ان سومنیا ۔۔۔ زرقا مفتی

 

 

Insomnia

 

 

کالی راتوں میں اکثر

بے کل اپنا من رہتا ہے

مردہ خوابوں کا مدفن

مجھ کو اپنا گھر لگتا ہے

دیواروں سے ڈر لگتا ہے

بستر کانٹوں کا لگتا ہے

آنکھیں جلتی ہیں

روٹھے خوابوں سے ڈر لگتا ہے

تکیہ چُبھتا ہے

دل کی دھک دھک سُن سُن کر

سر بھی دُکھنے لگتا ہے

کروٹ بدلوں تو

چُٹکی بھرتی ہے چُٹیا

تلوے جلتے ہیں

سانسیں رکتی ہیں نہ چلتی ہیں

گھڑیاں گن گن

جب تھک جاتا ہے من

تب ہولے سے کھڑکی پر

اک دستک سی ہوتی ہے

چندا چھپنے سے پہلے کہتا ہے

اب سو جا

آنکھیں بوجھل ہوتی ہیں

جب دن چڑھتا ہے

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے