شعر شور انگیز، مطالعۂ میر کا ایک سنگ میل ۔۔۔ پروفیسر رحمت یوسف زئی

شمس الرحمن فاروقی اُردو کے ان گنے چنے نقادوں میں شامل ہیں جنہیں رجحان ساز ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ فاروقی خود شاعر ہیں اور اسی لیے انہیں یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ شعر پر اظہار خیال کریں۔ ورنہ اردو کی ایک بڑی عجیب و غریب روایت بن گئی ہے کہ ایسے بر خود غلط لوگ جو شعر کی نزاکتوں سے واقف ہونا تو کجا‘ صحیح طریقے سے شعر پڑھ بھی نہیں سکتے‘ وہ شاعری اور شعریت پر بے تکان رائے دیتے ہیں۔ اور اس سے بڑی بو العجبی یہ ہے کہ ان کی رائے کو اہمیت بھی دی جاتی ہے۔ اور اگر وہ تدریس سے وابستہ ہو تو کیا کہنے۔ اس کے پیچھے کئی باتیں ہیں۔ ذاتی مفاد‘ خوشامد پسندی‘ اور اس کے ساتھ یہ بھی کہ اگر ہم نے ان لنگڑے لولے ذہنی اپاہج قسم کے نقادوں کی رائے کو اہمیت دی تو کل یہی لوگ ہماری بات بھی بدلے کے طور پر دہرائیں گے۔ اور اس طرح علم و ادب کے نقاد کی حیثیت سے ہماری شخصیت بھی ابھر سکے گی۔ لیکن وقت سب سے بڑا نقاد ہے۔ ایک طرف وہ بے کار قسم کی تخلیقات کو نگل جاتا ہے تو دوسری طرف لایعنی تنقید بھی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ بات اٹل ہے کہ تخلیق ہو یا تنقید، اگر اس میں گہرائی نہ ہو تو وقت کا تیز رد دریا اسے اپنے ساتھ خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتا ہے۔

تقریباً دو دپائی قبل شمس الرحمن فاروقی نے تفہیم میر کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اور انہیں مضامین کی شکل میں شائع کرتے رہے۔ اس سلسلے کا پانچواں مضمون ’جواز‘ اگسٹ ۸۵ میں شامل ہے۔ لگتا ہے کہ اس قبل کے مضامین بھی جواز کی زینت بنے ہیں۔ جب شعر شور انگیز کی پہلی جلد چھپی تو متذکرہ مضمون میں فاروقی نے کچھ اضافے کیے۔ میر کا شعر ہے۔

 

کیوں کہ جہت ہو دل کو اس سے میرؔ مقام حیرت ہے

چاروں اور انہیں ہے کوئی یاں واں یونہی دھیان گیا

میر اور حافظ کے ان اشعار کا تقابل کرتے ہوئے فاروقی نے مضمون میں لکھا تھا کہ:

’’حافظ کے شعر میں المیہ وقار ہے اور میر کے یہاں یقین اور امید کی کشمکش‘‘

’’شعر شور انگیز‘‘ میں یہ مضمون شامل ہوا تو فاروقی نے اس عبادت میں یوں اضافہ کیا۔

’’میر کی حیرت میں ایک طرح کا طنز بھی ہے۔ حافظ کے شعر میں طنز کا ہلکا سا شائبہ ہے لیکن میر کے یہاں اسرار کی کیفیت حافظ سے زیادہ ہے۔‘‘

پھر انہوں نے جہت اور سمت، حیرت اور دھیان میں ضلع کا تعلق ظاہر کرتے ہوئے میر کی صناعی کی طرف بھی اشارہ کیا۔

شمس الرحمن فاروقی اردو کے کلاسیکی ادب سے کماحقہ واقف ہیں اور ساتھ ساتھ مغرب کے تنقید تصورات پر بھی ان کی گہری نظر ہے۔ مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ مغربی افکار کی چکا چوند سے مرعوب نہیں ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مشرقی شعری روایات کی تفہیم میں مغربی افکار کار آمد نہیں ہو سکتے بلکہ وہ ذہن کو وسعت بخشے ہیں۔ فاروقی لکھتے ہیں۔

’’میں نے مغربی افکار کا اثر قبول کیا لیکن ان سے مرعوب نہ ہوا اور اپنی کلاسیکی شعریات کو میں مغربی شعریات پر مقدم رکھا۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ میں مشرقی شعریات سے بہرحال اور بہر زماں بہتر سمجھتا ہوں لیکن اس کے معنی یہ ضرور ہیں کہ اپنے کلاسیکی ادب کو سمجھنے کے لیے میں اپنی مشرقی شعریات کے اصولوں کو مقدم جانتا ہوں۔‘‘

(شعر شور انگیز۔ جلد اول۔ ص ۱۸)

لیکن استعارے کے ضمن میں ان کی رائے مختلف ہے۔ ان کے خیال میں مشرقی شعریات میں استعارہ اہم مقام نہیں رکھتا بلکہ یہاں مضمون کو اہمیت حاصل ہے۔ اور اسی وجہہ سے انہوں نے شعر شور انگیز کی چاروں جلدوں میں بقول خود مضمون اور نفس مضمون کا احاطہ کیا۔ لیکن استعارے کے بارے میں اپنی رائے کے باوجود انہوں نے میرؔ کے استعاروں پر ایک پورا باب تحریر کیا ہے، اس کا آگے ذکر آئے گا۔

یہ بات بالکل صحیح ہے کہ تفہیم شعر کے سلسلے میں مغربی نقادوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ جب کہ مشرقی شعریات میں بہت کم بحث ہوئی ہے۔ لیکن یہاں صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ اگرچہ جب کہ مشرقی شعریات میں بہت کم بحث ہوئی ہے۔ لیکن یہاں صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ اگرچہ مشرقی شعریات اور خصوصاً اردو کا تنقیدی سرمایہ کمیت کے اعتبار سے مغربی نقادوں کے مقابلہ نہیں کر سکتا اور شاید اسی پر طنز کرتے ہوئے کلیم الدین احمد نے اردو تنقید کو معشوق کی موہوم کمر کہا تھا لیکن تفہیم شعر کے ضمن میں یہاں بھی بہت کچھ ہے۔ یہ اور بات ہے کہ یہ سب مضامین کی شکل میں ہیں اور تفہیم شعر کے طریقوں اور اصولوں پر کوئی منضبط قسم کی کتاب نہیں ملتی۔ پھر بھی نقادوں نے اپنے اپنے نظریات کے تحت تفہیم شعر کا فریضہ انجام دیا۔ کئی نقادوں کے علاوہ مجنوں گورکھپوری، آل احمد سرور، احتشام حسین، ممتاز حسین، عمیق حنفی کے علاوہ خود فاروقی نے تفہیم شعر کے اصول اور طریقہ کار متعین کرنے میں نمایاں کام کیے ہیں۔

غالبؔ غالباً وہ پہلا شاعر ہے جس کے کلام کی باضابطہ شرحیں تحریر کی گئیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ غالبؔ ادق نگاری میں ملکہ رکھتے تھے۔ ان کے ہاں معنی کی مختلف تہیں ہیں جن تک رسائی آسان نہیں۔ چنانچہ بیسیوں شرحوں کے باوجود مختلف تہیں فاروقی نے تفہیم غالبؔ کا سلسلہ شروع کیا تھا جو شب خون میں مسلسل شائع ہوتا رہا اور بعد میں کتابی شکل میں بھی منظر عام پر آیا۔ دوسرا اہم شاعر اقبالؔ ہے جس کی شرحیں لکھی گئیں۔ میرؔ کا معاملہ یہ ہے کہ اس کا کلام چھ سات دواوین پر مشتمل ہے۔ تمام دواوین کا تجزیاتی مطالعہ اور پھر تفہیم تحریر کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ شمس الرحمن فاروقی نے اس بار کو اٹھایا۔ پھر بھی ’’شعر شور انگیز‘‘ کی چار جلدوں میں میرؔ کے تمام کلام کی تفہیم نہیں ہے۔ میرؔ کے کلام کے بارے میں تقریباً سبھی نقاد متفق ہیں کہ ان کے ہاں رطب و یابس سبھی کچھ ہے۔ اگر چہ فاروقی اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے لیکن خود انہوں نے بھی میرؔ کے تمام دواوین سے اپنے مذاق اور مزاج کے مطابق اشعار کا انتخاب کیا۔ ان کا انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ جو اشعار انہوں نے کمزور یا سطحی سمجھے، انہیں اپنے انتخاب میں جگہ نہ دی۔ ہو سکتا ہے کل کوئی اور نقاد میرؔ کا ایک اور انتخاب کرے اور ایسے اشعار کو شامل کرے جن پر متقدین نے توجہ نہ کی ہو۔

میرؔ کا انتخاب مولوی عبدالحق کے علاوہ اثرؔ لکھنوی، حسرتؔ موہانی، حامدیؔ کاشمیری، محمد حسن عسکری، سردار جعفری اور دوسروں نے کیا ہے لیکن فاروقی کے مطابق اثر لکھنوی کے انتخاب میں عقیدت مندانہ جذبات ہیں۔ محمد حسن عسکری نے ایک مخصوص اور محدود نقطہ نظر سے کام لیا ہے جس کی وجہ سے میرؔ کی ایک نمائندہ تصویر پیش کرنے کی کوشش میں ان کے ہاں عمدہ اشعار کے ساتھ کم عمدہ اشعار بھی آ گئے ہیں۔ سردار جعفری کے انتخاب کو بعض حدود اور نقطہ نظر کی تنگیوں کے باوجود قابل قدر قرار دیتے ہیں۔ پھر بھی ان کو شکوہ ہے کہ سردار جعفری نے میرؔ کے کئی رنگوں کو نظرانداز کر دیا۔

چنانچہ فاروقی نے میرؔ کا ایک نیا انتخاب کرنے کی ٹھانی اور جو اشعار منتخب کیے ان کے لیے اس اصول کو پیش نظر رکھا کہ ایسے اشعار بھی شامل ہو جائیں جو بظاہر عہد حاضر کے تصور غزل سے میل نہیں نہیں کھاتے لیکن ان میں کہنے کے لیے کچھ بات ہے۔ انہوں نے جس شعر کو اہم یا اچھا سمجھا اسے اپنے انتخاب میں شامل کر لیا اور کچھ ایسے اشعار چھوڑ دیے جن کی سیاسی یا انقلابی تعبیر قبل کے انتخاب کرنے والوں کے پیش نظر تھی۔ انتخاب کا یہ کام فاروقی نے ۱۹۷۹ء میں شروع کیا تھا جو ۸۲ء میں ختم ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے تفہیم لکھنے کے کام کا آغاز کیا۔

فاروقی کے اس انتخاب کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ انہوں نے مختلف دواوین میں شامل ایک ہی زمین کی غزلوں سے بنا دی۔ مگر حاشیے میں وضاحت بھی کر دی کہ یہ اشعار کس دیوان سے لیے گئے ہیں۔

انتخاب کے ضمن میں اہم بات یہ بھی ہے کہ جو اشعار منتخب کیے جائیں، ان کا متن  درست ہو۔ شمس الرحمن فاروقی ظل عباس عباسی کے مرتبہ کلیات میرؔ کو زیادہ نسخوں سے تقابل کر کے اپنے طور پر متن طئے کیا ہے۔

شعر شور انگیز کی پہلی جلد میں فاروقی نے تفہیم میرؔ کے ضمن میں اپنے طریقہ کار کی پوری طرح وضاحت کر دی ہے اور اس طرح شعری تفہیم کو تنقید کی ایک علیحدہ شاخ بنا کر ایک طرح سے اس کے اصول و ضوابط اور خدوخال متعین کر دیے ہیں۔

تمہید کے بعد شعر شور انگیز کی پہلی جلد میں آٹھ ابواب پر مشتمل محاکمہ ہے۔ جو تقریباً دو سو صفحات پر محیط ہے۔ میرؔ کو خدائے سخن کہا جاتا ہے۔ فاروقی اسے مفروضہ قرار دیتے ہیں۔ پہلے باب ’’خدائے سخن میرؔ یا غالبؔ‘‘ میں وہ لکھتے ہیں۔

 

’’غالبؔ کے ہوتے ہوئے میں میرؔ کو خدائے سخن نہیں کہہ سکتا۔ لیکن میرؔ کے ہوتے ہوئے غالبؔ کو بھی خدائے سخن کہنا ممکن نہیں‘‘

میرؔ کے خدائے سخن کہے جانے کو وہ مفروضہ قرار دینے کے باوجود آگے کہتے ہیں:

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض معاملات میں غالبؔ کا مرتبہ میرؔ سے بلند ہے اس کے باوجود غالبؔ کو میں خدائے سخن نہیں کہتا، بعض حالات میں میرؔ کو خدائے سخن کہہ سکتا ہوں۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔‘‘

دلیل اس کی یہ ہے کہ فاروقی کے مطابق میرؔ نے آٹھ اصناف میں طبع آزمائی کی اور خاصا کلام چھوڑا۔ بلکہ بعض لوگوں کے مطابق واسوخت کے موجد بھی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک بحر بھی تقریباً ایجاد کی۔ (یہ بحر متقارب شانزدہ رکنی ہے ) جب کہ غالبؔ نے غزل قصیدہ اور رباعی ہی میں طبع آزمائی کی۔ ایک آدھ مثنوی اور مرثیے کے چند بندوں کو فاروقی اس لیے اہمیت نہیں دیتے کہ خود غالبؔ نے بھی دبیر کے رنگ میں کہے گئے اپنے مرثیے کو مرثیے سے زیادہ واسوخت بتایا تھا۔ فاروقی یہ بھی لکھتے ہیں کہ عروض میں غالبؔ کا کوئی تصرف نہیں۔ حالانکہ

’’حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے‘‘

والی غزل میں عروضی معرکہ آرائی موجود ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس بحر میں کچھ اساتذہ فن نے بھی طبع آزمائی کی ہو لیکن غالبؔ کی جدت پسندی نے اس بحر کو استعمال کر کے اپنی عروضی دانی کا ثبوت مہیا کیا ہے۔

ویسے غالبؔ اور میرؔ کے تقابلی مطالعہ کے ضمن میں فاروقی کا یہ باب خاصے کی چیز ہے اور اس بات کے اختتام پر فاروقی بہر حال اس بات سے متفق نظر آتے ہیں کہ خدائے سخن کا خطاب میرؔ ہی کو زیب دیتا ہے۔ اگلے باب ’’غالب اور میر‘‘ میں بھی انہوں نے لسانی اعتبار سے بھی میرؔ کے شعری کارخانے کو غالبؔ سے برتر ہی قرار دیا ہے۔

تیسرا اور چوتھا باب میرؔ کی زبان، روز مرہ یا استعارہ ہے جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، فاروقی نے شعر شور انگیز کی چاروں جلدوں میں اشعار کی تفہیم کرتے ہوئے مضمون اور نفیس مضمون پر زیادہ زور دیا۔ اور پھر بھی کہ مشرقی شعریات میں استعارہ اہم مقام نہیں رکھتا۔ لیکن ان دو ابواب میں فاروقی نے استعاروں پر بڑی عمدہ بحث کی ہے اور چرڈس اور بروکس کے حوالے سے استعارے پر روشنی ڈالتے ہوئے میرؔ کے استعاروں کے مرکز جاذبہ(Center of Gravity) تک پہنچنے کی کوشش کی ہے اور اس میں کامیاب بھی ہیں۔

استعارے کا معاملہ یہ ہے کہ مسلسل استعمال اس کے مفاہیم کو محدود کر دیتا ہے۔ لیکن ایک مشاق فن کار مسلسل استعمال ہونے والے استعاروں کے بطن سے بھی نئے نئے مفاہیم پیدا کر سکتا ہے۔ جدید طرز فکر میں البتہ قدیم استعاروں کے استعمال سے شعوری طور پر گریز کیا گیا اور نئے استعارے وضع کیئے گئے لیکن اب نئے استعارے بھی اپنے مفاہیم کھو رہے ہیں اور آج کا فنکار نئے نئے استعاروں کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔

میرؔ کے ہاں جو استعارے ہیں ان کی مثالیں دیتے ہوئے فاروقی نے ثابت کیا ہے کہ عام حقیقتوں کا اظہار میرؔ کے یہاں انکشاف کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ جب کہ ابتداء میں وہ کہتے ہیں کہ میرؔ کے استعاروں میں طنز اور قول محال کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔

’’بحر میر‘‘ کے عنوان سے فاروقی نے جو بات تحری کیا اس میں میرؔ کے کلام کا محدود عروضی تجزیہ بھی شامل ہے۔ بحر متقارب شانزدہ رکنی میرؔ کی پسندیدہ بحر تھی جس میں ہندی چھند کا سا آہنگ نمایاں ہے۔ اس بحر میں بقول فاروقی میر ؔ نے ۱۸۳ غزلیں کہی ہیں۔ یہ بحر ویسے دکن میں شاہی نے اور لکھنو میں جرات نے بھی استعمال کی لیکن میرؔ نے اس بحر کو اتنا زیادہ برتا کہ میرؔ کے مزاج کا حصہ بن گئی۔

فاروقی لکھتے ہیں:

’’درد، اثر، مصحفی، شاہ حاتم، یقین، قائم وغیرہ کے ہاں مجھے یہ بحر نظر نہیں آئی لہذا ہم یہ نتیجہ نکالنے میں حق بجانب ہوں گے کہ اگر میرؔ نے یہ بحر بکثرت استعمال نہ کی ہوتی تو بعد کے لوگ اس سے کم و بیش بے خبر ہوتے۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔‘‘

اس باب کے آخر میں اپنے محاکمے کے نتائج کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ:

اس کتاب کا نواں باب ’’شعر شور انگیز‘‘ ہی کے عنوان سے ہے۔ جس میں فاروقی نے دیگر نقادوں کی اس بات سے اختلاف کیا ہے کہ میرؔ کے ہاں دھیما پن، نرمی، آواز کی پستی اور ٹھہراؤ ہے۔ وہ اس خیال کو مغربی رومانی تصورات کا پرور دہ بتاتے ہیں۔ مولوی عبد الحق نے میرؔ کے یہاں سوز و گداز اور درد کو بنیادی عنصر قرار دیا تھا۔ آل احمد سرور کے خیال کے مطابق میرؔ کے الفاظ میں گرج اور کڑک نہیں ملتی۔ فراق میرؔ کے لہجے کے دھیمے پن اور نرمی کو ان کا اہم وصف قرار دیتے ہیں۔ لیکن فاروقی کہتے ہیں کہ میرؔ کے ہاں گونج اور پھیلتی ہوئی آواز ہے اور میرؔ کا کلام روانی کی معراج پر ہے۔ لیکن اس گونج، پھیلتی ہوئی آواز اور روانی کو محسوس کرنے کے لیے ان کے خیال کے مطابق یہ ضروری ہے کہ اشعار کو بلند اور گونجیلے لہجے میں ادا کیا جائے۔

یہاں فاروقی سے قدرے اختلاف کی گنجائش ہے۔ لیکن میرؔ کے ہاں صرف روانی کا معاملہ ہے۔ یہ بات بر حق ہے کہ میرؔ کے کلام میں روانی معراج پر ہے۔ لیکن میرؔ کے ہاں صرف روانی، گونج اور پھیلتی ہوئی آواز ہی نہیں بلکہ نرمی، دھیمے سروں کا آہنگ اور سرگوشیانہ کیفیت بھی ہے۔ اور میرؔ کا کلام ان تمام متضاد عناصر کا ایک حسین امتزاج ہے۔ میرؔ کایہ شعر

’’سرہانے میرؔ کے کوئی نہ بولو

ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے‘‘

بلند اور گونج دار لہجے میں پڑھنے کا شعر نہیں۔ کسی طرح بھی پڑھا جائے، اس کے اندر موجود سوز و گداز چھپ نہیں سکتا۔ اور اگر اسے سرگوشیانہ لہجے میں پڑھا جائے تو تاثر اور گہرا ہو جاتا ہے۔ اور اس کے اندر پوشیدہ غم انگیز کیفیت اور ابھر کر سامنے آتی ہے۔ گھن گرج تو سوداؔ کے اس شعر میں اسی مضمون پر ہے کہ

سودا کی جو بالیں پہ ہوا شور قیامت

خدام ادب بولے ابھی آنکھ لگی ہے

 

یہی وجہ ہے کہ آل احمد سرور، فراق اور دوسروں نے میرؔ کے نرم اور مدھم لہجے کو اہمیت دیتے ہوئے اسے میرؔ کے کلام کا سب سے نمایاں وصف قرار دیا۔ فاروقی نے میرؔ کے کچھ اشعار درج کر کے انہیں ایک بار معمول سے زیادہ زور اور بلند آہنگی سے پڑھنے کی ہدایت کی ہے اور پھر ایک بار دھیمی آواز اور سرگوشی سے لہجے میں پڑھنے کے لیے کہا ہے۔ اور نتیجہ نکالتے ہوئے کہتے ہیں۔

’’ممکن ہی نہیں کہ ان شعروں کو مدھم اور میٹھے سروں میں پڑھا جائے اور پھر بھی ان کی قوت واضح ہو جائے‘‘

ان اشعار میں سے چند ہیں۔

سب گئے، ہوش و صبر و تاب و تواں

لیکن اے داغ، دل سے تو نہ گیا

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

پاس ناموس عشق تھا ورنہ

کتنے آنسو پلک تک آئے تھے

ہو سکتا ہے کہ ان اشعار کو جھنجھلائے ہوئے لہجے میں پڑھا جائے اور اس میں ایک طنز آمیز کیفیت ابھر کر آئے۔ لیکن راقم الحروف کے خیال کے مطابق ان اشعار کا صحیح حظ مدھم، میٹھے، سوز آمیز اور سرگوشی میں پڑھنے ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ اپنے اپنے نقطہ نظر کی بات ہے۔ ویسے میرؔ کے یہاں گونج دار آواز پڑھا جانے والے اشعار کی بھی کمی نہیں۔

 

تسبیحیں ٹوٹیں، خرقے، مصلے پھٹے جلے

کیا جانے خانقاہ میں کیا میرؔ کہہ گئے

 

تم کبھو میرؔ کو چاہو ہو کہ چاہیں ہیں تمہیں

اور ہم لوگ تو سب ان کا ادب کرتے ہیں

 

لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ چار جلدوں اور تقریباً دو ہزار سات سو صفحات پر مشتمل ’’شعر شور انگیز‘‘ اردو میں اپنی نوعیت کی واحد کتاب ہے جس میں اتنی تفصیل سے میرؔ کے شعری مزاج، لہجہ، فکری آہنگ، زبان و بیان، استعارے، مضمون کی تہہ داریوں اور اظہار کی مختلف جہتوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان چاروں جلدوں میں نہ صرف میرؔ کے کلام کی تفہیم ہے بلکہ دیگر اساتذہ کے کلام سے تقابل کر کے میرؔ کے فن کا بھرپور تجزیہ بھی موجود ہے۔

ہر جلد کے اختتام پر فاروقی نے ایک جدت کی ہے کہ قدیم زمانے کی کتابوں کے طریق پر آخر میں فارسی میں انہوں نے ترقیمہ بھی لکھ دیا ہے۔ آخری جلد کے ترقیمے میں وہ اس کتاب کو ’’غوعائش مثال غلغلۂ رستا خیز‘‘ قرار دیتے ہیں۔ اس کسر نفسی کے باوجود یہ کہے بغیر رہا نہیں جاتا کہ مجھ جیسا کم سواد طالب علم ہو یا بے حد عالم و فاضل قسم کا نقاد اور یا پھر کوئی ماہر میریات کا دعویدار، یہ کتاب ذہن و دل کے دریچوں میں روشنی بکھیر دیتی ہے۔ شعر شور انگیز کی یہ چار جلدیں ایک طرف تو میرؔ فہمی کے نئے امکانات سے روشناس کراتی ہیں دوسری طرف خود شمس الرحمن فاروقی کی افتاد طبع، علمیت اور ان کے گہرے تنقیدی شعور کی غماز ہے۔

٭٭٭

 

 

 

مشتاق احمد یوسفی کی ’’شام شعر یاراں‘‘ ۔۔۔ ڈاکٹر قرۃ العین طاہرہ

 

شام شعر یاراں، مشتاق احمد یوسفی کی آخری کتاب ہے جس میں ماضیِ قریب و بعید بلکہ بعید ہی بعید میں لکھے گئے ۲۱ مضامین کو مرتب و مدون کر کے آرٹس کونسل کراچی نے تبرکات جانتے ہوئے مصنف کی خواہش کے بغیر ساتویں علمی اردو کانفرنس منعقدہ ۱۶. اکتوبر ۲۰۱۴ء کے موقع پر مرتبین و مدونین کے دیباچے یا پیش لفظ یا عرض مرتب کے بغیر جہانگیر بکس، کراچی سے شائع کر دیا ہے ، حتیٰ کہ کہیں اپنا نام (سید احمد شاہ۔ فاطمہ حسن) بھی سامنے آنے نہ دیا۔ یہ شذرہ ہائے فکر مختلف شخصیات، کتابوں کی تقریب رونمائی یا اداروں کے سالانہ یوم تاسیس پر دیے گئے خطبات پر مشتمل ہیں۔ عنوان فیض کی اس نظم سے اخذ کیا گیا ہے۔

اے مہ شب نگاراں … اے رفیقِ دل فگاراں … اے شام ہم زباں ہو… اے شام مہرباں ہو… اے شام مہرباں ہو… اے شام شہر یاراں … ہم پہ مہرباں ہو (فیض احمد فیض)

ان خطبات میں یوسفی صاحب کی لفظ شناسی، لفظ بافی و لفظ گری کا فن عروج پر ہے۔ لفظوں سے کھیلنے کا فن، انھیں برتنے کا سلیقہ، پھر مترادفات کی موجودگی میں جملے میں اسی لفظ کا استعمال جو مفہوم کو زیادہ واضح زیادہ با معنی بنا دے ، مناسب موقع پر مناسب لفظ اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ مصنف کا ذخیرۂ الفاظ لا محدود ہے ، اس کا سبب ان کا وہ مشغلہ ہے کہ جس سے شعوری کنارہ کشی ہمارے عوام ہی نہیں عالم، دانشور اور بڑے بڑے لکھاری کیے ہوئے ہیں۔ کتنے لکھاری ہیں جو لفظ کی اہمیت سے آگاہ ہیں، ہر نئے اور قدیم بلکہ متروک لفظ سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی اپنی تحریر میں برتے گئے عمومی الفاظ سے …

نظیر، انیس، جوش لفظوں کے برتاوے اور وسیع لغت کے استعمال کے سبب اپنی واضح شناخت رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں احسان دانش کا نام بھی شامل کر لیجیے۔ احسان دانش کی جہانِ دانش پڑھتے ہوئے اس بات کا خیال بار بار آتا ہے کہ ہم غیر ملکی زبان کے الفاظ اتنی تیزی اور روانی سے اردو میں سموتے چلے جاتے ہیں کہ بسا اوقات دورانِ گفتگو کئی جملوں کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ بات اردو زبان میں ہو رہی ہے۔ ہم اپنی مقامی، علاقائی یا مادری زبان کے الفاظ بے کم و کاست استعمال کرتے ہوئے گھبراتے ہیں، شرمندہ ہوتے ہیں یا انھیں قابلِ اعتنا نہیں جانتے۔ جہانِ دانش میں دسیوں، بیسیوں نہیں سیکڑوں الفاظ ایسے مل جاتے ہیں جو دورانِ تحریر مصنف کی ذہنی کیفیت اور ماحول کی عکاسی یوں کرتے ہیں کہ ان کی جگہ کوئی اور لفظ برتا ہی نہ جا سکتا تھا، اتنی خوبصورتی سے اپنا مافی الضمیر بیان کیا ہی نہ جا سکتا تھا۔ پھر احسان دانش کا قارئین اور اردو زبان پر یہ احسان کہ پا ورقی میں ان اجنبی الفاظ کے معنی بھی رقم کر دیتے ہیں کہ جانتے ہیں سہل پسند قاری لغت میں ان کے معنی کبھی تلاش نہ کرے گا اور خود کو یہ کہہ کر تسلی دے لے گا کہ اس دیہاتی لفظ کے معنی کہاں ہوں گے لغت میں۔

مشتاق احمد یوسفی کی مذکورہ کتاب ’’شام شعر یاراں‘‘ میں بار بار لغت سے استفادے کا ذکر ملتا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ نوجوانی میں آدمی سرہانے تلے ، شعری مجموعے ، افسانے یا ابن صفی کے ناول دھر کر یہ مشکل، صبر آزما وقت کاٹتا ہے یا بیکار وقت کو کارآمد بناتا ہے ، یوسفی صاحب عالم طفلی سے ہی لغت گزیدہ رہے۔ اس کتاب میں بار بار مصنف کا لغت کی طرف جھکاؤ، لغت سے استفادے کا ذکر قاری کو غیر محسوس طریقے سے لغت کی طرف مائل کرتا ہے۔ وہ اس امر سے آگاہ ہیں کہ ہمارا ذخیرہ الفاظ ذخائر آب و برق کی مانند بہت تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نئے الفاظ استعمال کرنے یا انھیں لغت میں سے تلاشنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ ابھی احسان دانش کا ذکر ہوا۔ انھوں نے ’’مترادفاتِ اردو‘‘ نامی لغت میں جس محنت و جاں کاہی کا ثبوت دیا ہے ، ہمارے آج کے محققین اور مصنفین اتنا وقت کہاں سے لائیں۔

یوسفی صاحب قدیم اور متروک الفاظ کے استعمال میں جہاں زبان سے اپنی محبت کا ثبوت دیتے ہیں اور انھیں از سر نو زندہ کرنے کی کوشش اور خواہش رکھتے ہیں، ’’سیتا پھل‘‘ کا تذکرہ قدیم ہندی ادب اور مذہب میں موجود ہے۔ قاری سوچتا ہے یہ سیتا پھل نہ جانے کن زمانوں کا، کن علاقوں کا کس موسم اور کس آب و ہوا کا پھل ہے۔ راجکماریوں کا پسندیدہ ہے یا راجکمار بھی اس سے شغف رکھتے ہیں لیکن جب یوسفی صاحب اس پھل کا تعارف اور تعریف کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ذاتِ شریف ’’شریفہ‘‘ کی ہے جو اپنی مٹھاس کے لیے مرغوب اور بیجوں کی کثرت کے لیے معتوب ہے۔ یہ وہی شریفہ ہے جس کے متعلق یوسفی صاحب ’’زرگذشت‘‘ میں فرما چکے ہیں۔ ’’آم، سپاگٹی، شریفے اور خستہ پییٹز کھانے کا مہذب طریقہ ابھی تک دریافت نہیں ہوا۔‘‘

بہت سے الفاظ و تراکیب خود بھی وضع کرتے ہیں۔

غنا بالجبر، زنبوری بھنچاؤ، الاسٹک دورانیے …ایسے الفاظ کی بھی کمی نہیں جو صرف یوسفی صاحب سے ہی مخصوص ہیں، سموچا، طلاقت، طربوش، ازدیاد، بے ہمگی، مشموش، ہیاؤ کھلنا، مچیٹا، بکراہند، محک، حذافت… پھر وہ الفاظ جو غلط العام اور غلط العوام ہونے کی بنا پر عوام اور علماء میں رائج ہیں۔ خاص طور پر جن کا غلط تلفظ زبان زدِ عام ہے ، یوسفی صاحب انھیں اعراب سے سجا سنوار کر قاری کی خاموشی سے تصحیح کرتے ہیں۔ یوسفی صاحب بات سے بات نکالنے کے تو ماہر ہیں ہی لیکن لفظ سے لفظ نکالنا بھی انھیں خوب آتا ہے۔ یوسفی صاحب تکرارِ لفظی و تکرار حرفی سے اپنی بات میں شدت، اصرار اور تیقن پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کرتے ہیں۔

’’قائد اعظم فوجداری عدالت میں‘‘میں یوسفی صاحب خان بہادر اختر عادل، قائد اعظم کے مخالف وکیل کی تصویر یوں کھینچتے ہیں۔ ’’…بہت خوش خو، خوش خلق، خوش لباس، خوش خوراک، شریف النفس اور بہت موٹے تھے اور خود سے بھی زیادہ موٹے تین بیٹوں کے باپ تھے۔‘‘

فارسی سے لاتعلقی کا غلغلہ اپنی جگہ، اس زبان سے ناواقفیت کی بنا پر ندامت کا اظہار بار بار لیکن یوسفی صاحب کی تحریر اس امر کی نفی کرتی ہے۔ کہ تحریر میں فارسی الفاظ و تراکیب و اشعار کے تڑکے کی چھنچھناہٹ اور مہک قاری کو اس زبان سے نا واقفیت کے باوجود مزا دے جا تی ہے۔ پھر ہندی الفاظ کا خوبصورت استعمال، ان خطابیہ مضامین میں جا بجا ہوا ہے۔

’’یہ وہ محنت ہے جس میں خالی پتا مارنے کی بجائے اپنی پت (عزت نفس) اور پندار ارپن (بھینٹ چڑھانا) کرنا پڑتا ہے۔‘‘

’’ہنسی کی دو سے زیادہ قسمیں ہیں سات سے زیادہ سر، ان گنت استھائی اور بے انت انترے ہوتے ہیں۔ موقع، محل، روزِ ابر و شب ماہتاب کی قید نہیں۔ ہنسنے والا بات بے بات ہنسے جاتا ہے ، پھر جب دنیا کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگتی ہے تو نہ ہنسی آتی ہے نہ رونا، بس چپ سی لگ جاتی ہے پھر بھوگی، سوگی اور گن گائیک آپی آپ جوگی اور دھیانی گیانی کا برن لے کے پتھر سمان اور شانت ہو جاتے ہیں، شانتی شانتی شانتی…‘‘

پیروڈی، تحریف نگاری ہمارے طنز و مزاح نگاروں کا ایک اہم ہتھیار ہے کہ مزاح تو پھر بھی برداشت کر لیا جاتا ہے طنز کے تیر سہنے کی تاب ہرکسی میں نہیں، مرزا صاحب سے کہلا دیتے ہیں۔ یوسفی صاحب ’’خاکم بدہن‘‘ کے دیباچے میں کہہ چکے ہیں ’’طنز ایک مقدس جھنجھلاہٹ کا اظہار بن چکا ہے۔‘‘ یوسفی صاحب مضحک نقالی سے طنز نگاری یوں کرتے ہیں کہ قاری سبھی کچھ اپنی نگاہوں کے سامنے ہوتا دیکھتا ہے۔

آ گیا عین لڑائی میں اگر وقت فرار

نلی تم نے کہا تھا، ہم تو دنیا چھوڑے جاتے ہیں

ان میں لاغر بھی ہیں، بچے بھی ہیں ہشیار بھی ہیں

اور کچھ ہیں کہ ہر اک کام سے بیزار بھی ہیں

پیروڈی یا مضحک نقالی یا ہجویہ تقلید یا، تقلیدِ معکوس یا لفظی تبدیلی سے مضحکہ خیز صورتِ احوال پیدا کرنے کے لیے تحریف نگار کا اپنا مطالعہ وسیع ہونا چاہیے وہیں قاری بھی اپنی کلاسیکی و جدید شاعری سے شدھ بدھ رکھتا ہو تبھی وہ لطف و مسرت اٹھا سکتا ہے۔ اگر وہ سنجیدہ اصل سے واقف نہیں تو وہ مزاحیہ نقل سے کیسے لطف اٹھا سکے گا۔ یوسفی صاحب زبان زد عام مصرعوں اور اشعار کی تحریف سے موضوع کی وضاحت کرتے اور مسکراہٹیں بکھرتے ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ ان کی تحریف نگاری منفی انداز و اثرات نہیں رکھتی۔

تجھ سے پچھڑ کر زندہ ہیں خان بہت شرمندہ ہیں

ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا

بات پہنچی ہے حکم رانی تک

یہ عالم سوگ کا دیکھا نہ جائے

مزاح مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقریریں

وہ اپنی ذات کو بھی نہیں بخشتے۔ جتنا خوبصورت اپنا کیری کیچر بناتے ہیں اتنا شاید کسی اور کا نہیں۔ تفنن طبع کا مرکز اپنی ذات ہو تو زیادہ کھل کھیلتے ہیں۔ اپنی بیماری کا تذکرہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ خود انھیں تو اپنی بیماری سے پیار ہے ہی، قاری بھی اس سے الفت کے تقاضے نبھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ خیر و عافیت کی جگہ قبر و عاقبت پیش نظر ہے۔ طبیب و مطب سامنے ہے۔

بدل کر مریضوں کا ہم بھیس غالب تماشائے اہل مطب دیکھتے ہیں

جدید و کلاسیکی شعرا سے محبت اس امر سے ہویدا ہے کہ ان کے اشعار نوک قلم سے اپنے موضوع کی بہتر تفہیم کے لیے رقم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اشعار کا انبار نہیں لگاتے لیکن برمحل استعمال سے اپنے خیال کی ترسیل میں مدد لیتے ہیں۔ قوتِ متخیلہ حساس ہے ، بیان کی صلاحیت خدا داد ہے ، عمدہ اور برجستہ و چست فقرے قدم قدم پر دامن تھامتے ہیں۔

شام شعر یاراں میں ادبی نشستوں کی روداد اور ان یارانِ باصفا کا احوال کہ جن کے دم سے زندگی اورجن کی یادوں سے دل شاد و آباد ہیں۔ ماضی پرستی، ناسٹلجیا، گم نگر کا جادو، بیتے زمانوں کی گلیاں، درخت، بندر، مور کی اداس جھنکار، پپیہے کی برہا میں ڈوبی پی کہاں کی آواز، ٹیٹری کی پکار، کوئلوں کی کوک، کالی بھونرا جامنیں، پھول والوں کی سیر، مندروں کے جھمکڑے ، لال بنات کے انگرکھے ، نیگڈمبر کے ہاتھی، مغلئی دسترخوان کی نیرنگیاں، نوروزی پوشاک، دنیا سے نرالے بانکے ، جہاں آباد کے تابوت کی آخری کیل… غرض یادیں ہی یادیں باتیں ہی باتیں، انتظار حسین کو کہیں سے پڑھ لو، گئے زمانوں کی اداسی ان کی تحریر کو ایسی اثر انگیزی عطا کرتی ہے کہ قاری خود کو اسی اجڑتے بستے دیار کا باسی سمجھنے لگتا ہے۔ یاد نگاری معلوم ہوتا ہے ، انتظار حسین پر ختم ہو گئی لیکن شام شعر یاراں کا مطالعہ کیا جائے تو انتظار حسین کی دلی، اے حمید و ناصر کاظمی کا امرت سر و انبالہ حتیٰ کہ غالب کا کلکتہ، اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے …… یوسفی صاحب کے کوچۂ ماضی گیراں پشاور کو بھی ان میں شامل کر لیجیے۔ یہاں تک کہ پی آئی بی کالونی کراچی کا بے آب و برق دو کمروں کا مکان بھی ان کی یادوں کی دنیا کو یوں جگمگاتا اور مہکاتا رہتا ہے کہ وہاں ادریس فاطمہ کے ذہن و دل سے پھوٹنے والی کرنیں اور خوشبو آج بھی ان کے مشام جاں کو منور اور معطر رکھتی ہیں اور پھر ساحل کنارے وہ پر آسائش، بھرا پرُا گھر جہاں زندگی کے بہت سے سال آسودہ حالی میں، ادریس فاطمہ اور بچوں کی محبتوں میں سر شار گذرے اور پھر یکایک شام ڈھلے گھر آنگن سونا ہو جائے۔

شام شہر یاراں کی قدر و قیمت بے حد و حساب، اس کا گزرتا ایک ایک پل سا عت نایاب ہے۔ وقت جب ریت کی مانند مٹھی سے برق رفتاری سے پھسلتا جائے ، شام پر رات کے سائے تیزی سے لپکنے لگیں، عناصر میں اعتدال کی خواہش بے معنی معلوم ہونے لگے۔ ایسے میں شام شہر یاراں یا شعر یاراں یا ان کی یادیں اور باتیں ہی زیست کرنے کا بہانہ بن جاتی ہیں۔ شام شعر یاراں، عمرِ گذشتہ کی وہ کتاب جس کے لوٹانے کی حسرت، ان کے دل میں ہے ، یہ یاروں، پیاروں کو یاد کرنے کی ان سے اپنے تعلق کی، زندگی میں ان کی اہمیت کی، ان کی جانب سے ملنے والی محبت کی بارش میں بھیگنے کی داستان ہے ، کتاب کا بیت الغزل، یوسفی صاحب کی زندگی کا ایک اہم باب، وہ آخری پانچ سات صفحات ہیں، جن میں ادریس فاطمہ کے بچھڑنے کا دکھ، تجھ سے بچھڑ کر زندہ ہیں۔ جان بہت شرمندہ ہیں، تو اس شرمندگی میں اداسی، تنہائی اکلاپا، بے بسی، بے چارگی و بیماری اور سب سے بڑھ کر زندگی کی شامِ غریباں کا نوحہ شامل ہیں۔

شام شعر یاراں میں اداروں اور شخصیات پر ۲۱ مضامین یا تقاریر یا خطبات ہیں۔ جب فرد تقریر کر رہا ہو یا مضمون یا مقالہ پڑھ رہا ہو یا خطبہ دے رہا ہو، تو بہت سی باتیں فی البدیہہ بھی درمیان آ جاتی ہیں۔ وہی مضمون جب اشاعت پذیر ہوتا ہے تو تحریر میں منتشر خیالی کا احساس ہوتا ہے ، اس صورت میں جبکہ مصنف کی منشا کے بغیر ان مضامین کو یکجا کر کے شائع کر دیا گیا ہو۔ مختلف موقعوں، یا تقریبات میں پڑھے گئے مضامین میں کئی باتوں یا واقعات یا اشعار کی تکرار بھی دکھائی دے جاتی ہے ، پھر قاری کی نظر سے بہت سی وہ باتیں بھی گزرتی ہیں جو وہ گذشتہ کتابوں میں پڑ ھ چکا ہے۔ جملہ ہائے معترضہ کا وافر استعمال، شام شعر یاراں کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ کسی بھی تحریر کا مطالعہ کیجیے ، ٹھٹھک کر سوچنا پڑتا ہے پلٹ کر دیکھنا پڑتا ہے کہ اصل موضوع کیا ہے اور کون ہے۔ یہ جملہ ہائے معترضہ بسا اوقات ایک سے زائد پیراگرافوں پر بھی مشتمل ہو سکتا ہے۔

شام شعر یاراں کے مختلف النوع موضوعات کے عنوانات دیکھیے

قائد اعظم فوجداری عدالت میں، کیس ہسٹری، ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ ساکہیں جسے ، انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹکچر

کلاہ ممریزی، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، نیرنگِ فرنگ، مہر دو نیم، چادر، چاند بی بی اور کالم بھر چاندنی، یاد یارِ طرحدار، آم، رہو اور بچھو، سد سمندری، ضمیرِ واحد متبسم، مسند صدارت پر اولتی کی ٹپا ٹپ، شاہ جی کی کہانی دوسرے شاہ جی کی زبانی، الطاف گوہر اور گڑ کی ڈلی،

یہاں کچھ پھول رکھے ہیں، میں اختتام ہوں اک عہد کے فسانے کا، پلکوں سے پینٹ کرنے والا مصور اورقصہ خوانی بازار سے کوچۂ ماضی گیراں تک

شام شعر یاراں میں اقوالِ زریں خود یوسفی صاحب کے ہوں یا ان کے ہمزاد مرزا صاحب کے ، کہ جو بات اپنے خلاف یا سماج کے یا اپنے ممدوح کے سامنے کہنے کی جرأت نہ رکھتے ہوں، مرزا صاحب سے کہلا دیتے ہیں، پھر ان اقوال سے بھی اپنا مافی الضمیر واضح کرتے ہیں جو مشرقی و مغربی مفکرین نے غالباًیوسفی صاحب کے لیے ہی سنہرے حروف میں لکھے تھے۔

’’سمجھدار آدمی نظر ہمیشہ نیچی اور نیت خراب رکھتا ہے۔‘‘

’’جس مریض کو اپنے ذکر میں مزہ آنے لگے اسے HYPOCHONDRIAC کہتے ہیں۔ افراد ہی نہیں کبھی کبھی قومیں بھی HYPOCHONDRIAC ہو جاتی ہیں انھیں علاج سے زیادہ اپنی بیماریوں کے مبالغہ آمیز بیان میں مزہ آنے لگتا ہے۔‘‘

یوسفی صاحب مثبت اندازِ فکر و نظر رکھتے ہیں اور یہی خوبی وہ اپنی قوم میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ چینی کہاوت نقل کرتے ہیں

’’زندگی میں اداسیاں تمھارے سروں پر منڈلاتی رہیں گی، ان کو اپنے بالوں میں گھونسلا نہ بنانے دو۔‘‘

اسی مثبت اندازِ زیست نے انھیں زیست کرنے کے سب آداب ازبر کرا دیے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی آمد سے ، ان کی تحریر کے مطالعے سے تمام فضا نکھر جاتی ہے ، ورنہ اس معاشرے میں ان لوگوں کی کمی نہیں جن کے کمرے میں قدم دھرتے ہی، ایک لفظ کہے سنے بغیر ہی، ان کے جسم سے ایسی منفی شعاعیں منعکس ہوتی ہیں کہ آپ خود کو مروت و برداشت کی آخری حد پر کھڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔

ایک بینکار، فن تعمیرات، فنِ مصوری، فن رقص و گائیکی اور تہذیب و ثقافت کے اتنے اسرار و رموز اور باریکیاں کیسے جانتا ہے۔ زبان و شعر و ادب کے بدلتے رجحانات، تہذیب و ثقافت کی بدلتی روایات، اقدار و اخلاق کے زوال کی داستان ایک فرد واحد کے ذہن کی دسترس میں کیسے ہو سکتی ہیں، اس کا جواب صرف ایک لفظ میں دیا جا سکتا ہے۔ ’’ذہنِ رسا‘‘۔ سرسری تم جہان سے گزرے … ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا، یوسفی صاحب کی زندگی کا ایک لمحہ بھی رائگاں نہیں، عصر موجود کی بو العجبیوں اور نیرنگیوں کو، سیاسی سماجی اخلاقی، معاشرتی تہذیبی، تعلیمی پستی و گراوٹ سے پیدا شدہ بد حالی، انتشار، بے یقینی، رشوت ستانی، بے روز گاری، اقربا پروری، افرا تفری، تشکیک و تذبذب کو گہری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان نا گفتہ بہ حالات، زندگی کی کج رویوں اور خامیوں سے گریز ان کے عقیدے میں شامل نہیں، یہی زندگی ہے اور تلخ ترش، شیریں لہجے میں ان کا بیان انھیں اردو ادب کی تاریخ میں یادگار بناتا ہے۔

حرف آخر یہ کہ شام شعر یاراں کا موازنہ و مقابلہ یوسفی صاحب کی گذشتہ کتابوں سے نہ کیا جائے کہ وہ کتب یوسفی صاحب نے اپنی مرضی سے اپنے تحریری و تخلیقی اصولوں پر سختی سے کار بند رہتے ہوئے لکھی تھیں، ایک ایک لفظ اور فقرے کو کئی کئی مرتبہ آنکا اور جانچا تھا۔ لکھنے کے بعد مہینوں تک اسے کاغذوں کے انبار میں دفنا دیا تھا، پھر نظر ثانی میں بہت کچھ کتر بیونت کی نذر ہوا۔ بے داغ تکمیلیت کی عادت نے کٹوتی زیادہ کی، بڑھایا کم کم۔ اور پھر جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی …اور اسی سبب یوسفی یوسفی قرار پائے بلکہ ایک دور، ان سے منسوب ہوا۔

مباش منکر غالب کہ در زمانہ تست…

٭٭٭

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے