کب تک مِرے مولا ۔۔۔ شاذ تمکنت

اِک حرفِ تمنّا ہوں، بڑی دیر سے چُپ ہوں

کب تک مرے مولا

 

اے دِل کے مکیں دیکھ یہ دل ٹوٹ نہ جائے

کاسہ مرے ہاتھوں سے کہیں چھوٹ نہ جائے

مَیں آس کا بندہ ہوں بڑی دیر سے چُپ ہوں

کب تک مرے مولا

 

سر تا بقدم اپنی مرادوں کو سنبھالے

جاتے ہوئے تکتے ہیں مجھے قافلہ والے

میں لالۂ صحرا ہوں بڑی دیر سے چُپ ہوں

کب تک مِرے مولا

 

اے دستِ طلب کیوں تری باری نہیں آئی

کہنا مِرے آقا کی سواری نہیں آئی

تصویر و تماشا ہوں بڑی دیر سے چُپ ہوں

کب تک مرے مولا

 

ممکن نہیں یہ آنکھ تِری دید کو ترسے

ہر رنگ میں دیکھوں تجھے دیوار سے، دَر سے

میں تو ترا رستہ ہوں بڑی دیر سے چُپ ہوں

کب تک مرے مولا

 

اے کاشفِ اسرارِ نہانی تِرے صَدقے

اب شاذ کو دے حُکمِ روانی تِرے صدقے

ٹھہرا ہوا دریا ہُوں بڑی دیر سے چُپ ہوں

کب تک مرے مولا

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے