زندگی سے مکالمہ کرنے والا شاعر۔ خوشبیر سنگھ شاد ۔۔۔ سلیم انصاری

خوشبیر سنگھ شاد موجودہ شعری منظر نامے پر نقش ایک ایسا نام ہے جس نے اپنی شاعری میں خوشگوار حیرتوں اور زندگی رنگ خوابوں کا ایک نیا ذائقہ تخلیق کیا ہے۔ ان کی تخلیقی انفرادیت نے بہت کم عرصہ میں سرحدی اور جغرافیائی لکیروں کو مٹا کر عالمی سطح پر اپنی شناخت کے نئے موسم تحریر کئے ہیں اور کسی بھی شاعر کے لئے یہ ایک اعزاز کی بات ہے۔ شاعری اگر حیرت کا دوسرا نام ہے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ خوشبیر سنگھ شاد کی شاعری ایک ایسا حیرت کدہ ہے جس میں ان کی سوچ کے مختلف رنگوں کے آئینے نصب ہیں اور جن میں ان کی فکرو شعور اور عصری آگہی کے رنگ برنگے عکس چمکتے نظر آتے ہیں۔

خوشبیر بیر سنگھ شاد کی شاعری سے میری ملاقات میرے جالندھر آنے سے عرصہ پہلے ہند و پاک کے مؤقٔر رسائل و جرائد کے حوالے سے ہو چکی تھی اور میں ان کی شاعری سے خاصا متاثر بھی تھا۔ ملازمت کے سلسلے میں جالندھر آنے کے بعد ان سے رو بہ رو ملاقاتوں میں ان کی شخصیت کے ہفت رنگ پہلوؤں کے مطالعے کا شرف ملا جس میں وہ بے حد معصوم، کم گو مگر ملنسار، گمبھیر اور زندگی سے نہ صرف براہِ راست مکالمہ کرتے ہوئے محسوس ہوئے بلکہ اس میں اپنی مرضی کے رنگوں سے خوبصورت تصویروں کو مصور کرنے کے عمل میں بھی مصروف نظر آئے۔

زندگی میں تری تصویر مکمل کر دوں

کاش مل جائے وہی رنگ جو بھرنا ہے مجھے

 

اگر یہ بات ہے جینا پڑے گا تیری شرطوں پر

تو پھر اے زندگی جینے سے ہم انکار کرتے ہیں

ایک طویل عرصہ تک لکھنؤ میں قیام کرنے کے بعد جالندھر میں کئی برسوں سے رہائش پذیر ہونے کے باوجود اب بھی ان کی شاعری میں بھی لکھنوی تہذیب و تمدن کی جھلک صاف طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ ترشا ہوا شگفتہ لہجہ، صاف ستھری زبان اور استعارات و علائم کا خوبصورت استعمال، ان کی شاعری کو پر اثر بنانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر پیر زادہ قاسم ’’سہل پسندی اور روایت کی نرمی تقلید سے انکاری خوشبیر سنگھ شاد نے شاید اپنے لئے مشکل راستہ چنا مگر اس کی سنجیدہ روی اور استقلال نے اس کی راہ آسان کر دی ہے اور زندگی کے بارے میں اس کا رویہ زیادہ پر اعتماد ہوتا چلا گیا ہے۔‘‘ یہ بات سچ ہے کہ خوشبیر سنگھ شاد کی شاعری کے یہاں فکری سطح پر سہل پسندی سے انحراف کا رویہ ملتا ہے، مگر اظہار کے لئے انہوں نے جو ڈکشن استعمال کیا ہے وہ سادہ اور شگفتہ ہے، ان کے یہاں تو شعر میں تہداری اور گہری معنویت کے لئے جو عوامل کار فرما ہیں وہ ان کے استعاراتی نظام سے فراہم ہوتے ہیں۔

یہ بات سچ ہے کہ ہر شاعر کے یہاں کچھ کلیدی الفاظ ہوتے ہیں جو اس کے پورے تخلیقی عمل میں اس کے مافی الضمیر کے اظہار کے لئے بار بار استعمال ہوتے ہیں اور اس کی شاعری کا عمومی منظر نامہ خلق کرتے ہیں، اسی طرح خوشبیر سنگھ شاد کے یہاں بھی زندگی، آئینہ، خاموشی، وحشت، سرگوشی، خواب، زخم، تنہائی، دنیا اور شجر وغیرہ ایسے ہی الفاظ ہیں جو ان کی شعری اور تخلیقی دروں بینی میں ان کے ساتھ عملی طور پر سفر کرتے ہیں اور اظہارِ ذات کی ترسیل کے لئے راہیں بھی ہموار کرتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ کریں۔

زخم ہوں میں تم کہاں سمجھو گے میری کیفیت

کن مراحل سے میں گزرا ہوں نشاں ہونے تلک

 

نہ جانے کتنی اذیت سے خود گزرتا ہے

یہ زخم تب کہیں جا کر نشاں بناتا ہے

 

شاد یہ ماضی سے لے کر حال تک کا ہے سفر

زخم کو برسوں لگے ہیں اک نشاں ہوتے ہوئے

 

کہا یہ درد نے مجھ سے نظر ملا تو سہی

تو شاد ہو تو گیا زخم کو نشاں کر کے

 

ذرا سی بات پر شاخوں سے برہم ہو گئے پتے

ہوا تو کب سے تھی ان کو جدا کرنے کی کوشش میں

 

جواں بچوّں کی اپنی زندگی ہے ان سے کیا شکوہ

جدا ہوتے ہیں کیا پتے شجر سے مشورہ کر کے

 

پھر بھیگی آنکھوں سے دیکھا پیڑ نے اپنی شاخوں کو

آج بھی تھے کچھ سوکھے پتے گرنے کی تیاری میں

 

کون سمجھے گا کہ خود کو کس طرح یکجا کیا

وقت نے جب منتشر خوابوں کا شیرازہ کیا

 

مرے بکھرے ہوئے ذرات کا احسان ہے مجھ پر

اگر یہ دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ یکجا ہوں

 

ہمارے ظرف پر حیران تو ہو گا یہ صحرا بھی

بکھر کر، خود کو ہم یکجا نہ جانے کیسے کرتے ہیں

جدید شاعر کے یہاں تنہائی اور بکھراؤ کے برعکس شاد کی شاعری میں خود کو یکجا کرنے اور اپنی تنہائی کے غم سے قوتِ نمو حاصل کرنے کا عمل شدید ہے جو یقینی طور پر ان کی شاعری میں زندگی کی مثبت قدروں کے اظہار کا وسیلہ ہے، یوں تو ان کی شاعری کے کئی رنگ ہیں، کئی چہرے ہیں جو بار بار ان کی تخلیقی سوچ کا حصہ بنتے ہیں مگر ان کے یہاں اپنے زخموں سے روشنی کشید کر کے درونِ ذات کو روشن کرنے کا رویہ زیادہ اہم ہے۔ محولہ بالا اشعار میں زخم اور اس کے بھر جانے کے بعد باقی رہ جانے والا نشان ان کے لاشعور میں کہیں نہ کہیں محفوظ ہے اور کئی زاویوں سے ان کے کئی شعر میں بار بار رقم ہوا ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ ماضی کا کوئی تلخ تجربہ، کوئی تلخ یاد یا اپنوں کے ذریعہ دیا جانے والا فریب، زخم کی صورت شاعر کے ذہن و دل پر مرُتسم ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان زخموں کے بھر جانے کے باوجود، ان زخموں کے نشان کی صورت ایک کسک رہ جاتی ہے۔ کئی اشعار میں اس طرح کے خیال کی تکرار اس بات کا ثبوت ہے کہ شاعر خود ذاتی طور پر ان تلخ تجربات سے عملی طور پر ہم کنار ہوا ہے۔ اسی طرح ایک اور تجربہ کہ پتے سوکھنے کے بعد شاخ سے جدا ہو جاتے ہیں، بظاہر یہ ایک فطری اور سائنٹفک عمل ہے مگر اس خیال کو خوشبیر سنگھ شاد نے کمالِ ہنر مندی سے موجودہ معاشرے کے المیے کے طور پر پیش کیا ہے کہ جب بچے جوان ہو جاتے ہیں تو اپنے والدین یا گھر سے جدا ہو جاتے ہیں اور یہ بھی ایک فطری عمل ہے۔ یہاں پیڑ اور پتے کو علامتی طور پر با الترتیب والدین اور بچے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح خوشبیر سنگھ شاد کے یہاں ذات کے بکھراؤ اور انتشار کو نہایت سلیقہ مندی کے ساتھ اپنی شاعری کا حصہ بنایا گیا ہے۔ موجودہ عہد میں فرد اور معاشرے کے درمیان گم ہوتے ہوئے رشتوں اور اعتماد کو بکھراؤ اور انتشار کی مدد سے مصوّر کیا گیا ہے۔

جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ شاد ایک خاموش طبیعت اور گمبھیر انسان ہیں لہٰذا یہ بات قریں از قیاس بھی ہے کہ ان کا سارا سفر ظاہر سے باطن کی طرف ہے اور وہ اپنے اس سفر میں ایک طرح کی سرشاری اور انبساط سے نہ صرف لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ اپنے اس روحانی سفر کے تجربات کو اپنے شعری عمل کا حصہّ بھی بناتے ہیں۔ بقول فرحت احساس ’’خوش بیر کو قریب سے دیکھنے کا فائدہ یہ ہوا کہ مجھ پر ان کی گم شدگی اور دنیا گریزی ظاہر ہو گئی ورنہ ممکن تھا کہ انہیں مشاعروں میں آتا جاتا دیکھ کر ان کے بارے میں کچھ اور فرض کر لیتا جو بلا شبہ غلط ہوتا‘‘ یہ بات سچ ہے کہ خوشبیر سنگھ شاد کی شاعری میں ایک طرح کی گمشدگی اور دنیا گریزی کا احساس ہوتا ہے مگر میرے نزدیک یہ اس وقت ہی ہوتا ہے جب وہ اپنی ذات کے سمندر میں ڈوب کر فکر و احساس کے موتی تلاشنے میں مصروف ہوتے ہیں اور ان کی درُوں بینی کا یہ عمل اس اعتبار سے بھی ضروری ہے کہ یہی ان کے تخلیقی کرب سے نجات کا وسیلہ بھی ہے اور شاید اسی لئے انہوں نے کہا ہے کہ۔

 

سکوتِ شب میں جو یہ شاد میں خاموش بیٹھا ہوں

لگا ہوں خامشی کو ہم نوا کرنے کی کوشش میں

خوشبیر سنگھ شاد کی شاعری میں میرے نزدیک دنیا گریزی کے عمل سے زیادہ دنیا کو اپنے طور پر برتنے اور اس سے لا پروائی کا رویہ زیادہ کار فرما دکھائی دیتا ہے۔ شہاب جعفری کی طرح وہ دنیا کو حقیر نہیں سمجھتے مگر دنیا کو بہت زیادہ اہمیت دینے کے حق میں بھی نہیں نظر آتے بلکہ کبھی کبھی دنیا سے مفاہمت کی صورت بھی پیدا کر لیتے ہیں۔

غلط کیا تھا اگر اس شور کا حصہّ نہیں تھا میں

مری خاموشیوں کا تجزیہ اب خود کرے دنیا

 

اسے کہ دو کہ میں جس مرحلے پر ہوں وہیں خوش ہوں

اب اپنی سمت خود طے کر لے اور چلتی رہے دنیا

 

اب اسی دنیا سے آ خر کام مجھ کو پڑ گیا

ایک مُدت تک رہی جو میری ٹھکرائی ہوئی

خوشبیر سنگھ شاد کے یہاں شاعری محض تفننِ طبع کا سامان نہیں بلکہ فکری اور تخلیقی کرب سے نجات کا وسیلہ ہے، ان کی شاعری کا معنوی کینوس بہت وسیع ہے، یہ ایک ایسا آئینہ خانہ ہے جس میں بہت سارے عکس بیک وقت منعکس ہوتے ہیں، ان کے یہاں حزن و ملال کی کیفیت بھی ہے اور مسرت اور شادمانی بھی، خاموشی بھی ہے گویائی بھی، اثبات بھی ہے اور انحراف بھی، محفل بھی ہے اور تنہائی بھی اور یہی وہ ساری خصوصیات ہیں جو ان کی شاعری کو مختلف جہتوں میں روشن کرتی ہیں اور اپنے تمام تر کمال و جمال اور سرشاری کے ساتھ نئے ذائقوں اور فکر و احساس کے نئے موسموں سے رُوشناس کراتی ہیں اور قاری کو اپنے ساتھ نئے جہانِ معنی کی سیر پر آمادہ کرتی ہے۔

٭٭٭

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے