مِری آواز سُنتے ہو ۔۔۔ نوشی گیلانی

مَیں تنہا ،
ہجر کے جنگل کے غاروں میں
جلاتی ہوں سُخن کے وہ دیے جِن کو
ابھی باہر کی زہریلی ہَوائیں اجنبی محسوس کرتی ہیں
ابھی یہ روشنی جو سچ کی خوشبو کی حفاظت کے لےا
تاریکیوں سے لڑ رہی ہے
ناشناسی کے
غبار آلود رستوں سے گزرتی ہے
ابھی جگنو شبوں میں اپنے ہونے کی گواہی تک نہیں دیتے
ابھی تو تتلیاں مَیلے پَروں سے دَر بدر پھرتی ہیں بے چاری
ابھی تو چاند بھی ٹھنڈک نہیں دیتا محبت کی
ابھی تو رات کے شانوں پہ ہیں حالات کی زُلفیں
مجھے معلوم ہے، مَیں جانتی ہوں، مجھ کو رہنا ہے
اِسی غارِ اذیت میں
مگر سُن لو
یہیں سے میرے ہونٹوں کو مِلا ہے وصفِ گویائی
یہیں سے مَیں نے سچ کی روشنی خود میں اُتاری ہے
اِسی غارِ اذیت نے
مِرے لفظوں کو آوازیں عطا کی ہیں
یہیں سے ایک دن سُورج نکلنا ہے وفاؤں کا
یہیں سے ایک دِن حرفِ محبت بھی جنم لے گا
مِرے لفظوں میں معنی کا اثر محسوس کرتے ہو
مِری آواز سُنتے ہو
٭٭٭

One thought on “مِری آواز سُنتے ہو ۔۔۔ نوشی گیلانی

  • نوشی گیلانی! ہمیشہ کی طرح بہت خوبصورت نظم ہے۔ واہ واہ!
    آپ کی امی میری اُستاد رہی ہیں کمپری ہنسو سکول میں۔ اللہ اُنہیں اعلیٰ درجوں میں جگہ دے۔ آمین! اللہ آپ کو بھی آسانیاں عطا کرے۔ آمین!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے