں اشرف المخلوقات نہیں تو کیا ہیں !
نہ بھُوک سے کوئی رشتہ
اِس پگلی کا کوئی دیس نہیں
یہ زندہ ہے تو مُردہ بھی
کبھی قبروں کی ماں ہے
انسان کے چند سالوں کی یہ پڑوسن
مٹی پہ پاؤں ماروں تو گھر سے اونچی شام
ہجر کے پیچھے دو بُت ، تیور کے دو اَبرو
سفید پھولوں سے میرا جسم داغا جاتا ہے
دھوکہ دہی میں پوریں دِل میں ڈبوئیں
پتھر نما مُجسمے کو پایا
قرض خواہ وعدے مجھے پھلانگ چکے تھے
انگوٹھے سمیت میں نے جنم لیا
ہاتھ تھے پتھر ، باہیں دریا ، آنکھیں چڑھتا سورج تھیں
یہ جوگی رنگ تھا جیون کا
پھر دو پھولوں نے ، دو آنکھوں نے عہد کیا
میں جاگوں تو تم سونا ، تم سوؤ تو میں جاگوں
مور حرامی دُور کھڑا مجھے دیکھ رہا
اُن آنکھوں میں میری آنکھیں تھیں
دیپ تیرا رنگ، سکھیوں کی مہندی جیسا
اور پھر میرے جیسا
پانی چھوتی تو پانی پتھر ہو جاتا
دُعا مانگتی تو فرشتے توبہ کرتے
سینے سے اُونچی بات تھی
فرشتوں کی جگہ خُدا نے دو مُردے میرے سنگ کر دئے
دوپہروں کا سُورج بڑا کمینہ ہوتا ہے
اُتار پھینک کھیت کی اُترن
یہ کپڑے ، یہ چہرے ، یہ بھُوک۔۔۔
دھُول سے ڈرنے والے شہسوار
موت بھی تم سے کراہ کر گزر جائے گی !
میں سچے الزام سے کہہ رہی ہوں نہا لے !
پانیوں کے مقدر کسی گندگی کو نہیں اپناتے
میں نے اپنے آنگن میں تین رُوحیں گاڑی تھیں
جن کے جسم ابھی زندہ ہیں
اُن کی چُنی ہوئی کلیاں مجھے پھُنکارتی ہیں
اِن کی جلتی سانسوں سے میرے لباس جلتے ہیں
میں آنکھوں کے ڈر کے مارے بھاگتی ہوں
پتے جسم کے گرد لپیٹتی ہوں
یہ زَرد ہو کر ہوا کے ساتھ فرار ہو جاتے ہیں
میں پاگل نہیں
اعلیٰ نسل کی کُتیا بھی نہیں
انسان تو دُور کی بات ہے یا نزدیک کی
مجھے تھام لے عذاب ، میں نے کون سا صبر کیا تھا
تلواروں کے سائے میں آنسوؤں کی تسلیاں
میری ماں نے کہا تھا
بیٹی میرے پسینے میں نہائے ہوئے دُکھوں کا خیال کرنا
میں مکروہ دھُوپ سے آلود ہو گئی
جھومتے ہاتھی کی طرح۔۔۔۔
پھر سانپ کی چال چلی ، بچے بُوڑھے ہونے لگے
نماز ! وقت کا تعین کئے بغیر پڑھی
بات کی فکر کہاں تک لائی
لہو میں گوندھے پتھر ، دُنیا نے کہا ، کُتیا۔۔۔
میں قبر پہ پہنچی اور پُوچھا !
اے فرشتو تم نے مجھے سجدہ کیا
اور دُنیا میں نظر اندازی بھُول گئے !
راہوں میں تم نے مجھے پریشان کیا !
کدھر ہے خضر !
اُس کو خبر نہیں تھی ، میں نے دنیا ہی کب دیکھی تھی۔۔۔
دو نینوں کا گھرانہ ایک !
بتوں کے دیوتا میں تیرے جیسی ہونے لگی
بنجر پیاس پہ رونا کیسا
رات بھی گویا کوئی شاخ ٹھہری
مٹی کے سیاہ پلے !
برہنہ مٹی پہ برہنہ انسان آیا
برہنہ ماں ! یہ تیرا گھونگھٹ !
نمک حرام دل !
سڑکیں میرے جسم کے سنگِ میل گنیں !
چراغ تھک جائیں گے
پگڈنڈیاں دُور دُور تک پھیلی ہیں۔۔۔
لوگ کہنے لگے اے خُدا !
میں نے کہا میری سنو !
میرے لہو کے چھینٹے پڑے جو پتھر پہ
نئے الزام تراشے گئے
مٹی سے گرتے گرتے میں ذرہ ذرہ بچی۔۔۔
دوڑتا لہو لگام ہوا
روشنیوں بھرا پیڑ ہوں میں
لیکن نہ آنکھیں رہیں نہ خواب
آئینوں پہ جمی گرد پر کسی نے اپنا نام لکھا۔۔۔
خلاؤں کی بانہیں ، ایک آسمان دوسری زمین
دل کاغذ کی ناؤ ہونے کو ہے
اے میرے دشمن لمحو ! تم کہاں ہو۔۔۔
وقت تیرے بچوں کا پالنا ہو گا !
جلی روٹی پہ پل جائیں گے سانس
اے میری بہن کے لہو
تیری زنجیر بھری کڑیاں
خط کے کونے پہ ، فقط لکھتی ہیں۔۔۔
چُپکے چُپکے پتھروں پہ چلنے لگے سائے
آس پنگھٹ کا پھُول ہوئی
دشمن کے سینے میں
میرے تیور گن ، مجھے کیوں گنتا ہے
ساحل پہ کھڑے
فقیروں کی ہتھیلیاں بند کر سکتے ہیں
لیکن رُوح کے ساتھ جسم گانٹھ دئے گئے
اُس وقت کہاں تھے چراغ
جب صبح صادق نے سورج کے تلوے چاٹے
آیا ہے جلے کپڑوں کا بدن لئے
حسرت کے بعد زمانے نے
ایک مُسکراہٹ خریدی ہے
میں نُچڑے کپڑے پہ تھوڑی سی دھُوپ رکھتی ہوں
اور ایسا چراغ جلاؤں گی
جسے کسی تہہ خانے نے زنگ آلود کیا ہو
وہ جنگل نہیں بھُولی !
جہاں میری پیدائش کا حُکم سُنایا گیا
پھُولوں پہ ابھی ابھی آسمان رویا ہے
سہمے پرندوں کو کیا شکار کرنا
تم اخلاقی بیساکھیوں کی روند میں ہو
ڈھال سے تلواریں زخمی ہیں
فیصلے کبھی فاصلوں کے سپرد مت کرنا
اور جہاں چاند کی تمنا کرنا وہاں چاندنی کی تمنا مت کرنا
نشانے کے وقت ایک آنکھ سے کام لینا اچھا ہے۔۔۔
تم میرے گھر رہو کہیں تمہیں ٹھنڈ نہ لگ جائے
گلاب بھی لال ، دل بھی لال ، پتھر بھی لال
اور جب جسم قتل ہوئے وہ بھی لال۔۔۔
کیا حیرت آنکھ کا لشکارا ہے !
آج ایک تیرا وار بھی ہو گیا
خاک اور خون اکٹھے پیدا ہو رہے ہیں
رُوحیں جسموں سے آنکھیں مانگ رہی ہیں۔۔۔
جانوروں کے اعضاء والا کہاں گیا !
چلو تیرے رنگ کی آگ جلا لیتے ہیں
پھر چوتھے رنگ سے اِسے بُجھا دیں گے۔۔۔
برف ماضی کو شعاعیں مل گئیں
میری دو آنکھوں نے کبھی اپنے آپ کو نہیں دیکھا
قیامت کا انتظار ہے سُورج پر نظر ہے
کنول کو داد دینی چاہیے ، اپنی جائے پناہ خوبصورتی سے سجاتا ہے
پھُول کے دو رنگ ہیں
ایک خوشبو ایک رنگ۔۔۔
وقت کے کانے چُٹکیوں پر زندہ تھے
سُرخ ، سفید ، کالا۔ تینوں سائے خود حیران تھے
کہیں ہاتھ گرا ، کہیں آنکھ گری
ارادہ صدا کا تھا بُڑھاپے کے طعنے سُننے پڑے
کِس انتظار میں سمندر میں کنکر مارتے تھے
قبا کے رنگ اُڑائے اُنگلیوں کے داغ سہے
وصل میں بھی ڈھونڈا ہے ہجر
کبھی کبھی پھوار گھر کے اندر تک پہنچتی۔۔۔
چونی گُمی تو بچپن یاد آیا
کتنے پارسا ہوئے جاتے تھے ہم
کہ آسمان کو غور سے دیکھتے ، کہیں خدا ہمارے کھلونے تو نہیں دیکھ رہا
قد دروازے سے اُونچا نہیں ، دِل کائنات سے چھوٹا نہیں
دھُوپ سے کہیں پھولوں کے رنگ اُڑے
آدمی کا رنگ پتھروں سے بھی بدل جاتا ہے
انسان کدھر گیا ! جنگل کی طرف ! فکر کی بات ہے
انسان کدھر ! زمین کے اندر ! اب فکر کی بات نہیں۔۔۔
نہ خط آیا نہ انتظار تار تار ہوا
کسی کی چیز کھوئی ! میں ڈھوندنے والوں میں شامل ہوں
پھُولوں کا زنداں شاخیں ہیں
بستی بستی اُجڑ گئی میں ، شہر کی جانب تو دِل تھا
لہو نے کلائیاں کب تھامیں !
کون جانے کیا ہو؟ سایہ ہو یا بُت۔۔۔
مٹی باہیں کھولے تو دھُول اُڑے
مجسمے کی عبادت کوئی کیا جانے
چنگاریوں میں جب آگ لگی
ہوائیں ہاتھ تاپتی پھریں۔۔۔۔
بے لوث کبھی بھی نہیں تھی میں
میرے سچے جذبوں میں بھی تیری ملاوٹ تھی
لہو میں دوڑیں آوازیں ، یہ کس نے پھُول بکھیرے
پھر پتی پتی پھُول چُنا
ایک وعدہ میری عُمر بہا لے گیا
محبتوں کے کھُلے بادل جانے کہاں برسیں
چادر کو کائنات سمجھ بیٹھے ہو
ذرا سی بات ذرا سا آدم
اندھے تقدیر ڈھونڈتے پھریں۔۔۔۔
وہ ارادہ جسے کیڑے اپنے دل میں رکھتے ہیں
قدموں سے نہائی دھرتی میری خواہش سے بھی چھوٹی ہے
اور بلندیوں پہ اٹل ہے
بیگانی پوروں کی وہ اُجرت ہے
مجھے لپیٹ لپیٹ کر رکھتے ہیں یہ کُتے کمینے موسم !!
تنکوں کی لَو میں کتنے جذبے ہوں گے
جتنے قطرے لہو کے پاک ہوں گے
اُتنے جیون میں خدا سے مانگوں گی نہیں
بے خبری سمندر کالے کر دے گی
آگ کی ٹھنڈک زرد ہی رہے گی
پیڑوں کی کھوہ میں کتنے رنگ
اُلجھیں جسم پہ لپٹی ہزاروں آنکھوں سے
سو کے بھُلا دیا گیا ایک چراغ
بعض راستے تمہیں پسند کر رہے تھے اچھا ہوا سنگِ میل نظر نہ آیا
بدنامیوں کے ساتھ میرے ہاتھ جلے ہیں
لہو کے پھول لئے آنکھوں کی سہاگن نے
آنکھوں سے تیرا جھُولا بنایا
لَوٹایا تجھے تیرا بچپن
بخشی ہونٹوں میں دَبی اُنگلی
اور چراغ کے حوالے میں نے رات رکھی۔۔۔
عذاب نہیں جو کپڑے چُرائے گئے میرے جسم سے
گھر کا مداوا کیوں کروں ، کوئی بھی سمندر میں رہ سکتا ہے
رُکا انسان آنسوؤں کی مالا دیوی کے گلے میں ڈالتا
کاغذ گلیوں گلیوں گزارہ کرتے
آ ہیں خدا کی باتیں تھیں۔۔۔۔
راز ٹھنڈے سُورج کی طرح ہوتا ہے
شام چار بجے آئینوں پر چلنے کی دعوت ہے
سو سالہ بِکے ہوئے دِل کا تحفہ لے لے
اور حیرانیاں پیک کر دے۔۔۔
بہتے دریا بہتے سانپ چاہتے ہیں
سات رنگوں پہ دوڑتی آنکھیں آواز طے کرتی ہیں
چراغ دِل نہیں اور دِل چراغ نہیں
سراغ لگایا تو میں ہی ٹیڑھی تھی
نہیں ، نہیں کہ ہاں میں مدتیں گزرتی ہیں
رات میں خنجر توڑا گیا راستے تو جوڑے بھی نہ تھے
رہائی منتوں کے طور تو میری موت ہے
بہروپیہ ہمارے باپ کے باپ کی رُوح سے لپٹا رہا۔۔۔
میں نقد ہوں یہاں بیساکھیوں کی حدیں نہیں چلیں گی
قبر کتبے سے دُور نہیں ہوتی
خطا انسان کو پا ہی جاتی ہے کہ جلد بازی اتنے رسے کستی ہے
جتنے سچے لمحے کا انسان ہوتا ہے
پھر منت منت خاک اُڑاتے ہیں
اُدھر بھی دریا ، سامنے نینوں بھری خواہش
بستی میں کون جاگ رہا ہے ، جس کا جیون سوتا جائے
پھُول ہنسے ، خواہش بدلے کون جیا ہے
رُکا ہے صدیوں بیتا ، گلابی آنکھ میں آنسو
پڑاؤ میں سو جھونپڑیاں جلتی ہیں
تب گھر کتنا یاد آتا ہے۔۔۔
درد بڑھتے جا رہے ہیں دشمن کہیں دوست نہ ہو جائے
تم تو پہلی قبر سے چلے تھے ، دن نکلا تو دھُوپ سے شکوہ !
چاند اَن گنت آسمانوں پر داغا جاتا ہے
بھروسے کے پیچھے جھُکی آنکھیں
کہیں بے گھر زمین سُورج سے اپنا حال نہ کہہ دے
خوش تو اتنے ہیں
کہ شب و روز پنجرے میں بانٹے جاتے ہیں
جیسے ہی دروازہ کھُلا کمرے کی عُریانی نے قصے چھیڑے
دَر سُورج سے پردہ اُٹھاتا ہے
وجود والا دہلیز تک سفر کرتا ہے
کھُلے سمندروں میں لوگ کہیں تختوں کے مکین تو نہیں ہو گئے
دِل کوئی دوپہر نہ مانگنے پائے
کہ پَرائی بیٹیاں دُعاؤں کے گھونگھٹ مانگنے لگی ہیں
اِن آنکھوں سے صدیاں لُوٹ لو
اِن کے دیس چُنے گئے ہیں ، یہ وطنی کہاں کی ہوئیں۔۔۔
دِل سے سُورج جلتا ہے
ہونٹوں پر چاند کے داغ پہنچائے گئے
وہاں بھی لوگ ہدایت کے طلب گار نظر آتے ہیں
میرے ضمیر میں سات جنم جلتے ہیں
چراغ تو بھُولا ہوا راستہ ہے
بے خبری کا خنجر لئے وہ پیڑوں سے میرا نام پُوچھتا ہے
آگ کے پہلے قدم پر میرا ماضی ہے
چاند پُورا آسماں نہیں گھیرتا
ہوا کا بدن لگا تار آمادگی ہے
یقین کے ساکت پرچم پہ ٹھہرو
اور آبرو کے ہجوم سے باہر نکلو۔۔۔۔
رنگوں کو جھڑکنے سے لباس پھٹنے لگتا ہے۔۔۔
مٹی کی ہتھیلی پہ کراہتا سمندر
یہ سُورج تو ہماری آگ کا اہتمام ہے
زرد پھُول اور زرد چہرے جلائے جائیں
تو آگ زرد ہی رہے گی۔۔۔
اور جہاں آگ لگائی جائے وہ مٹی کالی ہو جاتی ہے
سمندر کروٹ نہیں لیتا
جہاں تک ہاتھ نہ پہنچے وہاں لوگ قدموں کے نیچے اینٹیں رکھ لیتے ہیں
مٹی اور دل فریب نہیں دیتے
جسے پاگل نہ کہہ سکوں اُسے انسان کہہ دُوں
آنکھوں میں باندھا چاند
ایک چہرہ سمندر میں رکھتا ہے اور ایک دریا میں
چُپکے چُپکے چاند تکنے والے
وقت تو خود ایک تہوار ہے
آستینوں میں دل نہیں اٹکتا
ہواؤں نے جس پھُول کو چُوسا
اُس کا انجام نہیں بھولتیں
تاریکی آنکھیں منگتی ہے پھر میرا نام کیا ہے !
عادت ہاتھوں کے ملاپ پر کھِلتی ہے
گود تلاطم سے ہری ہوتی ہے
ہاتھوں کے بھنور سے انسان ٹلا ہے
چاند اپنی سادہ لوحی سے تمھیں قتل کرے گا
بہروپئے کو کہیں لے جاؤ
خاموشی جبر ہوئی جاتی ہے
اقرار کے ہاتھوں بیقراری بانٹوں
ہم خاک اچھے ہیں
چراغ کے عوض گھر دیں گے ، گھر کے عوض چراغ دیں گے
تیری مزدوری ہم تمہیں ضرور دیں گے
مٹی کا گھونگھٹ چاروں طرف پھیلا سمندر ہے
مَن مَن آنکھیں رکھتے ہو اور زرہ بھر پاؤں۔۔۔
دیکھو میری نگری !
سانپ کے سر پر دِیا جلاتی ہوں
پہنچوں تو جنگل جاگے ، پھنکاری ہے
شاخ پر آدھا پھُول جاگا ہے ، تھوڑا سا دِل ہو گا
صُبح کے چراغ کی مانند آ میں تُجھے بھُول جاؤں
چاند کی چُغلی تو چاندنی کھاتی ہی رہتی ہے
چاند گہن سے مائیں ڈرتی ہیں۔۔۔۔
سمندر کو ہاتھ پر رکھ کے دیکھیں تو کوئی رنگ نہیں ہوتا
مایوُسی کے خالی پیالے کتنے لبوں تک !
سنگِ میل کا مُسافر کِس تکلف پہ قربان ہے
٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے