غزلیں ۔۔۔ حمایت علی شاعر

بدن پہ پیرہن خاک کے سوا کیا ہے

مرے الاؤ میں اب راکھ کے سوا کیا ہے

 

یہ شہر سجدہ گزاراں دیار کم نظراں

یتیم خانۂ ادراک کے سوا کیا ہے

 

تمام گنبد و مینار و منبر و محراب

فقیہ شہر کی املاک کے سوا کیا ہے

 

کھلے سروں کا مقدر بہ فیض جہل خرد

فریب سایۂ افلاک کے سوا کیا ہے

 

تمام عمر کا حاصل بہ فضل رب کریم

متاع دیدۂ نمناک کے سوا کیا ہے

 

یہ میرا دعویٰ خود بینی و جہاں بینی

مری جہالت سفاک کے سوا کیا ہے

 

جہان فکر و عمل میں یہ میرا زعم وجود

فقط نمائش پوشاک کے سوا کیا ہے

٭٭٭

 

شبِ سیہ میں چراغِ نظر تری آنکھیں

رہِ حیات میں رختِ سفر تری آنکھیں

 

تو ساتھ ہو کہ نہ ہو، زندگی کی راہوں میں

رہیں ہمیشہ مری ہم سفر تری آنکھیں

 

خدا کرے کہ میں بس جاؤں تیری آنکھوں میں

کیے رہیں مری آنکھوں میں گھر تری آنکھیں

 

طلوع ہو تری پلکوں کے سائے میں ہر صبح

جھکی رہیں مری ہر شام پر تری آنکھیں

 

مری نگاہ میں رہ کر بھی جانے کیوں اب تک

مری نگاہ سے ہیں بے خبر تری آنکھیں

 

میں خود غرض بھی ہوں کتنا کہ بس یہی چاہوں

رہیں ہمیشہ مری منتظرo تری آنکھیں

٭٭٭

 

جب تک زمیں پہ رینگتے سائے رہیں گے ہم

سورج کا بوجھ سر پہ اٹھائے رہیں گے ہم

 

کھل کر برس ہی جائیں کہ ٹھنڈی ہو دل کی آگ

کب تک خلا میں پاؤں جمائے رہیں گے ہم

 

جھانکے گا آئینوں سے کوئی اور جب تلک

ہاتھوں میں سنگ و خشت اٹھائے رہیں گے ہم

 

اک نقش پا کی طرح سہی اس زمین پر

اپنی بھی ایک راہ بنائے رہیں گے ہم

 

جب تک نہ شاخ شاخ کے سر پر ہو تاج گل

کانٹوں کا تاج سر پہ سجائے رہیں گے ہم

٭٭٭

 

 

 

آنکھ کی قسمت ہے اب بہتا سمندر دیکھنا

اور پھر اک ڈوبتے سورج کا منظر دیکھنا

 

شام ہو جائے تو دن کا غم منانے کے لیے

ایک شعلہ سا منور اپنے اندر دیکھنا

 

روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا

اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم تر دیکھنا

 

سنگ منزل استعارہ سنگ مرقد کا نہ ہو

اپنے زندہ جسم کو پتھر بنا کر دیکھنا

 

کیسی آہٹ ہے پس دیوار آخر کون ہے

آنکھ بنتا جا رہا ہے روزن در دیکھنا

 

ایسا لگتا ہے کہ دیواروں میں در کھل جائیں گے

سایۂ دیوار کے خاموش تیور دیکھنا

 

اک طرف اڑتے ابابیل اک طرف اصحاب فیل

اب کے اپنے کعبۂ جاں کا مقدر دیکھنا

 

صفحۂ قرطاس ہے یا زنگ خوردہ آئینہ

لکھ رہے ہیں آج کیا اپنے سخن ور دیکھنا

٭٭٭

 

 

آج کی شب جیسے بھی ہو ممکن جاگتے رہنا

کوئی نہیں ہے جان کا ضامن جاگتے رہنا

 

قزاقوں کے دشت میں جب تک قافلہ ٹھہرے

قافلے والو رات ہو یا دن جاگتے رہنا

 

تاریکی میں لپٹی ہوئی پر ہول خموشی

اس عالم میں کیا نہیں ممکن جاگتے رہنا

 

آہٹ آہٹ پر جانے کیوں دل دھڑکے ہے

کوئی نہیں اطراف میں لیکن جاگتے رہنا

 

ٹھنڈی ہواؤں کا اے دل احساں نہ اٹھانا

کوئی یہاں ہمدرد نہ محسن جاگتے رہنا

 

راہنما سب دوست ہیں لیکن اے ہم سفرو

دوست کا کیا ظاہر کیا باطن جاگتے رہنا

 

تاروں کی آنکھیں بھی بوجھل بوجھل سی ہیں

کوئی نہیں اب شاعرؔ تجھ بن جاگتے رہنا

٭٭٭

 

 

پندار زہد ہو کہ غرور برہمنی

اس دور بت شکن میں ہے ہر بت شکستنی

 

صرصر چلے کہ تند بگولوں کا رقص ہو

موج نمو رواں ہے تو ہر گل شگفتنی

 

گل‌‌ چین و گل فروش کی خاطر ہے فصل گل

اور قسمت جنوں ہے فقط چاک دامنی

 

دیوار ابر کھینچیے کرنوں کی راہ میں

ذروں میں قید کیجیئے سورج کی روشنی

 

موج نفس سے لرزے ہے تار رگ حیات

پھیلی ہے شہر دل میں وہ پر ہول سنسنی

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے