نظمیں ۔۔۔ اسنیٰ بدر

 

                   عمارت بات کرتی ہے

                   ___________________

 

عمارت بات کرتی ہے ….

جلال الدین اکبر کے

وسیع الشان اعلیٰ مقبرے پر

جب میں پہنچی

تو مجھے محسوس ہوتا تھا

عمارت بات کرتی ہے

کہیں گھوڑوں کی ٹاپیں

اور سپہ سالار

تلواریں

فضا میں حوصلہ مندی کے پرچم

اونچی میناریں

جلال الدین اکبر

تخت پر جلوہ نما

جنگوں کے منصوبے،

محل میں سیر کرتے

سطوتِ شاہی کی آہٹ سے

لزرتے پیڑ کے پتے …

کہیں پر

دعوت شاہی بٹیریں اصلی گھی

میوے ..

معطرسارے حجرے

عود عنبر سے ..

 

کہ پھر مغموم سا جھونکا

جنازے کے تعاقب میں

ہزاروں لوگ

اور تنہا

جلال الدین اکبر

بے بس و لاچار کاندھوں پر..

 

اب ان کی قبر میں ایسی مہک ہے

جس طرح اک غار صدیوں سے مقفل ہو

 

مجھے محسوس ہوتا تھا

کہ اکبر ہی نہیں

تہذیب اور تاریخ کا اک دور بھی مدفون ہے

اس غار میں …

محصور ہوں

میں بھی…

کسے معلوم

کب کوئی

ہرا یا زعفرانی حکم آ جائے

عمارت بند ہو جائے

روایت سے تعلق کی روایت بند ہو جائے

 

عمارت بات کرتی ہے

مگر باتوں کا اندازہ نہیں ہوتا

٭٭

 

 

 

                   اونہہ

                   _______________

میری ماں کا

سب سے لاڈلا بچہ

میرا چھوٹا بھائی..

 

ماں کے پاؤں دباتا تھا وہ

اک دیوار کو پکڑے پکڑے

گندے پیروں

پیٹھ پہ بھی چڑھ جاتا تھا وہ

دوڑ دوڑ کے

دکھلانے کو

ان کے سارے کام وہ کرتا

کترن لے کر

ریٖل بٹن کی میچنگ

سبزی دہی وغیرہ

گھڑے صراحی کولر بھرتا

لیکن مجھ پر

کڑی نظر

ایسے رکھتا تھا

جیسے میں اس کی نوکر ہوں

ماں کی نظر بچا کر اکثر

کتنے کام تو مجھ سے ہی کروا لیتا تھا

منع کروں تو دھمکاتا تھا

کبھی مجھے سوتیلی کہتا

کبھی چڑاتا

 

جب میں سہیلی کے گھر جاتی

وقت سے پہلے لینے آتا

ایک روز تو اسی بات پہ

ماں نے اس کی ڈانٹ لگائی

اس شب مجھ کو مارے خوشی کے نیند نہ آئی

 

بھری دوپہر

مجھ سے ہنڈ کلیا پکوا کر

ایک پڑوسی بن کر آتا

سب کھا جاتا

بعد میں مجھے

دھوئیں میں اٹے

سارے برتن

دھونا پڑتے

اس کی وجہ سے آٹھ آٹھ آنسو

رونا پڑتے

 

ان باتوں سے جی میں نفرت اور پنپتی

 

ماں بھی اس کو

مجھ سے زیادہ حلوہ دیتیں

مجھ کو ایک پراٹھا

اس کے حصہ میں دو

بالائی بھی مجھ سے زیادہ

 

ماں کو میرا کوئی کام نہیں دکھتا تھا

آنکھوں پر ظالم کی چاہت کا پردا تھا

 

دھیرے دھیرے

میرا ننھا دل جل جل کر راکھ ہو گیا

خیر شکر ہے

بیس برس میں سارا قصہ پاک ہو گیا

 

اب جب میکے جاتی ہوں

تو وہی ایک نمبر کا پاجی

مجھ کو لینے آ جاتا ہے

اپنے کئے دھرے پر شاید

پچھتاتا ہے

اپنا حلوہ اور بالائی دے دیتا ہے

چالو لڑکا

اچھا بن کے

دکھلاتا ہے

 

ماں بھی ساتھ نہیں جو اس کی چال سمجھ لیں

اب تو میرا حال سمجھ لیں

 

بڑا چلا ہے ابا بننے!

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے